فصل:....آیت ﴿قل للمخلفین﴾سے شیعہ کا استدلال - ردِ رافضیت |…

فصل:....آیت ﴿قل للمخلفین﴾سے شیعہ کا استدلال

  امام ابنِ تیمیہؒ

صفحہ 6 از 14

٭ رہا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان کہ: ’’ مجھے اس وقت تک کے لیے لوگوں سے جنگ کرنے کا حکم دیا گیا ہے یہاں تک کہ وہ لاإلہ إلا اللّٰہ کا اقرار کرلیں ‘‘ یہ اپنی جگہ پر حق ہے۔ جوبھی انسان اس کلمہ کا اقرار کرلے تو اس سے فوری طور پر کوئی جنگ نہیں کی جائے گی۔اور جو کوئی اس کا اقرار نہ کرے اس سے قتال کیا جائے گا یہاں تک کہ وہ اپنے ہاتھوں سے جزیہ ادا کردے۔ اس باب میں امام احمد رحمہ اللہ سے صریح نصوص وارد ہوئی ہیں ۔ اوردوسرا قول جو امام شافعی رحمہ اللہ نے فرمایا ہے؛اورجس کا ذکر علامہ خرقی رحمہ اللہ نے ’’المختصر‘‘ میں کیا ہے ؛ اس پر امام احمد رحمہ اللہ کے اصحاب میں سے ایک گروہ نے موافقت ظاہر کی ہے۔ 

ٖ٭ اس سے واضح ہوتا ہے کہ آیت سورت برأت کے الفاظ نصاری کے ساتھ خاص ہیں ۔اور تمام مسلمانوں کا اجماع ہے کہ یہ حکم یہود اور مجوس کو بھی شامل ہے۔

٭ یہاں پریہ بیان کرنا مقصود ہے کہ شروع اسلام میں معاملہ اس بات پر منحصر نہیں تھا کہ مسلمان ان سے جنگ کریں یا وہ اسلام لائیں ۔ اس لیے کہ اس وقت ایک تیسری حالت تھی یعنی کہ ان سے معاہدے کرنا۔ جب آیت جزیہ نازل ہوئی تو اس وقت سے ان کیساتھ جنگ کرنا یا پھر ان کا اسلام لانا ضروری ہوگیا۔ پس اس وقت یہ لوگ یا توبرسکار پیکار ہوگئے یا پھر مسلمان ہوگئے۔یہ نہیں کہا: تم ان سے جنگ کرو گے یاپھر وہ اسلام لائینگے۔ اگر ایسا فرمایا گیا ہوتا تو پھران کے مسلمان ہونے تک ان سے جنگ کرنا واجب ہوجاتا۔ جب کہ اب معاملہ ایسے نہیں ۔بلکہ جب بھی وہ لوگ جزیہ ادا کردیں تو ان سے کوئی جنگ نہیں کی جائے گی۔ جن لوگوں کے متعلق زیر بحث آیت میں بیان ہوا ہے؛ وہ یا تو جنگ کریں گے یا پھراسلام لائیں گے۔ اوربغیر جنگ کے وہ جزیہ بھی ادا نہیں کریں گے۔ اس لیے کہ وہ طاقتور لڑاکے ہیں ۔اوران کے ساتھ بغیر جزیہ کے جنگ بندی کرنا بھی جائز نہیں ۔

٭ یہ بات سبھی جانتے ہیں کہ حضرت ابوبکر وعمر رضی اللہ عنہما بلکہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے بھی اپنی اپنی خلافت کے دور میں ان لوگوں کے ساتھ جہاد کیا اور اہل شام و عراق اور اہل مغرب پر جزیہ نافذ کیا گیا۔ ان لوگوں سے سب سے زیادہ سخت جنگیں اور معرکے ان حضرات کے دور خلافت میں پیش آئے۔

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے غزوہ تبوک کے موقعہ پر ان لوگوں سے جنگ نہیں کی۔ غزوہ مؤتہ کے موقعہ پر اہل شام غالب رہے ‘ اس موقعہ پر حضرت زید‘حضرت جعفر اورحضرت عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہم شہید ہوگئے ۔ ان کے بعد اسلامی پرچم حضرت خالدبن ولید رضی اللہ عنہ نے سنبھال لیا۔ آپ یہ کہہ سکتے ہیں کہ اس موقعہ پر باقی مسلمان بچ کر نکل گئے۔

جب کہ اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے خبر دی ہے کہ ہم ان سے قتال کریں گے یا پھر وہ اسلام قبول کرلیں گے۔یہ تینوں خلفاء راشدین کی صفت ہے۔پس اس آیت کا غزوہ مؤتہ کے ساتھ خاص ہونااور اہل عراق و شام ‘مصر و مغرب اورخراسان کا اس سے خارج ہونا ممتنع ہے؛یہی تو وہ معرکے ہیں جن میں اللہ تعالیٰ نے اسلام کو غلبہ عطاء فرمایا ؛ ہدایت غالب آئی اور زمین کے مشرق و مغرب میں اسلام کو سر بلندی و عظمت نصیب ہوئی۔

لیکن یہ کہا جاسکتا ہے کہ: اہل سنت والجماعت کا مذہب یہ ہے کہ جہاد پر بلانے والے ہر امیر کے ساتھ جہاد کیا جائے گا خواہ وہ امیر نیک ہو یا بدکردارو فاجر۔اس لیے کہ اس حدیث میں کہیں بھی یہ صراحت نہیں ہے کہ وہ امام عادل ہی ہوگا۔

تو اس کاجواب یہ ہے کہ : ’’ یہ چیز اہل سنت و الجماعت کے لیے فائدہ مند ہے۔ اس لیے کہ رافضی صرف امام معصوم کے ساتھ مل کرہی جہاد کو جائز سمجھتے ہیں ۔اوران کے نزدیک صحابہ کرام رضی اللہ عنہم میں سے حضرت علی رضی اللہ عنہ کے علاوہ کوئی دوسرا معصوم نہیں ۔جب کہ یہ آیت رافضیوں پر حجت ہے کہ تمام امراء کے ساتھ مل کر دشمن سے جہاد کرنا واجب ہے۔ جب یہ مسئلہ ثابت ہوگیاتو حضرت ابوبکروعمراورعثمان رضی اللہ عنہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد ان لوگوں میں سب سے افضل تھے جنہوں نے کفار سے جہاد کیا۔ پھریہ بات بھی محال ہے کہ اللہ تعالیٰ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد جن لوگوں کے ساتھ مل کر کفار سے جہاد کرنے کا حکم دیا ہے وہ سبھی ظالم و سرکش اور باغی قسم کے لوگ ہوں ۔ اور ان کی اطاعت کسی بھی چیز میں واجب نہ ہوتی ہو۔ یہ بات قرآن کی بنیادی تعلیمات کے خلاف ہے۔ اس لیے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنی اطاعت پر اچھے اجر کا وعدہ کیا ہے۔اوراپنی اطاعت سے روگردانی کرنے والوں کو دردناک عذاب سے ڈرایا ہے۔

اس آیت سے خلفاء راشدین رضی اللہ عنہم کے عادل ہونے پر استدلال کیا جاسکتا ہے۔ اس لیے کہ ان کے صرف دعوت جہاد دینے پر اطاعت کرنے والوں کے لیے بہترین اجروثواب کا وعدہ کیا ہے۔ اور ان کے حکم سے روگردانی کرنے والے کو بھی پہلے والوں کی طرح دردناک عذاب کا مستحق ٹھہرایا ہے۔

یہ بات سبھی جانتے ہیں کہ جہادکرنے والا امیر جب فاسق و فاجر ہو توپھر اس کی اطاعت مطلق طور پر واجب نہیں ہوتی۔ بلکہ اس کی اطاعت اللہ اور اس کے رسول کے احکام میں کی جائے گی۔اور اس کے احکام سے روگردانی کرنے والا ایسے نہیں ہوسکتا جیسے اللہ اور اس کے رسول کے احکام سے روگردانی کرنے والا۔بخلاف ان لوگوں کے جو خلفاء راشدین کی اطاعت سے روگردانی کرنے والے ہیں ۔ ان کے احکام سے منہ موڑنے والا ایسے ہی ہے جیسے اللہ اور اس کے رسول کے احکام سے منہ موڑنے والا ۔ اس لیے کہ خلفاء راشدین کے احکام رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے احکام کے مطابق ہی ہوا کرتے تھے۔

خلاصہ کلام! اس موقعہ پر اس جملہ سے استدلال کرنا انتہائی دقیق امر ہے۔ اس کی یہاں پر ہمیں کوئی ضرورت نہیں ۔ اس لیے کہ اس کے علاوہ دیگر اتنے دلائل ہیں جو ہمارے موقف کو ثابت کرنے کے لیے کافی ہیں ۔

[زیر تبصرہ آیت اور حضرت علی رضی اللہ عنہ ]:

[اشکال]: رافضی مصنف نے کہا ہے: اوریہ بھی جائز ہوسکتاہے کہ : یہ داعی حضرت علی رضی اللہ عنہ ہوں ۔ اس لیے کہ آپ نے عہد توڑنے والوں اور نافرمانوں اور دین سے خروج کرنے والوں سے جہاد کیا۔ یعنی اہل جمل و صفین و حروریہ اور خوارج ۔[انتہی کلام الرافضی]

[جواب]:رافضی کا یہ دعوی کئی وجوہات کی بنا پر باطل ہے: 

صفحہ 6 از 14