فصل:....[حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کا یقین و ثبات] - ردِ…

فصل:....[حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کا یقین و ثبات]

  امام ابنِ تیمیہؒ

صفحہ 2 از 3

جب اس بات کا علم ہوگیا کہ آپ اس حال میں بھی آپ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھی اور مؤید تھے ‘ تو یہ بات بھی بدیہی طور پر معلوم ہوگئی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر جو سکینہ نازل ہوا‘ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایسا لشکر اتار کر آپ کی تائید کی گئی ؛ جس کو آپ کے مذکورہ ساتھی ودوست نہیں دیکھ سکے ؛ اس میں باقی لوگوں کی نسبت بہت بڑی فضیلت ہے؛اور یہ قرآن کی بلاغت اور حسن بیان کی دلیل ہے۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:

﴿وَ اللّٰہُ وَ رَسُوْلُہٗٓ اَحَقُّ اَنْ یُّرْضُوْہُ ﴾ [التوبۃ ۶۲]

’’ اللہ اور اس کا رسول رضامند کرنے کے زیادہ مستحق تھے۔‘‘

یہاں پر اس جملہ :﴿اَحَقُّ اَنْ یُّرْضُوْہُ ﴾میں اگر ضمیر کا مرجع اللہ تعالیٰ کی طرف ہے تو اللہ تعالیٰ کی رضامندی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی رضامندی کے حصول کے بغیر ممکن نہیں ۔اور اگر اس کی ضمیر کا مرجع رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف ہے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی رضامندی کا حصول اس وقت تک ممکن نہیں جب تک اللہ تعالیٰ راضی نہ ہوجائے۔ جب ان دونوں میں سے کسی ایک کی رضا مندی دوسرے کی رضامندی کے حصول کے بغیر ممکن نہیں ؛ تو ان دونوں کی رضا مندی ایک ہی چیز سے حاصل کی جاسکتی ہے۔ جب پہلا مقصود اللہ تعالیٰ کی رضامندی ہو تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی رضامندی اس کی اتباع میں ہوجائے گی۔ جیسے یہا ں پر﴿اَحَقُّ اَنْ یُّرْضُوْہُ ﴾ میں اللہ تعالیٰ واحد کی ضمیر لائے ہیں ۔ ایسے ہی یہاں پر :  ﴿فَاَنْزَلَ اللّٰہُ سَکِیْنَتَہٗ عَلَیْہ وَ اَیَّدَہٗ بِجُنُوْدٍ لَّمْ تَرَوْہَا ﴾ میں واحد کی ضمیر لائے ہیں ۔ اس لیے کہ یہاں پر کسی ایک پر اطمینان و سکون کا نزول دوسرے کی مشارکت کو مستلزم ہے۔ یہ محال ہے کہ ایک ساتھی پر اطمینان نازل ہو اور ساتھ دینے والے پر نہ ہو یا ساتھ دینے والے پر نازل ہو او راس ساتھی پر نازل نہ ہو جو کہ ہمیشہ سے جزء لاینفک اور ملازم ہے۔جب اس سکینہ کا حصول ان دونوں کے ساتھ ہی ممکن تھا تو ضمیر کو واحد لایا گیا۔ اور اس ضمیر کا اصل مرجع رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات گرامی ہے ‘ اور آپ کا صاحب و ساتھی آپ کے اتباع میں اس میں شریک ہے۔ 

اگر کوئی یہ کہے کہ : اللہ تعالیٰ نے ان دونوں پر سکون نازل کیا اور ان کی تائید کی ؛ اس سے یہ وہم پیدا ہوتا ہے کہ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ بھی شریک نبوت ہوں ۔جیسا کہ حضرت موسیٰ اور ہارون علیہماالسلام کے متعلق اللہ تعالیٰ کافرمان ہے:

﴿سَنَشُدُّ عَضُدَکَ بِاَخِیْکَ وَ نَجْعَلُ لَکُمَا سُلْطٰنًا ﴾ [القصص۳۵]

’’ہم تیرے بھائی کے ساتھ تیرا بازو مضبوط کر دیں گے اور تم دونوں کو غلبہ دیں گے۔‘‘

اور اللہ تعالیٰ کافرمان ہے:

﴿وَلَقَدْ مَنَنَّا عَلٰی مُوْسٰی وَہَارُوْنَo وَنَجَّیْنَاہُمَا وَقَوْمَہُمَا مِنَ الْکَرْبِ الْعَظِیْمo وَ نَصَرْنَاہُمْ فَکَانُوْا ہُمُ الْغَالِبِیْنَo وَآتَیْنَاہُمَا الْکِتٰبَ الْمُسْتَبِیْنَo وَہَدَیْنَاہُمَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِیْمَ﴾ [الصافات۱۱۴۔۱۱۸]

’’اور بلا شبہ یقیناً ہم نے موسیٰ اور ہارون پر احسا ن کیا ۔ اور ہم نے ان دونوں کو اور دونوں کی قوم کو بہت بڑی مصیبت سے نجات دی۔ اور ہم نے ان کی مدد کی تو وہی غالب ہوئے۔اور ہم نے ان دونوں کو نہایت واضح کتاب دی ۔ اور ہم نے ان دونوں کو سیدھے راستے پر چلایا ۔‘‘

یہاں پر اللہ تعالیٰ نے پہلے ان دو انبیاء کرام علیہماالسلام کا ذکر کیا؛ پھر اس چیزکا ذکر کیا جس میں ان کی قوم بھی ان کے ساتھ شریک تھی۔جیسا کہ اللہ تعالیٰ کافرمان ہے:

﴿فَاَنْزَلَ اللّٰہُ سَکِیْنَتَہٗ عَلٰی رَسُوْلِہٖ وَالْمُؤْمِنِیْنَ﴾ [فتح ۲۶]

’’ پس اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول پر اور مؤمنین پر اپنا سکون نازل فرمایا ۔‘‘

اس لیے کہ یہاں پر اس کلام میں کوئی ایسی بات نہیں تھی جس کا تقاضا یہ ہو کہ جب یہ دونوں نصرت سے سرفراز ہوکر نجات پا گئے تھے تو یہ نجات نصرت ان کی قوم کو بھی حاصل ہوگئی تھی۔پھر جو چیز ان دونوں کیساتھ خاص تھی ؛ اسے تثنیہ کے لفظ سے ذکر کیااس لیے کہ یہ دونوں حضرات نبوت میں شریک تھے۔ اللہ تعالیٰ نے موسیٰ علیہ السلام کو ایسے مفرد ذکر نہیں کیا جیسا کہ یہاں پر اس فرمان میں ہے:﴿وَ اللّٰہُ وَ رَسُوْلُہٗٓ اَحَقُّ اَنْ یُّرْضُوْہُ﴾’’ اللہ اور اس کا رسول رضامند کرنے کے زیادہ مستحق تھے۔‘‘ 

اور اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: ﴿اَحَبَّ اِلَیْکُمْ مِّنَ اللّٰہِ وَ رَسُوْلِہٖ وَ جِہَادٍ فِیْ سَبِیْلِہٖ ﴾ [توبہ۲۴]

’’ اگر یہ تمہیں اللہ سے اور اس کے رسول سے اور اس کی راہ کے جہاد سے بھی زیادہ عزیز ہیں ۔‘‘

اگر یہ کہا جائے کہ اللہ تعالیٰ نے ان دونوں پر سکون نازل فرمایااور ان کی تائید کی تو اس سے شراکت کا وہم پیدا ہوتا ہے۔ [تو اس کا جواب یہ ہے ]: بلکہ یہاں پر ضمیر کامرجع رسول متبوع ہے۔اور آپ کی تائید و نصر ت آپ کے ساتھی کی تائید و نصرت بطور لازم ضرورت کے تحت ہے۔

یہی وجہ ہے کہ جس موقع پر بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو تائید ونصرت سے نوازا گیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد اسی قسم کے حالات میں تائید ربانی حضرت صدیق رضی اللہ عنہ کے شامل حال ہوئی، اسی بنا پرخوف و شدت کے مقامات پر تمام صحابہ میں حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ یقین و ثبات میں سب سے آگے تھے۔اسی لیے کہا گیا ہے کہ:

’’اگر حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کے ایمان کو کرۂ ارضی پر بسنے والے سب انسانوں کے ایمان کے ساتھ تولا جائے تو ابوبکر رضی اللہ عنہ کا ایمان بڑھ جائے گا۔‘‘[شیخ الاسلام رحمہ اللہ نے اسے حدیث نبوی نہیں ، بلکہ بصیغہ تمریض’’قیل‘‘ ذکر کیا ہے ۔ نیز احادیث القصاص(ح:۱۸)، میں ان الفاظ کو موضوع قرار دیتے ہوئے معناً درست قرار دیا ہے جیسا کہ اگلی حدیث ہے۔ تاہم یہ روایت مرفوعاً الکامل لابن عدی(۴؍۱۵۱۸)، میں بسند ضعیف مروی ہے ۔ تاہم سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے موقوفاً ثابت ہے۔ دیکھئے: فضائل الصحابۃ للامام احمد(۶۵۳)، السنۃ لعبد اللّٰہ بن احمد(۸۲۱)، شعب الایمان(۳۶)، اس معنی کی مرفوعاً روایت مسند احمد (۲؍۷۶)، الشریعۃ للآجری (۱۳۳۳)، میں ابن عمر رضی اللہ عنہما سے ہے۔]

صفحہ 2 از 3