فصل:....آیت ﴿قل للمخلفین﴾سے شیعہ کا استدلال - ردِ رافضیت |…

فصل:....آیت ﴿قل للمخلفین﴾سے شیعہ کا استدلال

  امام ابنِ تیمیہؒ

صفحہ 7 از 14

پہلی وجہ:....یہ لوگ کسی بھی طرح اپنی ہی جنس کے لوگوں سے زیادہ سخت جنگجو ہر گزنہیں تھے۔بلکہ یہ بات سبھی جانتے ہیں کہ جن لوگوں سے جمل کے دن واسطہ پڑا وہ آپ کے لشکر کی نسبت بہت کم تھے۔اور آپ کا لشکر ان کے کی نسبت بہت زیادہ تھا۔ایسے ہی خوارج کی نسبت آپ کا لشکر کئی گنا زیادہ تھا۔ایسے ہی اہل صفین سے بھی آپ کا لشکر بڑھ کر تھا۔ اور ان لوگوں کا تعلق ان ہی کی ایک ہی جنس سے تھا۔سخت جنگجو ہونا ان کا وصف ہر گز نہیں ہو سکتا؛ جس کی بنا پر انہیں دوسروں سے جدا کیا جاسکتا ہو۔

یہ بات معلوم شدہ ہے کہ بنو حنیفہ اور اہل فارس و روم ان لوگوں سے کئی درجہ زیادہ سخت جنگجو اور لڑاکے تھے اور اصحاب حضرت علی رضی اللہ عنہ کو خوارج کی طرف سے وہ مشکلات اور تکلیف نہیں اٹھانی پڑی جو حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کے اصحاب کو مسیلمہ کذاب کے لشکر کی طرف اٹھانا پڑی تھیں ۔ روم اور فارس کے متعلق تو کوئی عاقل شک کرہی نہیں سکتا کہ ان سے جنگ کرنا عرب مسلمانوں کے برسر پیکار ہونے کی نسبت بہت زیادہ سخت تھا۔ اگرچہ شروع میں عرب مسلمانوں نے جو عرب کفار سے جہاد کیا وہ بہت ہی افضل اور عظیم الشان تھا۔ اس لیے کہ اس وقت مسلمان تھوڑی تعداد میں اور کمزور تھے؛ اس لیے نہیں کہ ان کا دشمن اہل فارس و روم کی نسبت بہت سخت جنگجوتھا۔یہی وجہ ہے کہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں :

﴿وَ لَقَدْ نَصَرَکُمُ اللّٰہُ بِبَدْرٍ وَّ اَنْتُمْ اَذِلَّۃٌ﴾ [آل عمران۱۲۳]

’’اور بلاشبہ یقیناً اللہ نے بدر میں تمھاری مدد کی، جب کہ تم نہایت کمزور تھے۔‘‘

ان لوگوں کوباہم جمع کرنے والی چیز دعوت اسلام اور مجانست تھی۔پس ان کے مابین جنگ کی وجہ کوئی ایسی چیز نہیں تھی جیسے اہل فارس و روم اور مجوس عرب اورنصاری کے ساتھ مسلمانوں کی جنگ کی وجہ تھی۔ یہ لوگ عرب مسلمانوں کو اپنے سب سے کمزور پڑوسی اور رعایا گمان کرتے تھے۔اور انہیں انتہائی حقیر سمجھتے تھے۔اگر اللہ تعالیٰ اہل ایمان کو ان لوگوں کے سامنے ایسے ثابت قدم نہ رکھتے اور تائید سے نہ نوازتے جیسا کہ اس سے پہلے انبیاء اور اہل ایمان کی نصرت کی جاتی رہی ہے ؛ تو یہ عرب مسلمان ان اہل فارس و روم کے سامنے ٹک نہ پاتے ‘ اور نہ ہی ان کے ملک اورشہر فتح کرسکتے۔ان کے پاس فوجی تعداد بہت زیادہ تھی ‘ اور بے پناہ اسلحہ اور قوت بھی حاصل تھی ۔لیکن اہل ایمان کے دلوں کو اللہ تعالیٰ نے قوت ایمانی سے نوازاہوا تھا جو صرف ان لوگوں کے ساتھ ہی خاص تھی۔

دوسری وجہ:....حضرت علی رضی اللہ عنہ نے دور دراز کے لوگوں کو اہل جمل اور خوارج کے ساتھ جنگ کرنے کے لیے نہیں بلایا تھا۔جب آپ بصرہ تشریف لائے تو آپ کے دل میں کسی سے جنگ کرنے کا کوئی خیال نہیں تھا۔بلکہ جنگ جمل حضرت علی رضی اللہ عنہ اور حضرت طلحہ و زبیر رضی اللہ عنہما کے مابین غیر اختیار اورغیر ارادی طور پر پیش آئی۔ جب کہ خوارج کے لیے آپ کے لشکر کا کچھ حصہ ہی کافی تھا۔ آپ نے حجاز کے اعراب میں سے کسی ایک کو ان جنگوں میں شرکت کرنے کے لیے نہیں بلایا۔

تیسری وجہ:....اگر اس بات کو مان لیا جائے کہ ان لوگوں سے جنگیں لڑنے میں حضرت علی رضی اللہ عنہ کی اطاعت واجب تھی‘ تو یہ بات ممتنع ہے کہ اللہ تعالیٰ کسی ایسے کی اطاعت واجب کردے جو نمازیوں کو صرف اس بنا پر قتل کر رہا ہو کہ ولی امر کی اطاعت میں داخل ہوجائیں ؛ اورایسے لوگوں کی اطاعت کا حکم نہ دے جو کفار سے اس لیے جنگ لڑ رہے ہوں کہ وہ اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لے آئیں ۔

یہ بات معلوم شدہ ہے کہ : جو انسان حضرت علی رضی اللہ عنہ کی اطاعت سے نکل جائے وہ اس انسان کی نسبت اللہ اور اس کے رسول پر ایمان سے دور نہیں ہوسکتا جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور قرآن حکیم کی تکذیب کرتا ہو۔ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی لائی ہوئی تعلیمات میں سے کسی بھی چیز کا اقرار نہ کرتا ہو۔بلکہ ان لوگوں کا گناہ بہت بڑا ہے ‘ اور انہیں اسلام کی دعوت پیش کرنا اور ان سے قتال کرنا افضل ہے۔ اگرفرض کرلیا جائے کہ جن لوگوں نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے جنگ کی وہ کافر تھے ؛تو اگریہ کہا جائے کہ: وہ مرتد تھے ؛ جیسا کہ روافض کا عقیدہ ہے۔

٭ تو یہ سبھی جانتے ہیں کہ جو مرتد محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو چھوڑ کر کسی دوسرے کو رسول مانتا ہوں جیسے مسیلمہ کذاب اور اس کے ہمنوا؛تو یہ لوگ ان کی نسبت بڑے مرتد تھے جو امام کی اطاعت کااقرار نہیں کرتے تھے؛ لیکن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان رکھتے تھے۔ بہر حال کچھ بھی حضرت علی رضی اللہ عنہ سے لڑنے والوں کا کوئی بھی گناہ ذکر نہیں کیا جا سکتا مگر جن لوگوں نے اس سے قبل خلفاء ثلاثہ رضی اللہ عنہم سے قتال کیا ان کا گناہ اس سے بڑھ کر تھا۔اور حضرت علی رضی اللہ عنہ کے ساتھ ہوکر لڑنے والوں کے لیے کوئی فضیلت اور ثواب بھی ذکر کیا جائے تو وہی اجرو ثواب اس سے بڑھ کر ان لوگوں کے لیے ہوگا جنہوں نے حضرات خلفاء ثلاثہ کے ساتھ مل کرجنگیں لڑیں ۔

صفحہ 7 از 14