فصل:....آیت ﴿قل للمخلفین﴾سے شیعہ کا استدلال - ردِ رافضیت |…

فصل:....آیت ﴿قل للمخلفین﴾سے شیعہ کا استدلال

  امام ابنِ تیمیہؒ

صفحہ 11 از 14

’’اے لوگو جو ایمان لائے ہو! شکار کو مت قتل کرو، اس حال میں کہ تم احرام والے ہو اور تم میں سے جو اسے جان بوجھ کر قتل کرے تو چوپاؤں میں سے اس کی مثل بدلہ ہے جو اس نے قتل کیا، جس کا فیصلہ تم میں سے دو انصاف والے کریں ۔‘‘

اور بیوی اورشوہر کے متعلق اللہ تعالیٰ کافرمان ہے:

﴿وَ اِنْ خِفْتُمْ شِقَاقَ بَیْنِہِمَا فَابْعَثُوْا حَکَمًا مِّنْ اَہْلِہٖ وَ حَکَمًا مِّنْ اَہْلِہَا ﴾ [النساء۳۵]

’’اور اگر ان دونوں کے درمیان مخالفت سے ڈرو تو ایک منصف مرد کے گھر والوں سے اور ایک منصف عورت کے گھر والوں سے مقرر کرو۔‘‘

پس میں تمہیں اللہ کی قسم دیکر پوچھتا ہوں : کیا لوگوں کے خون محفوظ کرنے اور ان کے مابین صلح کروانے کے لیے انسانوں کو حاکم و فیصل بنانایہ زیادہ مناسب ہے یا خرگوش کے شکار میں جس کی قیمت ایک چوتھائی درہم ہی ہوسکتی ہے؟ تو کہنے لگے : لوگوں کے خون محفوظ کرنے اور ان کے مابین اصلاح کرانے میں ۔

تو آپ نے فرمایا:پس کیا ایک مسئلہ سے نکل گئے؟ تو کہنے لگے : ہاں ۔

رہا تمہارا یہ کہنا کہ:آپ نے جنگ لڑی ؛ نہ ہی کسی کو قیدی بنایا اورنہ ہی کوئی مال غنیمت جمع کیا۔تو کیا تم اپنی ماں کو قیدی بناتے اور پھر ان کے ساتھ وہی کچھ حلال سمجھتے جو ان کے علاوہ دوسری عورتوں سے حلال سمجھتے ہو تو پھر تم اس سے کافر ہوجاتے۔اور اگر تم یہ کہو کہ : وہ تمہاری ماں نہیں ہیں ‘ تو تم کتاب اللہ کا انکار کرتے ہوئے اسلام سے نکل جاؤگے ۔‘‘بیشک اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں :

﴿اَلنَّبِیُّ اَوْلٰی بِالْمُؤْمِنِیْنَ مِنْ اَنْفُسِہِمْ وَ اَزْوَاجُہٗٓ اُمَّھٰتُہُمْ﴾ [الأحزاب۶]

’’پیغمبر مومنوں پر خود ان سے بھی زیادہ حق رکھتے ہیں اورآپ کی بیویاں مومنوں کی مائیں ہیں ۔‘‘

اب تم لوگ دو گمراہیوں کے درمیان متردد ہو۔ان میں سے جس کو چاہو تم اختیار کرلو۔ کیا ہم اس مسئلہ سے بھی نکل گئے ؟ کہنے لگے :اللہ گواہ ! ہاں درست ہے۔

پھر فرمایا: ’’تمہارا یہ کہنا کہ اپنے نام سے امیر المؤمنین کا لقب مٹا دیا ۔ بیشک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حدیبیہ کے موقع پر قریش کو دعوت دی کے ان کے مابین صلح نامہ لکھا جائے۔ تو آپ نے فرمایا: ’’ لکھو: یہ وہ تحریر ہے جس پر محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فیصلہ کیا ۔‘‘ تو قریش کہنے لگے: اللہ کی قسم ! اگر ہم یہ جانتے ہوتے کہ آپ اللہ کے رسول ہیں تو ہم آپ کو بیت اللہ جانے سے نہ روکتے اورنہ ہی آپ کیساتھ جنگ کرتے۔ لیکن یوں لکھو: محمد بن عبداللہ۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’اللہ کی قسم! میں اللہ کا رسول ہوں ‘ اگرچہ تم مجھے جھٹلاتے ہی رہو۔ اے علی ! لکھو: محمد بن عبداللہ۔‘‘ اللہ کی قسم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حضرت علی رضی اللہ عنہ سے افضل تھے۔‘‘کیا ہم اس مسئلہ سے بھی نکل گئے؟ کہنے لگے: اللہ قسم ! ضرور۔پس ان میں سے بیس ہزار لوگ واپس آگئے اور چار ہزار اپنی ضد پر قائم رہے جو کہ قتل کردیے گئے ۔‘‘

رافضی مصنف اور اس جیسے دوسرے شیعہ کا ان لوگوں کوکافر کہنا؛اور ان حضرات کے حضرت علی رضی اللہ عنہ کی اطاعت کی طرف رجوع کرنے کو اسلام قراردینا؛ اس لیے کہ ان کے گمان کے مطابق رسول للہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فرمایا ہے : ’’ اے علی ! تیرے ساتھ جنگ میرے ساتھ جنگ ہے ۔‘‘

اس کے جواب میں کہا جائے گا: ’’ بڑی ہی عجیب بات ہے۔ اوران پر بہت بڑی مصیبت یہ ہے کہ رافضی مصنف اور جیسے دیگر خسیس لوگ اس عظیم اصول کو ثابت کرسکیں ۔اس لیے کہ رافضی کی پیش کردہ حدیث ایک من گھڑت روایت ہے جس کا حدیث کی معتمد کتابوں میں کہیں نام و نشان تک نہیں پایا جاتا۔نہ ہی صحاح میں ‘نہ ہی سنن میں اور نہ ہی مسانید و فوائد میں ۔اورنہ ہی ان کے علاوہ کسی دوسری ایسی کتاب میں جن سے محدثین روایات نقل کرتے ہیں ۔اور ان کے مابین وہ کتب رائج ہیں ۔ اور محدثین کے ہاں یہ روایت نہ ہی صحیح نہ ہی حسن اورنہ ہی ضعیف ۔بلکہ یہ ایک گروی ہوئی روایت ہے [جسے رافضی ٹولہ نے گھڑلیا ہے]۔ اور اس کا من گھڑت ہونا صاف واضح ہے۔ اس لیے کہ یہ روایت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول اس مشہور و متواتر سنت کے خلاف ہے جس میں آپ نے دونوں گروہوں کومسلمان قراردیا تھا۔ اور یہ کہ اس فتنہ کے دور میں جنگوں میں شرکت کرنے سے دستبرداری اختیار کرنے کو آپ نے بہتر بتایا تھا۔ اور اس صورتحال میں دوگروہوں کے مابین صلح کروانے والے کی تعریف کی تھی۔اگر ان دو گروہوں میں سے کوئی ایک دین اسلام سے مرتد ہوتا تو یقیناً وہ گروہ یہود و نصاری سے بڑے کافر ہوتے جو کہ کسی قدر اپنے دین پر باقی ہیں ۔اوروہ قتل کیے جانے کے سب سے بڑے مستحق ہوتے۔جیساکہ مسیلمہ کذاب کے مرتد ساتھی قتل کیے جانے کے مستحق تھے ؛ جن سے حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ اور دیگر سبھی صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے قتال کیا‘اور ان کے ساتھ جنگیں لڑنے پر ان کا اتفاق تھا۔بلکہ انہوں نے ان لوگوں کے بچے اور خواتین قیدی بنائے۔ان ہی میں سے ایک لونڈی حضرت علی رضی اللہ عنہ کے حصہ میں آئی جس سے آپ کا مشہور نیکو کار بیٹا حضرت محمد بن حنفیہ پیداہوا۔

جہاد سے حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کا فرار؟:

[اعتراض]:رافضی مصنف نے کہا ہے:’’ بدر کے موقع پر جھونپڑے میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ہونے میں کوئی فضیلت نہیں ۔اس لیے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اللہ تعالیٰ کے ساتھ انس نے آپ کو دیگر ہر مونس و غمخوار سے بے نیاز کردیاتھا۔ لیکن جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دیکھا کہ اگر آپ ابوبکر رضی اللہ عنہ کو جنگ لڑنے کا حکم دیں گے تو اس سے فساد پیدا ہوگا ؛ اس لیے کہ آپ اس سے پہلے کئی بار غزوات میں بھاگ چکے تھے۔پس یہ دیکھنا چاہیے کہ کون سا انسان افضل ہے جو جہاد سے بیٹھارہے یا پھر وہ شخص جو اپنے مال و جان سے جہاد فے سبیل اللہ کرے۔‘‘ [انتہیٰ کلام الرافضی]

[جواب]: اس رافضی کا بیان کھلا ہوا جھوٹ اور کئی وجوہات کی بنا پر محض باطل ہے :

غزوۂ بدر سے ابوبکر رضی اللہ عنہ کے فرار کا واقعہ؟:

شیعہ مصنف کا یہ بیان :’’کہ ابوبکر رضی اللہ عنہ متعدد مرتبہ غزوات سے بھاگ گئے تھے۔‘‘

صفحہ 11 از 14