نئے خلیفہ کے انتخاب کے لیے سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کا متعدد کارروائیاں عمل میں لانا
علی محمد الصلابی1۔ مہاجرین و انصار میں سے کبار صحابہؓ سے مشورہ کیا۔ ہر ایک اس ذمہ داری کو اٹھانے سے فرار اختیار کرتا اور جس کے اندر اہلیت سمجھتا اس کی طرف اشارہ کرتا۔ آخرکار سب نے یہ معاملہ سیدنا ابوبکرؓ کے سر چھوڑ دیا اور عرض کیا: ہماری وہی رائے ہے جو آپؓ کی رائے ہے۔ فرمایا: مجھے موقع دو، دیکھو اللہ، اس کے دین اور اس کے بندوں کے لیے کون مناسب ہے پھر سیدنا ابوبکرؓ نے عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ کو بلایا اور فرمایا:
مجھے عمر بن خطاب کے بارے میں بتلاؤ؟
عرض کیا: سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کو ہم سے زیادہ خبر ہے۔
فرمایا: اس کے باوجود اے ابوعبداللہ!
عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: جس چیز سے متعلق سیدنا ابوبکرؓ مجھ سے دریافت کرتے ہیں اسے سیدنا ابوبکرؓ مجھ سے زیادہ جانتے ہیں۔
سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اگرچہ؟
عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: واللہ وہ تو ان سے متعلق آپؓ کی رائے سے کہیں زیادہ افضل ہیں۔
پھر سیدنا ابوبکرؓ نے عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کو بلایا اور فرمایا:
مجھے عمر بن خطاب کے بارے میں بتلاؤ؟
سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: واللہ میرے علم کے مطابق ان کا باطن ان کے ظاہر سے بہتر ہے اور ہم میں کوئی بھی ان کے ہم پلہ نہیں۔
سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اللہ تم پر رحم کرے، کاش یہ خوبیاں بیان کرنا چھوڑ دیتے۔
پھر سیدنا ابوبکرؓ نے اسید بن حضیر رضی اللہ عنہ کو بلایا اور ان کے سامنے بھی یہی بات رکھی۔
اسید نے عرض کیا: میں انہیں آپ کے بعد سب سے بہتر جانتا ہوں، اللہ کی رضا مندی کی چیزوں سے خوش ہوتے ہیں اور اس کی ناراضگی کی چیزوں پر ناراض ہوتے ہیں۔ ان کا باطن ان کے ظاہر سے بہتر ہے۔ ان سے بڑھ کر خلافت کی طاقت کوئی نہیں رکھتا۔
اسی طرح سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے سعید بن زید رضی اللہ عنہ اور دیگر مختلف انصار مہاجرین سے مشورہ کیا۔ سب نے تقریباً سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے بارے میں ایک ہی رائے دی۔ صرف طلحہ بن عبیداللہ رضی اللہ عنہ نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی سختی سے خوف کا اظہار کیا اور سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ سے عرض کیا: سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے استخلاف سے متعلق اللہ جب آپ سے پوچھے گا تو آپ کیا جواب دیں گے جبکہ آپ کو ان کی سختی معلوم ہے؟
سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: مجھے بٹھاؤ، کیا مجھے اللہ کا خوف دلاتے ہو؟ وہ ناکام ونامراد ہوا جو ظلم لے کر جائے۔ میں اللہ سے عرض کروں گا: میں نے تیرے بندوں میں سب سے بہتر کو خلیفہ مقرر کیا ہے۔
(الکامل لابن الاثیر: جلد 2 صفحہ 79، التاریخ الاسلامی: محمود شاکر: 101)
جن لوگوں نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی سختی کی طرف سیدنا ابوبکرؓ کی توجہ مبذول کرائی، ان سے فرمایا: ان کی سختی اس وجہ سے ہے کہ وہ مجھے نرم دیکھ رہے ہیں جب خلافت کی ذمہ داری ان کے سر پر پڑے گی تو بہت سی سختیاں ان کی ختم ہو جائیں گی۔
(الکامل لابن الاثیر: جلد 2 صفحہ 79)
2۔ پھر سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے عہد نامہ تحریر فرمایا جو مدینہ میں اور امراء و والیان کے ذریعہ سے دوسرے شہروں میں لوگوں کو پڑھ کر سنایا جائے۔ وہ فرمان نامہ یہ تھا:
’’بسم اللہ الرحمن الرحیم
یہ ابوبکر بن ابی قحافہ کا عہدنامہ ہے، جو انہوں نے دنیا سے رخصت ہوتے ہوئے اور آخرت میں داخل ہوتے ہوئے جاری کیا ہے۔ جبکہ کافر ایمان لے آتا ہے، فاجر یقین کر لیتا ہے اور جھوٹا بھی سچ بولنے لگتا ہے۔ میں نے اپنے بعد تمہارے اوپر عمر بن خطاب کو خلیفہ مقرر کیا ہے۔ ان کی سنو اور اطاعت کرو۔ میں نے اللہ، رسول، دین اور اپنے اور تمہارے بارے میں خیر اختیار کرنے میں کوئی کوتاہی نہیں کی ہے اگر وہ عدل پر قائم رہیں تو میرا یہی ان سے گمان اور ان کے بارے میں یہی علم ہے اور اگر بدل جائیں تو ہر شخص جو کرے گا اس کا ذمہ دار ہے۔ میں نے خیر ہی چاہی ہے لیکن مجھے غیب کا علم نہیں۔
وَسَيَـعۡلَمُ الَّذِيۡنَ ظَلَمُوۡۤا اَىَّ مُنۡقَلَبٍ يَّـنۡقَلِبُوۡنَ ۞ (سورۃ الشعراء آیت 227)
(تاریخ الاسلام للذہبی: عہد الخلفاء: صفحہ 116، 117)
ترجمہ: اور ظلم کرنے والوں کو عنقریب پتہ چل جائے گا کہ وہ کس انجام کی طرف پلٹ رہے ہیں۔
سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے امت کے لیے اپنی آخری خیر خواہی سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی شکل میں پیش کی۔ سیدنا ابوبکرؓ نے دیکھا کہ دنیا تیزی سے آرہی ہے اور ان کی قوم کے لوگ پہلے سے فقر وفاقہ کی زندگی بسر کر رہے تھے اور جب یہ دنیا کی طرف جھکیں گے تو دنیا کی شہوتیں انہیں اپنی طرف کھینچ لیں گی۔ پھر دنیا انہیں پھیر لے جائے گی اور ان پر غالب آجائے گی اور اس سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں ڈراتے ہوئے فرمایا:
(ابوبکر رجل الدولۃ: صفحہ 99)
فواللہ لا الفقر أخشی علیکم ولکن أخشی علیکم ان تُبسط علیکم الدنیا کما بُسِطت علی من کان قبلکم، فتنافسوہا کما تنافسوہا، وتہلککم کما اہلکتہم۔
(البخاری: الجزیۃ والموادعۃ: 3158)
ترجمہ: ’’اللہ کی قسم میں تمہارے اوپر محتاجی سے نہیں ڈرتا بلکہ مجھے تمہارے اوپر دنیا کا ڈر ہے کہ دنیا تم پر اسی طرح پھیلا دی جائے جیسا کہ گذشتہ امتوں پر پھیلا دی گئی۔ پس تم دنیا سمیٹنے میں سبقت کرنے لگو، جیسا کہ گذشتہ اقوام نے اس سلسلہ میں مسابقت کی، تو جس طرح دنیا نے انہیں ہلاک و برباد کیا تمہیں بھی ہلاک و برباد کر دے گی۔‘‘
سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے بیماری کا اندازہ لگا لیا، پھر اس کے لیے مفید دوا پیش کی اور بلند پہاڑ اس کے سامنے رکھ دیا۔ جب دنیا نے دیکھا تو مایوس ہو کر منہ پھیر کر بھاگ کھڑی ہوئی۔ سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کی شخصیت تو وہ ہے جن کے بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا:
اَیُّہَا یَا ابْنَ الْخَطَّابِ وَالَّذِیْ نَفْسِیْ بِیَدِہٖ مَا لَقِیْکَ الشَّیْطَانُ سَالِکًا فَجًّا قَطُّ اِلاَّ سَلََکَ فَجًّا غَیْرَ فَجِّکَ۔
(البخاری: فضائل اصحاب النبی صلي الله عليه وسلم: صفحہ 3683)
ترجمہ: ’’اے ابن خطاب! اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے، شیطان جس راستہ میں تمہیں چلتا ہوا دیکھتا ہے اس کو چھوڑ کر دوسرا راستہ اختیار کر لیتا ہے۔‘‘
بڑے مصائب وآلام جس سے امت دوچار ہوئی اس کا آغاز سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی شہادت سے ہوا، یہ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کی فراست اور عمر رضی اللہ عنہ کو ولی عہد مقرر کرنے میں سیدنا ابوبکرؓ کے نقطہ نظر کی صداقت پر بہترین شاہد ہے۔ چنانچہ عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: لوگوں میں سب سے زیادہ صاحب فراست تین اشخاص تھے: وہ خاتون جس نے اپنے والد سے موسیٰ علیہ السلام کے بارے میں کہا تھا: اے ابا جان! آپ انہیں مزدوری پر رکھ لیجیے کیونکہ آپ جنہیں اجرت پر رکھیں ان میں سب سے بہتر ہے وہ جو قوی اور امانت دار ہو۔ یوسف علیہ السلام کا مالک جس نے اپنی بیوی سے کہا: اسے بہت عزت و احترام کے ساتھ رکھو، بہت ممکن ہے کہ یہ ہمیں فائدہ پہنچائے یا اسے ہم اپنا بیٹا ہی بنا لیں۔ اور سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ جب انہوں نے عمر رضی اللہ عنہ کو خلیفہ مقرر فرمایا۔
(مجمع الزوائد: جلد 10 صفحہ 268، الحاکم: جلد 3 صفحہ 90، وصححہ ووافقہ الذہبی۔)
سیدنا عمر رضی اللہ عنہ امت کے لیے مضبوط بند تھے جس نے امت کو فتنوں کی موجوں سے محفوظ رکھا۔
(ابوبکر رجل الدولۃ: صفحہ 100)
3۔ سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو اپنے منصوبہ سے آگاہ کیا۔ چنانچہ جب سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سیدنا ابوبکرؓ کے پاس آئے تو سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے انہیں اپنے عزائم کی خبر دی، انہوں نے قبول کرنے سے انکار کیا، سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے انہیں تلوار کی دھمکی سنائی، تو پھر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے پاس قبول کرنے کے علاوہ کوئی چارہ نہ رہا۔
(مآثر الإنافۃ للقلقشندی: جلد 1 صفحہ 49)
4۔ سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے بحالت ہوش و حواس اپنی زبان سے لوگوں تک یہ بات پہنچانا چاہی تاکہ آپ کے بعد کسی طرح کا التباس نہ پیدا ہونے پائے۔ سیدنا ابوبکر صدیقؓ لوگوں کے سامنے آئے اور فرمایا: کیا آپ لوگ اس کو پسند کریں گے جس کو میں نے خلیفہ بنایا ہے؟ اللہ کی قسم میں نے غور و فکر میں کوئی کمی نہیں کی ہے اور نہ میں نے اپنے کسی قرابت دار کو خلیفہ بنایا ہے۔ میں نے تمہارے اوپر عمر بن خطاب کو خلیفہ بنایا ہے، ان کی سنو اور اطاعت کرو۔ سب نے ایک زبان ہو کر کہا: ہم نے سن لیا اور ہم مطیع ہو گئے۔
(تاریخ الطبری: جلد 4 صفحہ 248)
5۔ سیدنا ابوبکرؓ دعا کے ساتھ اللہ کی طرف متوجہ ہوئے، آپ اللہ سے سرگوشیاں کرنے لگے اور اپنی آرزوؤں کو ظاہر کرنے لگے۔ دعا کرتے ہوئے کہہ رہے تھے: اے اللہ! میں نے عمر کو تیرے نبی کے حکم کے بغیر خلیفہ بنایا ہے، اس سے میرا مقصود امت کی بھلائی ہے۔ مجھے ان پر فتنہ کا خوف ہوا، میں نے اپنی بساط بھر غور و فکر کیا اور ان پر ان میں سب سے بہتر اور ان کی ہدایت پر سب سے زیادہ حریص شخص کو خلیفہ بنایا ہے۔ اے اللہ! تیرا حکم مجھ پر آپہنچا ہے یہ تیرے ہی بندے ہیں، تو ان میں میرا خلیفہ ہو جا۔
(طبقات ابن سعد: جلد 3 صفحہ 199، تاریخ المدینۃ لابن شبہ: جلد 2 صفحہ 665، 669 )
6۔ سیدنا ابوبکرؓ نے سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کو مکلف کیا کہ وہ لوگوں کو فرمان نامہ پڑھ کر سنائیں اور سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کی وفات سے قبل لوگوں سے عمر رضی اللہ عنہ کی خلافت کی بیعت لیں اور مزید توثیق کی خاطر فرمان نامہ پر مہر ثبت کی تاکہ کسی طرح کی سلبیات رونما نہ ہونے پائیں۔ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے لوگوں سے خطاب کر کے کہا: کیا اس فرمان نامہ میں جو ہے اس کے مطابق آپ لوگ بیعت کریں گے؟ سب نے کہا: ہاں، اور سب لوگوں نے اس کا اقرار کیا اور اس سے راضی ہوئے۔
(طبقات ابن سعد: جلد 3 صفحہ 200)
7۔ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کی وفات سے قبل ہی سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی خلافت کی بیعت لی گئی۔ جب فرمان نامہ پڑھ کر لوگوں کو سنایا گیا سب نے اس سے اپنی رضا مندی کا اظہار کیا، اس کے بعد لوگ آگے بڑھے اور بیعت کی۔
(دراسات فی عہد النبوۃ والخلافۃ الراشدۃ: صفحہ 272)
بیعت سیدنا ابوبکرؓ کی وفات کے بعد نہیں بلکہ سیدنا ابوبکرؓ کی زندگی ہی میں عمل میں آئی اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے بحیثیت خلیفہ ابوبکر رضی اللہ عنہ کی وفات کے فوراً بعد اپنی ڈیوٹی شروع کر دی۔
(دراسات فی عہد النبوۃ والخلافۃ الراشدۃ: صفحہ 272)
محقق کے سامنے یہ بات بالکل واضح ہے کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اہل حل و عقد کے اتفاق و ارادے سے خلافت کی باگ ڈور سنبھالی۔ انہوں نے ہی خلیفہ کا انتخاب سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے سپرد کر دیا تھا اور اس سلسلہ میں ان کو اپنا نائب بنا دیا تھا۔ پھر آپ نے لوگوں سے مشورہ کر کے خلیفہ کی تعیین فرمائی پھر اس تعیین کو لوگوں کے سامنے پیش کیا۔ سب نے اس کا اقرار کیا اور اس سے موافقت کی۔ اصحاب حل وعقد ہی حقیقت میں اس امت کے ممبر آف پارلیمنٹ ہیں لہٰذا سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کا استخلاف شورائیت کے انتہائی صحیح ترین اور عادلانہ اسلوب کے مطابق عمل میں آیا تھا۔
(ابوبکر الصدیق: علی الطنطاوی: صفحہ 237 )
سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے خلیفہ کے انتخاب کے سلسلہ میں جو اقدامات کیے وہ شورائیت سے کسی صورت میں متجاوز نہیں تھے اگرچہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے انتخاب میں جو کارروائیاں عمل میں آئیں وہ ویسی نہ تھیں جو سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے انتخاب میں عمل میں لائی گئیں۔
(دراسات فی عہد النبوۃ والخلافۃ الراشدۃ: صفحہ 273+
اس طرح شورائیت اور اتفاق رائے سے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ خلافت کے لیے منتخب کیے گئے۔ اس کے بعد آپؓ کی خلافت کے سلسلہ میں تاریخ میں کوئی اختلاف رونما نہیں ہوا اور نہ آپؓ کی خلافت کے دوران میں کوئی آپ کا مدمقابل بن کر اٹھا، سیدنا عمرؓ کی خلافت کے دورانیہ میں آپ کی خلافت و اطاعت پر سب کا اجماع تھا۔ سب ایک تھے۔
(النظریۃ السیاسۃ الإسلامیۃ: ضیاء الریس: صفحہ 181 )
8۔ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کو سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کی وصیت
سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے ساتھ خلوت میں ہوئے اور ان کو اپنی ذمہ داری سے سبکدوش ہوتے ہوئے مختلف وصیتیں فرمائیں۔ امت کے لیے پوری کوشش و محنت کے بعد آپ نے یہ چاہا کہ جب رب العالمین سے ملیں تو ہر ذمہ داری سے بری ہوں۔
(دراسات فی عہد النبوۃ والخلافۃ الراشدۃ: صفحہ 272)
چنانچہ وصیت کرتے ہوئے سیدنا ابوبکرؓ نے فرمایا: اے عمر! اللہ سے ڈرو اور یاد رکھو، اللہ تعالیٰ نے دن میں کچھ اعمال مقرر کیے ہیں جنہیں رات میں قبول نہیں کرتا اور رات میں کچھ اعمال مقرر کیے ہیں جنہیں دن میں قبول نہیں کرتا۔ جب تک فرض ادا نہ کیا جائے نفل قبول نہیں کرتا۔ حقیقت میں میزان اس کا بھاری ہے جس کا میزان عمل قیامت کے دن دنیا میں اتباع حق کی وجہ سے بھاری ہو اور حق ہے کہ وہ میزان بھاری ہوگا جس میں قیامت کے دن حق رکھا جائے اور اس کا میزان ہلکا ہے جس کا میزان قیامت کے دن باطل کی اتباع کی وجہ سے ہلکا پڑ جائے اور اللہ تعالیٰ نے اہل جنت کا ذکر فرمایا تو انہیں ان کے اچھے اعمال کے ساتھ ذکر کیا اور برے اعمال سے تجاوز کیا۔ جب میں نے ان کو یاد کیا تو میں نے کہا: مجھے خوف ہے کہ میں ان لوگوں کا ساتھ نہ پا سکوں اور اللہ تعالیٰ نے اہل جہنم کا ذکر فرمایا اور ان کے برے اعمال کو بیان کیا اور اچھے اعمال کو لوٹا دیا۔ جب میں نے ان کو یاد کیا تو کہا: مجھے امید ہے کہ میں ان لوگوں میں سے نہ ہوں تاکہ بندہ رغبت ورہبت کے ساتھ زندگی گذارے، نہ تو اللہ سے غلط امیدیں باندھے اور نہ اللہ کی رحمت سے نا امید ہو۔ اگر تم میری وصیت کو یاد رکھو تو تیرے نزدیک سب سے زیادہ مبغوض موت نہ ہو، اور تم موت کو عاجز کرنے والے نہیں ہو۔
(صفۃ الصفوۃ: جلد 1 صفحہ 264، 265)