تعزیہ بنانا اور اس میں مدد کرنا
بے شک تعزیہ بنانا اور اس میں مدد اور کوشش کرنا شرک و بدعت ہے۔ ہر مسلمان کو لازم ہے کہ اس سے بچے اور توبہ کرے اور اس کے مٹانے میں جان و مال سے کوشش کرے۔ شیخ قطب محی الدین عبد القادر جیلانی صاحبؒ اپنی کتاب غنیة الطالبین میں بدعتی کے بارے میں تحریر فرماتے ہیں کہ:
بدعتیوں سے دوستی اور مصاحبت نہ رکھے اور نہ ان کے طریقے پر چلے اور نہ ان لوگوں کو سلام کرے اور بدعتیوں کے ساتھ نہ بیٹھے اور نہ ان لوگوں کے نزدیک ہووے اور نہ ان لوگوں کی خوشی میں مبارکباد دے اور جب وہ لوگ مر جائیں تو اس کی نمازِ جنازہ نہ پڑھی جائے اور جب ان لوگوں کا ذکر ہو تو رحم نہ کیا جائے ان پر بلکہ دور کیا جائے رحمت سے، اور عداوت (دشمنی) رکھے ان سے، اللہ تعالیٰ کے واسطے، یہ برتاؤ ان کے ساتھ اس واسطے کرے کہ ان کی مذہب کا بطلان اسکی اعتقاد میں آ جائے اور بہت بڑے ثواب اور بڑی مزدوری کا امیدوار ہے۔
اور حضور اکرمﷺ سے روایت ہے فرمایا کہ جس نے بدعتی کو اللہ تعالیٰ کے واسطے بغض سے دیکھا تو اللہ تعالیٰ اس کے دل کو ایمان اور امن سے بھر دیتا ہے اور جس نے بدعتی کو الله تعالیٰ کے واسطے جھڑکا قیامت کے دن اللہ تعالیٰ اس کو امن میں رکھے گا اور جس نے بدعتی کی حقارت کی اللہ تعالیٰ اسکے واسطے جنت میں سو درجہ بلند کر دے گا اور جو بدعتی سے خوشی سے ملا تحقیق ہلکا جانا اس چیز کو کہ اتارا اللہ تعالیٰ نے محمدﷺ پر۔
سیدنا ابنِ عباسؓ سے روایت ہے کہ حضور اکرمﷺ نے فرمایا:
انکار کیا اللہ تعالیٰ نے کہ بدعتی کا عمل قبول کرے یہاں تک کہ بدعت کو چھوڑ دے۔
فضیل بن عیاضؒ نے کہا کہ: جس نے بدعتی سے محبت رکھی اللہ تعالیٰ اس کے عمل کو نیست کر دے گا اور نورِ ایمان اس کے دل سے نکال لے گا اور جب جان لیا اللہ تعالیٰ نے کسی آدمی کو کہ بغض رکھنے والا ہے بدعتی سے، امید کرتا ہوں اللہ تعالیٰ سے کہ اسکے گناہ کو معاف کرے اگرچہ عمل اسکا کم ہو، اور جب دیکھے تو بدعتی کو ایک راستے پر چلتے ہوئے تو دوسرے راستے سے جا۔
اور کہا فضیل بن عیاضؒ نے کہ سنا میں نے سفیان بن عیینہؒ سے کہ فرماتے تھے کہ جو بدعتی کے جنازے میں گیا ہمیشہ اللہ تعالیٰ کے عذاب میں رہتا ہے یہاں تک کہ لوٹ آئے، اور تحقیق لعنت کی حضور اکرمﷺ نے بدعتی پر۔
حضور اکرمﷺ نے فرمایا:
جس نے کوئی بدعت نکالی یا بدعتی کو جگہ دی، اس پر اللہ تعالیٰ اور اس کے فرشتے اور سب لوگوں کی لعنت ہے اور اللہ تعالیٰ اس کی فرض اور نفل عبادت قبول نہیں کرتا۔
(فتاویٰ مولانا شمس الحق عظیم آبادی: صفحہ، 202)