فصل:....آیت ﴿قل للمخلفین﴾سے شیعہ کا استدلال - ردِ رافضیت |…

فصل:....آیت ﴿قل للمخلفین﴾سے شیعہ کا استدلال

  امام ابنِ تیمیہؒ

صفحہ 10 از 14

﴿وَاِِنْ طَائِفَتَانِ مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَ اقْتَتَلُوْا فَاَصْلِحُوْا بَیْنَہُمَا فَاِِنْ بَغَتْ اِِحْدَاہُمَا عَلَی الْاُخْرَی فَقَاتِلُوا الَّتِیْ تَبْغِی حَتّٰی تَفِیئَ اِِلٰی اَمْرِ اللّٰہِ فَاِِنْ فَائَتْ فَاَصْلِحُوْا بَیْنَہُمَا بِالْعَدْلِ وَاَقْسِطُوا اِِنَّ اللّٰہَ یُحِبُّ الْمُقْسِطِینَo﴾ (الحجرات:۹)

’’اور اگر مسلمانوں کی دو جماعتیں آپس میں لڑ پڑیں تو ان میں میل ملاپ کرا دیا کرو پھر اگر ان دونوں میں سے ایک جماعت دوسری جماعت پر زیادتی کرے تو تم (سب)اس گروہ سے جو زیادتی کرتا ہے لڑو۔ یہاں تک کہ وہ اللہ کے حکم کی طرف لوٹ آئے اگر لوٹ آئے تو پھر انصاف کے ساتھ صلح کرا دو اور عدل کرو بیشک اللہ تعالیٰ انصاف کرنے والوں سے محبت کرتا ہے۔‘‘

اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کا وصف لڑائی و جنگ وجدال کے باوجود مؤمن ہونا بیان کیا ہے۔ اور یہ بھی خبر دی ہے کہ یہ سبھی آپس میں بھائی بھائی ہیں ۔یہ بھائی چارہ اہل ایمان کے مابین ہی ہوسکتا ہے؛مؤمن و کافر کے مابین نہیں ۔

صحیح بخاری میں حضرت ابوبکرۃ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت حسن کے متعلق فرمایا: ’’ میرا یہ بیٹا سردار ہے اور شاید اللہ اس کے ذریعہ مسلمانوں کی دو بڑی جماعتوں کے درمیان صلح کرا دے گا۔‘‘

پس اللہ تعالیٰ نے آپ کے ہاتھ پر لشکر معاویہ رضی اللہ عنہ اور لشکر علی رضی اللہ عنہ کے مابین صلح کروائی۔پس یہ حدیث ان سبھی لوگوں کے اہل ایمان ہونے کی دلیل ہے۔ اور اس بات کی بھی دلیل ہے کہ اللہ تعالیٰ اہل ایمان کے مابین صلح و صفائی کو پسند فرماتے ہیں ۔اور یہ کام کرنے والوں کی ثنائے خیر کرتے ہیں ۔ پس یہ اس بات کی دلیل ہے کہ جو کا م حضرت حسن رضی اللہ عنہ نے کیا ؛ وہ اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی رضا مندی کا کام تھا۔

مزیدبرآں صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے نقل ِ متواتر کے ساتھ ثابت ہے کہ انہوں نے دونوں گروہوں کے متعلق اسلامی احکام کے مطابق فیصلہ کیا تھا۔یہ آپس میں ایک دوسرے کے وارث بھی بنے تھے؛اوران کے بچوں کو قیدی بھی نہیں بنایا گیا تھا؛اور نہ ہی ان کے وہ اموال مال ِغنیمت بنائے گئے جو وہ معرکہ میں لیکر نہیں آئے تھے۔ اوریہ آپس میں ایک دوسرے کی نماز جنازہ بھی پڑھتے اور ایک دوسرے کے پیچھے نمازیں بھی پڑھتے۔

یہ بات بھی حضرت علی رضی اللہ عنہ پر خوارج کے طعن میں سے ایک تھی۔ اس لیے کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کی طرف سے منادی کرنے والا یوم جمل کے موقع پر یہ نداء لگارہا تھا: ’’آگاہ رہو! کسی بھاگنے والے کا پیچھا نہ کیا جائے ۔ اور نہ ہی کسی زخمی کو مارا جائے۔اورنہ ہی ان کے اموال کو غنیمت بنایا جائے۔اورنہ ہی ان کے بچوں کو قیدی بنایا جائے۔ نیز آپ نے حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کو خوارج کے ساتھ مناظرہ کرنے کے لیے بھی بھیجا۔

امام ابو نعیم نے صحیح اسناد کے ساتھ سلیمان بن طبرانی سے روایت کیا ہے وہ محمد بن اسحاق بن راہویہ اور علی بن عبد العزیز سے وہ ابوحذیفہ اور عبدالرزاق سے روایت کرتے ہیں ؛ یہ دونوں کہتے ہیں :ہم سے عکرمہ بن عمار نے حدیث بیان کی؛وہ کہتے ہیں : ہم سے ابو زمیل حنفی نے حدیث بیان کی ؛وہ ابن عباس سے روایت کرتے ہیں : آپ فرماتے ہیں :

’’ جب حروریہ ہم سے علیحدہ ہوگئے تو میں نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے کہا: اے امیر المؤمنین ! نماز کوتھوڑا ٹھنڈا کرکے پڑھئے؛ میں ان لوگوں کے پاس جاکر ان سے بات کرتا ہوں ۔آپ نے فرمایا: مجھے آپ کے بارے میں ان سے خوف محسوس ہوتا ہے۔ تو میں نے کہا: ان شاء اللہ ؛ ہرگزکوئی ایسی بات نہیں ہوگی۔ پھر میں نے بہترین قسم کا یمنی لباس پہنا۔پھر میں ان کے پاس چلا گیا تو وہ دوپہر کی گرمی میں قیلولہ کررہے تھے۔ جب میں ان کے پاس گیا تو میں نے کوئی قوم ان سے بڑھ کر عبادت گزار نہیں دیکھی۔ ان کے ہاتھ ایسے تھے جیسے اونٹ کے گھٹنے۔اور ان کے چہروں پر سجدوں کے آثار نمایاں تھے۔ جب میں ان کے پاس گیا تو کہنے لگے:

اے ابن عباس! خوش آمدید؛ بتائیے کیسے تشریف لائے ہیں ؟ میں نے کہا: میں آپ لوگوں سے بات چیت کرنے کے لیے آیا ہوں ۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کے سامنے وحی نازل ہوئی؛ وہ تفسیر کے سب سے ماہر لوگ ہیں ۔‘‘ان میں سے بعض لوگ کہنے لگے: اس سے کوئی بات نہ کیجیے ؛ اور بعض نے کہا: ہم ضرور آپ سے بات چیت کریں گے۔

آپ فرماتے ہیں :میں نے کہا: ’’ آپ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے چچا زاد اور آپ کے داماد سے کس بات کا انتقام لے رہے ہیں ؛ حالانکہ آپ سب سے پہلے ایمان لانے والے ہیں ۔اور آپ کے ساتھ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ بھی موجود ہیں ۔

حروریہ کہنے لگے: ہم آپ سے تین باتوں کی وجہ سے ناراض ہیں ۔میں نے کہا: وہ کون سی تین باتیں ہیں ؟

کہنے لگے: پہلی بات: آپ نے اللہ کے دین میں لوگوں کو حکم [فیصلہ کرنے والے ]بنایا ہے۔ جب کہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: ﴿إنِ الْحُکْمُ إِلَّا لِلّٰہِ ﴾ [الانعام۵۷] ’’بیشک حکم صرف اللہ تعالیٰ کے لیے ہے؟

میں نے کہا: اس کے علاوہ کوئی بات ؟:

کہنے لگے: آپ نے قتال کیا ؛ مگر نہ ہی قیدی بنائے اور نہ ہی مال غنیمت حاصل کیا۔ اگروہ لوگ کافر تھے تو پھر ان کا مال حلال تھا۔ اور اگر اہل ایمان تھے تو پھر ان کا خون حرام تھا۔

میں نے کہا: اس کے علاوہ کوئی بات ؟:

کہنے لگے: آپ نے اپنے نام سے امیر المؤمنین کا لقب مٹادیا ۔ اگر آپ امیر المؤمنین نہیں ہیں تو پھر امیرالکافرین ہوئے۔

میں نے کہا: کیا آپ سمجھتے ہیں کہ اگر میں تمہیں کتاب اللہ کی محکم آیات پڑھ کر سناؤں اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ایسی سنت تمہارے سامنے بیان کروں تو کیا تم اپنے مؤقف سے رجوع کرلو گے؟ کہنے لگے : ہاں ۔

میں نے کہا: تمہارا یہ اعتراض کہ: آپ نے افراد کو اللہ کے دین میں حکم بنایا ہے ؛ تو بیشک اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں :

﴿یٰٓاَیُّہَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَقْتُلُوا الصَّیْدَ وَ اَنْتُمْ حُرُمٌ وَّ مَنْ قَتَلَہٗ مِنْکُمْ مُّتَعَمِّدًا فَجَزَآئٌ مِّثْلُ مَا قَتَلَ مِنَ النَّعَمِ یَحْکُمُ بِہٖ ذَوَا عَدْلٍ مِّنْکُمْ ﴾ [المائدہ۹۵]

صفحہ 10 از 14