رانا سعید شیعہ کی دوبارہ گروپ میں انٹری اور مناظرہ پر گفتگو…

رانا سعید شیعہ کی دوبارہ گروپ میں انٹری اور مناظرہ پر گفتگو

  جعفر صادق

صفحہ 3 از 4

 جعفر صادق: کیا ابن سبا کو اہل تشیع حضرات  عوام کے سامنے افسانہ نہیں کہتے؟ کیا میں ثابت کروں کہ شیعہ علماء نے اس ملعون ابن سبا  کو افسانہ ثابت کرنے کے لئے کتنی کتب لکھی ہیں؟     پوری گفتگو میں  فضول اعتراضات اور غیر ضروری میسیجز  کر کے  ایک ڈیڑھ گھنٹہ ضایع کردیا ہے۔۔۔ اب معصوم بن کر مجھے کہہ رہے ہیں کہ علمی روش اپناؤں۔    میری شرائط کو پہلے کلیئر کیجئے گا۔اپنی شرائط پیش کیجئے گا۔ اس کے بعد دعویٰ پر اشکالات کلیئر کریں گے۔آخر میں آپ جواب دعویٰ بھی آج ہی لکھیں گے۔باقائدہ گفتگو کی شروعات کل رات سے شروع کی جائے گی۔ ان شاء اللہ۔

شیعہ مناظر کی دوبارہ دوڑیں: عنوان میں  کیوں لکھا ہے کہ ابن سبا افسانہ  ہے یا حقیقت!

  رانا محمد سعید شیعہ : کیا ہمارے مکالمے کا عنوان یہ ہے کہ ابن سباء افسانہ ہے یا حقیقت ؟؟؟؟ عجیب بات کرتے ہو ، ایک تو میں آپ کی روش پر لچک دے رہا ہوں ،آپ اس پر بھی اپنا قبلہ درست کرنے کی بجائے مجھے الزام دے رہے کہ میں نے وقت ضائع کیا ہے۔  قریشی صاحب کچھ بھی ہو جائے میں آپ کے گفتگو نا کرنے کے کسی بھی حربے کو کامیاب نہیں ہونے دوں گا۔

  ایک موضوع جو فی نفسہ ایک الگ موضوع ہے ، اسکا ہمارے زیربحث موضوع میں ٹچ دیکر آپ اپنی ضد پر قائم ہیں اور الزام بھی مجھے دے رہے ہیں کہ میں نے وقت ضائع کیا۔  واہ کیا پیمانے ہیں نام نہاد اخلاقیات کے۔  آپ آ جائیں آپکی ہی شرائط پر بات کر لیتے ہیں۔

  جعفر صادق:   ممبرز دوبارہ دیکھیں۔ میرا چیلینج اور شرائط میں عنوان/ موضوع۔


 

  رانا محمد سعید شیعہ:   دوبارہ غلط بیانی ۔ یہ آپ کا دعویٰ ہے محترم جو پچھلے دو تین ہفتے سے اس گروپ میں گردش کر رہا ہے ۔ بہرحال آپ آگے بڑھیں۔

    آپ نے کہا میں آپ کی شرائط پر گفتگو کروں ۔تو  شروع کروں ؟؟؟؟

  جعفر صادق: چیلینج اور عنوان میں دو باتیں مذکور ہیں۔

1: ابن سبا افسانہ یا حقیقت

2: ابن سبا شیعیت کے عقائد گھڑنے والا ہے یا نہیں۔

میرا دعویٰ  واضح ہے کہ مجھے دوران گفتگو کیا ثابت کرنا ہے۔آپ شرائط طئے کرنے کے بعد اقرار کرلیجئے گا کہ ابن سبا حقیقت ہے،  افسانہ نہیں ہے۔۔۔ تو ایک نکتہ کلیئر ہوجائے گا۔۔۔اس کے بعد ہم دوسرے نکتے پر گفتگو شروع کردیں گے۔

  کونسا موضوع الگ ہے۔موضوع ہی یہی ہے کہ ابن سبا کا تعین کیا جائے کہ یہ بندہ واقعی تھا کہ نہیں اور شیعیت کے عقائد سے اس کا تعلق ہے کہ نہیں ہے۔  شرائط طئے کریں۔اگر گفتگو کرنی ہے۔پھر آتے ہیں دعویٰ پر۔۔۔آپ کے ساتھ واقعی کچھ مسئلہ ہے۔ پہلے بھی یہی روش تھی۔  میری شرائط کو پہلے کلیئر کیجئے گا۔

اپنی شرائط پیش کیجئے گا۔اس کے بعد دعویٰ پر اشکالات کلیئر کریں گے۔آخر میں آپ جواب دعویٰ بھی آج ہی لکھیں گے۔باقائدہ گفتگو کی شروعات کل رات سے شروع کی جائے گی۔ ان شاء اللہ۔

(شرائط دوبارہ بھیج دی گئیں)

کیا ایک افسانوی کردار موجد عقائد شیعیت ہوسکتا ہے؟

  رانا محمد سعید شیعہ:  دیکھیں محترم دو الگ الگ باتیں ہیں۔

1: ابن سباء ایک حقیقت ہے یا افسانہ

2: ابن سباء شیعہ عقائد کا موجد ہے یا شیعہ عقائد کا ماخذ کچھ اور ہے ۔

دونوں میں سے آپ کس موضوع پر گفتگو کرنا چاہ رہے ہیں ۔*آپکا دعوی جو پچھلے کچھ عرصے سے گردش میں ہے اس کا تعلق خالصتا دوسری بات سے ہے* یا اس بات کو قبول کیجئے یا کہہ دیجئے یہ آپکا دعوی نہیں ہے ۔

  جعفر صادق: دونوں ہی کلیئر کریں گے۔ اگر آپ کو دونوں سے اختلاف ہے۔اس میں کیا ابہام ہے۔

⬅️ شرائط پر آئیں۔ اب وقت ضایع کرنے نہیں دوں گا۔ مدعے پر آئیں۔    شیعہ ایڈمنز اپنے بندے کو لائین پر لائیں۔

  رانا محمد سعید شیعہ بداخلاق: آپ بار بار فرار کے بہانے کیوں ڈھونڈتے ہیں جبکہ بات موضوع پر ہی ہو رہی ہے ۔

  شیعہ مناظر کی بدحواسیاں (پہلے کہا  شرائط ڈسکس ہورہی ہیں ! اسی وقت دوسرا جواب:  شرائط پر آتے ہیں!)

  جعفر صادق: شرائط،شرائط،شرائط

  رانا محمد سعید شیعہ : غلط بات سے گریز کریں ۔ اصل مدعے پر آئیں۔

  جعفر صادق: دوبارہ دس منٹ دے رہا ہوں۔

  رانا محمد سعید شیعہ : جی جی محترم ۔ شرائط ہی ڈسکس ہو رہی ہیں ۔

 

  جعفر صادق:  (دوبارہ شرائط پیش کر کے پوچھا گیا) یہ شرائط قبول ہیں؟ اپنی شرائط بھی بھیجیں۔

 رانا محمد سعید شیعہ : ممبرز دیکھ لیں بار بار بھاگنے کی کوشش کر رہے ہیں ۔شرائط پر آتے ہیں ۔

میں ابھی اقرار کیئے دیتا ہوں کہ ابن سباء اپنی ذات میں افسانہ نہیں بلکہ حقیقت ہے ۔ البتہ اس کی طرف بہت سے افسانے منسوب ہیں جن میں کچھ درست اور کچھ صحیح روایات میں ثابت نہیں ہیں ۔ انہی افسانوں میں سے ایک افسانہ ھے جو محترم ممتاز قریشی صاحب نے اپنے دعوے میں اہلسنت کی طرف سے شیعہ اثناعشریہ پر بطور الزام پیش کیا ہے کہ اس مسلک کے عقائد کا مؤجد ابن سباء ملعون ہے ۔ اس اقرار اور وضاحت کے بعد گفتگو کا محور فقط یہ رہ جاتا ہے کہ شیعہ عقائد کا مؤجد ابن سباء ہے یا ان کا ماخذ و منبع کچھ اور ہے ۔

 جعفر صادق: جب شرائط پر گفتگو مکمل ہوگی تو پھر اس کی پابندی ہم دونوں پر لازم ہوگی۔شرائط پر گفتگو شروع کریں۔

مناظرہ کی اہم  فیصلہ کن شرط 4 پر شیعہ مناظر کے تحفظات اور اشکالات

 رانا محمد سعید شیعہ : اب وضاحت کے بعد اصولی اور اخلاقی طور پر قریشی صاحب کو چاہیئے کہ شرائط کے عنوان سے افسانے والی باٹ ہٹا دیں ۔

شرط نمبر 4 میں لکھا ہے کہ جید علماء کرام کی تائید شدہ روایت سے اور صحیح روایت سے حجت قائم ہو گی ۔ اس پر قریشی صاحب روشنی ڈالیں کہ علماء کی تائید یافتہ سے آپکی کیا مراد ہے ؟

  جعفر صادق: پہلا نکتہ(افسانہ)  کلیئر کرنا بہت ضروری ہے۔ آپ نے جو اقرار کیا ہے وہ آج کے شیعہ علماء تسلیم ہی نہیں کرتے۔ دور کیوں جائیں۔۔۔ اپنے دلشاد صاحب سے پوچھ لیں۔۔ کئی بار کاپی پیسٹ کر کے کہہ چکا ہے کہ ابن سبا صحیح روایات سے ثابت ہونے کے باوجود ہم اسے افسانہ ثابت کر سکتے ہیں۔زمانہ قدیم سے آج تک کئی شیعہ محققین کی کتب ابن سبا کو افسانہ ثابت کرنے کے لئے تصنیف کی گئی ہیں۔ خیر چھوڑیں۔ آپ کا یہ  اقرار دوران گفتگو میرے کام آتا رہے گا۔ اب شرط 4 پر آتا ہوں۔

  رانا محمد سعید شیعہ : فی الحال صرف میرے ساتھ بات کریں۔ دوسرے کیا کہتے ہیں یہ الگ چیز ہے۔  ان کے الگ زاویے اور الگ آراء ہیں۔ 

صفحہ 3 از 4