فصل:....آیت ﴿وسیجنبہا الاتقی﴾اور شیعہ کا استدلال - ردِ…

فصل:....آیت ﴿وسیجنبہا الاتقی﴾اور شیعہ کا استدلال

  امام ابنِ تیمیہؒ

صفحہ 2 از 5

پہلی وجہ :....فرمان الٰہی ہے : ﴿وَ سَیُجَنَّبُہَا الْاَتْقٰی﴾؛اور یہ بھی فرمایا ہے: ﴿إِن أَکْرَمَکُمْ عِنْدَ اللّٰہِ أَتْقَاکُمْ ﴾ بیشک تم میں سے اللہ کے ہاں سب سے زیادہ عزت والا وہ ہے جو سب سے زیادہ متقی ہو۔‘‘تو یہ ضروری ہے کہ امت کا سب سے بڑا متقی اس آیت کے ضمن میں داخل ہو؛ اوروہی اللہ تعالیٰ کے ہاں سب سے زیادہ عزت والا بھی ہوگا۔ کوئی شخص اس بات کا قائل نہیں کہ حضرت ابودحداح رضی اللہ عنہ سابقین اولین مہاجرین ؛حضرت ابوبکر و عمر‘عثمان وعلی رضی اللہ عنہم سے زیادہ افضل اور عزت والے تھے ۔بلکہ تمام امت کیا اہل سنت اورکیا غیراہل سنت سب کا اتفاق ہے کہ مذکورہ بالا صحابہ کرام اوران کے امثال مہاجرین حضرت ابو دحداح رضی اللہ عنہ سے افضل ہیں ۔ تو پھر یہ ضروری ہوجاتا ہے کہ وہ بڑا متقی جس نے زکواۃ ادا کرکے تزکیہ نفس کیا ہے ‘وہ ان ہی میں سے ایک ہو۔ 

٭ اس بات کا دعویدار کہتا ہے کہ :یہ آیت حضرت ابودحداح رضی اللہ عنہ کی شان میں نازل ہوئی۔جب کسی مسئلہ میں دو قول ہوں ۔ایک کہنے والا کہہ رہا ہوکہ یہ ابودحداح رضی اللہ عنہ کی شان میں نازل ہوئی ہے۔ اور دوسرا کہہ رہا ہو: حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کی شان میں نازل ہوئی ہے۔ تو یہ دوسرے قول والے کی تائید قرآن سے ہوتی ہے۔ اور اگراس آیت کو ان دونوں حضرات کے لیے عام سمجھا جائے تو حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ اس آیت کی فضیلت میں داخل ہونے کے حضرت ابودحداح رضی اللہ عنہ سے زیادہ حق دار ہیں ۔[ لہٰذا ان مفسرین کا قول زیادہ قرین صحت و صواب ہے جو کہتے ہیں کہ یہ آیت حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کے بارے میں نازل ہوئی۔ اس لیے آپ امت بھر میں اتقیٰ و اکرم تھے۔[دلدار]]

اور یہ کیونکر نہیں ہوسکتا جب کہ احادیث صحیحہ میں وارد ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

’’کسی شخص کے مال سے مجھے اتنا فائدہ نہیں پہنچا، جتنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے مال سے ہوا۔‘‘[سنن ترمذی، کتاب المناقب ، باب(۱۵؍۳۴)، (حدیث:۳۶۶۱)، سنن ابن ماجۃ۔ المقدمۃ۔ باب فضل ابی بکر الصدیق رضی اللّٰہ عنہ (حدیث:۹۷)، من طریق آخر۔]

اس حدیث میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تمام امت کے مال سے ایسا فائدہ حاصل ہونے کی نفی کی ہے جیسا فائدہ آپ کو حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کے مال سے حاصل ہوا تھا۔تو پھراصلی اور فائدہ بخش اموال کو چھوڑ کر فاضل اموال کو اس آیت کے عموم میں کیسے داخل کیا جاسکتا ہے؟

دوسری وجہ:....جب سب سے بڑا متقی وہی تھا جس نے اپنا مال دیا اور تزکیہ نفس کیا؛وہ مخلوق میں سب سے بڑا با عزت اور متقی تھا؛ تو وہی لوگوں میں سب سے افضل بھی ہوا۔اس آیت میں دو قول مشہور ہیں ۔اہل سنت و الجماعت کا عقیدہ ہے کہ [رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد] مخلوق میں سب سے زیادہ عزت والے حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ ہیں ۔اور شیعہ کایہی عقیدہ ہے حضرت علی رضی اللہ عنہ کے متعلق ہے۔ پس پھر یہ جائز نہیں ہے کہ اللہ کی مخلوق میں ان دوحضرت سے بڑھ کر کوئی متقی اور عزت والا ہو۔ان دونوں میں سے کوئی ایک ایسا نہیں جو اس آیت کے موجب میں داخل ہو۔جب یہ ثابت ہوگیا کہ ان دونوں میں سے کوئی ایک ضرور ایسا ہونا چاہیے جو اتقی کے معنی و مفہوم میں داخل ہو تو واجب ہوتا ہے کہ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ اس آیت کے موجب میں داخل ہوں ۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ کی نسبت آپ اس تعریف و تفسیر کے زیادہ مستحق ہیں ۔ اس کے کئی ایک اسباب ہیں :

پہلا سبب:....اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: ﴿الَّذِیْ یُؤْتِیْ مَالَہٗ یَتَزَکّٰی ﴾۔[اللیل ۱۸]’’ جو اپنامال (اس لیے) دیتا ہے کہ پاک ہو جائے ۔‘‘صحاح ستہ اور دوسری کتابوں میں تواتر کے ساتھ ثابت ہے کہ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے اپنا مال اللہ کی راہ میں خرچ کیا۔ اور اس باب میں آپ سب صحابہ سے بڑھ کر پیش پیش رہتے تھے۔ جیسا کہ بخاری شریف میں آیا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مرض الموت میں اپنے سر پر ایک کپڑا باندھے ہوئے گھر سے نکلے؛ مسجد میں آئے اور منبر پر بیٹھ کراللہ تعالیٰ کی حمد و ثناء بیان کی اور پھر فرمایا:

’’کسی شخص نے اپنی جان و مال سے مجھ پر اتنا احسان نہیں کیا جتنا ابوبکربن ابی قحافہ رضی اللہ عنہما نے کیا ہے۔‘‘ اگر میں کسی کو گہرا دوست بنانے والا ہوتا تو ابوبکر رضی اللہ عنہ کو بناتا، مگر دین اسلام کی بنا پر جو دوستی استوار کی جائے وہی اچھی ہے۔ مسجد کی جانب کھلنے والی سب کھڑکیاں ابوبکر رضی اللہ عنہ کی کھڑکی کے سوا بند کردی جائیں ۔‘‘[صحیح بخاری، کتاب فضائل اصحاب النبی صلي اللّٰه عليه وسلم ، باب قول النبی صلي اللّٰه عليه وسلم’’ سدوا الابواب الا باب ابی بکر‘‘ (ح:۳۶۵۴)، صحیح مسلم، کتاب فضائل الصحابۃ، باب من فضائل ابی بکر الصدیق رضی اللّٰہ عنہ (ح:۲۳۸۲)۔]

بخاری و مسلم میں روایت کیا گیا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

’’ صحبت ورفاقت اور انفاق مال کے اعتبار سے ابوبکر رضی اللہ عنہ میرے سب سے بڑے محسن ہیں ۔‘‘

اور بخاری میں حضرت ابودرداء رضی اللہ عنہ سے روایت ہے : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بھی فرمایا تھا:

’’ جب اللہ تعالیٰ نے مجھے تمام لوگوں کی طرف مبعوث کیا تو میں نے نبوت کا اعلا ن کہ: ’’ اے لوگو! میں تم سب کی طرف اللہ کی طرف سے رسول بن کر آیا ہوں ۔‘‘ تم نے مجھے جھٹلایا ۔ اور انہوں نے اپنے مال و جان سے میری خدمت کی۔ پس کیا تم میرے لیے میرے دوست کو چھوڑ دو گے یا نہیں ۔‘‘ دو مرتبہ(یہی فرمایا)۔ اس کے بعد ابوبکر رضی اللہ عنہ کو کسی نے نہیں ستایا۔‘‘ [البخاری ۵؍۵]

اور صحیحین میں حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے :رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

’’کسی شخص کے مال سے مجھے اتنا فائدہ نہیں پہنچا، جتنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے مال سے ہوا۔‘‘

تو اس پر ابوبکر رضی اللہ عنہ رونے لگے ‘ اور عرض گزار ہوئے : یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! میں اور میرا مال تو صرف آپ کے لیے ہی تو ہیں ۔‘‘[سبق تخریجہ]

صفحہ 2 از 5