امیر معاویہ (رضی اللہ عنہ) شراب پیتا تھا (مسند امام بن حنبل)
مولانا ابوالحسن ہزارویامیر معاویہ (رضی اللہ عنہ) شراب پیتا تھا (مسند امام بن حنبل)
الجواب اہلسنّت
1: دو وجہوں سے یہ روایت مردود ہے
(الف) روایت کے کچھ ایسے راوی ہیں جن پر ارباب علم نے جرح کی اور ناقابل اعتماد بتایا اُن میں زید بن الحباب مختلف الخبر ہے. ابن معین کہتے ہیں کہ امام سفیان ثوری رحمہ اللہ سے اس کی روایت الٹ پلٹ کی ہوئی ہیں امام احمد کہتے ہیں کہ صدوق بہت غلطیاں کرنے والا ہے۔ ابن عدی کہتے ہیں کہ اس کی احادیث انوکھی قسم کی ہیں (میزان الاعتدال جلد 2 صفحہ 100)
حافظ ابن حجر عسقلانی رحمہ اللہ فرماتے ہیں "یخطی فی حدیث الثوری"
( تقریب التہذیب جلد 1 صفحہ ص 327 تحت حرف الزائی نمبر 2130 حدیث مطبوعہ دارالکتب العلمیہ بیروت (لبنان) )
دوسرا راوی "حسین" ہے یہ راوی مجہول ہے۔ میزان الاعتدال جلد 1 صفحہ 550 پر اسے بعض روایات میں منکر ہے بتایا گیا ہے۔ امام ابو حاتم نے فرمایا ہے کہ یہ کوئی قوی نہیں ہے
(ب) یہ روایت الحاق سے خالی نہیں کیونکہ یہ روایت مصنف ابن ابی شیبہ اور مجمع الزوائد میں پائی جاتی ہیں مگر ما شربتہ منذ رسول اللہ کے الفاظ نہیں ہیں۔ (مجمع الزوائد ہیثمی جلد 5 صفحہ 46 بحوالہ سیرت امیر حضرت امیر معاویہ 226)
معلوم ہوا کہ اس میں راویوں نے اپنی طرف سے کچھ الفاظ ملا دہے ہیں
2: یہاں جس چیز کے پینے کو بتایا جا رہا ہے وہ نشہ والی شراب نہ تھی بلکہ نبیذ تھا جس کی صورت یہ ہوتی ہے کہ پانی میں کھجور ڈال کر رکھ دی جاتی ہیں جب وہ پانی کھجوروں کی وجہ سے میٹھا ہو جائے تو اسے پی لیتے ہیں یہ بھی دراصل نبیذ ہی تھا جو شراب نہ تھا ورنہ خود ہی حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ سے منقول ہے کہ انہوں نے فرمایا کل مسکر حرام ہر نشہ آور چیز حرام ہے جس چیز کو وہ خود حرام بتا رہے ہیں اسے استعمال کرنا بعید از عقل ہے