Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

فصل:....آیت ﴿قل للمخلفین﴾سے شیعہ کا استدلال

  امام ابنِ تیمیہؒ

 فصل:....آیت ﴿قُلْ لِلْمُخَلَّفِینَ﴾سے شیعہ کا استدلال

[اعتراض]:رافضی مصنف نے کہا ہے :’’رہی یہ آیت :﴿قُلْ لِلْمُخَلَّفِینَ مِنَ الْاَعْرَابِ﴾؛ مراد یہ ہے کہ : ہم تمہیں ایک قوم کی طرف بلائیں گے۔ یہاں پر مقصودوہ لوگ ہیں جو صلح حدیبیہ سے پیچھے رہ گئے تھے۔ اور یہ لوگ چاہتے تھے کہ خیبر کامال غنیمت حاصل کرنے کے لیے جائیں ۔تو اللہ تعالیٰ نے انہیں روک دیا؛ اورفرمایا: ﴿ قُلْ لَنْ تَتَّبِعُوْنَا﴾ آپ فرمادیجیے: تم ہرگزہماری اتباع نہ کرو گے۔ اس لیے کہ اللہ تعالیٰ نے خیبر کے اموال غنیمت کو ان لوگوں کے لیے خاص کردیا تھا جو صلح حدیبیہ میں شریک ہوئے تھے ۔ پھر فرمایا :﴿قُلْ لِلْمُخَلَّفِینَ مِنَ الْاَعْرَابِ سَتُدْعَوْنَ اِِلٰی قَوْمٍ اُوْلِی بَاْسٍ شَدِیْدٍ﴾ ۔ پس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں بہت سارے غزوات کی طرف بلایا تھا؛ جن میں غزوہ مؤتہ؛غزوہ حنین؛ تبوک اور دوسرے غزوات۔پس یہ داعی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تھے ۔ اوریہ بھی جائز ہے کہ : یہ داعی حضرت علی رضی اللہ عنہ ہوں ۔ اس لیے کہ آپ نے عہد توڑنے والوں اور نافرمانوں اور دین سے خروج کرنے والوں سے جہاد کیا۔ان لوگوں کا آپ کی اطاعت کی طرف رجوع کرنا ہی اصل اسلام تھا۔اس لیے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاہے: ’’ اے علی ! تیرے ساتھ جنگ کرنا میرے ساتھ جنگ کرنا ہے ۔‘‘ اوررسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے جنگ کرنا کفر ہے۔‘‘[انتہیٰ کلام الرافضی] 

[جواب]: اس آیت سے بعض علماء کرام رحمہم اللہ نے حضرت ابوبکرصدیق رضی اللہ عنہ کی خلافت اور آپ کی اطاعت کے وجوب پر استدلال کیا ہے۔ان علماء میں امام شافعی، امام اشعری اورابن حزم وغیرہ رحمہم اللہ شامل ہیں ۔

انہوں نے اللہ تعالیٰ کے اس فرمان سے استدلال کیا ہے:

﴿فَاِنْ رَّجَعَکَ اللّٰہُ اِلٰی طَآئِفَۃٍ مِّنْہُمْ فَاسْتَاْذَنُوْکَ لِلْخُرُوْجِ فَقُلْ لَّنْ تَخْرُجُوْا مَعِیَ اَبَدًا وَّلَنْ تُقَاتِلُوْا مَعِیَ عَدُوًّا﴾ (التوبۃ:۸۳)

’’پھر اگر اللہ آپ کو ان منافقوں کے کسی گروہ کی طرف واپس لائے اور وہ آپ سے جہاد پر نکلنے کی اجازت مانگیں تو ان سے کہئے کہ : تم میرے ساتھ کبھی نہ نکلو گے اور نہ میرے ہمراہ دشمن سے جنگ کرو گے ۔‘‘

ان حضرات کا کہنا ہے: ’’ اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو حکم دیا ہے کہ آپ فرمادیں :

’’تم میرے ساتھ کبھی نہ نکلو گے اور نہ کبھی میرے ہمراہ دشمن سے جنگ کرو گے ۔‘‘

اس آیت کے مضمون پر غور کرنے سے واضح ہوتا ہے کہ قتال کے داعی و محرک نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نہیں ہیں ، بلکہ آپ کے بعد آنے والے خلیفہ و نائب ہیں جو ابوبکر وعمر و عثمان رضی اللہ عنہم ہی ہو سکتے ہیں ، جنھوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد فارس و روم اور دوسرے لوگوں کے خلاف جنگیں لڑیں ،یا ان کے ساتھ معاہدے کیے ؛ جیسا کہ آیت میں ہے : ﴿تُقَاتِلُوْنَہُمْ اَوْ یُسْلِمُوْنَ﴾۔’’ تمہیں ان سے لڑنا ہوگا یا وہ مطیع ہو جائیں گے۔‘‘ 

ان کے نزدیک سورۂ الفتح میں جن لوگوں کا ذکر کیا گیا ہے۔ سورۂ توبہ میں بھی انہی سے خطاب کیا گیا ہے، اسی بنا پر یہ دلیل محل نظر وتامّل ہے،اس میں کوئی شک نہیں کہ جن لوگوں کا ذکر سورت فتح میں ہے ‘ انہی لوگوں کو حدیبیہ کے زمانہ میں دعوت دی گئی تھی کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مکہ کی طرف نکلیں ‘اورپھر قریش نے انہیں روک لیا تھا۔اور پھر حدیبیہ کے مقام پر صلح کا واقعہ پیش آیا۔ اور مسلمانوں نے اس درخت کے نیچے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ پر بیعت کی۔ یہ مسلمہ بات ہے کہ سورۂ الفتح بالاتفاق صلح حدیبیہ کے بارے میں نازل ہوئی ہے۔یہ بالاتفاق سن چھ ہجری کا واقعہ ہے۔ اس موقع پر یہ آیت نازل ہوئی تھی:

﴿وَ اَتِمُّوا الحج وَ الْعُمْرَۃَ لِلّٰہِ فَاِنْ اُحْصِرْتُمْ فَمَا اسْتَیْسَرَ مِنَ الْہَدْیِ﴾ [البقرۃ ۱۹۶]

’’اور حج اور عمرہ اللہ کے لیے پورا کرو، پھر اگر تم روک دیے جاؤ تو قربانی میں سے جو میسر ہو (کرو)۔‘‘

اور اسی موقع پر حضرت کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ کی تکلیف کی وجہ سے یہ حکم بھی نازل ہوا:

﴿فَفِدْیَۃٌ مِّنْ صِیَامٍ اَوْ صَدَقَۃٍ اَوْ نُسُکٍ ﴾ [البقرۃ ۱۹۶]

’’تو روزے یا صدقے یا قربانی میں سے کوئی ایک فدیہ ہے۔‘‘

پھر جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ طیبہ واپس آئے تو خیبر کی طرف نکلے۔سن سات ہجری کے شروع میں اللہ تعالیٰ نے آپ کے ہاتھوں پر خیبر فتح کیا۔اسی سال حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ اسلام لائے ؛اور حضرت جعفر رضی اللہ عنہ اور دوسرے مہاجرین حبشہ سے واپس تشریف لائے۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے خیبر کے اموال غنیمت میں سے حدیبیہ میں درخت کے نیچے بیعت کرنے والوں کوکوئی حصہ نہیں دیا ؛ سوائے ان لوگوں کے جو کشتی میں حضرت جعفر رضی اللہ عنہ کے ساتھ حبشہ سے تشریف لائے تھے۔اسی موقع پر یہ آیت نازل ہوئی تھی:

﴿سَیَقُوْلُ الْمُخَلَّفُوْنَ اِِذَا انطَلَقْتُمْ اِِلٰی مَغَانِمَ لِتَاْخُذُوہَا ذَرُوْنَا نَتَّبِعْکُمْ یُرِیْدُوْنَ اَنْ یُّبَدِّلُوْا کَلَامَ اللّٰہِ قُلْ لَنْ تَتَّبِعُوْنَا کَذٰلِکُمْ قَالَ اللّٰہُ مِنْ قَبْلُ فَسَیَقُوْلُوْنَ بَلْ تَحْسُدُوْنَنَا ﴾....آگے تک ....﴿تُقَاتِلُوْنَہُمْ اَوْ یُسْلِمُوْنَ ﴾ [الفتح ۱۵۔۱۶]

’’جب تم غنیمتیں لینے جانے لگو گے تو جھٹ سے یہ پیچھے چھوڑے ہوئے لوگ کہنے لگیں گے کہ ہمیں بھی اپنے ساتھ چلنے کی اجازت دیجئے، وہ چاہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کے کلام کو بدل دیں ؛آپ کہہ دیجئے: اللہ تعالیٰ ہی فرما چکا ہے کہ تم ہرگز ہمارے ساتھ نہیں چلو گے ‘وہ اس کا جواب دیں گے(نہیں نہیں )بلکہ تم ہم سے حسد کرتے ہو۔....آگے تک ....’’ تم ان سے لڑو گے یا وہ مسلمان ہوجائیں گے۔‘‘

اس کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سن آٹھ ہجری میں فتح مکہ کی طرف بلایا؛ اس سے پہلے سن سات ہجری میں غزوہ خیبر ہوچکا تھا۔فتح مکہ کے بعد حنین کے مقام پر ہوازن سے جنگ کے لیے بلایا۔پھر اسی سن آٹھ ہجری میں طائف کا محاصرہ کیا ۔یہ آخری غزوہ تھا جس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قتال کیا۔ پھر سن نو ہجری میں غزوہ تبوک پیش آیا ۔ لیکن اس میں جنگ و قتال نہیں ہوا۔ یہ غزوہ شام کے عیسائیوں کے خلاف تھا۔ اس کے متعلق اللہ تعالیٰ نے سورت برأت نازل فرمائی؛ اس میں پیچھے رہ جانے والوں کاذکر کیا گیا : جن کے متعلق فرمایا گیا ہے :

﴿فَقُلْ لَّنْ تَخْرُجُوْا مَعِیَ اَبَدًا وَّلَنْ تُقَاتِلُوْا مَعِیَ عَدُوًّا﴾ [التوبۃ ۸۳] 

’’ تو آپ فرما دیجئے : تم میرے ساتھ ہرگز چل نہیں سکتے اور نہ میرے ساتھ تم دشمنوں سے لڑائی کر سکتے ہو۔‘‘

جب کہ موتہ سریہ تھا۔ جس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا: ’’تمہارا امیر زید رضی اللہ عنہ ہے؛ اگروہ قتل ہوجائے تو پھر حضرت جعفر رضی اللہ عنہ ؛ اوراگر وہ بھی قتل ہوجائیں تو حضرت عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہ ۔ [سبق تخریجہ]

اس سے پہلے فتح مکہ سے قبل اور صلح حدیبیہ کے بعد عمرہ قضاء کا واقعہ بھی ہے۔ حضرت جعفر رضی اللہ عنہ بلاشبہ عمرہ قضاء میں حاضر ہوئے تھے۔ان کا حضرت علی اور حضرت زید رضی اللہ عنہم کے ساتھ حضرت حمزہ رضی اللہ عنہ کی بچی کی کفالت کے متعلق اختلاف بھی ہوا تھا۔اس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت اسماء رضی اللہ عنہا کے حق میں فیصلہ دیا جو کہ حضرت جعفر رضی اللہ عنہ کے نکاح میں تھیں ۔آپ اس بچی کی خالہ تھیں ۔آپ نے فرمایا: ’’ خالہ ماں کی جگہ پر ہے ۔‘‘[سبق تخریجہ]

حضرت زید؛ حضرت جعفر اور حضرت عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہم میں سے کوئی ایک بھی فتح مکہ میں نہیں تھا۔ اس لیے کہ یہ تینوں حضرات اس سے قبل شہید سریہ مؤتہ میں ہوچکے تھے۔

جب یہ معلوم ہوگیا تو اس آیت سے وجہ استدلال صاف ظاہر ہے۔اس لیے کہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں :

﴿قُلْ لِلْمُخَلَّفِینَ مِنَ الْاَعْرَابِ سَتُدْعَوْنَ اِِلٰی قَوْمٍ اُوْلِی بَاْسٍ شَدِیْدٍ تُقَاتِلُوْنَہُمْ اَوْ یُسْلِمُوْنَ﴾

’’ عنقریب تمہیں ایک سخت جنگجو قوم سے مقابلہ کے لیے بلایا جائے گا۔ تمہیں ان سے لڑنا ہوگا یاوہ مطیع ہو جائیں گے۔‘‘

یہ دلیل ہے کہ وہ لوگ سخت لڑاکے ہوں گے۔اوریہ کہ وہ جنگ لڑیں گے یا تابع فرماں ہوجائیں گے۔ ان علماء کرام کا کہنا ہے : یہ ممکن نہیں کہ آپ نے عام فتح کے فوراً بعد اہل مکہ یا ہوازن کے ساتھ جنگ کرنے کے لیے بلایا ہو ۔اس لیے کہ ان لوگوں کی طرف ہی تو صلح حدیبیہ والے سال بلایا گیا تھا۔پس جو کوئی ان میں سے نہ تھا ‘ وہ ان ہی کی جنس میں سے تھا۔وہ ان سے زیادہ سخت جنگجو نہیں ہوسکتا۔یہ تمام عرب اہل حجاز تھے۔ ان سے جنگ ایک ہی جنس کی جنگ تھی۔اہل مکہ اور اس کے گردو نواح والے بدر و احد اورخندق ‘اور دیگر مواقع پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے صحابہ کرام سے اس سے بڑھ کر جنگ و قتال کرنے والے تھے۔

پس یہ ضروری ہے کہ جن لوگوں سے جنگ کرنے کے لیے بلایا جارہا ہو؛ وہ حدیبیہ والے سال جن لوگوں سے پالا پڑا تھا ؛ ان سے بڑھ کر جنگجو اور قتال کرنے والے ہوں ؛ جیسا کہ اللہ تعالیٰ خود فرماتے ہیں :

﴿ اُوْلِی بَاْسٍ شَدِیْدٍ﴾’’ سخت جنگجو قوم سے مقابلہ کے لیے۔‘‘

یہ دو گروہ ہی ہوسکتے ہیں :

پہلا گروہ:....بنی اصفر : جن سے جنگ کے لیے سن نو ہجری میں تبوک والے سال لوگوں کو بلایا گیا تھا۔بلاشبہ یہ لوگ سخت جنگجو تھے۔یہ لوگ اس صفت کے دوسروں سے زیادہ حق دار تھے۔ ان لوگوں سے جنگ کا پہلا واقعہ مؤتہ والے سال پیش آیا۔یہ تبوک سے پہلے سن آٹھ ہجری کا واقعہ ہے۔اس معرکہ میں مسلمان امراء : حضرت زیدبن حارثہ ‘ حضرت عبداللہ بن رواحہ اور حضرت جعفر رضی اللہ عنہم شہید ہوگئے تھے۔ اور مسلمان پسپا ہوکر واپس پلٹے تھے۔

پس ان لوگوں نے واپس آنے پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کی تھی: ’’ ہم میدان جنگ سے بھاگنے والے ہیں ۔‘‘ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’ نہیں بلکہ تم پلٹ کر آنے والے ہو؛ میں تمہاری جماعت ہوں ؛ اور ہر مسلمان کی جماعت ہوں ۔‘‘

لیکن بعض علماء نے ان الفاظ :﴿تُقَاتِلُوْنَہُمْ اَوْ یُسْلِمُوْنَ﴾’’ تم ان سے جنگ کرتے ہویا پھر صلح کرتے ہو ‘‘ پر اعتراض کیا ہے ؛ ان کا کہنا ہے کہ : اہل کتاب سے تو اس وقت تک لڑا جاتاہے یہاں تک کہ وہ جزیہ ادا کردیں ۔ لیکن دوسرے گروہ نے اس کی تأویل یہ کی ہے کہ یہ آیت مرتدین کے متعلق ہے۔جن سے حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے جنگیں لڑیں ۔یہ مرتدین مسیلمہ کذاب کے ساتھی تھے۔بلاشک و شبہ یہ لوگ انتہائی سخت جنگجو تھے۔ اور ان کے ساتھ معرکوں میں مسلمانوں کو بہت زیادہ سختیاں اور پریشانیاں اٹھانا پڑیں ۔ سخت خونریز جنگیں ہوئیں ؛ قراء کی ایک جماعت شہید ہوگئی۔یہ مسلمانوں اور ان کے دشمنوں کے مابین بہت بڑی جنگیں تھیں ۔مرتدین کو یا تو قتل کیا جاتا ہے یا پھر وہ اسلام قبول کرلیتے ہیں ۔ ان سے جزیہ قبول نہیں کیا جاتا۔اور ان سے سب سے پہلے جنگ لڑنے والے حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ اور آپ کے ساتھی تھے۔ پس دلیل سے اس قتال کی طرف بلانے پر آپ کی اطاعت کا وجوب ثابت ہوا۔ 

قرآن بتارہا ہے کہ ان لوگوں کو ایسی قوم سے جنگ کرنے کے لیے بلایا جائے گا جس میں دو میں سے ایک صفت پائی جائے گی۔یا تووہ لوگ ان سے جنگ کریں گے۔یا پھر مسلمان ہوجائیں گے۔ ان دو میں سے ایک کام ہونالازمیہے۔ اور اس کے ساتھ ہی وہ قوم سخت جنگجو بھی ہے۔ یہ اس کے خلاف ہے جو کچھ حدیبیہ کے موقع پر پیش آیا ۔ اس میں نہ ہی قتال ہوا؛ اور نہ ہی وہ لوگ مسلمان ہوئے۔ بلکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بغیر جنگ کے اور بغیر ان کے اسلام کے ان لوگوں سے صلح کرلی اور واضح کردیا کہ جن لوگوں سے لڑنے کے لیے انہیں بلایا جائے گا وہ ان کے بعد ہوں گے۔

پھر اگر ان لوگوں کو جب سخت قوم سے لڑائی کے لیے بلایا جائے‘ اور ان پر اس دعوت کی اجابت اور اطاعت کو فرض کردیا جائے تو اس صورت میں جس وقت انہیں ایسی قوم سے لڑائی کے لیے بلایا جائے جو سخت جنگجو نہیں ہیں ‘تو پھر بھی ان پر اطاعت بالاولی فرض ہوگی۔ پس نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوت قتال کے وقت ان پر اطاعت واجب و فرض ہوگی جب آپ نے اہل مکہ اوراہل ھوازن اور اہل ثقیف سے قتال کے لیے بلایا تھا ۔

پھر جب ان کے بعد بنی اصفر سے قتال کے لیے بلایا تو یہ لوگ سخت جنگجو اور لڑاکے تھے۔ قرآن نے عام تبوک والے سال کی بڑی تاکید آئی ہے۔اور اس موقع پر جہاد سے پیچھے رہ جانے والوں کی بہت سخت مذمت کی ہے۔جیسا کہ سورت برأت میں اس کے دلائل موجود ہیں ۔ان لوگوں میں یقیناً دو میں سے ایک بات پائی جاتی تھی : یا تو اسلام قبول کرنا یا پھر قتال کرنا۔ اس موقع کے لیے اللہ تعالیٰ نے یہ فرمایاہے :

﴿تُقَاتِلُوْنَہُمْ اَوْ یُسْلِمُوْنَ﴾’’ تم ان سے جنگ کرتے ہویا پھر صلح کرتے ہو ۔‘‘

یہ نہیں فرمایا کہ تم ان سے جنگ کرو یہاں تک کہ وہ اسلام قبول کرلیں ۔اور نہ ہی یہ فرمایا کہ : ان سے اسلام قبول کروانے کے لیے جنگ کرو۔بلکہ اللہ تعالیٰ نے ان کی یہ صفت بیان کی ہے کہ یا تووہ لوگ بہت سخت جنگ کریں گے یا پھر اسلام قبول کرلیں گے۔ اور اگر ان سے قتال کیا جائے تو اس وقت تک قتال ہوگا یہاں تک کہ یہ لوگ ذلت کے ساتھ اپنے ہاتھوں سے جزیہ ادا کریں ۔

پس اللہ تعالیٰ کے اس فرمان :﴿تُقَاتِلُوْنَہُمْ﴾۔’’ تمہیں ان سے لڑنا ہوگا ‘‘میں کوئی چیز ایسی نہیں ہے جو ان کو اسلام پر لانے یا جزیہ اداکرنے کے لیے لڑنے کے معانی میں مانع ہو۔ لیکن ان سے کہا جائے گا: اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان : 

﴿سَتُدْعَوْنَ اِِلٰی قَوْمٍ اُوْلِی بَاْسٍ شَدِیْدٍ﴾

’’ عنقریب تمہیں ایک سخت جنگجو قوم سے مقابلہ کے لیے بلایا جائے گا۔‘‘

اس کلام سے فاعل حذف کردیا گیا ہے۔پس یہاں پر فاعل یعنی جہاد و قتال کی طرف بلانے والے کو متعین نہیں کیا گیا۔ پس قرآنی دلالت کی روشنی میں واضح ہوتا ہے کہ جو بھی [امام و حاکم ]کسی سخت قوم سے لڑنے کے لیے بلائے کہ یا تو ان سے قتال کیا جائے یا پھر وہ اسلام قبول کرلیں ‘تو اس کی اطاعت کرنا واجب ہوجاتاہے۔

اس میں کوئی شک نہیں کہ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے لوگوں کومرتدین کے ساتھ جنگ و قتال کی طرف بلایا ؛ پھر روم اور فارس سے جنگ کی دعوت دی۔ ایسے ہی حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے روم و فارس سے قتال کرنے کی دعوت دی۔ اور حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے بربر اور دوسری قوموں سے جہاد کی طرف بلایا۔ یہ آیت ان تمام لوگوں کو شامل ہے۔

لیکن اس دعوت کو صرف حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کے ساتھ خاص کرنا ‘جیسا کہ آپ کی خلافت استدلال کرنے والے ایک گروہ کا کہنا ہے؛یہ غلط ہے۔ بلکہ اگر یہ کہاجائے کہ یہ آیت ان تمام حضرات کو شامل ہے تو یہ بات بہت مناسب ہے۔اور ممکن ہے کہ آیت سے یہی مراد ہو ‘ اور اس پر استدلال کیا جاسکتا ہو۔ پس اس لیے ہر امیر کے ساتھ جہاد کرنا واجب ہوجاتا ہے جو کفار سے جنگ و قتال کے لیے لوگوں کو بلائے۔ پس اس سے مراد یہ ہوگی کہ آپ کوایسی قوم سے جنگ کے لیے بلایا جائے گا جو عربوں سے زیادہ سخت جنگجو ہوں گے۔ پس اس وقت دو باتوں میں سے ایک کا ہونا لازمی ہے ؛ یا تو وہ اسلام قبول کرلیں یا پھر جنگ کریں [اور قتل کردیے جائیں ]۔یہ حدیبیہ کے واقعہ کے برعکس ہے۔ اس لیے کہ اہل حدیبیہ کا جنگی زور ان جیسا نہیں تھا۔ اور اس موقع پر نہ ہی قتال ہوا اور نہ ہی کافروں نے اسلام قبول کیا ؛ [بلکہ ان کے ساتھ صلح کرلی گئی]۔

فتح مکہ والے سال بھی ایسے ہی ہوا۔ شروع میں ان لوگوں نے نہ ہی اسلام قبول کیا اور نہ ہی جنگ کی ۔ مگر آخر کار انہوں نے اسلام قبول کرلیا۔

یہ لوگ اہل روم و فارس ہیں ۔اگریہ لوگ اسلام قبول نہ کریں تو ان سے قتال کرنا ضروری ہوجاتا ہے۔ ان لوگوں کے ساتھ قتال کی پہلی دعوت سریہ مؤتہ و غزوہ تبوک کے موقع پر دی گئی۔ تبوک والے سال ان لوگوں نے نہ ہی جنگ کی اور نہ ہی اسلام قبول کیا۔لیکن حضرت ابوبکر صدیق اور عمرفاروق رضی اللہ عنہما کے مبارک زمانے میں دو میں سے ایک کام کا ہونا ضروری تھا ؛ یا تو اسلام قبول کریں یا پھر جنگ کے لیے تیار ہوجائیں ۔ ان لوگوں نے قتال کے بعد جزیہ ادا کیا ۔انہوں نے شروع میں ایسے صلح نہیں کی جیسے حدیبہ کے موقع پر مشرکین نے صلح کرلی تھی۔ پس حضرت ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما کا لوگوں کو ان لوگوں کے خلاف جنگ وقتال کے لیے بلانا اس آیت میں شامل ہے۔ اور یہی ثابت کرنا مقصود ہے ۔

یہ آیت دلالت کرتی ہے کہ اس کا معنی و مفہوم حضرت علی رضی اللہ عنہ کے قتال کو شامل نہیں ۔اس لیے کہ جن لوگوں سے آپ نے جنگ لڑی ؛ وہ آپ کے ساتھیوں سے زیادہ سخت جنگجو نہیں تھے۔بلکہ وہ ان کی جنس کے ہی لوگ تھے۔ اور آپ کے ساتھ ان سے زیادہ سخت جنگ لڑنے والے تھے۔ نیز ان پر قتال یا اسلام قبول کرنے کا اطلاق بھی نہیں ہوسکتا اس لیے کہ وہ سبھی مسلمان تھے۔

پس رافضی مصنف نے جو لکھا ہے کہ : ’’ حدیث میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’ تیری جنگ میری جنگ ہے ‘‘ اس کی سند اس نے ذکر نہیں کی۔پس اسے حجت قائم نہیں ہوسکتی۔حقیقت میں یہ روایت من گھڑت ہے۔ اور اس کے موضوع ہونے پر اہل علم کا اتفاق ہے ۔‘‘

اس کی مزید وضاحت اس امر سے ہوتی ہے کہ سورت برأت اور آیت جزیہ کے نازل ہونے سے قبل رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کبھی تو مشرکین اوراہل کتاب کفار کے ساتھ جنگ کرتے او ر کبھی ان کے ساتھ معاہدہ کرتے ۔ ان کے ساتھ قتال یا ان کے اسلام قبول کرنے کی نوبت نہ آتی۔جب اللہ تعالیٰ نے سورت برأت نازل فرمائی ؛ اور اس میں حکم دیا کہ کفار کے ساتھ کیے ہوئے معاہدے انہیں واپس کیے جائیں ۔ اوراس کی جگہ یہ حکم دیا کہ کفار سے اس وقت تک جنگ کی جائے یہاں تک کہ وہ ذلت قبول کرتے ہوئے اپنے ہاتھوں سے جزیہ ادا کریں ۔ اس وقت سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس امر پرمامور ہوگئے کہ لوگوں کوان اقوام کے ساتھ جنگ کرنے کی دعوت دیں جن کا اسلام قبول کرنا یا ان سے جنگ کرنا ضروری ہے اور جب ان سے جنگ کی جائے تو اس وقت تک جنگ کی جائے یہاں تک کہ وہ لوگ یا تو اسلام قبول کرلیں یا پھر اپنے ہاتھوں سے جزیہ ادا کریں ۔ اب یہ اختیار باقی نہیں رہا کہ جزیہ ادا کیے بغیر ان سے کوئی معاہدہ کیا جائے۔ جیسا کہ اس سے پہلے کفار اور مشرکین سے معاہدے کیے جاتے تھے۔جیسا کہ حدیبیہ والے سال اہل مکہ سے صلح کا معاہدہ کیا تھا۔ اس سورت میں اعراب کو ان لوگوں سے قتال کرنے دعوت ہے۔ صلح حدیبیہ کے متعلق اللہ تعالیٰ نے سورت فتح نازل فرمائی۔اور مسلمانوں کو بھی یہی دعوت دی گئی ؛ جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے :

﴿قُلْ لِلْمُخَلَّفِینَ مِنَ الْاَعْرَابِ سَتُدْعَوْنَ اِِلٰی قَوْمٍ اُوْلِی بَاْسٍ شَدِیْدٍ تُقَاتِلُوْنَہُمْ اَوْ یُسْلِمُوْن﴾

یہ آیت ان لوگوں کے برعکس پر دلالت کرتی ہے جنہیں عام حدیبیہ میں بلایا گیا تھا۔ اس میں فرق دو وجوہات کی بنا پر ہے:

پہلی وجہ:....مستقبل میں جن لوگوں سے جنگ کے لیے بلایاجائے گا وہ بہت سخت جنگجو ہوں گے ؛ بخلاف اہل مکہ دیگر عرب کے۔

دوسری وجہ:....یہ کہ تم ان لوگوں سے جنگ کروگے یا پھر وہ مسلمان ہوجائیں گے۔ تمہیں یہ اختیار حاصل نہیں ہے کہ ان کے صلح کرو ؛ یا پھر ان کے اپنے ہاتھوں سے ذلت کے ساتھ جزیہ دیے بغیر کوئی معاہدہ کرو ؛ جیسا کہ اہل مکہ سے قتال کیا گیا تھا۔ بلکہ ان لوگوں سے جزیہ لینے تک جنگ ہوگی۔

اس سے یہ بھی واضح ہوتا ہے کہ یہ سخت جنگجو قوم وہ لوگ نہ تھے جن کے ساتھ جزیہ کے بغیر معاہدہ کیا گیا۔بلکہ ان لوگوں سے یا تو جنگ ہوگی یا پھر اسلام لے آئیں گے۔ اورجن کے ساتھ بلاجزیہ کے معاہدہ کیا جائے گا وہ ایک تیسری حالت میں ہے‘ یہ وہ لوگ ہیں جن سے نہ ہی جنگ ہوگی اور نہ ہی وہ مسلمان ہونگے۔ لیکن یہ لوگ جنس عرب میں سے وہ لوگ بھی نہیں جن سے اس سے پہلے جنگ کی گئی۔

پس اس سے واضح ہوگیا کہ یہ وصف ان لوگوں کو شامل نہیں ہے جن کے ساتھ حنین میں یا دوسرے مواقع پر جنگ لڑی گئی۔اس لیے کہ یہ لوگ جنس عرب سے ہی تھے؛ ان سے بڑھ کر لڑاکے نہیں تھے؛اور ان کی جنگیں بھی اسی جنس سے تعلق رکھتی تھیں جیسا کہ اس سے پہلے اہل عرب سے جنگیں ہوچکی۔

پس یہ واضح ہوگیا کہ آیت مذکورہ میں بیان کردہ اوصاف اہل فارس و روم کے ہیں ؛ جن کے متعلق اللہ تعالیٰ نے حکم دیا ہے کہ یا تو ان لوگوں سے جنگ کی جائے گی یا پھر وہ اسلام قبول کرلیں ۔ اورجب جنگ ہوگی تو پھر اس وقت تک جنگ رہے گی جب تک وہ ذلت کے ساتھ اپنے ہاتھوں سے جزیہ نہ ادا کردیں ۔

اگر یہ کہا جائے: مرتدین کے ساتھ جنگ و قتال بھی اس میں داخل ہے ؟اس لیے کہ ان سے بھی یا توجنگ ہو گی یا پھر وہ اسلام قبول کرلیں گے۔ تو پھریہ کہنا بھی مناسب ہوگا کہ اس میں اہل مکہ اور اہل حنین کے ساتھ جنگ بھی شامل ہے‘ جن کے ساتھ فوری جنگیں ہوئیں ؛اس وقت ان کے ساتھ جنگ بندی کرنا بھی جائز تھا۔ نہ ہی وہ اسلام لاتے اورنہ ہی جنگ کرتے۔ فتح مکہ اور حنین والے سال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور بہت سارے کفار کے مابین بلاجزیہ معاہدے موجود تھے۔ جنہیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پورا فرمایا۔ لیکن سن نو ہجری غزوہ تبوک والے سال کے بعد جب اللہ تعالیٰ نے سورت برأت نازل فرمائی ‘ تو تبوک کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کو امیر حج بنا کر روانہ فرمایا ۔اور آپ کو یہ حکم دیا کہ یہ اعلان کریں کہ : اس سال کے بعد کوئی مشرک بیت اللہ کا حج نہ کرے۔ اور نہ ہی کوئی ننگا ہوکر بیت اللہ کاطواف کرے۔ اور جس کا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کوئی معاہدہ ہو تو وہ اپنی مدت کو پورا کرے گا۔ پھر ان کے بعد حضرت علی رضی اللہ عنہ کو روانہ اور آپ کو حکم دیا کہ جو مطلق معاہدے ہیں [جن میں مدت کا کوئی تعین نہیں ] انہیں ختم کرنے کا اعلان کیا جائے۔اور جن کے ساتھ کوئی معاہدہ نہیں تھا ان کو چارماہ کی مدت دی گئی۔ اس کی آخری مدت سن دس ہجری ماہ ربیع الثانی کا آخر تھا۔ یہ ان مہینوں کی حرمت کتاب اللہ میں مذکور ہیں ۔ فرمان الٰہی ہے:

﴿فَاِذَا انْسَلَخَ الْاَشْہُرُ الْحُرُمُ فَاقْتُلُوا الْمُشْرِکِیْنَ حَیْثُ وَ جَدْتُّمُوْہُم﴾ [التوبۃ ۵]

’’پس جب حرمت والے مہینے نکل جائیں تو ان مشرکوں کو جہاں پاؤ قتل کرڈالو۔‘‘

یہ وہ حرمت والے نہیں ہیں جن کے متعلق اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:

﴿مِنْہَآ اَرْبَعَۃٌ حُرُمٌ﴾ [التوبۃ۳۶]

’’ اور ان میں سے چار مہینے حرمت والے ہیں ۔‘‘

جس نے یہ کہا ہے ؛ اس سے اہل علم کے ہاں معروف تفسیر کے برعکس غلطی ہوگئی ہے۔جیسا کہ یہ بات اپنی جگہ پر تفصیل کے ساتھ بیان ہوچکی ہے۔

جب اللہ تعالیٰ نے اہل کتاب سے اس وقت تک جنگ کرنے کا حکم دیا ہے حتی کہ وہ اپنے ہاتھوں سے ذلت کے ساتھ جزیہ اداکرنا قبول کرلیں ۔تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجوس سے بھی جزیہ لیا۔ تمام مسلمانوں کا اتفاق ہے کہ اہل کتاب اور مجوس سب سے جزیہ لیا جاسکتا ہے۔

مسلمانوں کا تمام کفار کے متعلق تین اقوال میں اختلاف ہے۔:

٭ پہلاقول: تمام کفار سے اس وقت تک جنگ کی جائے گی یہاں تک کہ وہ اسلام قبول کرلیں ‘ یا پھر اپنے ہاتھوں سے ذلت کے ساتھ جزیہ ادا کردیں ۔ یہ امام مالک رحمہ اللہ کا قول ہے۔

٭ دوسرا قول : یہ بھی کہا گیا ہے کہ: ان سے مشرکین عرب کو استثنی حاصل ہے۔ یہ امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ اور ایک روایت کے مطابق امام احمد رحمہ اللہ کا قول ہے۔

٭ تیسرا قول : اوریہ بھی کہا گیا ہے کہ حکم اہل کتاب ؛اور ان لوگوں کے ساتھ خاص ہے جن کے اہل کتاب ہونے کا شبہ ہو۔یہ امام شافعی رحمہ اللہ اور دوسری روایت کے مطابق امام احمد رحمہ اللہ کا قول ہے۔

پہلا اور دوسرا قول معنوی لحاظ سے آپ میں متفق ہیں ۔اس لیے کہ آیت جزیہ اس وقت نازل ہوئی جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مشرکین عرب سے جنگ کرکے فارغ ہوچکے تھے۔اہل عرب کے ساتھ آپ کا آخری معرکہ غزوہ طائف تھاجو کہ حنین کے بعد پیش آیا۔حنین کا واقعہ فتح مکہ کے بعد کاہے۔ یہ تمام غزوات سن آٹھ ہجری کے ہیں ۔سن نو ہجری میں تبوک والے سال آپ نے عیسائیوں سے جنگ کا آغاز کیا۔اس موقع پر سورت برأت کا نزول ہوا۔ جس میں اس وقت تک لڑنے کا حکم دیا جب تک کہ وہ لوگ اپنے ہاتھوں سے ذلیل ہوکر جزیہ ادا کریں ۔

پس نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب کسی لشکر یہ فوجی دستہ کو روانہ فرماتے تو آپ انہیں حکم دیتے کہ اس وقت تک لڑائی لڑی جائے یہاں تک کہ وہ ذلت کے ساتھ اپنے ہاتھوں سے جزیہ ادا کردیں ۔ جیسا کہ صحیح مسلم کی روایت میں ہے۔[الحدیث عن سلیمان بنِ برید عن أبِیہِ رضِی اللّٰہ عنہ فِی مسلِم؍3 1357۔1358؛کِتاب الجِہادِ والسِیرِ، باب تأمِیرِ الإِمامِ الأمراء علی البعوثِ؛ ونصہ: إن رسول اللّٰہِ صلی اللہ علیہِ وسلم إِذا أمر أمِیراً علی جیش أو سرِیۃ أوصاہ فِی خاصتِہِ۔ ۔ ثم قال:(( اغزوا بِاسمِ اللّٰہِ فِی سبِیلِ....وإِذا لقِیت عدوک مِن المشرِکِین فادعہم ِإلی ثلاثِ خِصال(أو خِلال)فأیتہن ما أجابوا فاقبل مِنہم وکف عنہم، ثم ادعہم إِلی الإِسلامِ....فإِن ہم أبوا فسلہم الجِزیۃ، فإِن ہم أجابوا؛ فاقبل مِنہم وکف عنہم....الحدیث۔ وہو فِی: سنن ابن ماجہ2؍953؛ کتاب الجِہادِ، باب وصِیِۃ الإِمام۔]

ایسے ہی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نجران کے عیسائیوں کے ساتھ جزیہ پر صلح کی۔یہ سب سے پہلے لوگ تھے جنہوں نے جزیہ ادا کیا۔سورت آل عمران کی شروع کی آیات اللہ تعالیٰ نے ان ہی لوگوں کے متعلق نازل کی ہیں ۔سن نو ہجری میں مشرکین کو حرم سے نکال دیا گیا۔ اور ان کے ساتھ کیے گئے عہد و پیمان انہیں واپس کردیے گئے۔ اور اللہ تعالیٰ نے یہ حکم دیا کہ ان لوگوں سے جنگ کی جائے ؛ چنانچہ تمام عرب کے مشرک اسلام لے آئے۔ کوئی بھی مشرک معاہد یا غیر معاہد کسی بھی صورت میں باقی نہ رہا۔ اس سے پہلے ان سے بغیر کسی جزیہ کے معاہدے کیے جاتے تھے۔پس مشرکین سے جزیہ نہ لینے کی کیا وجوہات ہوسکتی ہیں ؟

کیا اس کی وجہ یہ تھی کہ : ان میں سے کوئی بھی ایسا باقی نہیں بچا تھا جس سے جزیہ لینے تک جنگ کی جاتی۔بلکہ تمام لوگوں نے جب اسلام کے محاسن اور روز افزوں ترقی دیکھی تو وہ اسلام لے آئے۔ اور خود ہی اپنے سابقہ شرکیہ عقیدہ کو برا سمجھنے لگے۔اس وجہ سے ان سے پستی و ذلت کے ساتھ جزیہ ادا کرنے کا حکم منفی ہوگیا؟

یا پھر اس کی وجہ یہ تھی کہ مشرکین سے جزیہ لینا جائز نہیں ۔بلکہ ان سے اس وقت تک جنگ کرنا واجب ہے جب تک کہ یہ لوگ اسلام قبول کرلیں ۔

٭ پہلے قول کے مطابق تمام کفار سے جزیہ لیا جاسکتاہے۔جیساکہ اکثر فقہاء کا کہنا ہے۔ان کا کہنایہ ہے کہ: جب اللہ تعالیٰ اہل کتاب سے اس وقت تک لڑنے کا حکم دیا ہے جب کہ یہ لوگ ذلت کے ساتھ اپنے ہاتھوں سے جزیہ نہ ادا کردیں ۔ان کیساتھ جزیہ کے بغیر کسی قسم کا معاہدہ کرنے سے منع کیا گیاہے۔ جیسا کہ معاملہ پہلے پہل تھا۔ تویہ اس بات پر تنبیہ ہے کہ مشرکین جو کہ ان سے بھی برے کافر ہیں ؛ ان کے ساتھ بغیر جزیہ کے کوئی معاہدہ نہ کیا جائے۔ بلکہ ان سے اس وقت تک قتال کیا جائے گا یہاں تک کہ یہ لوگ اپنے ہاتھوں سے ذلت قبول کرتے ہوئے جزیہ ادا کردیں ۔ اسی لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا:

’’ ان کے ساتھ اہل کتاب جیسا برتاؤ کرو ۔‘‘

ایسے ہی اہل بحرین کے ساتھ جزیہ پر صلح کی۔ ان میں مجوس بھی تھے۔اور آپ کے خلفاء رضی اللہ عنہم اور دیگر تمام مسلمان علماء کا بھی اس پر اتفاق رہاہے۔[فِی الموطأ1ِ؍ 278(کتاب الزکاۃِ، باب جِزیۃِ أہلِ الکِتابِ والمجوسِ)حدیثِ نمبر41میں ہے: ابن شہاب سے روایت ہے کہ پہنچا مجھ کو کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جزیہ لیا بحرین کے مجوس سے اور عمر بن خطاب نے جزیہ لیا فارس کے مجوس سے اور عثمان بن عفان نے جزیہ لیا بربر سے ۔اور اس سے اگلی روایت میں ہے : امام محمد بن باقر سے روایت ہے کہ حضرت عمر بن خطاب نے ذکر کیا مجوس کا اور کہا کہ میں نہیں جانتا کہ ان کے بارے میں کیا کروں ؟ تو بدالرحمن بن عوف نے کہا:میں گواہی دیتا ہوں میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے یہ فرماتے ہوئے سنا ہے: ’’سنوا بِہِم سنۃ أہلِ الکِتاب۔‘‘ ’’ ان سے وہ طریقہ برتو جو اہل کتاب سے برتتے ہو ۔‘‘نیز دیکھیں : صحیح البخاری کتاب الجزیۃ ‘ باب الجزیۃ و الموادعۃ مع أہل الحرب ۔]یہ معاملہ اسلام کے شروع میں تھا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کفار کیساتھ جنگیں بھی لڑا کرتے تھے اور بغیر کسی جزیہ کے ان کے ساتھ معاہدے بھی کرتے تھے۔جیساکہ سورت برأت کے نزول سے قبل کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے افعال سے ظاہر ہے۔سورت برأت میں حکم دیا گیا کہ جو مطلق عہد ہیں ‘ انہیں ختم کیا جائے۔ اوریہ حکم بھی دیا گیا کہ اہل کتاب سے اس وقت تک قتال کیا جائے یہاں تک کہ وہ جزیہ ادا کردیں ۔ پس اس بنا پر دوسرے کفار اس کے زیادہ حق دار ہیں کہ ان کے ساتھ جنگ لڑی جائے اور کوئی معاہدہ [بلا جزیہ ] نہ کیا جائے۔ 

اللہ تعالیٰ کافرمان ہے:

﴿فَاِذَا انْسَلَخَ الْاَشْہُرُ الْحُرُمُ فَاقْتُلُوا الْمُشْرِکِیْنَ حَیْثُ وَ جَدْتُّمُوْہُمْ وَخُذُوْہُمْ َو احْصُرُوْہُمْ وَ اقْعُدُوْا لَہُمْ کُلَّ مَرْصَدٍ فَاِنْ تَابُوْا﴾ [التوبۃ۵]

’’ پھر حرمت والے مہینوں کے گزرتے ہی مشرکوں کو جہاں پا قتل کرو انہیں گرفتار کرو ان کا محاصرہ کرو اور ان کی تاک میں ہر گھاٹی میں جابیٹھو ؛ہاں اگر وہ توبہ کرلیں۔‘‘

یہاں پر فرمایا : ’’ ہاں اگروہ توبہ کرلیں ۔‘‘ یہ نہیں فرمایا کہ ان سے اس وقت تک کے لیے قتال کرو یہاں تک کہ وہ توبہ کرلیں ۔

٭ رہا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان کہ: ’’ مجھے اس وقت تک کے لیے لوگوں سے جنگ کرنے کا حکم دیا گیا ہے یہاں تک کہ وہ لاإلہ إلا اللّٰہ کا اقرار کرلیں ‘‘ یہ اپنی جگہ پر حق ہے۔ جوبھی انسان اس کلمہ کا اقرار کرلے تو اس سے فوری طور پر کوئی جنگ نہیں کی جائے گی۔اور جو کوئی اس کا اقرار نہ کرے اس سے قتال کیا جائے گا یہاں تک کہ وہ اپنے ہاتھوں سے جزیہ ادا کردے۔ اس باب میں امام احمد رحمہ اللہ سے صریح نصوص وارد ہوئی ہیں ۔ اوردوسرا قول جو امام شافعی رحمہ اللہ نے فرمایا ہے؛اورجس کا ذکر علامہ خرقی رحمہ اللہ نے ’’المختصر‘‘ میں کیا ہے ؛ اس پر امام احمد رحمہ اللہ کے اصحاب میں سے ایک گروہ نے موافقت ظاہر کی ہے۔ 

ٖ٭ اس سے واضح ہوتا ہے کہ آیت سورت برأت کے الفاظ نصاری کے ساتھ خاص ہیں ۔اور تمام مسلمانوں کا اجماع ہے کہ یہ حکم یہود اور مجوس کو بھی شامل ہے۔

٭ یہاں پریہ بیان کرنا مقصود ہے کہ شروع اسلام میں معاملہ اس بات پر منحصر نہیں تھا کہ مسلمان ان سے جنگ کریں یا وہ اسلام لائیں ۔ اس لیے کہ اس وقت ایک تیسری حالت تھی یعنی کہ ان سے معاہدے کرنا۔ جب آیت جزیہ نازل ہوئی تو اس وقت سے ان کیساتھ جنگ کرنا یا پھر ان کا اسلام لانا ضروری ہوگیا۔ پس اس وقت یہ لوگ یا توبرسکار پیکار ہوگئے یا پھر مسلمان ہوگئے۔یہ نہیں کہا: تم ان سے جنگ کرو گے یاپھر وہ اسلام لائینگے۔ اگر ایسا فرمایا گیا ہوتا تو پھران کے مسلمان ہونے تک ان سے جنگ کرنا واجب ہوجاتا۔ جب کہ اب معاملہ ایسے نہیں ۔بلکہ جب بھی وہ لوگ جزیہ ادا کردیں تو ان سے کوئی جنگ نہیں کی جائے گی۔ جن لوگوں کے متعلق زیر بحث آیت میں بیان ہوا ہے؛ وہ یا تو جنگ کریں گے یا پھراسلام لائیں گے۔ اوربغیر جنگ کے وہ جزیہ بھی ادا نہیں کریں گے۔ اس لیے کہ وہ طاقتور لڑاکے ہیں ۔اوران کے ساتھ بغیر جزیہ کے جنگ بندی کرنا بھی جائز نہیں ۔

٭ یہ بات سبھی جانتے ہیں کہ حضرت ابوبکر وعمر رضی اللہ عنہما بلکہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے بھی اپنی اپنی خلافت کے دور میں ان لوگوں کے ساتھ جہاد کیا اور اہل شام و عراق اور اہل مغرب پر جزیہ نافذ کیا گیا۔ ان لوگوں سے سب سے زیادہ سخت جنگیں اور معرکے ان حضرات کے دور خلافت میں پیش آئے۔

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے غزوہ تبوک کے موقعہ پر ان لوگوں سے جنگ نہیں کی۔ غزوہ مؤتہ کے موقعہ پر اہل شام غالب رہے ‘ اس موقعہ پر حضرت زید‘حضرت جعفر اورحضرت عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہم شہید ہوگئے ۔ ان کے بعد اسلامی پرچم حضرت خالدبن ولید رضی اللہ عنہ نے سنبھال لیا۔ آپ یہ کہہ سکتے ہیں کہ اس موقعہ پر باقی مسلمان بچ کر نکل گئے۔

جب کہ اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے خبر دی ہے کہ ہم ان سے قتال کریں گے یا پھر وہ اسلام قبول کرلیں گے۔یہ تینوں خلفاء راشدین کی صفت ہے۔پس اس آیت کا غزوہ مؤتہ کے ساتھ خاص ہونااور اہل عراق و شام ‘مصر و مغرب اورخراسان کا اس سے خارج ہونا ممتنع ہے؛یہی تو وہ معرکے ہیں جن میں اللہ تعالیٰ نے اسلام کو غلبہ عطاء فرمایا ؛ ہدایت غالب آئی اور زمین کے مشرق و مغرب میں اسلام کو سر بلندی و عظمت نصیب ہوئی۔

لیکن یہ کہا جاسکتا ہے کہ: اہل سنت والجماعت کا مذہب یہ ہے کہ جہاد پر بلانے والے ہر امیر کے ساتھ جہاد کیا جائے گا خواہ وہ امیر نیک ہو یا بدکردارو فاجر۔اس لیے کہ اس حدیث میں کہیں بھی یہ صراحت نہیں ہے کہ وہ امام عادل ہی ہوگا۔

تو اس کاجواب یہ ہے کہ : ’’ یہ چیز اہل سنت و الجماعت کے لیے فائدہ مند ہے۔ اس لیے کہ رافضی صرف امام معصوم کے ساتھ مل کرہی جہاد کو جائز سمجھتے ہیں ۔اوران کے نزدیک صحابہ کرام رضی اللہ عنہم میں سے حضرت علی رضی اللہ عنہ کے علاوہ کوئی دوسرا معصوم نہیں ۔جب کہ یہ آیت رافضیوں پر حجت ہے کہ تمام امراء کے ساتھ مل کر دشمن سے جہاد کرنا واجب ہے۔ جب یہ مسئلہ ثابت ہوگیاتو حضرت ابوبکروعمراورعثمان رضی اللہ عنہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد ان لوگوں میں سب سے افضل تھے جنہوں نے کفار سے جہاد کیا۔ پھریہ بات بھی محال ہے کہ اللہ تعالیٰ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد جن لوگوں کے ساتھ مل کر کفار سے جہاد کرنے کا حکم دیا ہے وہ سبھی ظالم و سرکش اور باغی قسم کے لوگ ہوں ۔ اور ان کی اطاعت کسی بھی چیز میں واجب نہ ہوتی ہو۔ یہ بات قرآن کی بنیادی تعلیمات کے خلاف ہے۔ اس لیے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنی اطاعت پر اچھے اجر کا وعدہ کیا ہے۔اوراپنی اطاعت سے روگردانی کرنے والوں کو دردناک عذاب سے ڈرایا ہے۔

اس آیت سے خلفاء راشدین رضی اللہ عنہم کے عادل ہونے پر استدلال کیا جاسکتا ہے۔ اس لیے کہ ان کے صرف دعوت جہاد دینے پر اطاعت کرنے والوں کے لیے بہترین اجروثواب کا وعدہ کیا ہے۔ اور ان کے حکم سے روگردانی کرنے والے کو بھی پہلے والوں کی طرح دردناک عذاب کا مستحق ٹھہرایا ہے۔

یہ بات سبھی جانتے ہیں کہ جہادکرنے والا امیر جب فاسق و فاجر ہو توپھر اس کی اطاعت مطلق طور پر واجب نہیں ہوتی۔ بلکہ اس کی اطاعت اللہ اور اس کے رسول کے احکام میں کی جائے گی۔اور اس کے احکام سے روگردانی کرنے والا ایسے نہیں ہوسکتا جیسے اللہ اور اس کے رسول کے احکام سے روگردانی کرنے والا۔بخلاف ان لوگوں کے جو خلفاء راشدین کی اطاعت سے روگردانی کرنے والے ہیں ۔ ان کے احکام سے منہ موڑنے والا ایسے ہی ہے جیسے اللہ اور اس کے رسول کے احکام سے منہ موڑنے والا ۔ اس لیے کہ خلفاء راشدین کے احکام رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے احکام کے مطابق ہی ہوا کرتے تھے۔

خلاصہ کلام! اس موقعہ پر اس جملہ سے استدلال کرنا انتہائی دقیق امر ہے۔ اس کی یہاں پر ہمیں کوئی ضرورت نہیں ۔ اس لیے کہ اس کے علاوہ دیگر اتنے دلائل ہیں جو ہمارے موقف کو ثابت کرنے کے لیے کافی ہیں ۔

[زیر تبصرہ آیت اور حضرت علی رضی اللہ عنہ ]:

[اشکال]: رافضی مصنف نے کہا ہے: اوریہ بھی جائز ہوسکتاہے کہ : یہ داعی حضرت علی رضی اللہ عنہ ہوں ۔ اس لیے کہ آپ نے عہد توڑنے والوں اور نافرمانوں اور دین سے خروج کرنے والوں سے جہاد کیا۔ یعنی اہل جمل و صفین و حروریہ اور خوارج ۔[انتہی کلام الرافضی]

[جواب]:رافضی کا یہ دعوی کئی وجوہات کی بنا پر باطل ہے: 

پہلی وجہ:....یہ لوگ کسی بھی طرح اپنی ہی جنس کے لوگوں سے زیادہ سخت جنگجو ہر گزنہیں تھے۔بلکہ یہ بات سبھی جانتے ہیں کہ جن لوگوں سے جمل کے دن واسطہ پڑا وہ آپ کے لشکر کی نسبت بہت کم تھے۔اور آپ کا لشکر ان کے کی نسبت بہت زیادہ تھا۔ایسے ہی خوارج کی نسبت آپ کا لشکر کئی گنا زیادہ تھا۔ایسے ہی اہل صفین سے بھی آپ کا لشکر بڑھ کر تھا۔ اور ان لوگوں کا تعلق ان ہی کی ایک ہی جنس سے تھا۔سخت جنگجو ہونا ان کا وصف ہر گز نہیں ہو سکتا؛ جس کی بنا پر انہیں دوسروں سے جدا کیا جاسکتا ہو۔

یہ بات معلوم شدہ ہے کہ بنو حنیفہ اور اہل فارس و روم ان لوگوں سے کئی درجہ زیادہ سخت جنگجو اور لڑاکے تھے اور اصحاب حضرت علی رضی اللہ عنہ کو خوارج کی طرف سے وہ مشکلات اور تکلیف نہیں اٹھانی پڑی جو حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کے اصحاب کو مسیلمہ کذاب کے لشکر کی طرف اٹھانا پڑی تھیں ۔ روم اور فارس کے متعلق تو کوئی عاقل شک کرہی نہیں سکتا کہ ان سے جنگ کرنا عرب مسلمانوں کے برسر پیکار ہونے کی نسبت بہت زیادہ سخت تھا۔ اگرچہ شروع میں عرب مسلمانوں نے جو عرب کفار سے جہاد کیا وہ بہت ہی افضل اور عظیم الشان تھا۔ اس لیے کہ اس وقت مسلمان تھوڑی تعداد میں اور کمزور تھے؛ اس لیے نہیں کہ ان کا دشمن اہل فارس و روم کی نسبت بہت سخت جنگجوتھا۔یہی وجہ ہے کہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں :

﴿وَ لَقَدْ نَصَرَکُمُ اللّٰہُ بِبَدْرٍ وَّ اَنْتُمْ اَذِلَّۃٌ﴾ [آل عمران۱۲۳]

’’اور بلاشبہ یقیناً اللہ نے بدر میں تمھاری مدد کی، جب کہ تم نہایت کمزور تھے۔‘‘

ان لوگوں کوباہم جمع کرنے والی چیز دعوت اسلام اور مجانست تھی۔پس ان کے مابین جنگ کی وجہ کوئی ایسی چیز نہیں تھی جیسے اہل فارس و روم اور مجوس عرب اورنصاری کے ساتھ مسلمانوں کی جنگ کی وجہ تھی۔ یہ لوگ عرب مسلمانوں کو اپنے سب سے کمزور پڑوسی اور رعایا گمان کرتے تھے۔اور انہیں انتہائی حقیر سمجھتے تھے۔اگر اللہ تعالیٰ اہل ایمان کو ان لوگوں کے سامنے ایسے ثابت قدم نہ رکھتے اور تائید سے نہ نوازتے جیسا کہ اس سے پہلے انبیاء اور اہل ایمان کی نصرت کی جاتی رہی ہے ؛ تو یہ عرب مسلمان ان اہل فارس و روم کے سامنے ٹک نہ پاتے ‘ اور نہ ہی ان کے ملک اورشہر فتح کرسکتے۔ان کے پاس فوجی تعداد بہت زیادہ تھی ‘ اور بے پناہ اسلحہ اور قوت بھی حاصل تھی ۔لیکن اہل ایمان کے دلوں کو اللہ تعالیٰ نے قوت ایمانی سے نوازاہوا تھا جو صرف ان لوگوں کے ساتھ ہی خاص تھی۔

دوسری وجہ:....حضرت علی رضی اللہ عنہ نے دور دراز کے لوگوں کو اہل جمل اور خوارج کے ساتھ جنگ کرنے کے لیے نہیں بلایا تھا۔جب آپ بصرہ تشریف لائے تو آپ کے دل میں کسی سے جنگ کرنے کا کوئی خیال نہیں تھا۔بلکہ جنگ جمل حضرت علی رضی اللہ عنہ اور حضرت طلحہ و زبیر رضی اللہ عنہما کے مابین غیر اختیار اورغیر ارادی طور پر پیش آئی۔ جب کہ خوارج کے لیے آپ کے لشکر کا کچھ حصہ ہی کافی تھا۔ آپ نے حجاز کے اعراب میں سے کسی ایک کو ان جنگوں میں شرکت کرنے کے لیے نہیں بلایا۔

تیسری وجہ:....اگر اس بات کو مان لیا جائے کہ ان لوگوں سے جنگیں لڑنے میں حضرت علی رضی اللہ عنہ کی اطاعت واجب تھی‘ تو یہ بات ممتنع ہے کہ اللہ تعالیٰ کسی ایسے کی اطاعت واجب کردے جو نمازیوں کو صرف اس بنا پر قتل کر رہا ہو کہ ولی امر کی اطاعت میں داخل ہوجائیں ؛ اورایسے لوگوں کی اطاعت کا حکم نہ دے جو کفار سے اس لیے جنگ لڑ رہے ہوں کہ وہ اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لے آئیں ۔

یہ بات معلوم شدہ ہے کہ : جو انسان حضرت علی رضی اللہ عنہ کی اطاعت سے نکل جائے وہ اس انسان کی نسبت اللہ اور اس کے رسول پر ایمان سے دور نہیں ہوسکتا جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور قرآن حکیم کی تکذیب کرتا ہو۔ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی لائی ہوئی تعلیمات میں سے کسی بھی چیز کا اقرار نہ کرتا ہو۔بلکہ ان لوگوں کا گناہ بہت بڑا ہے ‘ اور انہیں اسلام کی دعوت پیش کرنا اور ان سے قتال کرنا افضل ہے۔ اگرفرض کرلیا جائے کہ جن لوگوں نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے جنگ کی وہ کافر تھے ؛تو اگریہ کہا جائے کہ: وہ مرتد تھے ؛ جیسا کہ روافض کا عقیدہ ہے۔

٭ تو یہ سبھی جانتے ہیں کہ جو مرتد محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو چھوڑ کر کسی دوسرے کو رسول مانتا ہوں جیسے مسیلمہ کذاب اور اس کے ہمنوا؛تو یہ لوگ ان کی نسبت بڑے مرتد تھے جو امام کی اطاعت کااقرار نہیں کرتے تھے؛ لیکن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان رکھتے تھے۔ بہر حال کچھ بھی حضرت علی رضی اللہ عنہ سے لڑنے والوں کا کوئی بھی گناہ ذکر نہیں کیا جا سکتا مگر جن لوگوں نے اس سے قبل خلفاء ثلاثہ رضی اللہ عنہم سے قتال کیا ان کا گناہ اس سے بڑھ کر تھا۔اور حضرت علی رضی اللہ عنہ کے ساتھ ہوکر لڑنے والوں کے لیے کوئی فضیلت اور ثواب بھی ذکر کیا جائے تو وہی اجرو ثواب اس سے بڑھ کر ان لوگوں کے لیے ہوگا جنہوں نے حضرات خلفاء ثلاثہ کے ساتھ مل کرجنگیں لڑیں ۔

٭ یہ اس صورت میں ہوگا جب یہ فرض کرلیا جائے کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ سے جنگ لڑنے والے کافر تھے۔لیکن سبھی لوگ جانتے ہیں کہ یہ قول باطل ہے۔ یہ بات صرف ردی قسم کے شیعہ ہی کہہ سکتے ہیں [کوئی دوسرا نہیں ]؛ ان کے اہل عقل لوگ ایسی بات نہیں کہتے ۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ اور اہل بیت سے تواتر کے ساتھ معلوم ہوا ہے کہ آپ ان لوگوں کو کافر نہیں کہتے تھے جنہوں نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے جنگیں لڑیں ۔ یہ تمام باتیں اس وقت ہوسکتی ہیں جب یہ تسلیم کرلیا جائے کہ یہ قتال مامور بہ تھا۔اوریہ تسلیم کیا جانا کیسے ممکن ہوسکتا ہے جب کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اور ان کے بعد علماء کرام کا اس مسئلہ میں اختلاف مشہورو معروف ہے کہ کیا یہ جنگیں اہل بغاوت کے ساتھ جنگیں تھیں کہ جب ان کی شرائط پائی جائیں تو جنگ لڑنا واجب ہوجاتا ہے۔یا پھر موجب قتال شروط کے انتفاء کی وجہ سے بغاوت کی جنگیں نہیں تھیں ۔اوریہ کہ ان جنگوں میں داخل ہونے سے بہتر و افضل یہ تھا کہ انسان ان سے بچ کر اور دوررہے۔ اور بعض علماء کرام نے انہیں فتنہ کی جنگیں شمار کیا ہے۔ جمہور محدثین اور جمہور ائمہ و فقہاء رحمہم اللہ کا یہی مذہب ہے۔ اور امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ کا مذہب یہ ہے کہ : باغیوں سے جنگ کرنا اس وقت تک جائزنہیں ہے جب تک وہ خود جنگ نہ چھیڑدیں ۔قدوری میں ایسے ہی ذکر کیا گیا ہے۔ اہل صفین نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے جنگ نہیں چھیڑی تھی۔

ایسے ہی مدینہ؛ شام ؛ بصرہ ؛کے بڑے بڑے فقہاء‘اوربڑے بڑے فقہاء حدیث جیسے امام مالک ‘ ایوب ‘ اوزاعی‘ اور امام احمد رحمہم اللہ کا یہی مذہب ہے کہ یہ جنگیں مامور بہ نہیں تھیں ۔اوران سے ہاتھ کھینچ لینا جنگ لڑنے سے بہتر تھا۔جمہور ائمہ اہل سنت والجماعت کا یہی قول ہے۔جیسا کہ احادیث صحیحہ اس پر دلالت کرتی ہیں ۔بخلاف حروریہ اور خوارج اور اہل نہروان کے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے مشہور سنت و احادیث کی روشنی میں ان لوگوں سے جنگ کرنا واجب تھا۔اس پر صحابہ کرام اور ائمہ اہل سنت کااتفاق ہے۔

٭ صحیحین میں حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ:

’’ نبی صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ منورہ کے قلعوں میں سے ایک قلعہ پر چڑھے اورپھر ارشاد فرمایا:’’ کیا تم وہ دیکھ رہے ہو جو میں دیکھ رہا ہوں کہ تمہارے گھروں کی جگہوں میں فتنے ایسے گر رہے ہیں جیسے بارش کے قطرات گرتے ہیں ۔‘‘[صحیح بخاری:ج1:ح 1773 ]

٭ سنن میں ہے حضرت عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :

’’ عنقریب ایک فتنہ ہوگا جو عرب کو گھیر لے گا، اس کے مقتولین جہنم میں جائیں گے اور اس میں زبان کا استعمال تلوار کے استعمال سے زیادہ سخت ہوگا۔‘‘[سنن ابوداؤد:ج 3:ح873۔]

٭ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

’’ عنقریب ایک اندھا، بہرا، گونگا فتنہ ہوگا پس جو اس کی طرف توجہ کرے گا وہ اس کے نزدیک ہوجائے گا اور زبان کو اس کی طرف متوجہ کرنا ایسا ہے جیسے تلوار سے اس میں شریک ہونا۔‘‘[سنن ابوداؤد:ج3:ح 872۔]

٭ حضرت ام سلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا فرماتی ہیں :

’’ایک رات کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم بیدار ہوئے تو آپ نے فرمایا کہ:’’ سبحان اللہ!آج رات کس قدر فتنے نازل کیے گئے ہیں اور کس قدر خزانے کھولے گئے ہیں ۔‘‘[صحیح بخاری:ج1:ح116]

٭ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ نے ارشاد فرمایا:

’’ عنقریب فتنے ہوں گے ان میں بیٹھنے والا کھڑا ہونے والے سے بہتر ہوگا اور کھڑا ہونے والا چلنے والے سے افضل ہوگا اور جلنے والا دوڑنے والے سے بہتر ہوگا اور جو آدمی گردن اٹھا کر انہیں دیکھے گا تو وہ اسے ہلاک کردیں گے اور جسے ان میں کوئی پناہ کی جگہ مل جائے تو چاہئے کہ وہ پناہ لے لے۔‘‘[صحیح بخاری:ج3:ح 1974۔صحیح مسلم:ج3:ح2748۔]

٭ صحیحین میں حضرت ابوبکرہ رضی اللہ عنہ سے روایت موجود ہے؛ اس میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

’’[عنقریب فتنے برپا ہوں گے۔ آگاہ رہو پھر فتنے ہوں گے۔ ان میں بیٹھنے والا چلنے والے سے بہتر ہوگا اور چلنے والا ان کی طرف دوڑنے والے سے بہتر ہوگا آگاہ رہو]جب یہ فتنے نازل ہوں یا واقع ہوں تو جس کے پاس اونٹ ہوں وہ اپنے اونٹوں کے ساتھ ہی لگا رہے اور جس کی زمین ہو وہ اپنی زمین سے ہی چمٹا رہے۔‘‘

ایک آدمی نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! آپ اس بارے میں کیا فرماتے ہیں جس کے پاس نہ اونٹ ہوں اور نہ بکریاں نہ ہی زمین ۔‘‘آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :

’’وہ اپنی تلوار لے کر اس کی دھار پتھر کے ساتھ رگڑ کر کند اور ناکارہ کر دے۔ پھر اگر وہ نجات حاصل کرنے کی طاقت رکھتا ہو تو نجات حاصل کرے۔ اے اللہ میں نے تیرا حکم پہنچا دیا؛ اے اللہ میں نے تیرا حکم پہنچا دیا۔‘‘

ایک آدمی نے عرض کیا: یا رسول اللہ! آپ صلی اللہ علیہ وسلم کیا فرماتے ہیں :’’ اگر مجھے ناپسندیدگی اور ناگواری کے باوجود ان دونوں صفوں میں سے ایک صف یا ایک گروپ میں کھڑا کر دیا جائے پھر کوئی آدمی اپنی تلوار سے مجھے مار دے یا کوئی تیری میری طرف آجائے؛ جو مجھے قتل کر ڈالے؟

تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:’’ وہ آدمی اپنے گناہ اور تیرے گناہ کے ساتھ لوٹے گا اور دوزخ والوں میں سے ہوگا۔‘‘[صحیح مسلم:ج3:ح2751]

٭ ان احادیث کی طرح دیگر روایات بھی حضرت سعد بن ابی وقاص اور دوسرے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے معروف ہیں اور صحابہ کرام میں رضی اللہ عنہم میں سے جن لوگوں نے یہ احادیث روایت کی ہیں ان میں سعد بن ابی وقاص ‘ حضرت ابوبکرہ ؛ اسامہ بن زید؛ محمدبن مسلمہ ؛ ابوہریرہ ؛اور دیگرصحابہ رضی اللہ عنہم شامل ہیں ۔ یہ حضرات جنگ جمل اور صفین کو فتنہ کی جنگیں قرار دیتے ہیں ۔اور ان کا کہنا ہے: اسلام میں فتنہ کی یہ پہلی جنگیں تھیں ۔یہ لوگ ان لڑائیوں میں شریک نہیں ہوئے ۔اور اپنے ماننے والے دوسرے لوگوں کو بھی جنگ میں شرکت سے منع کرتے رہے۔یہ روایات مشہور و معروف ہیں ۔

٭ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم میں سے جن لوگوں نے جنگیں لڑیں وہ اپنے حق میں کتاب و سنت سے کوئی ایسی مضبوط دلیل پیش نہیں کرسکے جس کی روشنی میں ان جنگوں میں لڑنا واجب ہو۔ بلکہ انہوں نے اقرار کیا تھا کہ یہ لڑائیاں ان کی رائے تھی۔ جیساکہ خود حضرت علی رضی اللہ عنہ نے اس کی خبر دی ہے۔ان دونوں لشکروں میں حضرت علی رضی اللہ عنہ سے افضل کوئی دوسرا نہیں تھا۔اس لحاظ سے جو لوگ آپ سے فروتر مرتبہ کے تھے ؛ وہ اتباع کے زیادہ حقدار تھے۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ کبھی کبھار ان جنگوں پر اپنی نا پسندیدگی اور نفرت کااظہار کیا کرتے تھے۔اس سے واضح ہوتا ہے کہ خوارج کے ساتھ جنگوں کے برعکس آپ کے پاس ان لڑائیوں کے حق میں کوئی شرعی دلیل موجود نہیں تھی جس کی بنا پر آپ خوشی و سرور کا اظہار کرسکیں ۔جب کہ خوارج کی جنگوں پر آپ اپنی خوشی و سرور اور رضامندی کا اظہار کرتے تھے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ جنگیں اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کی جنگیں تھیں جن سے وہ اللہ تعالیٰ کا قربت حاصل کرتے تھے۔اس لیے کہ ایسی نصوص نبویہ اور ادلہ شرعیہ موجود ہیں جن کی روشنی میں ان لوگوں سے لڑنا واجب تھا۔

صحیحین میں حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے : آپ فرماتے ہیں : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا:

’’مسلمانوں کی تفرقہ بندی کے وقت ایک فرقہ کا ظہور ہوگا ‘ اور ان دو گروہوں میں سے ان کو وہ لوگ قتل کریں گے جو حق کے زیادہ قریب ہوں گے۔‘‘[مسلم ۲؍۷۴۵؛ سنن ابو داؤد ۴؍۳۰۰۔]

صحیح مسلم کی ایک روایت کے الفاظ یہ ہیں : ’’ آپ نے ایک قوم کا ذکر کیا جو لوگ آپ کی امت میں سے نکلیں گے ؛اور انہیں وہ گروہ قتل کرے گا جو حق کے زیادہ قریب ہوگا۔ ان کی نشانی سر منڈوانا ہوگا۔یہ سب سے بری مخلوق ہوں گے۔ یا سب سے بری مخلوق میں سے ہوں گے ۔‘‘ حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ فرمایا کرتے تھے : ’’ اے اہل عراق! وہ تم لوگ ہو۔‘‘

بخاری کے الفاظ ہیں :’’مشرق کی طرف سے کچھ لوگ نکلیں گے؛وہ قرآن پڑھیں گے مگر ان کے حلق سے تجاوزنہیں کرے گا۔ وہ لوگ اسلام سے اس طرح نکل جائیں گے جیسے کمان سے تیر نکل جاتا ہے۔وہ اس وقت تک اسلام میں واپس نہیں پلٹیں گے جب تک تیر کمان میں واپس نہ آجائے۔‘‘[صحیح بخاری: ح:832]

صحیحین میں ہے حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا:

’’ اے لوگو!میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا آپ فرمارہے تھے:’’ ایک قوم میری امت سے نکلے گی وہ قرآن اس طرح پڑھیں گے کہ تم ان کی قرات سے مقابلہ نہ کر سکو گے اور نہ تمہاری نماز ان کی نماز کا مقابلہ کر سکے گی اور نہ تمہارے روزے ان کے روزوں جیسے ہوں گے وہ قرآن پڑھتے ہوئے گمان کریں گے کہ وہ ان کے لیے مفید ہے حالانکہ وہ ان کے خلاف ہوگا اور ان کی نماز ان کے حلق سے نیچے نہ اترے گی وہ اسلام سے اس طرح نکل جائیں گے جس طرح تیر نشانہ سے نکل جاتا ہے ان سے قتال کرنے والے لشکر کو اگر یہ معلوم ہو جائے جو ان کے لیے نبی کریم کی زبانی ان کے لیے فیصلہ کیا گیا ہے اسی عمل پر بھروسہ کرلیں اور نشانی یہ ہے کہ ان میں ایک آدمی کے بازو کی بانہہ نہ ہوگی اور اس کے بازو کی نوک عورت کے پستان کی طرح لوتھڑا ہوگی اس پر سفید بال ہوں گے۔ ‘‘[بقیہ حدیث اس طرح سے ہے:[پھراس کے بعد] حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا:’’ تم معاویہ رضی اللہ عنہ اور اہل شام سے مقابلہ کے لیے جاتے ہوئے ان کو چھوڑ جاتے ہو کہ یہ تمہارے پیچھے تمہاری اولادوں اور تمہارے اموال کو نقصان پہنچائیں ۔ اللہ کی قسم میں امید کرتا ہوں کہ یہ وہی لوگ ہیں جنہوں نے حرام خون بہایا اور ان کے مویشی وغیرہ لوٹ لیے تم اور لوگوں کو چھوڑو اور ان کی طرف اللہ کے نام پر چلو۔سلمہ بن کہیل کہتے ہیں پھر مجھے زید بن و ہب نے ایک منزل کے متعلق بیان کیا۔ یہاں تک کہ ہم ایک پل سے گزر ہے اور جب ہمارا خوارج سے مقابلہ ہو تو عبداللہ بن و ہب راسبی انکا سردار تھا۔ اس نے اپنے لشکر سے کہا تیر پھینک دو اور اپنی تلواریں میانوں سے کھینچ لو میں خوف کرتا ہوں کہ تمہارے ساتھ وہی معاملہ نہ ہو جو تمھارے ساتھ حرورا کے دن ہوا تھا تو وہ لوٹے اور انہوں نے نیزوں کو دور پھینک دیا اور تلواروں کو میان سے نکالا۔ لوگوں نے ان سے نیزوں کے ساتھ مقابلہ کیا اور یہ ایک دوسرے پر قتل کیے گئے ہم میں صرف دو آدمی کام آئے علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا ان میں سے ناقص ہاتھ والے کو تلاش کرو۔ تلاش کرنے پر نہ ملا تو علی رضی اللہ عنہ خود کھڑے ہوئے یہاں تک کہ ان لوگوں پر آئے جو قتل ہو چکے تھے آپ نے فرمایا ان کو ہٹایا؛ پھر اس کو زمین کے ساتھ ملا ہوا پایا آپ نے اللہ کبر کہہ کر فرمایا اللہ نے سچ فرمایا اور اس کے رسول نے پہنچایا تو پھر عبیدہ سلمانی نے کھڑے ہو کر کہا اے امیرالمومنین اللہ کی قسم جس کے سوا کوئی معبود نہیں کہ آپ نے خود نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ حدیث سنی۔ تو علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا ہاں اللہ کی قسم جس کے سوا کوء معبود نہیں مگر وہی یہاں تک عبیدہ نے تین بار قسم کا مطالبہ کیا اور آپ نے تین بار ہی اس کے لیے قسم کھائی۔ [صحیح مسلم:جلد اول:حدیث نمبر 2460]]

چوتھی وجہ:....یہ آیت حضرت علی رضی اللہ عنہ کے ساتھ جنگ لڑنے کو شامل نہیں ۔اس کہ آیت میں فرمایا گیا ہے :

﴿تُقَاتِلُوْنَہُمْ اَوْ یُسْلِمُوْنَ﴾’’ تم ان سے جنگ کرتے ہویا پھر صلح کرتے ہو ۔‘‘

یہاں پر دو وصف بیان کیے گئے ہیں جن میں سے کسی ایک کا ہونا ضروری ہے۔اور یہ بات معلوم شدہ ہے کہ جن لوگوں کی طرف حضرت علی رضی اللہ عنہ نے قتال کے لیے بلایا تھا؛ ان میں سے خلقت کی ایک بہت بڑی تعداد ایسی تھی جنہوں نے آپ سے کوئی جنگ نہیں کی۔بلکہ یہ لوگ جنگ سے دستبردار رہے۔ نہ ہی انہوں نے آپ سے جنگ کی اور نہ ہی آپ کے ساتھ مل کر جنگ کی۔یہ لوگ ایک تیسرا گروہ تھے۔جنہوں نے نہ ہی آپ کے ساتھ جنگ کی اورنہ ہی آپ سے سے مل کر۔ اورنہ ہی آپ کے حلقہ اطاعت میں داخل ہوئے ۔ یہ سبھی لوگ مسلمان تھے۔ ان کے مسلمان ہونے پر کتاب و سنت اوراجماع صحابہ بشمول حضرت علی رضی اللہ عنہ اورباقی لوگوں کے ؛ دلائل موجود ہیں ۔ فرمان الٰہی ہے:

﴿وَاِِنْ طَائِفَتَانِ مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَ اقْتَتَلُوْا فَاَصْلِحُوْا بَیْنَہُمَا فَاِِنْ بَغَتْ اِِحْدَاہُمَا عَلَی الْاُخْرَی فَقَاتِلُوا الَّتِیْ تَبْغِی حَتّٰی تَفِیئَ اِِلٰی اَمْرِ اللّٰہِ فَاِِنْ فَائَتْ فَاَصْلِحُوْا بَیْنَہُمَا بِالْعَدْلِ وَاَقْسِطُوا اِِنَّ اللّٰہَ یُحِبُّ الْمُقْسِطِینَo﴾ (الحجرات:۹)

’’اور اگر مسلمانوں کی دو جماعتیں آپس میں لڑ پڑیں تو ان میں میل ملاپ کرا دیا کرو پھر اگر ان دونوں میں سے ایک جماعت دوسری جماعت پر زیادتی کرے تو تم (سب)اس گروہ سے جو زیادتی کرتا ہے لڑو۔ یہاں تک کہ وہ اللہ کے حکم کی طرف لوٹ آئے اگر لوٹ آئے تو پھر انصاف کے ساتھ صلح کرا دو اور عدل کرو بیشک اللہ تعالیٰ انصاف کرنے والوں سے محبت کرتا ہے۔‘‘

اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کا وصف لڑائی و جنگ وجدال کے باوجود مؤمن ہونا بیان کیا ہے۔ اور یہ بھی خبر دی ہے کہ یہ سبھی آپس میں بھائی بھائی ہیں ۔یہ بھائی چارہ اہل ایمان کے مابین ہی ہوسکتا ہے؛مؤمن و کافر کے مابین نہیں ۔

صحیح بخاری میں حضرت ابوبکرۃ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت حسن کے متعلق فرمایا: ’’ میرا یہ بیٹا سردار ہے اور شاید اللہ اس کے ذریعہ مسلمانوں کی دو بڑی جماعتوں کے درمیان صلح کرا دے گا۔‘‘

پس اللہ تعالیٰ نے آپ کے ہاتھ پر لشکر معاویہ رضی اللہ عنہ اور لشکر علی رضی اللہ عنہ کے مابین صلح کروائی۔پس یہ حدیث ان سبھی لوگوں کے اہل ایمان ہونے کی دلیل ہے۔ اور اس بات کی بھی دلیل ہے کہ اللہ تعالیٰ اہل ایمان کے مابین صلح و صفائی کو پسند فرماتے ہیں ۔اور یہ کام کرنے والوں کی ثنائے خیر کرتے ہیں ۔ پس یہ اس بات کی دلیل ہے کہ جو کا م حضرت حسن رضی اللہ عنہ نے کیا ؛ وہ اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی رضا مندی کا کام تھا۔

مزیدبرآں صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے نقل ِ متواتر کے ساتھ ثابت ہے کہ انہوں نے دونوں گروہوں کے متعلق اسلامی احکام کے مطابق فیصلہ کیا تھا۔یہ آپس میں ایک دوسرے کے وارث بھی بنے تھے؛اوران کے بچوں کو قیدی بھی نہیں بنایا گیا تھا؛اور نہ ہی ان کے وہ اموال مال ِغنیمت بنائے گئے جو وہ معرکہ میں لیکر نہیں آئے تھے۔ اوریہ آپس میں ایک دوسرے کی نماز جنازہ بھی پڑھتے اور ایک دوسرے کے پیچھے نمازیں بھی پڑھتے۔

یہ بات بھی حضرت علی رضی اللہ عنہ پر خوارج کے طعن میں سے ایک تھی۔ اس لیے کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کی طرف سے منادی کرنے والا یوم جمل کے موقع پر یہ نداء لگارہا تھا: ’’آگاہ رہو! کسی بھاگنے والے کا پیچھا نہ کیا جائے ۔ اور نہ ہی کسی زخمی کو مارا جائے۔اورنہ ہی ان کے اموال کو غنیمت بنایا جائے۔اورنہ ہی ان کے بچوں کو قیدی بنایا جائے۔ نیز آپ نے حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کو خوارج کے ساتھ مناظرہ کرنے کے لیے بھی بھیجا۔

امام ابو نعیم نے صحیح اسناد کے ساتھ سلیمان بن طبرانی سے روایت کیا ہے وہ محمد بن اسحاق بن راہویہ اور علی بن عبد العزیز سے وہ ابوحذیفہ اور عبدالرزاق سے روایت کرتے ہیں ؛ یہ دونوں کہتے ہیں :ہم سے عکرمہ بن عمار نے حدیث بیان کی؛وہ کہتے ہیں : ہم سے ابو زمیل حنفی نے حدیث بیان کی ؛وہ ابن عباس سے روایت کرتے ہیں : آپ فرماتے ہیں :

’’ جب حروریہ ہم سے علیحدہ ہوگئے تو میں نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے کہا: اے امیر المؤمنین ! نماز کوتھوڑا ٹھنڈا کرکے پڑھئے؛ میں ان لوگوں کے پاس جاکر ان سے بات کرتا ہوں ۔آپ نے فرمایا: مجھے آپ کے بارے میں ان سے خوف محسوس ہوتا ہے۔ تو میں نے کہا: ان شاء اللہ ؛ ہرگزکوئی ایسی بات نہیں ہوگی۔ پھر میں نے بہترین قسم کا یمنی لباس پہنا۔پھر میں ان کے پاس چلا گیا تو وہ دوپہر کی گرمی میں قیلولہ کررہے تھے۔ جب میں ان کے پاس گیا تو میں نے کوئی قوم ان سے بڑھ کر عبادت گزار نہیں دیکھی۔ ان کے ہاتھ ایسے تھے جیسے اونٹ کے گھٹنے۔اور ان کے چہروں پر سجدوں کے آثار نمایاں تھے۔ جب میں ان کے پاس گیا تو کہنے لگے:

اے ابن عباس! خوش آمدید؛ بتائیے کیسے تشریف لائے ہیں ؟ میں نے کہا: میں آپ لوگوں سے بات چیت کرنے کے لیے آیا ہوں ۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کے سامنے وحی نازل ہوئی؛ وہ تفسیر کے سب سے ماہر لوگ ہیں ۔‘‘ان میں سے بعض لوگ کہنے لگے: اس سے کوئی بات نہ کیجیے ؛ اور بعض نے کہا: ہم ضرور آپ سے بات چیت کریں گے۔

آپ فرماتے ہیں :میں نے کہا: ’’ آپ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے چچا زاد اور آپ کے داماد سے کس بات کا انتقام لے رہے ہیں ؛ حالانکہ آپ سب سے پہلے ایمان لانے والے ہیں ۔اور آپ کے ساتھ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ بھی موجود ہیں ۔

حروریہ کہنے لگے: ہم آپ سے تین باتوں کی وجہ سے ناراض ہیں ۔میں نے کہا: وہ کون سی تین باتیں ہیں ؟

کہنے لگے: پہلی بات: آپ نے اللہ کے دین میں لوگوں کو حکم [فیصلہ کرنے والے ]بنایا ہے۔ جب کہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: ﴿إنِ الْحُکْمُ إِلَّا لِلّٰہِ ﴾ [الانعام۵۷] ’’بیشک حکم صرف اللہ تعالیٰ کے لیے ہے؟

میں نے کہا: اس کے علاوہ کوئی بات ؟:

کہنے لگے: آپ نے قتال کیا ؛ مگر نہ ہی قیدی بنائے اور نہ ہی مال غنیمت حاصل کیا۔ اگروہ لوگ کافر تھے تو پھر ان کا مال حلال تھا۔ اور اگر اہل ایمان تھے تو پھر ان کا خون حرام تھا۔

میں نے کہا: اس کے علاوہ کوئی بات ؟:

کہنے لگے: آپ نے اپنے نام سے امیر المؤمنین کا لقب مٹادیا ۔ اگر آپ امیر المؤمنین نہیں ہیں تو پھر امیرالکافرین ہوئے۔

میں نے کہا: کیا آپ سمجھتے ہیں کہ اگر میں تمہیں کتاب اللہ کی محکم آیات پڑھ کر سناؤں اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ایسی سنت تمہارے سامنے بیان کروں تو کیا تم اپنے مؤقف سے رجوع کرلو گے؟ کہنے لگے : ہاں ۔

میں نے کہا: تمہارا یہ اعتراض کہ: آپ نے افراد کو اللہ کے دین میں حکم بنایا ہے ؛ تو بیشک اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں :

﴿یٰٓاَیُّہَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَقْتُلُوا الصَّیْدَ وَ اَنْتُمْ حُرُمٌ وَّ مَنْ قَتَلَہٗ مِنْکُمْ مُّتَعَمِّدًا فَجَزَآئٌ مِّثْلُ مَا قَتَلَ مِنَ النَّعَمِ یَحْکُمُ بِہٖ ذَوَا عَدْلٍ مِّنْکُمْ ﴾ [المائدہ۹۵]

’’اے لوگو جو ایمان لائے ہو! شکار کو مت قتل کرو، اس حال میں کہ تم احرام والے ہو اور تم میں سے جو اسے جان بوجھ کر قتل کرے تو چوپاؤں میں سے اس کی مثل بدلہ ہے جو اس نے قتل کیا، جس کا فیصلہ تم میں سے دو انصاف والے کریں ۔‘‘

اور بیوی اورشوہر کے متعلق اللہ تعالیٰ کافرمان ہے:

﴿وَ اِنْ خِفْتُمْ شِقَاقَ بَیْنِہِمَا فَابْعَثُوْا حَکَمًا مِّنْ اَہْلِہٖ وَ حَکَمًا مِّنْ اَہْلِہَا ﴾ [النساء۳۵]

’’اور اگر ان دونوں کے درمیان مخالفت سے ڈرو تو ایک منصف مرد کے گھر والوں سے اور ایک منصف عورت کے گھر والوں سے مقرر کرو۔‘‘

پس میں تمہیں اللہ کی قسم دیکر پوچھتا ہوں : کیا لوگوں کے خون محفوظ کرنے اور ان کے مابین صلح کروانے کے لیے انسانوں کو حاکم و فیصل بنانایہ زیادہ مناسب ہے یا خرگوش کے شکار میں جس کی قیمت ایک چوتھائی درہم ہی ہوسکتی ہے؟ تو کہنے لگے : لوگوں کے خون محفوظ کرنے اور ان کے مابین اصلاح کرانے میں ۔

تو آپ نے فرمایا:پس کیا ایک مسئلہ سے نکل گئے؟ تو کہنے لگے : ہاں ۔

رہا تمہارا یہ کہنا کہ:آپ نے جنگ لڑی ؛ نہ ہی کسی کو قیدی بنایا اورنہ ہی کوئی مال غنیمت جمع کیا۔تو کیا تم اپنی ماں کو قیدی بناتے اور پھر ان کے ساتھ وہی کچھ حلال سمجھتے جو ان کے علاوہ دوسری عورتوں سے حلال سمجھتے ہو تو پھر تم اس سے کافر ہوجاتے۔اور اگر تم یہ کہو کہ : وہ تمہاری ماں نہیں ہیں ‘ تو تم کتاب اللہ کا انکار کرتے ہوئے اسلام سے نکل جاؤگے ۔‘‘بیشک اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں :

﴿اَلنَّبِیُّ اَوْلٰی بِالْمُؤْمِنِیْنَ مِنْ اَنْفُسِہِمْ وَ اَزْوَاجُہٗٓ اُمَّھٰتُہُمْ﴾ [الأحزاب۶]

’’پیغمبر مومنوں پر خود ان سے بھی زیادہ حق رکھتے ہیں اورآپ کی بیویاں مومنوں کی مائیں ہیں ۔‘‘

اب تم لوگ دو گمراہیوں کے درمیان متردد ہو۔ان میں سے جس کو چاہو تم اختیار کرلو۔ کیا ہم اس مسئلہ سے بھی نکل گئے ؟ کہنے لگے :اللہ گواہ ! ہاں درست ہے۔

پھر فرمایا: ’’تمہارا یہ کہنا کہ اپنے نام سے امیر المؤمنین کا لقب مٹا دیا ۔ بیشک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حدیبیہ کے موقع پر قریش کو دعوت دی کے ان کے مابین صلح نامہ لکھا جائے۔ تو آپ نے فرمایا: ’’ لکھو: یہ وہ تحریر ہے جس پر محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فیصلہ کیا ۔‘‘ تو قریش کہنے لگے: اللہ کی قسم ! اگر ہم یہ جانتے ہوتے کہ آپ اللہ کے رسول ہیں تو ہم آپ کو بیت اللہ جانے سے نہ روکتے اورنہ ہی آپ کیساتھ جنگ کرتے۔ لیکن یوں لکھو: محمد بن عبداللہ۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’اللہ کی قسم! میں اللہ کا رسول ہوں ‘ اگرچہ تم مجھے جھٹلاتے ہی رہو۔ اے علی ! لکھو: محمد بن عبداللہ۔‘‘ اللہ کی قسم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حضرت علی رضی اللہ عنہ سے افضل تھے۔‘‘کیا ہم اس مسئلہ سے بھی نکل گئے؟ کہنے لگے: اللہ قسم ! ضرور۔پس ان میں سے بیس ہزار لوگ واپس آگئے اور چار ہزار اپنی ضد پر قائم رہے جو کہ قتل کردیے گئے ۔‘‘

رافضی مصنف اور اس جیسے دوسرے شیعہ کا ان لوگوں کوکافر کہنا؛اور ان حضرات کے حضرت علی رضی اللہ عنہ کی اطاعت کی طرف رجوع کرنے کو اسلام قراردینا؛ اس لیے کہ ان کے گمان کے مطابق رسول للہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فرمایا ہے : ’’ اے علی ! تیرے ساتھ جنگ میرے ساتھ جنگ ہے ۔‘‘

اس کے جواب میں کہا جائے گا: ’’ بڑی ہی عجیب بات ہے۔ اوران پر بہت بڑی مصیبت یہ ہے کہ رافضی مصنف اور جیسے دیگر خسیس لوگ اس عظیم اصول کو ثابت کرسکیں ۔اس لیے کہ رافضی کی پیش کردہ حدیث ایک من گھڑت روایت ہے جس کا حدیث کی معتمد کتابوں میں کہیں نام و نشان تک نہیں پایا جاتا۔نہ ہی صحاح میں ‘نہ ہی سنن میں اور نہ ہی مسانید و فوائد میں ۔اورنہ ہی ان کے علاوہ کسی دوسری ایسی کتاب میں جن سے محدثین روایات نقل کرتے ہیں ۔اور ان کے مابین وہ کتب رائج ہیں ۔ اور محدثین کے ہاں یہ روایت نہ ہی صحیح نہ ہی حسن اورنہ ہی ضعیف ۔بلکہ یہ ایک گروی ہوئی روایت ہے [جسے رافضی ٹولہ نے گھڑلیا ہے]۔ اور اس کا من گھڑت ہونا صاف واضح ہے۔ اس لیے کہ یہ روایت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول اس مشہور و متواتر سنت کے خلاف ہے جس میں آپ نے دونوں گروہوں کومسلمان قراردیا تھا۔ اور یہ کہ اس فتنہ کے دور میں جنگوں میں شرکت کرنے سے دستبرداری اختیار کرنے کو آپ نے بہتر بتایا تھا۔ اور اس صورتحال میں دوگروہوں کے مابین صلح کروانے والے کی تعریف کی تھی۔اگر ان دو گروہوں میں سے کوئی ایک دین اسلام سے مرتد ہوتا تو یقیناً وہ گروہ یہود و نصاری سے بڑے کافر ہوتے جو کہ کسی قدر اپنے دین پر باقی ہیں ۔اوروہ قتل کیے جانے کے سب سے بڑے مستحق ہوتے۔جیساکہ مسیلمہ کذاب کے مرتد ساتھی قتل کیے جانے کے مستحق تھے ؛ جن سے حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ اور دیگر سبھی صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے قتال کیا‘اور ان کے ساتھ جنگیں لڑنے پر ان کا اتفاق تھا۔بلکہ انہوں نے ان لوگوں کے بچے اور خواتین قیدی بنائے۔ان ہی میں سے ایک لونڈی حضرت علی رضی اللہ عنہ کے حصہ میں آئی جس سے آپ کا مشہور نیکو کار بیٹا حضرت محمد بن حنفیہ پیداہوا۔

جہاد سے حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کا فرار؟:

[اعتراض]:رافضی مصنف نے کہا ہے:’’ بدر کے موقع پر جھونپڑے میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ہونے میں کوئی فضیلت نہیں ۔اس لیے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اللہ تعالیٰ کے ساتھ انس نے آپ کو دیگر ہر مونس و غمخوار سے بے نیاز کردیاتھا۔ لیکن جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دیکھا کہ اگر آپ ابوبکر رضی اللہ عنہ کو جنگ لڑنے کا حکم دیں گے تو اس سے فساد پیدا ہوگا ؛ اس لیے کہ آپ اس سے پہلے کئی بار غزوات میں بھاگ چکے تھے۔پس یہ دیکھنا چاہیے کہ کون سا انسان افضل ہے جو جہاد سے بیٹھارہے یا پھر وہ شخص جو اپنے مال و جان سے جہاد فے سبیل اللہ کرے۔‘‘ [انتہیٰ کلام الرافضی]

[جواب]: اس رافضی کا بیان کھلا ہوا جھوٹ اور کئی وجوہات کی بنا پر محض باطل ہے :

غزوۂ بدر سے ابوبکر رضی اللہ عنہ کے فرار کا واقعہ؟:

شیعہ مصنف کا یہ بیان :’’کہ ابوبکر رضی اللہ عنہ متعدد مرتبہ غزوات سے بھاگ گئے تھے۔‘‘

ہم کہتے ہیں :[ رافضی کا یہ دعوی محض کذب، دروغ اور فریب دہی پر مبنی ہے] ۔اور ایسی بات وہی انسان کہہ سکتا ہے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے غزوات و احوال سے سب سے بڑا جاہل ہو۔ روافض کی جہالت کوئی اچھوتی چیز نہیں ۔ بلاشبہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے احوال سے سب سے بڑے جاہل ؛جھوٹ کی تصدیق کرنے والے اور حق بات کی تکذیب کرنے والے روافض ہی تو ہوتے ہیں ۔

غزوۂ بدراسلام کا سب سے پہلا معرکہ ہے؛اس سے پہلے کفار کے ساتھ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم یا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کوئی لڑائی نہیں لڑی۔جن غزوات میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قتال کیا ؛ ان کی تعداد نو ہے : بدر‘ أحد‘خندق؛ بنی مصطلق؛ غزوہ ذی قرد ؛ خیبر ‘ فتح مکہ ؛حنین اور طائف۔جب کہ وہ غزوات جن میں قتال کی نوبت نہیں آئی ان کی تعداد پندرہ بنتی ہے۔جب کہ سرایامیں سے بعض ایسے تھے جن میں قتال ہوا اور بعض میں کوئی قتال نہیں ہوا۔

بہر حال جو بھی ہو؛ غزوہ بدر پہلا معرکہ تھا جس میں قتال کی نوبت پیش آئی؛اس پر تمام لوگوں کااتفاق ہے۔یہ ایسا عام علمی پہلو ہے جسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے احوال سے باخبر ہر انسان : محدث و مفسر ‘ سیرت نگار وفقہی ؛ مغازی نگار و مؤرخ ہر ایک جانتا ہے کہ غزوہ بدر وہ پھلا معرکہ تھا جس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قتال کیا۔ اس سے پہلے قتال کی نوبت پیش نہیں آئی۔اس سے پہلے کسی غزوہ یا سریہ میں قتال کی نوبت نہیں آئی؛ سوائے ابن حضرمی کے قصہ کے۔اس میں حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ شریک نہیں تھے۔تو پھر کیسے کہا جاسکتا ہے کہ : آپ اس سے پہلے کئی بار غزوات سے بھاگ چکے تھے؟

دوسری وجہ:....یہ حقیقت ہے کہ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کسی لڑائی سے نہیں بھاگے تھے۔ غزوۂ احد میں بھی حضرت ابوبکر اور حضرت عمر رضی اللہ عنہما ان لوگوں میں تھے جو ثابت قدم رہے تھے۔ البتہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ سے جولغزش ہوئی تھی؛ اسے اللہ تعالیٰ نے معاف کردیا۔[ یہ بات بدلیل نص بیان کی جا چکی ہے]۔حضرت ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما کے بارے میں کسی ایک نے بھی نہیں کہا کہ آپ پسپا ہونے والوں کے ساتھ پسپا ہوگئے تھے۔بلکہ آپ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ثابت قدم رہے۔اور حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ ان لوگوں میں تھے جو غزوۂ حنین میں بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ثابت قدم رہے تھے۔سیرت نگارحضرات نے ایسے ہی بیان کیاہے۔لیکن کذابین نے یہ جھوٹ گھڑلیا ہے کہ حضرت ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما نے غزوہ حنین کے موقع پر پرچم اسلام لیا تھا؛ مگر پھر ان کے ہاتھوں پر فتح نہ ہوسکی؛ اس لیے کہ حضرات واپس آگئے۔اور بعض نے اس میں اس جھوٹ کا بھی اضافہ کردیا ہے کہ اس موقع پر یہ دونوں حضرات بھی پسپا ہونے والوں کے ساتھ پسپا ہوگئے تھے۔یہ تمام باتیں من گھڑت جھوٹ ہیں ۔

اس سے قبل کہ انسان اس دعوی کا جھوٹ ہونا جان لے‘ یہ جاننا چاہیے کہ جس نے ان حضرات کے خلاف اس قسم کا دعوی کیا ہے وہ اس کا مدعی ہے‘اسے چاہیے صحیح اور سچی روایات کی روشنی میں اپنادعوی ثابت کرے۔مگر رافضی اس کی راہ ہر گز نہیں پائے گا۔کوئی ایک بھی ایسی صحیح اورسچی روایت ثابت کردیں جس سے یہ ثابت ہوتا ہو کہ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کسی ایک غزوہ میں بھی بھاگے تھے؛ کئی ایک غزوات میں بھاگنا تو بہت دور کی بات ہے۔

تیسری وجہ: ....اگرواقعی حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ بزدل ہوتے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم غزوۂ بدر کے سائبان میں باقی صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو چھوڑ کر آپ کوخصوصی شرف رفاقت سے مشرف نہ کرتے۔بلکہ ایسے لوگوں کومعرکوں میں لیکر جانا ہی جائز نہیں ۔ اس لیے کہ امام کے لیے جائز نہیں کہ وہ معرکہ میں ایسے لوگوں کوساتھ لیکر جائے جو رسوائی کا سبب بننے والے یا پھر جھوٹی خبریں اڑانے والے ہوں ۔ چہ جائے کہ انہیں باقی تمام صحابہ رضی اللہ عنہم پر تقدیم بخشی جائے اور اپنے ساتھ سائبان میں بطور خاص رکھا جائے۔[امام ذہبی رحمہ اللہ فرماتے ہیں :’’ اگر رافضی مصنف یہ کہتا ہے کہ ابوبکر رضی اللہ عنہ بزدل تھے اور لڑائیوں سے بھاگ جایا کرتے تھے۔ نیز وہ مفلس و قلاش تھے؛ درزی تھے، ان کی پشت پناہی کے لیے کوئی قبیلہ نہ تھا‘ان کا خاندان بنی عبد مناف اوربنو مخزوم کی طرح معزز نہ تھا‘اور ان کے خدم و حشم نہ تھے۔ ‘‘ہم پوچھتے ہیں کہ سابقین اوّلین نے کس کے سامنے گردن تسلیم خم کی اور اسے خلیفہ رسول کہہ کر پکارا؟ آخر نص شرعی کے سوا کون سی چیز ان کو ابوبکر رضی اللہ عنہ کے سامنے جھکنے پر مجبور کر سکتی تھی۔اگر ابوبکر رضی اللہ عنہ سب امت میں افضل نہ ہوتے۔ تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ یوں نہ فرماتے:’’اﷲ کی قسم! جس قوم میں ابوبکر رضی اللہ عنہ جیسا شخص موجود ہو، مجھے اس کا امیر مقرر کرنے سے بہتر ہے کہ مجھے تہہ تیغ کردیا جائے۔ [صحیح بخاری]]

چوتھی وجہ:....بخاری ومسلم میں ثابت شدہ صحیح روایات اس بہتان تراش رافضی کے کذب ودجل کوواضح کرتی اور حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کے ایمان ویقین اورثبات پر روشنی ڈالتی ہیں ۔صحیحین میں حضرت ابن عباس، حضرت عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ:’’ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے غزوہ بدر کے دن مشرکین کی طرف دیکھا تو وہ ایک ہزار تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ تین سو سترہ تھے۔ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے قبلہ کی طرف منہ فرما کر اپنے ہاتھوں کو اٹھایا اور اپنے رب سے پکار پکار کر دعا مانگنا شروع کر دی:

’’ اے اللہ!میرے لیے اپنے کیے ہوئے وعدہ کو پورا فرمایا۔ اے اللہ!اپنے وعدہ کے مطابق عطا فرما۔

اے اللہ!اگر اہل اسلام کی یہ جماعت ہلاک ہوگئی تو زمین پر تیری عبادت نہ کی جائے گی۔‘‘

آپ صلی اللہ علیہ وسلم برابر اپنے رب سے ہاتھ دراز کیے قبلہ کی طرف منہ کر کے دعا مانگتے رہے یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی چادر مبارک آپ کے شانہ سے گر پڑی۔ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ آئے؛ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی چادر کو اٹھایا اور اسے آپ کے کندھے پر ڈالا پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے سے آپ سے لپٹ گئے اور عرض کیا:’’ اے اللہ کے نبی آپ کی اپنے رب سے دعا کافی ہو چکی عنقریب وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے اپنے کیے ہوئے وعدے کو پورا کرے گا۔‘‘تب اللہ رب العزت نے یہ آیت نازل فرمائی :

﴿اِذْ تَسْتَغِیْثُوْنَ رَبَّکُمْ فَاسْتَجَابَ لَکُمْ﴾ [الأنفال ۹]

’’جب تم اپنے رب سے فریاد کر رہے تھے تو اس نے تمہاری دعا قبول کی ۔‘‘[1] [اور پوری حدیث بیان کی]

پانچویں وجہ:....یہ کہا جائے گا: جو انسان بھی حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کی سیرت سے آگاہ ہے ‘وہ جانتا ہے کہ آپ تمام صحابہ کرام رضی اللہ عنہم میں سے مضبوط دل کے مالک تھے۔ان میں سے کوئی ایک بھی آپ کے قریب بھی نہیں پہنچتا تھا۔ کیونکہ جب سے اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو مبعوث فرمایا اس وقت سے لیکردم وفات تک حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ ثابت قدم بہادر مجاہد اور پیش پیش رہے۔کبھی بھی آپ کے بارے میں یہ معلوم نہیں ہوسکا کہ دشمن کے مقابلہ میں آپ نے کوئی بزدلی یا کمزوری دیکھائی ہو ۔ بلکہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا انتقال ہوا تو اس وقت اکثر صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے دل کمزور ہوگئے تھے۔ان حالات میں حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ تھے جو لوگوں کو ثابت قدم رہنے کی تلقین فرمارہے تھے۔حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں :

’’ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے خطبہ دیا۔یہ حقیقت ہے کہ ہم لومڑی کی طرح بزدل ہوگئے تھے آپ کی حوصلہ افزائی نے ہمیں شیر بنا دیا۔‘‘

یہ بھی روایت کیا گیاہے کہ : حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے آپ سے کہا تھا:’’ اے نائب رسول اللہ! لوگوں پر رحم کیجیے۔‘‘

تو حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے آپ کی داڑھی پکڑ لی اور کہا: اے ابن خطاب ! جاہلیت میں تو بڑے سخت اور اسلام میں یہ خواری دیکھارہے ہو۔ اور میں ’’ کس بات پر رحم کروں آیا کسی جھوٹی بات پر یا کسی خود ساختہ شعر پر۔‘‘

چھٹی وجہ:....رافضی کا یہ کہنا کہ: ’’ کون سا انسان افضل ہے جو جہاد سے بیٹھارہے یا پھر وہ شخص جو اپنے مال و جان سے جہادفے سبیل اللہ کرے۔‘‘

تو اس کا جواب یہ ہے : بلکہ اس حال میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حفاظت پر مامور رہنا افضل ترین جہاد ہے۔اس لیے کہ دشمن کا اصل ہدف آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات گرامی تھی۔لشکر کا ایک تہائی حصہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے گرد آپ کی حفاظت پر مامور تھا اور ایک تہائی حصہ بھاگنے والے دشمنان کا پیچھا کررہا تھا۔ اور ایک تہائی حصہ کے لوگ مال غنیمت جمع کررہے تھے۔ پھر اللہ تعالیٰ کے حکم سے یہ اموال ان تمام لوگوں کے مابین تقسیم کیے گئے ۔

ساتویں وجہ:....رافضی مصنف کا یہ دعوی کہ : ’’س لیے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اللہ تعالیٰ کے ساتھ انس نے آپ کو دیگر ہر مونس و غمخوارسے بے نیاز کردیاتھا۔‘‘

اس کا جواب یہ ہے : کہنے والے کا یہ کہنا: ’’ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ سائبان میں آپ کے مؤنس و غمخوار تھے‘‘یہ قرآن و حدیث کا کلام نہیں ہے۔اورجس نے یہ کہا ہے وہ جانتا تھا کہ وہ کیا کہہ رہاہے۔اس سے مقصود یہ ہے کہ آپ اس لحاظ سے مؤنس نہیں تھے کہ آپ کو کوئی وحشت نہ ہو۔ بلکہ مراد یہ ہے کہ قتال میں آپ کے معاون تھے۔ جیساکہ آپ سے فروتر مرتبہ کے لوگ بھی جہاد میں آپ کی مدد کررہے تھے۔دیکھیں اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے :

﴿ہُوَالَّذِیْٓ اَیَّدَکَ بِنَصْرِہٖ وَ بِالْمُؤْمِنِیْنَ﴾ [الأنفال ۶۲]۔

’’ اسی نے اپنی مدد سے اور مومنوں سے تیری تائید کی ہے۔‘‘

حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ ان تمام اہل ایمان میں سے افضل تھے جن کے ذریعہ اللہ تعالیٰ نے مدد فرمائی۔ نیزاللہ تعالیٰ کافرمان ہے:

﴿فَقَاتِلْ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ لَا تُکَلَّفُ اِلَّا نَفْسَکَ وَ حَرِّضِ الْمُؤْمِنِیْنَ﴾ [النساء۸۴]

’’اللہ کی راہ میں جہاد کیجئے۔ آپ پر صرف اپنی ہی ذمہ داری ہے اور مسلمانوں کو جہاد کی رغبت دلائیے۔‘‘

حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کو جہاد اور اپنی مدد کی ترغیب تمام امکانیات کی انتہاء تک پہنچی ہوئی تھی۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ذمہ داری تھی کہ لوگوں کو جہاد کی ترغیب دیں تاکہ ان کے ساتھ مل کردشمن سے لڑنا ممکن ہو۔ اور ان کی دعاء ‘ رائے ‘ افعال سے اوردیگر جس طرح بھی ممکن ہوسکے دشمن کے خلاف ان سے مدد حاصل کی جائے۔

آٹھویں وجہ:....یہ بات کہی جائے گی کہ: تمام اہل عقل کے ہاں یہ بات معلوم ہے کہ جنگ میں اصل مطلوب سربراہ ہوتا ہے جو کہ دشمن کو قتل کرنا اوران سے لڑنا چاہتا ہے۔جب یہ قائدسائبان میں ؛یا قبہ میں یہ کسی بھی پناہ کی جگہ پڑاؤ ڈالے اوراپنے ساتھ تمام ساتھیوں میں سے صرف فرد واحد کوہی اختیار کرے اور باقی تمام لوگ اس سائباں سے باہر ہوں ۔تو یہ انسان تمام لوگوں میں سے خاص الخاص ہی ہوسکتا ہے۔اور اس کی دوستی سب سے گہری دوستی اور اس سے حاصل ہونے والا فائدہ بہت بڑا ہوسکتا۔ جہاد میں یہ نفع اسی صورت میں ممکن ہے جب اس کے ساتھ قوت قلب اور ثابت قدمی بھی ہو۔ کمزوری اور پسپائی کے ساتھ یہ ممکن نہیں ۔

یہ اس بات کی دلیل ہے کہ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ ان تمام لوگوں میں سب سے بڑے مؤمن و مجاہد تھے۔ تمام مخلوق میں افضل ترین لوگ اہل ایمان اور اہل جہاد ہوتے ہیں ۔پس جو اس میدان میں افضل ہو ‘تو اس کی فضیلت مطلق ہوتی ہے۔ اللہ تعالیٰ کافرمان ہے :

﴿اَجَعَلْتُمْ سِقَایَۃَ الْجَآجِّ وَ عِمَارَۃَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ کَمَنْ اٰمَنَ بِاللّٰہِ وَالْیَوْمِ الْاٰخِرِ وَ جٰہَدَ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ لَا یَسْتَوٗنَ عِنْدَ اللّٰہِ ﴾....آگے تک ....﴿وَ اُولٰٓئِکَ ہُمُ الْفَآئِزُوْن﴾۔[التوبۃ ۱۹۔۲۰]

’’ کیا تم نے حاجیوں کو پانی پلانے اور مسجد حرام کو آباد کرنے کو اس شخص کے کام کے برابر بنا دیا جو اللہ پر اور آخرت کے دن پر ایمان لائے اور اللہ کی راہ میں جہاد کرے؟اللہ کے نزدیک یہ برابر نہیں ہوسکتے ....اور ایسے ہی لوگ کامیاب ہیں ۔‘‘

ان اہل جہادکا مقام و مرتبہ اللہ کے ہاں اہل حج و صدقہ و خیرات سے بڑھ کر تھا۔ اور ان میں سب سے اکمل و کامل حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ تھے۔

جب کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کا جہاد ہاتھ کا جہاد تھا؛ اس میں وہ تمام صحابہ کرام رضی اللہ عنہم بھی آپ کے ساتھ شریک تھے جو بدر کے دن جہاد میں مصروف تھے۔ اور یہ بات معلوم نہیں ہوسکی کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے بدر یا احد کے موقع پر یا دیگر کسی موقع پر باقی تمام صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی نسبت زیادہ لڑائی لڑی ہو۔

پس حضرت ابوبکرصدیق رضی اللہ عنہ کی فضیلت ان کے ساتھ خاص ہے ‘ اس میں کوئی دوسرا آپ کا سہیم و شریک نہیں ؛ جب کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کے فضائل آپ کے اور دیگر صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے مابین مشترک ہیں ۔

نوویں وجہ:....بلاشبہ اس کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ اس سائبان سے باہر نکلے اور مٹھی بھر کر مٹی پھینکی جس کے بارے میں یہ آیت نازل ہوئی:

﴿وَ مَا رَمَیْتَ اِذْ رَمَیْتَ وَ لٰکِنَّ اللّٰہَ رَمٰی﴾ [الأنفال ۱۷]

’’اور جب آپ نے مٹھی پھینکی تھی تو وہ آپ نے نہیں بلکہ اللہ نے پھینکی تھی۔‘‘

حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے ان لوگوں سے قتال کیا تھا ؛ یہاں تک کہ آپ کے بیٹے عبدالرحمن نے کہا: میں نے آپ کو بدر کے دن دیکھا تھا؛مگر میں آپ سے منہ موڑ کر چلاگیا۔ تو حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے فرمایا:

’’لیکن اگر میں تمہیں دیکھ لیتا تو ضرور قتل کردیتا ۔‘‘ [اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ابوبکر رضی اللہ عنہ عزم و ثبات و قوت ایمان و ایقان کا زندہ پیکر تھے، نیز یہ کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور ابوبکر رضی اللہ عنہ اصحاب بدر میں سب سے افضل تھے، حالانکہ دونوں نے لڑائی میں عملی حصہ نہیں لیا تھا۔ یہ ضروری نہیں کہ لڑائی میں عملی حصہ لینے والا نہ لڑنے والے سے افضل ہو۔[آغا دلدار]]