فصل:....[حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کا یقین و ثبات] - ردِ…

فصل:....[حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کا یقین و ثبات]

  امام ابنِ تیمیہؒ

صفحہ 1 از 3

فصل:....[حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کا یقین و ثبات]

[ اعتراض ]:شیعہ مصنف کا یہ اعتراض کہ آیت کریمہ[ ﴿فَاَنْزَلَ اللّٰہُ سَکِیْنَتَہٗ عَلٰی رَسُوْلِہٖ وَ الْمُؤْمِنِیْنَ﴾] ’’ پس اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول پر اور مؤمنین پر اپنا سکون نازل فرمایا ‘‘]۔ میں سکینہ نازل کرنے کا ذکر فرمایا تو اس میں واضح طور پر اہل ایمان کو سکون و اطمینان کے مورد میں آپ کا شریک قرار دیاہے، مگر آیت زیر تبصرہ میں یہ صراحت موجود نہیں ۔ اس سے بڑھ کر کوئی اور نقص نہیں ہوسکتا۔‘‘

[ جواب]:پہلی بات: رافضی مصنف اپنے تئیں یہ تصور کروانا چاہتا ہے کہ سکون نازل ہونے کاذکر متعدد بار ہوا ہے۔ مگر ایسا نہیں ہے۔ یہ تذکرہ صرف حنین کے موقعہ پر ہوا ہے۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: 

﴿وَّ یَوْمَ حُنَیْنٍ اِذْ اَعْجَبَتْکُمْ کَثْرَتُکُمْ فَلَمْ تُغْنِ عَنْکُمْ شَیْئًا وَّ ضَاقَتْ عَلَیْکُمُ الْاَرْضُ بِمَا رَحُبَتْ ثُمَّ وَلَّیْتُمْ مُّدْبِرِیْنَo ثُمَّ اَنْزَلَ اللّٰہُ سَکِیْنَتَہٗ عَلٰی رَسُوْلِہٖ وَعَلَی الْمُؤْمِنِیْنَ وَ اَنْزَلَ جُنُوْدًا لَّمْ تَرَوْہَا ﴾۔[التوبہ ۲۵۔ ۲۶]

’’اور حنین کی لڑائی والے دن بھی جب کہ تمہیں کوئی فائدہ نہ دیا بلکہ زمین باوجود اپنی کشادگی کے تم پر تنگ ہوگئی پھر تم پیٹھ پھیر کر مڑ گئے۔پھر اللہ نے اپنی طرف کی تسکین اپنے نبی پر اور مومنوں پر اتاری اور اپنے لشکر بھیجے جنہیں تم دیکھ نہیں رہے تھے ۔‘‘

یہاں پر اللہ تعالیٰ نے ان کے پیٹھ پھیر کر چلے جانے کے بعد اہل ایمان اور اپنے نبی پر سکینہ نازل کرنے کاذکر فرمایا ہے ۔ پھر دوسرے مقام پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کیساتھ اہل ایمان پر سکینہ نازل کرنے کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا:

﴿اِِنَّا فَتَحْنَا لَکَ فَتْحًا مُّبِیْنًا ....ہُوَ الَّذِیْٓ اَنْزَلَ السَّکِیْنَۃَ فِیْ قُلُوْبِ الْمُؤْمِنِیْنَ ....﴾ [الفتح ۱۔۴]

’’(اے نبی)بیشک ہم نے آپ کو ایک کھلم کھلا فتح دی ہے....وہی ہے جس نے مسلمانوں کے دلوں میں سکون اور اطمینان ڈال دیا ۔‘‘

اور اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:

﴿لَقَدْ رَضِیَ اللّٰہُ عَنِ الْمُؤْمِنِیْنَ اِِذْ یُبَایِعُوْنَکَ تَحْتَ الشَّجَرَۃِ فَعَلِمَ مَا فِیْ قُلُوْبِہِمْ فَاَنْزَلَ السَّکِیْنَۃَ عَلَیْہِم﴾ [الفتح ۱۸]

’’یقیناً اللہ تعالیٰ مومنوں سے خوش ہوگیا جبکہ وہ درخت تلے تجھ سے بیعت کر رہے تھے ان کے دلوں میں جو تھا اسے اس نے معلوم کرلیا اور ان پر اطمینان نازل فرمایا۔‘‘

دوسری بات : علماء کرام رحمہم اللہ کا اختلاف ہے کہ اس آیت :﴿فَاَنْزَلَ اللّٰہُ سَکِیْنَتَہٗ عَلَیْہِ﴾میں ضمیر کس کی طرف راجح ہے۔ بعض کہتے ہیں : ضمیر کا مرجع نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف ہے۔ اور بعض کہتے ہیں : نہیں ‘بلکہ ضمیر کا مرجع حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ ہیں ۔اس لیے کہ ابوبکر رضی اللہ عنہ اقرب المذکورین ہیں ‘ اور آپ کو اطمینان و سکون کی ضرورت زیادہ تھی۔تو آپ پر بھی ایسے ہی سکون نازل ہوا جیسا کہ بیعت رضوان کے موقع پردرخت کے نیچے اہل ایمان پر سکون و اطمینان نازل ہوا تھا۔ 

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس حال میں اس سے مستغنی تھے؛ اس لیے کہ آپ کو کمال اطمینان حاصل تھا۔بخلاف یوم حنین کے؛ اس لیے کہ اس دن آپ کو اس کی ضرورت تھی۔ کیونکہ جمہور صحابہ پسپا ہوچکے تھے؛ اور دشمن آپ کی طرف بڑھ رہا تھا‘اور آپ اپنی خچر کو دشمن کی طرف ہانک رہے تھے۔

پہلے قول کی بنیاد پر ضمیر کا مرجع رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات گرامی ہے ؛ جیسا کہ اللہ تعالیٰ کے اس فرمان میں بھی ہے:

﴿ وَ اَیَّدَہٗ بِجُنُوْدٍ لَّمْ تَرَوْہَا ﴾’’اور ایسے لشکر سے ان کی مدد کی جسے تم نے نہیں دیکھا۔‘‘

اس لیے کہ سیاق کلام میں حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کا ذکر تھا؛ اس لیے جداگانہ طور پر نزول سکینہ کے اظہار کی ضرورت نہیں تھی۔کیونکہ آپ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے تابع و مطیع اور رفیق و مصاحب تھے۔لیکن یہ کہا جاسکتا ہے کہ :جب آپ نے اپنے ساتھی سے کہا:﴿ اِنَّ اللّٰہَ مَعَنَا﴾’’ بیشک اللہ تعالیٰ ہمارے ساتھ ہے‘‘: تو[اللہ تعالیٰ کی معیت دونوں کو حاصل تھی]۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم متبوع ومطاع تھے اورابوبکر تابع و مطیع‘اوریہی آپ کے ساتھی بھی تھے۔ بنابریں جب متبوع کو سکون و اطمینان اور ملائکہ کی تائید و نصرت حاصل ہو گی تو لازماً تابع بھی اس میں شریک ہو گا۔ اس لیے یہاں جداگانہ طور پر نزول سکینہ کے اظہار کی ضرورت نہیں تھی؛کیونکہ ابوبکر رضی اللہ عنہ کو کمال مصاحبت وملازمت حاصل تھے‘جو کہ اس تائید و سکون میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ آپ کی مشارکت کو واجب کرتے تھے۔

بخلاف حنین کے دن پسپا ہونے والوں کے احوال کے۔ اس لیے کہ اس موقع پر اگر اللہ تعالیٰ اتنا ہی فرماتے کہ : اللہ تعالیٰ نے اپنا سکون اپنے پیغمبر پر نازل کیا ‘ اور اس سے آگے کچھ نہ فرماتے تو یہاں پر کوئی ایسا قرینہ نہیں تھا جس کی وجہ سے ہم کہہ سکتے کہ یہ سکون اہل ایمان پر بھی نازل ہوا ہے۔ اس لیے کہ یہ لوگ جب پسپا ہوئے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو چھوڑ کر چلے گئے تھے۔ اور ان کے لیے ایسی مطلق صحابیت بھی ثابت نہیں تھی جو ابوبکر جیسے کمال صحبت و ملازمت پر دلالت کرتی ہو۔

چونکہ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کو مطلقاً صاحب کامل کے لقب سے نوازا گیا ہے۔ جس سے عیاں ہوتا ہے کہ آپ ہمیشہ اور ہر حال میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے وابستہ رہا کرتے تھے۔ خصوصاً ایسے نازک وقت اور انتہائی خوف کے حالات میں جب کہ دوستی نباہنا بڑا مشکل ہوتا ہے۔تو اس سے بطریق دلالۃ النص واضح ہوتا ہے کہ ابوبکر رضی اللہ عنہ نصرت و تائید ربانی کے وقت بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ شریک و سہیم ہوں گے۔اس لیے کہ جو کوئی بھی انتہائی سختی اور خوف و شدت کے حالات میں دوستی نبھائے؛ وہ ضروری طور پر نصرت اور تائید و مدد کے احوال میں بھی ساتھ نبھاتا ہے۔ تو پھر اس کے ساتھ کا ذکر کرنے کی کوئی ضرورت نہیں ہوتی ؛ اس لیے کہ احوال کلام خود اس پر دلالت کرتے ہیں ۔

صفحہ 1 از 3