فصل:....آیت ﴿وسیجنبہا الاتقی﴾اور شیعہ کا استدلال - ردِ…

فصل:....آیت ﴿وسیجنبہا الاتقی﴾اور شیعہ کا استدلال

  امام ابنِ تیمیہؒ

صفحہ 4 از 5

یہاں پر استثناء منقطع ہے ۔اس کا معنی یہ ہے : اس کی عطاء صرف اس انسان تک نہیں جس کا اس پر کوئی احسان ہے کہ اسے کوئی بدلہ دے۔سو بیشک آپس میں ایک دوسرے کے ساتھ ایسا کرنا تو لوگوں پر عدل واجب میں سے ہے جو کہ ایجاریا خریدو فروخت میں معاوضہ کی منزلت پرہے۔ ایسا کرنا ہر ایک کے حق میں دوسرے پر واجب ہے ۔ اور جب کسی ایک پر کسی کا کوئی احسان نہ ہو جس کا وہ بدلہ دے رہا ہو؛ تو اس وقت یہ معاوضہ کی صورت باقی نہیں رہتی۔ پس اس صورت میں دینے والے کی عطاء صرف اللہ رب العالمین کی رضامندی کے حصول کے لیے ہوتی ہے۔ بخلاف اس انسان کے جس پر کسی کا احسان ہوتو اسے اس احسان کا بدلہ دینے کی ضرورت ہوتی ہے۔کیونکہ باہم بدلہ دینا ضروریات میں سے ہے۔

یہ انسان جس پر کسی کا کوئی احسان نہیں ہے کہ وہ اس کا بدلہ دیا جائے۔اورجب وہ مال دیتا ہے تو اس کی طہارت کے لیے دیتا ہے۔اس کا معاملہ ہمیشہ لوگوں کے ساتھ اچھا رہتا ہے‘وہ انہیں اچھا بدلہ دیتاہے‘ ان کااحسان چکاتا ہے؛ اوران کو مال دیتے وقت ان کی بھلائی کا معاوضہ دیتا ہے ۔لیکن کسی کا اس پر کوئی احسان نہیں ہے جس کا بدلہ جائے۔

نیز اس میں ایک مسئلہ یہ بھی ہے کہ : صدقہ کرنے میں فضیلت اس وقت ہے جب انسان واجب معاوضات ادا کر دے۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ کافرمان ہے :

﴿وَ یَسْئَلُوْنَکَ مَاذَا یُنْفِقُوْنَ قُلِ الْعَفْوَ﴾ [البقرۃ۲۱۹]

’’ اور وہ آپ سے پوچھتے ہیں کیا چیز خرچ کریں ، فرما دیجیے جو زیادہ ہو۔‘‘

پس جس انسان پر قرض یا ادھار یا دیگر کوئی واجبات یا دیگر ادائیگیاں ہوں ؛ تووہ صدقہ کو ان واجبات کی ادائیگی پر مقدم نہیں کرسکتا۔اگر کوئی انسان ایسا کر گزرے تو کیا اس کا صدقہ اسے واپس کیا جائے گایا نہیں ؟ اس میں علماء کرام رحمہم اللہ کے مابین دو قول مشہور ہیں ۔اس آیت سے وہ لوگ استدلال کرتے ہیں جو کہتے ہیں کہ ایسے آدمی کے صدقات اسے واپس کردیے جائیں گے۔اس لیے کہ اللہ تعالیٰ ان لوگوں کی تعریف کی ہے جو اپنا مال اس حالت میں صدقہ کرتے ہیں کہ ان پر کسی قسم کاکوئی واجب نہیں ہوتا۔ اور نہ ہی کسی قسم کا کوئی احسان ہوتا ہے۔ اور اگر اس پر کسی کا کوئی احسان ہو تو واجب ہوتا ہے کہ پہلے احسان کا بدلہ چکائے پھر اپنا مال طہارت حاصل کرنے کے لیے اللہ کی راہ میں خرچ کرے۔ اگر اس نے احسان کا بدلہ چکانے سے پہلے اپنا مال حصول طہارت کی نیت سے خرچ کردیا تو اس آیت کی روسے قابل تعریف لوگوں کی صف میں اس کا شمار نہیں ہوگا۔ بلکہ ایسے انسان کا یہ عمل مردود ہوگا جیسا کہ حدیث شریف میں آتا ہے:

(( من عمِل عملا لیس علیہِ أمرنا فہو رد))۔

’’ جس انسان نے کوئی ایسا کام کیا جس پر ہمارا حکم نہیں وہ کام مردود ہے ۔‘‘[عن عائِشۃ رضی اللہ عنہا فِی: البخارِیِ184؍3۔کتاب الصلحِ، باب ِذا اصطلحوا علی صلحِ جور۔مسلِم1343؍3 ِکتاب الأقضِیۃِ، باب نقضِ الأحکامِ الباطِلۃِ وردِ محدثاتِ الأمور۔سننِ بِی داود2؍280ِکتاب السنۃِ، باب فِی لزومِ السنۃِ۔سنن ابن ماجہ؛ المقدِمۃ، باب تعظِیمِ حدیثِ رسولِ اللہِ صلی اللہ علیہ وسلم ، والتغلِیظ عل من عارضہ، المسندِ۔]

چوتھا سبب:....اگر مان لیا جائے کہ اس آیت کے مصداق میں کئی ایک صحابہ داخل ہیں ؛ تو یہ بھی حق ہے کہ حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ پوری امت میں سے اس آیت کے مصداق میں داخل ہونے کے سب سے پہلے حق دار ہیں ۔ آپ ہی اس امت کے سب سے بڑی متقی ہیں ۔ پس اس بنا پر آپ ان سب میں سے افضل ہوں گے۔ اس لیے کہ اللہ تعالیٰ ’’الأتقی‘‘ سب سے بڑے متقی کی جو صفات بیان کی ہیں ؛ ابوبکر رضی اللہ عنہ ان میں پوری امت میں سب سے بڑے کامل ہیں ۔جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:

﴿الَّذِیْ یُؤْتِیْ مَالَہٗ یَتَزَکّٰیo وَمَا لِاَحَدٍ عِنْدَہٗ مِنْ نِّعْمَۃٍ تُجْزٰیo اِِلَّا ابْتِغَائَ وَجْہِ رَبِّہٖ الْاَعْلٰی o﴾

[اللیل ۱۸۔۲۰]

’’جو اپنامال (اس لیے) دیتا ہے کہ پاک ہو جائے۔ حالانکہ اس کے ہاں کسی کا کوئی احسان نہیں ہے کہ اس کا بدلہ دیا جائے۔مگر وہ تو اپنے بزرگ و برتر رب کی رضامندی طلب کرنے کے لیے د یتا ہے ۔‘‘

جہاں تک مال خرچ کرنے کا تعلق ہے ؛ تو صحاح ستہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت ہے کہ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کا انفاق فی سبیل اللہ دوسروں کے انفاق سے افضل تھا۔اور یہ کہ اپنی جان و مال کیساتھ آپ نے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی معاونت فرمائی دوسروں کی معاونت سے اکمل و افضل تھی۔

رہا ایسے احسان کی تلاش میں رہنا جس پر بدلہ دیا جائے؛ سو حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کبھی بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کسی قسم کا کوئی دنیاوی مال طلب نہیں کیا۔اور نہ ہی کسی دنیاوی حاجب کی چاہ میں رہے۔بلکہ آپ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے علم حاصل کرنے کی تلاش میں رہتے تھے ؛ جیسا کہ اس حدیث سے واضح ہوتا ہے؛ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : کہو:

((اَللّٰہُمَّ اِنِّیْ ظَلَمْتُ نَفْسِیْ ظُلْمًا کَثِیْرًا وَّلَا یَغْفِرُ الذُّنُوْبَ اِلاَّ اَنْتَ فَاغْفِرْلِیْ مَغْفِرَۃً مِّنْ عِنْدِکَ وَ ارْحَمْنِیْ اِنَّکَ اَنْتَ الْغَفُوْرُ الرَّحِیْمُ)) [بخاری:834، مسلم2705۔]

’’ اے اللہ میں نے اپنی جان پر ظلم کیا بہت زیادہ ظلم ؛اور تیرے سوا گناہوں کو بخشنے والا کوئی نہیں ؛ تو مجھے بخش دے بخشش تیرے پاس سے؛ اور مجھ پر رحم فرمایا بے شک تو ہی بخشنے والا مہربان ہے۔‘‘

صفحہ 4 از 5