فصل:....آیت ﴿وسیجنبہا الاتقی﴾اور شیعہ کا استدلال - ردِ…

فصل:....آیت ﴿وسیجنبہا الاتقی﴾اور شیعہ کا استدلال

  امام ابنِ تیمیہؒ

صفحہ 3 از 5

امام ترمذی رحمہ اللہ نے بروایت صحیحہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مرتبہ صدقہ کا حکم دیا ۔ اتفاق سے میرے پاس مال موجود تھا۔ میں نے کہا اگر میں کبھی صدقہ دینے میں ابوبکر رضی اللہ عنہ سے بڑھ سکا تو وہ آج ہی کا دن ہوگا۔ چنانچہ میں نے آدھا مال لا کر آپ کی خدمت میں پیش کردیا۔ نبی کریم نے پوچھا ’’گھر میں کیا چھوڑا ؟ ‘‘ عرض کیا: یا رسول اللہ ! اس کے برابر۔ ابوبکر رضی اللہ عنہ نے اپنا سب مال لا کر بارگاہ ِنبوی میں حاضر کردیا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا:

’’ابوبکر رضی اللہ عنہ ! گھر میں کیا باقی رکھا؟‘‘ عرض کیا:اللہ اور اس کا رسول صلی اللہ علیہ وسلم ۔

حضرت عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں :میں نے کہا:’’آئندہ میں کبھی آپ کا مقابلہ نہیں کروں گا۔‘‘[سنن ابی داؤد، کتاب الزکاۃ، باب الرخصۃ فی ذلک(حدیث:۱۶۷۸)، سنن ترمذی، کتاب المناقب، باب(۱۶؍۴۳)، (حدیث:۳۶۷۵)۔]

یہ نصوص صحیح ‘ متواتر اور صریح ہیں ‘اور اس بات پر دلالت کرتی ہیں کہ : حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ اللہ اور اس کی رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی رضامندی میں اپنا مال خرچ کرنے میں سب لوگوں سے پیش پیش رہتے تھے۔

جب کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کا معاملہ ایسا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے آپ پر احسانات تھے ؛ جب مکہ میں بھوک کی وجہ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ کو حضرت ابو طالب سے لیکر اپنی کفالت میں تربیت کی ۔اور حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا سے شادی تک حضرت علی رضی اللہ عنہ فقیر ہی رہے۔یہ بات اہل سنت اور شیعہ کے ہاں معروف ہے۔ آپ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے عیال میں شمار ہوتے تھے۔آپ کے پاس اخراجات کے لیے کچھ بھی نہیں ہوا کرتا تھا۔ اگر آپ کے پاس مال ہوتا تو آپ ضرور خرچ کرتے ؛ مگر آپ پر مال خرچ کیا جاتا تھا؛ آپ [ابھی تک] انفاق والوں میں سے نہیں تھے۔

دوسرا سبب:....اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: ﴿وَمَا لِاَحَدٍ عِنْدَہٗ مِنْ نِّعْمَۃٍ تُجْزٰی﴾۔[اللیل ۱۹]’’ حالانکہ اس کے ہاں کسی کا کوئی احسان نہیں ہے کہ اس کا بدلہ دیا جائے۔‘‘یہ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کی شان ہے ؛ حضرت علی رضی اللہ عنہ کی نہیں ۔اس لیے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ پر یہ احسان تھا کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کی بدولت انہیں ایمان کی دولت سے نوازا۔یہ ایسی نعمت ہے جس پر مخلوق میں سے کوئی ایک بھی بدلہ نہیں دے سکتا۔ بلکہ اس نعمت کے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا اجر صرف اللہ تعالیٰ پر ہے۔جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: 

﴿قُلْ مَا اَسْاَلُکُمْ عَلَیْہِ مِنْ اَجْرٍ وَّمَا اَنَا مِنَ الْمُتَکَلِّفِینَ﴾ (ص ۸۶)

’’کہہ دیجئے کہ میں تم سے اس پر کوئی بدلہ طلب نہیں کرتا اور نہ میں تکلف کرنے والوں میں سے ہوں ۔‘‘

اورارشاد ہوتا ہے:

﴿قُلْ مَا سَاَلْتُکُمْ مِّنْ اَجْرٍ فَہُوَلَکُمْ اِنْ اَجْرِیَ اِلَّا عَلَی اللّٰہِ ﴾ (سباء۴۷)

’’ فرما دیجئے: جو بدلہ تم سے مانگوں وہ تمہارے لیے ہے میرا بدلہ تو اللہ ہی کے ذمے ہے۔‘‘

٭ پس رہی وہ نعمت جس پر کوئی بدلہ دے سکتا ہے وہ دنیا کی نعمت و احسان ہے۔حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا کوئی دنیاوی احسان نہیں تھا۔بلکہ دینی احسان تھا۔بخلاف حضرت علی رضی اللہ عنہ کے ؛ آپ پر [دینی احسان کے ساتھ ساتھ ]دنیاوی احسان بھی تھا ؛ جس پر بدلہ دیا جانا ممکن تھا۔

تیسرا سبب:....حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے مابین کوئی ایسا سبب نہیں تھا جس کی وجہ سے دوستی رکھتے اورپھر اپنا مال خرچ کرتے [جان و مال سے نثار ہوتے] سوائے ایمانی سبب کے۔آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ایسے نصرت نہیں کی جیسے ابو طالب نے قرابت کی وجہ سے نصرت کی تھی۔ بلکہ آپ کا عمل کامل اخلاص کے ساتھ صرف اور صرف اللہ کی رضامندی کے حصول کے لیے ہوا کرتا تھا۔جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے خود فرمایا ہے :

﴿ اِِلَّا ابْتِغَائَ وَجْہِ رَبِّہٖ الْاَعْلٰیo وَلَسَوْفَ یَرْضٰی ﴾ [اللیل ۱۷۔۲۱]

’’وہ تو صرف اپنے رب بلندو برتر کی رضامندی کے لیے دیتاہے ۔ اوریقیناً عنقریب وہ راضی ہو جائے گا ۔‘‘

ایسا ہی معاملہ حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا کا بھی ہے۔ آپ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیوی تھیں ۔اور کبھی بیوی کو اپنے شوہر پر خرچ کرنا پڑتا ہے ؛ بھلے وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے علاوہ کوئی دوسرا بھی ہو۔

بالفرض اگر مان بھی لیں کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خرچ کیا کرتے تھے ؛ کبھی ان اسباب کی طرف فعل کو مضاف کیا جاتا ہے۔بخلاف حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کے ؛ اس لیے کہ آپ کے لیے ایمان باللہ کے سواء کوئی دوسرا سبب نہ تھا۔تو آپ اس فرمان ِالٰہی کی روشنی میں سب سے بڑے اور سچے متقی تھے۔ فرمان الٰہی ہے:

﴿ اِِلَّا ابْتِغَائَ وَجْہِ رَبِّہٖ الْاَعْلٰی﴾ [اللیل ]

’’وہ تو صرف اپنے رب بلندو برتر کی رضامندی کے لیے دیتاہے۔‘‘

اور اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے :

﴿وَسَیُجَنَّبُہَا الْاَتْقٰیo الَّذِیْ یُؤْتِیْ مَالَہٗ یَتَزَکّٰی o وَمَا لِاَحَدٍ عِنْدَہٗ مِنْ نِّعْمَۃٍ تُجْزٰیo اِِلَّا ابْتِغَائَ وَجْہِ رَبِّہٖ الْاَعْلٰیo﴾ [اللیل ۱۷۔۲۰]

’’ اور عنقریب اس سے وہ بڑا پرہیز گار دور رکھا جائے گا۔جو اپنامال (اس لیے) دیتا ہے کہ پاک ہو جائے۔ حالانکہ اس کے ہاں کسی کا کوئی احسان نہیں ہے کہ اس کا بدلہ دیا جائے۔مگر وہ تو اپنے بزرگ و برتر رب کی رضامندی طلب کرنے کے لیے د یتا ہے ۔‘‘

صفحہ 3 از 5