فصل:....[حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کا یقین و ثبات] - ردِ…

فصل:....[حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کا یقین و ثبات]

  امام ابنِ تیمیہؒ

صفحہ 3 از 3

سنن میں حضرت ابوبکرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ سے پوچھا:

’’کیا تم میں سے کسی نے آج خواب دیکھا ہے؟‘‘ ایک صحابی نے کہا میں نے دیکھا ہے کہ آسمان سے ایک ترازو اترا جس میں آپ اور ابوبکر رضی اللہ عنہ کو تولا گیا تو آپ بڑھ گئے، پھر ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما کو تولا گیا تو ابوبکر رضی اللہ عنہ والا پلڑا جھک گیا۔پھر عمر و عثمان رضی اللہ عنہما کو تولا گیا تو عمر رضی اللہ عنہ والا پلڑا جھک گیا ۔پھر ترازو کوآسمانوں میں اٹھا لیا گیا۔پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس بارے میں دریافت کیا گیا توآپ نے فرمایا: ’’یہ خلافت نبوت ہے۔پھر اللہ تعالیٰ جس کو چاہے گا اپنا ملک عطا کردے گا۔‘‘[سنن ابی داؤد، کتاب السنۃ، باب فی الخلفاء(حدیث:۴۶۳۴)، سنن ترمذی، کتاب الرؤیا۔ باب ما جاء فی رؤیا النبی صلي اللّٰه عليه وسلم ، المیزان والدلو (حدیث: ۲۲۸۷)۔]

ابوبکر بن عیاش رحمہ اللہ فرماتے ہیں : حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ باقی صحابہ کرام رضی اللہ عنہم پر روزہ اورنماز کی وجہ سے سبقت نہیں لے گئے تھے ‘ بلکہ آپ کی سبقت کا سبب دل میں موجود ایمان تھا۔


صفحہ 3 از 3