فصل:....[غم کا محال ہونا؟] - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

فصل:....[غم کا محال ہونا؟]

  امام ابنِ تیمیہؒ

صفحہ 1 از 3

فصل:....[غم کا محال ہونا؟]

[اعتراض]:رافضی نے کہا ہے:’’یہ غم و حزن اگر اطاعت کا کام تھا تو پھر یہ بات محال ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس سے منع کردیں ۔ اور اگریہ معصیت کا کام تھا تو پھر جس چیز کو یہ لوگ فضیلت ظاہر کررہے ہیں ؛ حقیقت میں وہ ذلت و رسوائی ہے ۔‘‘

[جواب]:پہلی بات: کسی ایک نے بھی یہ دعوی نہیں کیا کہ محض غمگین ہونا کوئی فضیلت کا کام تھا۔بلکہ اصل فضیلت تو اس چیزمیں ہے جس پر قرآنی آیت دلالت کررہی ہے۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: 

﴿اِلَّا تَنْصُرُوْہُ فَقَدْ نَصَرَہُ اللّٰہُ اِذْ اَخْرَجَہُ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا ثَانِیَ اثْنَیْنِ اِذْ ہُمَا فِی الْغَارِ اِذْ یَقُوْلُ لِصَاحِبِہٖ لَاتَخْزَنْ اِنَّ اللّٰہَ مَعَنَا﴾ [التوبۃ۴۰]

’’اگر تم ان (نبی صلی اللہ علیہ وسلم )کی مدد نہ کرو تو اللہ ہی نے ان کی مدد کی اس وقت جبکہ انہیں کافروں نے نکال دیا تھا دو میں سے دوسرا جبکہ وہ دونوں غار میں تھے جب آپ اپنے ساتھی سے فرمارہے تھے غم نہ کر اللہ ہمارے ساتھ ہے ۔‘‘

سو فضیلت اس بات میں ہے کہ آپ اس حالت میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سفر پر نکلے۔اور آپ کی خصوصی صحبت میں رہے۔آپ کو مطلق طور پر صحبت نبوت میں کمال حاصل تھا۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے یہ الفاظ مبارک : ﴿ اِنَّ اللّٰہَ مَعَنَا﴾۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کمال موافقت کو متضمن ہیں ۔ اس کے ساتھ ہی آپ کی محبت ‘ اطمینان ‘ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کمال معاونت و موالات ؛اور اس حالت میں کمال ایمان اور تقوی آپ کی فضیلت کے دلائل میں سے ہیں ۔ 

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ آپ کی کمال محبت ونصرت آپ کے لیے حزن و ملال کا موجب تھی؛اگر آپ نے حزن و ملال کااظہار کیا ہو۔حالانکہ قرآن میں اس بات کی کوئی دلیل نہیں ہے کہ آپ غمگین ہوئے بھی تھے ۔ جیسا کہ اس سے پہلے گزر چکا۔

٭ دوسری بات : قرآن مجید میں بعینہ یہ بات نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے بھی موجود ہے۔اللہ تعالیٰ کافرمان ہے:

﴿ وَ لَا تَحْزَنْ عَلَیْہِمْ وَ لَا تَکُ فِیْ ضَیْقٍ مِّمَّا یَمْکُرُوْنَ﴾(النحل ۱۲۷)  

’’ اور ان پر غم نہ کر اور نہ کسی تنگی میں مبتلا ہو، اس سے جو وہ تدبیریں کرتے ہیں ۔‘‘

اورارشاد فرمایا:

﴿لَا تَمُدَّنَّ عَیْنَیْکَ اِلٰی مَا مَتَّعْنَابِہٖٓ اَزْوَاجًا مِّنْہُمْ [وَ لَا تَحْزَنْ عَلَیْہِمْ]﴾(الحجر۸۸)

’’اپنی آنکھیں اس چیز کی طرف ہرگز نہ اٹھائیں جس کے ساتھ ہم نے ان کے مختلف قسم کے لوگوں کو فائدہ دیا ہے [اور نہ ان پر غم کریں ]۔‘‘

اور اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:

﴿خُذْہَا وَلَاتَخَفْ سَنُعِیْدُہَا سِیْرَتَہَا الْاُوْلٰی﴾ (طہ ۲۱)

’’اسے پکڑ واور ڈرونہیں ، عنقریب ہم اسے اس کی پہلی حالت میں لوٹا دیں گے۔‘‘

اس شیعہ سے کہا جائے گا: اگریہ خوف اطاعت کا کام تھا؛ تو یقیناً اس سے منع کیا گیا ہے۔اور اگر [تم شیعہ کے بقول] نافرمانی کا کام تھا تو پھر [پیغمبر کی طرف سے ] نافرمانی کی گئی۔

نیز یہ بھی کہا جائے گاکہ: آپ کو حکم دیا گیا تھا کہ مطمئن اور ثابت قدم رہیں ۔اس لیے کہ خوف تو انسان کے اختیار کے بغیر حاصل ہوتا ہے۔اس لیے کہ جب امن کے اسباب و موجبات نہیں تھے تو خوف لاحق ہوا۔ اور جب امن کے اسباب پیدا ہوگئے تو خوف زائل ہوگیا۔پس اللہ تعالیٰ کا حضرت موسیٰ علیہ السلام سے یہ فرمانا کہ :

﴿وَلَاتَخَفْ سَنُعِیْدُہَا سِیْرَتَہَا الْاُوْلٰی﴾ (طہ ۲۱)

’’ اور ڈرو نہیں ، عنقریب ہم اسے اس کی پہلی حالت میں لوٹا دیں گے۔‘‘

اس حکم میں ساتھ ہی اس چیز کی خبر بھی دی گئی ہے جس سے خوف زائل ہوجائے گا۔

ایسے ہی اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان بھی ہے :

﴿ فَاَوْجَسَ فِیْ نَفْسِہٖ خِیْفَۃً مُّوْسٰیo قُلْنَا لَا تَخَفْ اِنَّکَ اَنْتَ الْاَعْلٰی﴾ (طہ ۶۷۔۶۸)

’’تو موسیٰ نے اپنے دل میں ایک خوف محسوس کیا۔ہم نے کہا خوف نہ کر، یقیناً تو ہی غالب ہے۔ ‘‘

یہاں پر خوف کھانے سے منع کیا گیا اس کے ساتھ ہی خوف ختم ہونے کے موجبات بھی بیان کیے گئے ہیں ۔

یہی حال اس آیت میں وارد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اس فرمان کا بھی ہے : ﴿ لَاتَخْزَنْ اِنَّ اللّٰہَ مَعَنَا﴾’’ غم نہ کر اللہ ہمارے ساتھ ہے ۔‘‘یہاں پر غمگین ہونے سے منع کیا گیا ہے ‘ اور اس کے ساتھ ہی غم نہ کرنے کا سبب بھی بیان کیا گیا ہے۔ اور وہ سبب ہے : ﴿ اِنَّ اللّٰہَ مَعَنَا﴾’’ بیشک اللہ ہمارے ساتھ ہے ۔‘‘ جب ایسی بشارت مل جائے جس سے غم و حزن ختم ہوں تو یہ امور ختم ہوجاتے ہیں ۔ورنہ انسان کو غم و حزن بغیر اختیار کے لاحق ہوتے ہیں ۔

تیسری بات:....حزن وملال سے منع کرنے سے یہ لازم نہیں آتا کہ واقعی غم و حزن پائے بھی جاتے ہیں ؛ جیسا کہ ہم پہلے بیان کرچکے ہیں ۔بلکہ یہ ممانعت اس لیے بھی وارد ہوسکتی ہے تاکہ جب غم و حزن کے اسباب پیدا ہوجائیں تو اس وقت غم و حزن نہ کیا جائے۔ اس صورت میں غم اگر معصیت اور گناہ کا کام بھی ہو تو اس سے کوئی نقصان نہیں ہوتا اور اگر غم ہو بھی تو پھر بھی ہم کہتے ہیں : ’’ اگر منہیٰ عنہ گناہ اورنافرمانی کا کام نہ ہو تو کبھی نہی تسلی و تعزیت اور ثابت قدمی کے لیے آتی ہے؛اس لیے کہ بیشتر اوقات بعض چیزیں غیر اختیاری طور پر ظاہر ہوجاتی ہیں ۔یہ غم و حزن بھی اسی باب سے تعلق رکھتے ہیں ۔

صفحہ 1 از 3