فصل:....آیت ﴿قل للمخلفین﴾سے شیعہ کا استدلال - ردِ رافضیت |…

فصل:....آیت ﴿قل للمخلفین﴾سے شیعہ کا استدلال

  امام ابنِ تیمیہؒ

صفحہ 14 از 14

’’ کیا تم نے حاجیوں کو پانی پلانے اور مسجد حرام کو آباد کرنے کو اس شخص کے کام کے برابر بنا دیا جو اللہ پر اور آخرت کے دن پر ایمان لائے اور اللہ کی راہ میں جہاد کرے؟اللہ کے نزدیک یہ برابر نہیں ہوسکتے ....اور ایسے ہی لوگ کامیاب ہیں ۔‘‘

ان اہل جہادکا مقام و مرتبہ اللہ کے ہاں اہل حج و صدقہ و خیرات سے بڑھ کر تھا۔ اور ان میں سب سے اکمل و کامل حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ تھے۔

جب کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کا جہاد ہاتھ کا جہاد تھا؛ اس میں وہ تمام صحابہ کرام رضی اللہ عنہم بھی آپ کے ساتھ شریک تھے جو بدر کے دن جہاد میں مصروف تھے۔ اور یہ بات معلوم نہیں ہوسکی کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے بدر یا احد کے موقع پر یا دیگر کسی موقع پر باقی تمام صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی نسبت زیادہ لڑائی لڑی ہو۔

پس حضرت ابوبکرصدیق رضی اللہ عنہ کی فضیلت ان کے ساتھ خاص ہے ‘ اس میں کوئی دوسرا آپ کا سہیم و شریک نہیں ؛ جب کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کے فضائل آپ کے اور دیگر صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے مابین مشترک ہیں ۔

نوویں وجہ:....بلاشبہ اس کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ اس سائبان سے باہر نکلے اور مٹھی بھر کر مٹی پھینکی جس کے بارے میں یہ آیت نازل ہوئی:

﴿وَ مَا رَمَیْتَ اِذْ رَمَیْتَ وَ لٰکِنَّ اللّٰہَ رَمٰی﴾ [الأنفال ۱۷]

’’اور جب آپ نے مٹھی پھینکی تھی تو وہ آپ نے نہیں بلکہ اللہ نے پھینکی تھی۔‘‘

حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے ان لوگوں سے قتال کیا تھا ؛ یہاں تک کہ آپ کے بیٹے عبدالرحمن نے کہا: میں نے آپ کو بدر کے دن دیکھا تھا؛مگر میں آپ سے منہ موڑ کر چلاگیا۔ تو حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے فرمایا:

’’لیکن اگر میں تمہیں دیکھ لیتا تو ضرور قتل کردیتا ۔‘‘ [اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ابوبکر رضی اللہ عنہ عزم و ثبات و قوت ایمان و ایقان کا زندہ پیکر تھے، نیز یہ کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور ابوبکر رضی اللہ عنہ اصحاب بدر میں سب سے افضل تھے، حالانکہ دونوں نے لڑائی میں عملی حصہ نہیں لیا تھا۔ یہ ضروری نہیں کہ لڑائی میں عملی حصہ لینے والا نہ لڑنے والے سے افضل ہو۔[آغا دلدار]]



صفحہ 14 از 14