فصل:....آیت ﴿قل للمخلفین﴾سے شیعہ کا استدلال - ردِ رافضیت |…

فصل:....آیت ﴿قل للمخلفین﴾سے شیعہ کا استدلال

  امام ابنِ تیمیہؒ

صفحہ 4 از 14

اس کی مزید وضاحت اس امر سے ہوتی ہے کہ سورت برأت اور آیت جزیہ کے نازل ہونے سے قبل رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کبھی تو مشرکین اوراہل کتاب کفار کے ساتھ جنگ کرتے او ر کبھی ان کے ساتھ معاہدہ کرتے ۔ ان کے ساتھ قتال یا ان کے اسلام قبول کرنے کی نوبت نہ آتی۔جب اللہ تعالیٰ نے سورت برأت نازل فرمائی ؛ اور اس میں حکم دیا کہ کفار کے ساتھ کیے ہوئے معاہدے انہیں واپس کیے جائیں ۔ اوراس کی جگہ یہ حکم دیا کہ کفار سے اس وقت تک جنگ کی جائے یہاں تک کہ وہ ذلت قبول کرتے ہوئے اپنے ہاتھوں سے جزیہ ادا کریں ۔ اس وقت سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس امر پرمامور ہوگئے کہ لوگوں کوان اقوام کے ساتھ جنگ کرنے کی دعوت دیں جن کا اسلام قبول کرنا یا ان سے جنگ کرنا ضروری ہے اور جب ان سے جنگ کی جائے تو اس وقت تک جنگ کی جائے یہاں تک کہ وہ لوگ یا تو اسلام قبول کرلیں یا پھر اپنے ہاتھوں سے جزیہ ادا کریں ۔ اب یہ اختیار باقی نہیں رہا کہ جزیہ ادا کیے بغیر ان سے کوئی معاہدہ کیا جائے۔ جیسا کہ اس سے پہلے کفار اور مشرکین سے معاہدے کیے جاتے تھے۔جیسا کہ حدیبیہ والے سال اہل مکہ سے صلح کا معاہدہ کیا تھا۔ اس سورت میں اعراب کو ان لوگوں سے قتال کرنے دعوت ہے۔ صلح حدیبیہ کے متعلق اللہ تعالیٰ نے سورت فتح نازل فرمائی۔اور مسلمانوں کو بھی یہی دعوت دی گئی ؛ جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے :

﴿قُلْ لِلْمُخَلَّفِینَ مِنَ الْاَعْرَابِ سَتُدْعَوْنَ اِِلٰی قَوْمٍ اُوْلِی بَاْسٍ شَدِیْدٍ تُقَاتِلُوْنَہُمْ اَوْ یُسْلِمُوْن﴾

یہ آیت ان لوگوں کے برعکس پر دلالت کرتی ہے جنہیں عام حدیبیہ میں بلایا گیا تھا۔ اس میں فرق دو وجوہات کی بنا پر ہے:

پہلی وجہ:....مستقبل میں جن لوگوں سے جنگ کے لیے بلایاجائے گا وہ بہت سخت جنگجو ہوں گے ؛ بخلاف اہل مکہ دیگر عرب کے۔

دوسری وجہ:....یہ کہ تم ان لوگوں سے جنگ کروگے یا پھر وہ مسلمان ہوجائیں گے۔ تمہیں یہ اختیار حاصل نہیں ہے کہ ان کے صلح کرو ؛ یا پھر ان کے اپنے ہاتھوں سے ذلت کے ساتھ جزیہ دیے بغیر کوئی معاہدہ کرو ؛ جیسا کہ اہل مکہ سے قتال کیا گیا تھا۔ بلکہ ان لوگوں سے جزیہ لینے تک جنگ ہوگی۔

اس سے یہ بھی واضح ہوتا ہے کہ یہ سخت جنگجو قوم وہ لوگ نہ تھے جن کے ساتھ جزیہ کے بغیر معاہدہ کیا گیا۔بلکہ ان لوگوں سے یا تو جنگ ہوگی یا پھر اسلام لے آئیں گے۔ اورجن کے ساتھ بلاجزیہ کے معاہدہ کیا جائے گا وہ ایک تیسری حالت میں ہے‘ یہ وہ لوگ ہیں جن سے نہ ہی جنگ ہوگی اور نہ ہی وہ مسلمان ہونگے۔ لیکن یہ لوگ جنس عرب میں سے وہ لوگ بھی نہیں جن سے اس سے پہلے جنگ کی گئی۔

پس اس سے واضح ہوگیا کہ یہ وصف ان لوگوں کو شامل نہیں ہے جن کے ساتھ حنین میں یا دوسرے مواقع پر جنگ لڑی گئی۔اس لیے کہ یہ لوگ جنس عرب سے ہی تھے؛ ان سے بڑھ کر لڑاکے نہیں تھے؛اور ان کی جنگیں بھی اسی جنس سے تعلق رکھتی تھیں جیسا کہ اس سے پہلے اہل عرب سے جنگیں ہوچکی۔

پس یہ واضح ہوگیا کہ آیت مذکورہ میں بیان کردہ اوصاف اہل فارس و روم کے ہیں ؛ جن کے متعلق اللہ تعالیٰ نے حکم دیا ہے کہ یا تو ان لوگوں سے جنگ کی جائے گی یا پھر وہ اسلام قبول کرلیں ۔ اورجب جنگ ہوگی تو پھر اس وقت تک جنگ رہے گی جب تک وہ ذلت کے ساتھ اپنے ہاتھوں سے جزیہ نہ ادا کردیں ۔

اگر یہ کہا جائے: مرتدین کے ساتھ جنگ و قتال بھی اس میں داخل ہے ؟اس لیے کہ ان سے بھی یا توجنگ ہو گی یا پھر وہ اسلام قبول کرلیں گے۔ تو پھریہ کہنا بھی مناسب ہوگا کہ اس میں اہل مکہ اور اہل حنین کے ساتھ جنگ بھی شامل ہے‘ جن کے ساتھ فوری جنگیں ہوئیں ؛اس وقت ان کے ساتھ جنگ بندی کرنا بھی جائز تھا۔ نہ ہی وہ اسلام لاتے اورنہ ہی جنگ کرتے۔ فتح مکہ اور حنین والے سال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور بہت سارے کفار کے مابین بلاجزیہ معاہدے موجود تھے۔ جنہیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پورا فرمایا۔ لیکن سن نو ہجری غزوہ تبوک والے سال کے بعد جب اللہ تعالیٰ نے سورت برأت نازل فرمائی ‘ تو تبوک کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کو امیر حج بنا کر روانہ فرمایا ۔اور آپ کو یہ حکم دیا کہ یہ اعلان کریں کہ : اس سال کے بعد کوئی مشرک بیت اللہ کا حج نہ کرے۔ اور نہ ہی کوئی ننگا ہوکر بیت اللہ کاطواف کرے۔ اور جس کا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کوئی معاہدہ ہو تو وہ اپنی مدت کو پورا کرے گا۔ پھر ان کے بعد حضرت علی رضی اللہ عنہ کو روانہ اور آپ کو حکم دیا کہ جو مطلق معاہدے ہیں [جن میں مدت کا کوئی تعین نہیں ] انہیں ختم کرنے کا اعلان کیا جائے۔اور جن کے ساتھ کوئی معاہدہ نہیں تھا ان کو چارماہ کی مدت دی گئی۔ اس کی آخری مدت سن دس ہجری ماہ ربیع الثانی کا آخر تھا۔ یہ ان مہینوں کی حرمت کتاب اللہ میں مذکور ہیں ۔ فرمان الٰہی ہے:

﴿فَاِذَا انْسَلَخَ الْاَشْہُرُ الْحُرُمُ فَاقْتُلُوا الْمُشْرِکِیْنَ حَیْثُ وَ جَدْتُّمُوْہُم﴾ [التوبۃ ۵]

’’پس جب حرمت والے مہینے نکل جائیں تو ان مشرکوں کو جہاں پاؤ قتل کرڈالو۔‘‘

یہ وہ حرمت والے نہیں ہیں جن کے متعلق اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:

﴿مِنْہَآ اَرْبَعَۃٌ حُرُمٌ﴾ [التوبۃ۳۶]

’’ اور ان میں سے چار مہینے حرمت والے ہیں ۔‘‘

جس نے یہ کہا ہے ؛ اس سے اہل علم کے ہاں معروف تفسیر کے برعکس غلطی ہوگئی ہے۔جیسا کہ یہ بات اپنی جگہ پر تفصیل کے ساتھ بیان ہوچکی ہے۔

جب اللہ تعالیٰ نے اہل کتاب سے اس وقت تک جنگ کرنے کا حکم دیا ہے حتی کہ وہ اپنے ہاتھوں سے ذلت کے ساتھ جزیہ اداکرنا قبول کرلیں ۔تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجوس سے بھی جزیہ لیا۔ تمام مسلمانوں کا اتفاق ہے کہ اہل کتاب اور مجوس سب سے جزیہ لیا جاسکتا ہے۔

مسلمانوں کا تمام کفار کے متعلق تین اقوال میں اختلاف ہے۔:

٭ پہلاقول: تمام کفار سے اس وقت تک جنگ کی جائے گی یہاں تک کہ وہ اسلام قبول کرلیں ‘ یا پھر اپنے ہاتھوں سے ذلت کے ساتھ جزیہ ادا کردیں ۔ یہ امام مالک رحمہ اللہ کا قول ہے۔

٭ دوسرا قول : یہ بھی کہا گیا ہے کہ: ان سے مشرکین عرب کو استثنی حاصل ہے۔ یہ امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ اور ایک روایت کے مطابق امام احمد رحمہ اللہ کا قول ہے۔

صفحہ 4 از 14