فصل:....آیت ﴿قل للمخلفین﴾سے شیعہ کا استدلال - ردِ رافضیت |…

فصل:....آیت ﴿قل للمخلفین﴾سے شیعہ کا استدلال

  امام ابنِ تیمیہؒ

صفحہ 13 از 14

آپ صلی اللہ علیہ وسلم برابر اپنے رب سے ہاتھ دراز کیے قبلہ کی طرف منہ کر کے دعا مانگتے رہے یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی چادر مبارک آپ کے شانہ سے گر پڑی۔ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ آئے؛ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی چادر کو اٹھایا اور اسے آپ کے کندھے پر ڈالا پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے سے آپ سے لپٹ گئے اور عرض کیا:’’ اے اللہ کے نبی آپ کی اپنے رب سے دعا کافی ہو چکی عنقریب وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے اپنے کیے ہوئے وعدے کو پورا کرے گا۔‘‘تب اللہ رب العزت نے یہ آیت نازل فرمائی :

﴿اِذْ تَسْتَغِیْثُوْنَ رَبَّکُمْ فَاسْتَجَابَ لَکُمْ﴾ [الأنفال ۹]

’’جب تم اپنے رب سے فریاد کر رہے تھے تو اس نے تمہاری دعا قبول کی ۔‘‘[1] [اور پوری حدیث بیان کی]

پانچویں وجہ:....یہ کہا جائے گا: جو انسان بھی حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کی سیرت سے آگاہ ہے ‘وہ جانتا ہے کہ آپ تمام صحابہ کرام رضی اللہ عنہم میں سے مضبوط دل کے مالک تھے۔ان میں سے کوئی ایک بھی آپ کے قریب بھی نہیں پہنچتا تھا۔ کیونکہ جب سے اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو مبعوث فرمایا اس وقت سے لیکردم وفات تک حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ ثابت قدم بہادر مجاہد اور پیش پیش رہے۔کبھی بھی آپ کے بارے میں یہ معلوم نہیں ہوسکا کہ دشمن کے مقابلہ میں آپ نے کوئی بزدلی یا کمزوری دیکھائی ہو ۔ بلکہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا انتقال ہوا تو اس وقت اکثر صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے دل کمزور ہوگئے تھے۔ان حالات میں حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ تھے جو لوگوں کو ثابت قدم رہنے کی تلقین فرمارہے تھے۔حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں :

’’ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے خطبہ دیا۔یہ حقیقت ہے کہ ہم لومڑی کی طرح بزدل ہوگئے تھے آپ کی حوصلہ افزائی نے ہمیں شیر بنا دیا۔‘‘

یہ بھی روایت کیا گیاہے کہ : حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے آپ سے کہا تھا:’’ اے نائب رسول اللہ! لوگوں پر رحم کیجیے۔‘‘

تو حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے آپ کی داڑھی پکڑ لی اور کہا: اے ابن خطاب ! جاہلیت میں تو بڑے سخت اور اسلام میں یہ خواری دیکھارہے ہو۔ اور میں ’’ کس بات پر رحم کروں آیا کسی جھوٹی بات پر یا کسی خود ساختہ شعر پر۔‘‘

چھٹی وجہ:....رافضی کا یہ کہنا کہ: ’’ کون سا انسان افضل ہے جو جہاد سے بیٹھارہے یا پھر وہ شخص جو اپنے مال و جان سے جہادفے سبیل اللہ کرے۔‘‘

تو اس کا جواب یہ ہے : بلکہ اس حال میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حفاظت پر مامور رہنا افضل ترین جہاد ہے۔اس لیے کہ دشمن کا اصل ہدف آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات گرامی تھی۔لشکر کا ایک تہائی حصہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے گرد آپ کی حفاظت پر مامور تھا اور ایک تہائی حصہ بھاگنے والے دشمنان کا پیچھا کررہا تھا۔ اور ایک تہائی حصہ کے لوگ مال غنیمت جمع کررہے تھے۔ پھر اللہ تعالیٰ کے حکم سے یہ اموال ان تمام لوگوں کے مابین تقسیم کیے گئے ۔

ساتویں وجہ:....رافضی مصنف کا یہ دعوی کہ : ’’س لیے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اللہ تعالیٰ کے ساتھ انس نے آپ کو دیگر ہر مونس و غمخوارسے بے نیاز کردیاتھا۔‘‘

اس کا جواب یہ ہے : کہنے والے کا یہ کہنا: ’’ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ سائبان میں آپ کے مؤنس و غمخوار تھے‘‘یہ قرآن و حدیث کا کلام نہیں ہے۔اورجس نے یہ کہا ہے وہ جانتا تھا کہ وہ کیا کہہ رہاہے۔اس سے مقصود یہ ہے کہ آپ اس لحاظ سے مؤنس نہیں تھے کہ آپ کو کوئی وحشت نہ ہو۔ بلکہ مراد یہ ہے کہ قتال میں آپ کے معاون تھے۔ جیساکہ آپ سے فروتر مرتبہ کے لوگ بھی جہاد میں آپ کی مدد کررہے تھے۔دیکھیں اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے :

﴿ہُوَالَّذِیْٓ اَیَّدَکَ بِنَصْرِہٖ وَ بِالْمُؤْمِنِیْنَ﴾ [الأنفال ۶۲]۔

’’ اسی نے اپنی مدد سے اور مومنوں سے تیری تائید کی ہے۔‘‘

حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ ان تمام اہل ایمان میں سے افضل تھے جن کے ذریعہ اللہ تعالیٰ نے مدد فرمائی۔ نیزاللہ تعالیٰ کافرمان ہے:

﴿فَقَاتِلْ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ لَا تُکَلَّفُ اِلَّا نَفْسَکَ وَ حَرِّضِ الْمُؤْمِنِیْنَ﴾ [النساء۸۴]

’’اللہ کی راہ میں جہاد کیجئے۔ آپ پر صرف اپنی ہی ذمہ داری ہے اور مسلمانوں کو جہاد کی رغبت دلائیے۔‘‘

حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کو جہاد اور اپنی مدد کی ترغیب تمام امکانیات کی انتہاء تک پہنچی ہوئی تھی۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ذمہ داری تھی کہ لوگوں کو جہاد کی ترغیب دیں تاکہ ان کے ساتھ مل کردشمن سے لڑنا ممکن ہو۔ اور ان کی دعاء ‘ رائے ‘ افعال سے اوردیگر جس طرح بھی ممکن ہوسکے دشمن کے خلاف ان سے مدد حاصل کی جائے۔

آٹھویں وجہ:....یہ بات کہی جائے گی کہ: تمام اہل عقل کے ہاں یہ بات معلوم ہے کہ جنگ میں اصل مطلوب سربراہ ہوتا ہے جو کہ دشمن کو قتل کرنا اوران سے لڑنا چاہتا ہے۔جب یہ قائدسائبان میں ؛یا قبہ میں یہ کسی بھی پناہ کی جگہ پڑاؤ ڈالے اوراپنے ساتھ تمام ساتھیوں میں سے صرف فرد واحد کوہی اختیار کرے اور باقی تمام لوگ اس سائباں سے باہر ہوں ۔تو یہ انسان تمام لوگوں میں سے خاص الخاص ہی ہوسکتا ہے۔اور اس کی دوستی سب سے گہری دوستی اور اس سے حاصل ہونے والا فائدہ بہت بڑا ہوسکتا۔ جہاد میں یہ نفع اسی صورت میں ممکن ہے جب اس کے ساتھ قوت قلب اور ثابت قدمی بھی ہو۔ کمزوری اور پسپائی کے ساتھ یہ ممکن نہیں ۔

یہ اس بات کی دلیل ہے کہ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ ان تمام لوگوں میں سب سے بڑے مؤمن و مجاہد تھے۔ تمام مخلوق میں افضل ترین لوگ اہل ایمان اور اہل جہاد ہوتے ہیں ۔پس جو اس میدان میں افضل ہو ‘تو اس کی فضیلت مطلق ہوتی ہے۔ اللہ تعالیٰ کافرمان ہے :

﴿اَجَعَلْتُمْ سِقَایَۃَ الْجَآجِّ وَ عِمَارَۃَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ کَمَنْ اٰمَنَ بِاللّٰہِ وَالْیَوْمِ الْاٰخِرِ وَ جٰہَدَ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ لَا یَسْتَوٗنَ عِنْدَ اللّٰہِ ﴾....آگے تک ....﴿وَ اُولٰٓئِکَ ہُمُ الْفَآئِزُوْن﴾۔[التوبۃ ۱۹۔۲۰]

صفحہ 13 از 14