فصل:....آیت ﴿قل للمخلفین﴾سے شیعہ کا استدلال - ردِ رافضیت |…

فصل:....آیت ﴿قل للمخلفین﴾سے شیعہ کا استدلال

  امام ابنِ تیمیہؒ

صفحہ 12 از 14

ہم کہتے ہیں :[ رافضی کا یہ دعوی محض کذب، دروغ اور فریب دہی پر مبنی ہے] ۔اور ایسی بات وہی انسان کہہ سکتا ہے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے غزوات و احوال سے سب سے بڑا جاہل ہو۔ روافض کی جہالت کوئی اچھوتی چیز نہیں ۔ بلاشبہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے احوال سے سب سے بڑے جاہل ؛جھوٹ کی تصدیق کرنے والے اور حق بات کی تکذیب کرنے والے روافض ہی تو ہوتے ہیں ۔

غزوۂ بدراسلام کا سب سے پہلا معرکہ ہے؛اس سے پہلے کفار کے ساتھ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم یا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کوئی لڑائی نہیں لڑی۔جن غزوات میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قتال کیا ؛ ان کی تعداد نو ہے : بدر‘ أحد‘خندق؛ بنی مصطلق؛ غزوہ ذی قرد ؛ خیبر ‘ فتح مکہ ؛حنین اور طائف۔جب کہ وہ غزوات جن میں قتال کی نوبت نہیں آئی ان کی تعداد پندرہ بنتی ہے۔جب کہ سرایامیں سے بعض ایسے تھے جن میں قتال ہوا اور بعض میں کوئی قتال نہیں ہوا۔

بہر حال جو بھی ہو؛ غزوہ بدر پہلا معرکہ تھا جس میں قتال کی نوبت پیش آئی؛اس پر تمام لوگوں کااتفاق ہے۔یہ ایسا عام علمی پہلو ہے جسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے احوال سے باخبر ہر انسان : محدث و مفسر ‘ سیرت نگار وفقہی ؛ مغازی نگار و مؤرخ ہر ایک جانتا ہے کہ غزوہ بدر وہ پھلا معرکہ تھا جس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قتال کیا۔ اس سے پہلے قتال کی نوبت پیش نہیں آئی۔اس سے پہلے کسی غزوہ یا سریہ میں قتال کی نوبت نہیں آئی؛ سوائے ابن حضرمی کے قصہ کے۔اس میں حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ شریک نہیں تھے۔تو پھر کیسے کہا جاسکتا ہے کہ : آپ اس سے پہلے کئی بار غزوات سے بھاگ چکے تھے؟

دوسری وجہ:....یہ حقیقت ہے کہ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کسی لڑائی سے نہیں بھاگے تھے۔ غزوۂ احد میں بھی حضرت ابوبکر اور حضرت عمر رضی اللہ عنہما ان لوگوں میں تھے جو ثابت قدم رہے تھے۔ البتہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ سے جولغزش ہوئی تھی؛ اسے اللہ تعالیٰ نے معاف کردیا۔[ یہ بات بدلیل نص بیان کی جا چکی ہے]۔حضرت ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما کے بارے میں کسی ایک نے بھی نہیں کہا کہ آپ پسپا ہونے والوں کے ساتھ پسپا ہوگئے تھے۔بلکہ آپ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ثابت قدم رہے۔اور حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ ان لوگوں میں تھے جو غزوۂ حنین میں بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ثابت قدم رہے تھے۔سیرت نگارحضرات نے ایسے ہی بیان کیاہے۔لیکن کذابین نے یہ جھوٹ گھڑلیا ہے کہ حضرت ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما نے غزوہ حنین کے موقع پر پرچم اسلام لیا تھا؛ مگر پھر ان کے ہاتھوں پر فتح نہ ہوسکی؛ اس لیے کہ حضرات واپس آگئے۔اور بعض نے اس میں اس جھوٹ کا بھی اضافہ کردیا ہے کہ اس موقع پر یہ دونوں حضرات بھی پسپا ہونے والوں کے ساتھ پسپا ہوگئے تھے۔یہ تمام باتیں من گھڑت جھوٹ ہیں ۔

اس سے قبل کہ انسان اس دعوی کا جھوٹ ہونا جان لے‘ یہ جاننا چاہیے کہ جس نے ان حضرات کے خلاف اس قسم کا دعوی کیا ہے وہ اس کا مدعی ہے‘اسے چاہیے صحیح اور سچی روایات کی روشنی میں اپنادعوی ثابت کرے۔مگر رافضی اس کی راہ ہر گز نہیں پائے گا۔کوئی ایک بھی ایسی صحیح اورسچی روایت ثابت کردیں جس سے یہ ثابت ہوتا ہو کہ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کسی ایک غزوہ میں بھی بھاگے تھے؛ کئی ایک غزوات میں بھاگنا تو بہت دور کی بات ہے۔

تیسری وجہ: ....اگرواقعی حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ بزدل ہوتے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم غزوۂ بدر کے سائبان میں باقی صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو چھوڑ کر آپ کوخصوصی شرف رفاقت سے مشرف نہ کرتے۔بلکہ ایسے لوگوں کومعرکوں میں لیکر جانا ہی جائز نہیں ۔ اس لیے کہ امام کے لیے جائز نہیں کہ وہ معرکہ میں ایسے لوگوں کوساتھ لیکر جائے جو رسوائی کا سبب بننے والے یا پھر جھوٹی خبریں اڑانے والے ہوں ۔ چہ جائے کہ انہیں باقی تمام صحابہ رضی اللہ عنہم پر تقدیم بخشی جائے اور اپنے ساتھ سائبان میں بطور خاص رکھا جائے۔[امام ذہبی رحمہ اللہ فرماتے ہیں :’’ اگر رافضی مصنف یہ کہتا ہے کہ ابوبکر رضی اللہ عنہ بزدل تھے اور لڑائیوں سے بھاگ جایا کرتے تھے۔ نیز وہ مفلس و قلاش تھے؛ درزی تھے، ان کی پشت پناہی کے لیے کوئی قبیلہ نہ تھا‘ان کا خاندان بنی عبد مناف اوربنو مخزوم کی طرح معزز نہ تھا‘اور ان کے خدم و حشم نہ تھے۔ ‘‘ہم پوچھتے ہیں کہ سابقین اوّلین نے کس کے سامنے گردن تسلیم خم کی اور اسے خلیفہ رسول کہہ کر پکارا؟ آخر نص شرعی کے سوا کون سی چیز ان کو ابوبکر رضی اللہ عنہ کے سامنے جھکنے پر مجبور کر سکتی تھی۔اگر ابوبکر رضی اللہ عنہ سب امت میں افضل نہ ہوتے۔ تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ یوں نہ فرماتے:’’اﷲ کی قسم! جس قوم میں ابوبکر رضی اللہ عنہ جیسا شخص موجود ہو، مجھے اس کا امیر مقرر کرنے سے بہتر ہے کہ مجھے تہہ تیغ کردیا جائے۔ [صحیح بخاری]]

چوتھی وجہ:....بخاری ومسلم میں ثابت شدہ صحیح روایات اس بہتان تراش رافضی کے کذب ودجل کوواضح کرتی اور حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کے ایمان ویقین اورثبات پر روشنی ڈالتی ہیں ۔صحیحین میں حضرت ابن عباس، حضرت عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ:’’ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے غزوہ بدر کے دن مشرکین کی طرف دیکھا تو وہ ایک ہزار تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ تین سو سترہ تھے۔ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے قبلہ کی طرف منہ فرما کر اپنے ہاتھوں کو اٹھایا اور اپنے رب سے پکار پکار کر دعا مانگنا شروع کر دی:

’’ اے اللہ!میرے لیے اپنے کیے ہوئے وعدہ کو پورا فرمایا۔ اے اللہ!اپنے وعدہ کے مطابق عطا فرما۔

اے اللہ!اگر اہل اسلام کی یہ جماعت ہلاک ہوگئی تو زمین پر تیری عبادت نہ کی جائے گی۔‘‘

صفحہ 12 از 14