فصل:....آیت ﴿قل للمخلفین﴾سے شیعہ کا استدلال - ردِ رافضیت |…

فصل:....آیت ﴿قل للمخلفین﴾سے شیعہ کا استدلال

  امام ابنِ تیمیہؒ

صفحہ 5 از 14

٭ تیسرا قول : اوریہ بھی کہا گیا ہے کہ حکم اہل کتاب ؛اور ان لوگوں کے ساتھ خاص ہے جن کے اہل کتاب ہونے کا شبہ ہو۔یہ امام شافعی رحمہ اللہ اور دوسری روایت کے مطابق امام احمد رحمہ اللہ کا قول ہے۔

پہلا اور دوسرا قول معنوی لحاظ سے آپ میں متفق ہیں ۔اس لیے کہ آیت جزیہ اس وقت نازل ہوئی جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مشرکین عرب سے جنگ کرکے فارغ ہوچکے تھے۔اہل عرب کے ساتھ آپ کا آخری معرکہ غزوہ طائف تھاجو کہ حنین کے بعد پیش آیا۔حنین کا واقعہ فتح مکہ کے بعد کاہے۔ یہ تمام غزوات سن آٹھ ہجری کے ہیں ۔سن نو ہجری میں تبوک والے سال آپ نے عیسائیوں سے جنگ کا آغاز کیا۔اس موقع پر سورت برأت کا نزول ہوا۔ جس میں اس وقت تک لڑنے کا حکم دیا جب تک کہ وہ لوگ اپنے ہاتھوں سے ذلیل ہوکر جزیہ ادا کریں ۔

پس نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب کسی لشکر یہ فوجی دستہ کو روانہ فرماتے تو آپ انہیں حکم دیتے کہ اس وقت تک لڑائی لڑی جائے یہاں تک کہ وہ ذلت کے ساتھ اپنے ہاتھوں سے جزیہ ادا کردیں ۔ جیسا کہ صحیح مسلم کی روایت میں ہے۔[الحدیث عن سلیمان بنِ برید عن أبِیہِ رضِی اللّٰہ عنہ فِی مسلِم؍3 1357۔1358؛کِتاب الجِہادِ والسِیرِ، باب تأمِیرِ الإِمامِ الأمراء علی البعوثِ؛ ونصہ: إن رسول اللّٰہِ صلی اللہ علیہِ وسلم إِذا أمر أمِیراً علی جیش أو سرِیۃ أوصاہ فِی خاصتِہِ۔ ۔ ثم قال:(( اغزوا بِاسمِ اللّٰہِ فِی سبِیلِ....وإِذا لقِیت عدوک مِن المشرِکِین فادعہم ِإلی ثلاثِ خِصال(أو خِلال)فأیتہن ما أجابوا فاقبل مِنہم وکف عنہم، ثم ادعہم إِلی الإِسلامِ....فإِن ہم أبوا فسلہم الجِزیۃ، فإِن ہم أجابوا؛ فاقبل مِنہم وکف عنہم....الحدیث۔ وہو فِی: سنن ابن ماجہ2؍953؛ کتاب الجِہادِ، باب وصِیِۃ الإِمام۔]

ایسے ہی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نجران کے عیسائیوں کے ساتھ جزیہ پر صلح کی۔یہ سب سے پہلے لوگ تھے جنہوں نے جزیہ ادا کیا۔سورت آل عمران کی شروع کی آیات اللہ تعالیٰ نے ان ہی لوگوں کے متعلق نازل کی ہیں ۔سن نو ہجری میں مشرکین کو حرم سے نکال دیا گیا۔ اور ان کے ساتھ کیے گئے عہد و پیمان انہیں واپس کردیے گئے۔ اور اللہ تعالیٰ نے یہ حکم دیا کہ ان لوگوں سے جنگ کی جائے ؛ چنانچہ تمام عرب کے مشرک اسلام لے آئے۔ کوئی بھی مشرک معاہد یا غیر معاہد کسی بھی صورت میں باقی نہ رہا۔ اس سے پہلے ان سے بغیر کسی جزیہ کے معاہدے کیے جاتے تھے۔پس مشرکین سے جزیہ نہ لینے کی کیا وجوہات ہوسکتی ہیں ؟

کیا اس کی وجہ یہ تھی کہ : ان میں سے کوئی بھی ایسا باقی نہیں بچا تھا جس سے جزیہ لینے تک جنگ کی جاتی۔بلکہ تمام لوگوں نے جب اسلام کے محاسن اور روز افزوں ترقی دیکھی تو وہ اسلام لے آئے۔ اور خود ہی اپنے سابقہ شرکیہ عقیدہ کو برا سمجھنے لگے۔اس وجہ سے ان سے پستی و ذلت کے ساتھ جزیہ ادا کرنے کا حکم منفی ہوگیا؟

یا پھر اس کی وجہ یہ تھی کہ مشرکین سے جزیہ لینا جائز نہیں ۔بلکہ ان سے اس وقت تک جنگ کرنا واجب ہے جب تک کہ یہ لوگ اسلام قبول کرلیں ۔

٭ پہلے قول کے مطابق تمام کفار سے جزیہ لیا جاسکتاہے۔جیساکہ اکثر فقہاء کا کہنا ہے۔ان کا کہنایہ ہے کہ: جب اللہ تعالیٰ اہل کتاب سے اس وقت تک لڑنے کا حکم دیا ہے جب کہ یہ لوگ ذلت کے ساتھ اپنے ہاتھوں سے جزیہ نہ ادا کردیں ۔ان کیساتھ جزیہ کے بغیر کسی قسم کا معاہدہ کرنے سے منع کیا گیاہے۔ جیسا کہ معاملہ پہلے پہل تھا۔ تویہ اس بات پر تنبیہ ہے کہ مشرکین جو کہ ان سے بھی برے کافر ہیں ؛ ان کے ساتھ بغیر جزیہ کے کوئی معاہدہ نہ کیا جائے۔ بلکہ ان سے اس وقت تک قتال کیا جائے گا یہاں تک کہ یہ لوگ اپنے ہاتھوں سے ذلت قبول کرتے ہوئے جزیہ ادا کردیں ۔ اسی لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا:

’’ ان کے ساتھ اہل کتاب جیسا برتاؤ کرو ۔‘‘

ایسے ہی اہل بحرین کے ساتھ جزیہ پر صلح کی۔ ان میں مجوس بھی تھے۔اور آپ کے خلفاء رضی اللہ عنہم اور دیگر تمام مسلمان علماء کا بھی اس پر اتفاق رہاہے۔[فِی الموطأ1ِ؍ 278(کتاب الزکاۃِ، باب جِزیۃِ أہلِ الکِتابِ والمجوسِ)حدیثِ نمبر41میں ہے: ابن شہاب سے روایت ہے کہ پہنچا مجھ کو کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جزیہ لیا بحرین کے مجوس سے اور عمر بن خطاب نے جزیہ لیا فارس کے مجوس سے اور عثمان بن عفان نے جزیہ لیا بربر سے ۔اور اس سے اگلی روایت میں ہے : امام محمد بن باقر سے روایت ہے کہ حضرت عمر بن خطاب نے ذکر کیا مجوس کا اور کہا کہ میں نہیں جانتا کہ ان کے بارے میں کیا کروں ؟ تو بدالرحمن بن عوف نے کہا:میں گواہی دیتا ہوں میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے یہ فرماتے ہوئے سنا ہے: ’’سنوا بِہِم سنۃ أہلِ الکِتاب۔‘‘ ’’ ان سے وہ طریقہ برتو جو اہل کتاب سے برتتے ہو ۔‘‘نیز دیکھیں : صحیح البخاری کتاب الجزیۃ ‘ باب الجزیۃ و الموادعۃ مع أہل الحرب ۔]یہ معاملہ اسلام کے شروع میں تھا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کفار کیساتھ جنگیں بھی لڑا کرتے تھے اور بغیر کسی جزیہ کے ان کے ساتھ معاہدے بھی کرتے تھے۔جیساکہ سورت برأت کے نزول سے قبل کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے افعال سے ظاہر ہے۔سورت برأت میں حکم دیا گیا کہ جو مطلق عہد ہیں ‘ انہیں ختم کیا جائے۔ اوریہ حکم بھی دیا گیا کہ اہل کتاب سے اس وقت تک قتال کیا جائے یہاں تک کہ وہ جزیہ ادا کردیں ۔ پس اس بنا پر دوسرے کفار اس کے زیادہ حق دار ہیں کہ ان کے ساتھ جنگ لڑی جائے اور کوئی معاہدہ [بلا جزیہ ] نہ کیا جائے۔ 

اللہ تعالیٰ کافرمان ہے:

﴿فَاِذَا انْسَلَخَ الْاَشْہُرُ الْحُرُمُ فَاقْتُلُوا الْمُشْرِکِیْنَ حَیْثُ وَ جَدْتُّمُوْہُمْ وَخُذُوْہُمْ َو احْصُرُوْہُمْ وَ اقْعُدُوْا لَہُمْ کُلَّ مَرْصَدٍ فَاِنْ تَابُوْا﴾ [التوبۃ۵]

’’ پھر حرمت والے مہینوں کے گزرتے ہی مشرکوں کو جہاں پا قتل کرو انہیں گرفتار کرو ان کا محاصرہ کرو اور ان کی تاک میں ہر گھاٹی میں جابیٹھو ؛ہاں اگر وہ توبہ کرلیں۔‘‘

یہاں پر فرمایا : ’’ ہاں اگروہ توبہ کرلیں ۔‘‘ یہ نہیں فرمایا کہ ان سے اس وقت تک کے لیے قتال کرو یہاں تک کہ وہ توبہ کرلیں ۔

صفحہ 5 از 14