فصل:....آیت ﴿قل للمخلفین﴾سے شیعہ کا استدلال - ردِ رافضیت |…

فصل:....آیت ﴿قل للمخلفین﴾سے شیعہ کا استدلال

  امام ابنِ تیمیہؒ

صفحہ 2 از 14

اس کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سن آٹھ ہجری میں فتح مکہ کی طرف بلایا؛ اس سے پہلے سن سات ہجری میں غزوہ خیبر ہوچکا تھا۔فتح مکہ کے بعد حنین کے مقام پر ہوازن سے جنگ کے لیے بلایا۔پھر اسی سن آٹھ ہجری میں طائف کا محاصرہ کیا ۔یہ آخری غزوہ تھا جس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قتال کیا۔ پھر سن نو ہجری میں غزوہ تبوک پیش آیا ۔ لیکن اس میں جنگ و قتال نہیں ہوا۔ یہ غزوہ شام کے عیسائیوں کے خلاف تھا۔ اس کے متعلق اللہ تعالیٰ نے سورت برأت نازل فرمائی؛ اس میں پیچھے رہ جانے والوں کاذکر کیا گیا : جن کے متعلق فرمایا گیا ہے :

﴿فَقُلْ لَّنْ تَخْرُجُوْا مَعِیَ اَبَدًا وَّلَنْ تُقَاتِلُوْا مَعِیَ عَدُوًّا﴾ [التوبۃ ۸۳] 

’’ تو آپ فرما دیجئے : تم میرے ساتھ ہرگز چل نہیں سکتے اور نہ میرے ساتھ تم دشمنوں سے لڑائی کر سکتے ہو۔‘‘

جب کہ موتہ سریہ تھا۔ جس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا: ’’تمہارا امیر زید رضی اللہ عنہ ہے؛ اگروہ قتل ہوجائے تو پھر حضرت جعفر رضی اللہ عنہ ؛ اوراگر وہ بھی قتل ہوجائیں تو حضرت عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہ ۔ [سبق تخریجہ]

اس سے پہلے فتح مکہ سے قبل اور صلح حدیبیہ کے بعد عمرہ قضاء کا واقعہ بھی ہے۔ حضرت جعفر رضی اللہ عنہ بلاشبہ عمرہ قضاء میں حاضر ہوئے تھے۔ان کا حضرت علی اور حضرت زید رضی اللہ عنہم کے ساتھ حضرت حمزہ رضی اللہ عنہ کی بچی کی کفالت کے متعلق اختلاف بھی ہوا تھا۔اس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت اسماء رضی اللہ عنہا کے حق میں فیصلہ دیا جو کہ حضرت جعفر رضی اللہ عنہ کے نکاح میں تھیں ۔آپ اس بچی کی خالہ تھیں ۔آپ نے فرمایا: ’’ خالہ ماں کی جگہ پر ہے ۔‘‘[سبق تخریجہ]

حضرت زید؛ حضرت جعفر اور حضرت عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہم میں سے کوئی ایک بھی فتح مکہ میں نہیں تھا۔ اس لیے کہ یہ تینوں حضرات اس سے قبل شہید سریہ مؤتہ میں ہوچکے تھے۔

جب یہ معلوم ہوگیا تو اس آیت سے وجہ استدلال صاف ظاہر ہے۔اس لیے کہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں :

﴿قُلْ لِلْمُخَلَّفِینَ مِنَ الْاَعْرَابِ سَتُدْعَوْنَ اِِلٰی قَوْمٍ اُوْلِی بَاْسٍ شَدِیْدٍ تُقَاتِلُوْنَہُمْ اَوْ یُسْلِمُوْنَ﴾

’’ عنقریب تمہیں ایک سخت جنگجو قوم سے مقابلہ کے لیے بلایا جائے گا۔ تمہیں ان سے لڑنا ہوگا یاوہ مطیع ہو جائیں گے۔‘‘

یہ دلیل ہے کہ وہ لوگ سخت لڑاکے ہوں گے۔اوریہ کہ وہ جنگ لڑیں گے یا تابع فرماں ہوجائیں گے۔ ان علماء کرام کا کہنا ہے : یہ ممکن نہیں کہ آپ نے عام فتح کے فوراً بعد اہل مکہ یا ہوازن کے ساتھ جنگ کرنے کے لیے بلایا ہو ۔اس لیے کہ ان لوگوں کی طرف ہی تو صلح حدیبیہ والے سال بلایا گیا تھا۔پس جو کوئی ان میں سے نہ تھا ‘ وہ ان ہی کی جنس میں سے تھا۔وہ ان سے زیادہ سخت جنگجو نہیں ہوسکتا۔یہ تمام عرب اہل حجاز تھے۔ ان سے جنگ ایک ہی جنس کی جنگ تھی۔اہل مکہ اور اس کے گردو نواح والے بدر و احد اورخندق ‘اور دیگر مواقع پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے صحابہ کرام سے اس سے بڑھ کر جنگ و قتال کرنے والے تھے۔

پس یہ ضروری ہے کہ جن لوگوں سے جنگ کرنے کے لیے بلایا جارہا ہو؛ وہ حدیبیہ والے سال جن لوگوں سے پالا پڑا تھا ؛ ان سے بڑھ کر جنگجو اور قتال کرنے والے ہوں ؛ جیسا کہ اللہ تعالیٰ خود فرماتے ہیں :

﴿ اُوْلِی بَاْسٍ شَدِیْدٍ﴾’’ سخت جنگجو قوم سے مقابلہ کے لیے۔‘‘

یہ دو گروہ ہی ہوسکتے ہیں :

پہلا گروہ:....بنی اصفر : جن سے جنگ کے لیے سن نو ہجری میں تبوک والے سال لوگوں کو بلایا گیا تھا۔بلاشبہ یہ لوگ سخت جنگجو تھے۔یہ لوگ اس صفت کے دوسروں سے زیادہ حق دار تھے۔ ان لوگوں سے جنگ کا پہلا واقعہ مؤتہ والے سال پیش آیا۔یہ تبوک سے پہلے سن آٹھ ہجری کا واقعہ ہے۔اس معرکہ میں مسلمان امراء : حضرت زیدبن حارثہ ‘ حضرت عبداللہ بن رواحہ اور حضرت جعفر رضی اللہ عنہم شہید ہوگئے تھے۔ اور مسلمان پسپا ہوکر واپس پلٹے تھے۔

پس ان لوگوں نے واپس آنے پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کی تھی: ’’ ہم میدان جنگ سے بھاگنے والے ہیں ۔‘‘ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’ نہیں بلکہ تم پلٹ کر آنے والے ہو؛ میں تمہاری جماعت ہوں ؛ اور ہر مسلمان کی جماعت ہوں ۔‘‘

لیکن بعض علماء نے ان الفاظ :﴿تُقَاتِلُوْنَہُمْ اَوْ یُسْلِمُوْنَ﴾’’ تم ان سے جنگ کرتے ہویا پھر صلح کرتے ہو ‘‘ پر اعتراض کیا ہے ؛ ان کا کہنا ہے کہ : اہل کتاب سے تو اس وقت تک لڑا جاتاہے یہاں تک کہ وہ جزیہ ادا کردیں ۔ لیکن دوسرے گروہ نے اس کی تأویل یہ کی ہے کہ یہ آیت مرتدین کے متعلق ہے۔جن سے حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے جنگیں لڑیں ۔یہ مرتدین مسیلمہ کذاب کے ساتھی تھے۔بلاشک و شبہ یہ لوگ انتہائی سخت جنگجو تھے۔ اور ان کے ساتھ معرکوں میں مسلمانوں کو بہت زیادہ سختیاں اور پریشانیاں اٹھانا پڑیں ۔ سخت خونریز جنگیں ہوئیں ؛ قراء کی ایک جماعت شہید ہوگئی۔یہ مسلمانوں اور ان کے دشمنوں کے مابین بہت بڑی جنگیں تھیں ۔مرتدین کو یا تو قتل کیا جاتا ہے یا پھر وہ اسلام قبول کرلیتے ہیں ۔ ان سے جزیہ قبول نہیں کیا جاتا۔اور ان سے سب سے پہلے جنگ لڑنے والے حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ اور آپ کے ساتھی تھے۔ پس دلیل سے اس قتال کی طرف بلانے پر آپ کی اطاعت کا وجوب ثابت ہوا۔ 

قرآن بتارہا ہے کہ ان لوگوں کو ایسی قوم سے جنگ کرنے کے لیے بلایا جائے گا جس میں دو میں سے ایک صفت پائی جائے گی۔یا تووہ لوگ ان سے جنگ کریں گے۔یا پھر مسلمان ہوجائیں گے۔ ان دو میں سے ایک کام ہونالازمیہے۔ اور اس کے ساتھ ہی وہ قوم سخت جنگجو بھی ہے۔ یہ اس کے خلاف ہے جو کچھ حدیبیہ کے موقع پر پیش آیا ۔ اس میں نہ ہی قتال ہوا؛ اور نہ ہی وہ لوگ مسلمان ہوئے۔ بلکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بغیر جنگ کے اور بغیر ان کے اسلام کے ان لوگوں سے صلح کرلی اور واضح کردیا کہ جن لوگوں سے لڑنے کے لیے انہیں بلایا جائے گا وہ ان کے بعد ہوں گے۔

صفحہ 2 از 14