فصل:....آیت ﴿قل للمخلفین﴾سے شیعہ کا استدلال - ردِ رافضیت |…

فصل:....آیت ﴿قل للمخلفین﴾سے شیعہ کا استدلال

  امام ابنِ تیمیہؒ

صفحہ 3 از 14

پھر اگر ان لوگوں کو جب سخت قوم سے لڑائی کے لیے بلایا جائے‘ اور ان پر اس دعوت کی اجابت اور اطاعت کو فرض کردیا جائے تو اس صورت میں جس وقت انہیں ایسی قوم سے لڑائی کے لیے بلایا جائے جو سخت جنگجو نہیں ہیں ‘تو پھر بھی ان پر اطاعت بالاولی فرض ہوگی۔ پس نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوت قتال کے وقت ان پر اطاعت واجب و فرض ہوگی جب آپ نے اہل مکہ اوراہل ھوازن اور اہل ثقیف سے قتال کے لیے بلایا تھا ۔

پھر جب ان کے بعد بنی اصفر سے قتال کے لیے بلایا تو یہ لوگ سخت جنگجو اور لڑاکے تھے۔ قرآن نے عام تبوک والے سال کی بڑی تاکید آئی ہے۔اور اس موقع پر جہاد سے پیچھے رہ جانے والوں کی بہت سخت مذمت کی ہے۔جیسا کہ سورت برأت میں اس کے دلائل موجود ہیں ۔ان لوگوں میں یقیناً دو میں سے ایک بات پائی جاتی تھی : یا تو اسلام قبول کرنا یا پھر قتال کرنا۔ اس موقع کے لیے اللہ تعالیٰ نے یہ فرمایاہے :

﴿تُقَاتِلُوْنَہُمْ اَوْ یُسْلِمُوْنَ﴾’’ تم ان سے جنگ کرتے ہویا پھر صلح کرتے ہو ۔‘‘

یہ نہیں فرمایا کہ تم ان سے جنگ کرو یہاں تک کہ وہ اسلام قبول کرلیں ۔اور نہ ہی یہ فرمایا کہ : ان سے اسلام قبول کروانے کے لیے جنگ کرو۔بلکہ اللہ تعالیٰ نے ان کی یہ صفت بیان کی ہے کہ یا تووہ لوگ بہت سخت جنگ کریں گے یا پھر اسلام قبول کرلیں گے۔ اور اگر ان سے قتال کیا جائے تو اس وقت تک قتال ہوگا یہاں تک کہ یہ لوگ ذلت کے ساتھ اپنے ہاتھوں سے جزیہ ادا کریں ۔

پس اللہ تعالیٰ کے اس فرمان :﴿تُقَاتِلُوْنَہُمْ﴾۔’’ تمہیں ان سے لڑنا ہوگا ‘‘میں کوئی چیز ایسی نہیں ہے جو ان کو اسلام پر لانے یا جزیہ اداکرنے کے لیے لڑنے کے معانی میں مانع ہو۔ لیکن ان سے کہا جائے گا: اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان : 

﴿سَتُدْعَوْنَ اِِلٰی قَوْمٍ اُوْلِی بَاْسٍ شَدِیْدٍ﴾

’’ عنقریب تمہیں ایک سخت جنگجو قوم سے مقابلہ کے لیے بلایا جائے گا۔‘‘

اس کلام سے فاعل حذف کردیا گیا ہے۔پس یہاں پر فاعل یعنی جہاد و قتال کی طرف بلانے والے کو متعین نہیں کیا گیا۔ پس قرآنی دلالت کی روشنی میں واضح ہوتا ہے کہ جو بھی [امام و حاکم ]کسی سخت قوم سے لڑنے کے لیے بلائے کہ یا تو ان سے قتال کیا جائے یا پھر وہ اسلام قبول کرلیں ‘تو اس کی اطاعت کرنا واجب ہوجاتاہے۔

اس میں کوئی شک نہیں کہ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے لوگوں کومرتدین کے ساتھ جنگ و قتال کی طرف بلایا ؛ پھر روم اور فارس سے جنگ کی دعوت دی۔ ایسے ہی حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے روم و فارس سے قتال کرنے کی دعوت دی۔ اور حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے بربر اور دوسری قوموں سے جہاد کی طرف بلایا۔ یہ آیت ان تمام لوگوں کو شامل ہے۔

لیکن اس دعوت کو صرف حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کے ساتھ خاص کرنا ‘جیسا کہ آپ کی خلافت استدلال کرنے والے ایک گروہ کا کہنا ہے؛یہ غلط ہے۔ بلکہ اگر یہ کہاجائے کہ یہ آیت ان تمام حضرات کو شامل ہے تو یہ بات بہت مناسب ہے۔اور ممکن ہے کہ آیت سے یہی مراد ہو ‘ اور اس پر استدلال کیا جاسکتا ہو۔ پس اس لیے ہر امیر کے ساتھ جہاد کرنا واجب ہوجاتا ہے جو کفار سے جنگ و قتال کے لیے لوگوں کو بلائے۔ پس اس سے مراد یہ ہوگی کہ آپ کوایسی قوم سے جنگ کے لیے بلایا جائے گا جو عربوں سے زیادہ سخت جنگجو ہوں گے۔ پس اس وقت دو باتوں میں سے ایک کا ہونا لازمی ہے ؛ یا تو وہ اسلام قبول کرلیں یا پھر جنگ کریں [اور قتل کردیے جائیں ]۔یہ حدیبیہ کے واقعہ کے برعکس ہے۔ اس لیے کہ اہل حدیبیہ کا جنگی زور ان جیسا نہیں تھا۔ اور اس موقع پر نہ ہی قتال ہوا اور نہ ہی کافروں نے اسلام قبول کیا ؛ [بلکہ ان کے ساتھ صلح کرلی گئی]۔

فتح مکہ والے سال بھی ایسے ہی ہوا۔ شروع میں ان لوگوں نے نہ ہی اسلام قبول کیا اور نہ ہی جنگ کی ۔ مگر آخر کار انہوں نے اسلام قبول کرلیا۔

یہ لوگ اہل روم و فارس ہیں ۔اگریہ لوگ اسلام قبول نہ کریں تو ان سے قتال کرنا ضروری ہوجاتا ہے۔ ان لوگوں کے ساتھ قتال کی پہلی دعوت سریہ مؤتہ و غزوہ تبوک کے موقع پر دی گئی۔ تبوک والے سال ان لوگوں نے نہ ہی جنگ کی اور نہ ہی اسلام قبول کیا۔لیکن حضرت ابوبکر صدیق اور عمرفاروق رضی اللہ عنہما کے مبارک زمانے میں دو میں سے ایک کام کا ہونا ضروری تھا ؛ یا تو اسلام قبول کریں یا پھر جنگ کے لیے تیار ہوجائیں ۔ ان لوگوں نے قتال کے بعد جزیہ ادا کیا ۔انہوں نے شروع میں ایسے صلح نہیں کی جیسے حدیبہ کے موقع پر مشرکین نے صلح کرلی تھی۔ پس حضرت ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما کا لوگوں کو ان لوگوں کے خلاف جنگ وقتال کے لیے بلانا اس آیت میں شامل ہے۔ اور یہی ثابت کرنا مقصود ہے ۔

یہ آیت دلالت کرتی ہے کہ اس کا معنی و مفہوم حضرت علی رضی اللہ عنہ کے قتال کو شامل نہیں ۔اس لیے کہ جن لوگوں سے آپ نے جنگ لڑی ؛ وہ آپ کے ساتھیوں سے زیادہ سخت جنگجو نہیں تھے۔بلکہ وہ ان کی جنس کے ہی لوگ تھے۔ اور آپ کے ساتھ ان سے زیادہ سخت جنگ لڑنے والے تھے۔ نیز ان پر قتال یا اسلام قبول کرنے کا اطلاق بھی نہیں ہوسکتا اس لیے کہ وہ سبھی مسلمان تھے۔

پس رافضی مصنف نے جو لکھا ہے کہ : ’’ حدیث میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’ تیری جنگ میری جنگ ہے ‘‘ اس کی سند اس نے ذکر نہیں کی۔پس اسے حجت قائم نہیں ہوسکتی۔حقیقت میں یہ روایت من گھڑت ہے۔ اور اس کے موضوع ہونے پر اہل علم کا اتفاق ہے ۔‘‘

صفحہ 3 از 14