فصل:....آیت ﴿قل للمخلفین﴾سے شیعہ کا استدلال - ردِ رافضیت |…

فصل:....آیت ﴿قل للمخلفین﴾سے شیعہ کا استدلال

  امام ابنِ تیمیہؒ

صفحہ 8 از 14

٭ یہ اس صورت میں ہوگا جب یہ فرض کرلیا جائے کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ سے جنگ لڑنے والے کافر تھے۔لیکن سبھی لوگ جانتے ہیں کہ یہ قول باطل ہے۔ یہ بات صرف ردی قسم کے شیعہ ہی کہہ سکتے ہیں [کوئی دوسرا نہیں ]؛ ان کے اہل عقل لوگ ایسی بات نہیں کہتے ۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ اور اہل بیت سے تواتر کے ساتھ معلوم ہوا ہے کہ آپ ان لوگوں کو کافر نہیں کہتے تھے جنہوں نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے جنگیں لڑیں ۔ یہ تمام باتیں اس وقت ہوسکتی ہیں جب یہ تسلیم کرلیا جائے کہ یہ قتال مامور بہ تھا۔اوریہ تسلیم کیا جانا کیسے ممکن ہوسکتا ہے جب کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اور ان کے بعد علماء کرام کا اس مسئلہ میں اختلاف مشہورو معروف ہے کہ کیا یہ جنگیں اہل بغاوت کے ساتھ جنگیں تھیں کہ جب ان کی شرائط پائی جائیں تو جنگ لڑنا واجب ہوجاتا ہے۔یا پھر موجب قتال شروط کے انتفاء کی وجہ سے بغاوت کی جنگیں نہیں تھیں ۔اوریہ کہ ان جنگوں میں داخل ہونے سے بہتر و افضل یہ تھا کہ انسان ان سے بچ کر اور دوررہے۔ اور بعض علماء کرام نے انہیں فتنہ کی جنگیں شمار کیا ہے۔ جمہور محدثین اور جمہور ائمہ و فقہاء رحمہم اللہ کا یہی مذہب ہے۔ اور امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ کا مذہب یہ ہے کہ : باغیوں سے جنگ کرنا اس وقت تک جائزنہیں ہے جب تک وہ خود جنگ نہ چھیڑدیں ۔قدوری میں ایسے ہی ذکر کیا گیا ہے۔ اہل صفین نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے جنگ نہیں چھیڑی تھی۔

ایسے ہی مدینہ؛ شام ؛ بصرہ ؛کے بڑے بڑے فقہاء‘اوربڑے بڑے فقہاء حدیث جیسے امام مالک ‘ ایوب ‘ اوزاعی‘ اور امام احمد رحمہم اللہ کا یہی مذہب ہے کہ یہ جنگیں مامور بہ نہیں تھیں ۔اوران سے ہاتھ کھینچ لینا جنگ لڑنے سے بہتر تھا۔جمہور ائمہ اہل سنت والجماعت کا یہی قول ہے۔جیسا کہ احادیث صحیحہ اس پر دلالت کرتی ہیں ۔بخلاف حروریہ اور خوارج اور اہل نہروان کے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے مشہور سنت و احادیث کی روشنی میں ان لوگوں سے جنگ کرنا واجب تھا۔اس پر صحابہ کرام اور ائمہ اہل سنت کااتفاق ہے۔

٭ صحیحین میں حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ:

’’ نبی صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ منورہ کے قلعوں میں سے ایک قلعہ پر چڑھے اورپھر ارشاد فرمایا:’’ کیا تم وہ دیکھ رہے ہو جو میں دیکھ رہا ہوں کہ تمہارے گھروں کی جگہوں میں فتنے ایسے گر رہے ہیں جیسے بارش کے قطرات گرتے ہیں ۔‘‘[صحیح بخاری:ج1:ح 1773 ]

٭ سنن میں ہے حضرت عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :

’’ عنقریب ایک فتنہ ہوگا جو عرب کو گھیر لے گا، اس کے مقتولین جہنم میں جائیں گے اور اس میں زبان کا استعمال تلوار کے استعمال سے زیادہ سخت ہوگا۔‘‘[سنن ابوداؤد:ج 3:ح873۔]

٭ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

’’ عنقریب ایک اندھا، بہرا، گونگا فتنہ ہوگا پس جو اس کی طرف توجہ کرے گا وہ اس کے نزدیک ہوجائے گا اور زبان کو اس کی طرف متوجہ کرنا ایسا ہے جیسے تلوار سے اس میں شریک ہونا۔‘‘[سنن ابوداؤد:ج3:ح 872۔]

٭ حضرت ام سلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا فرماتی ہیں :

’’ایک رات کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم بیدار ہوئے تو آپ نے فرمایا کہ:’’ سبحان اللہ!آج رات کس قدر فتنے نازل کیے گئے ہیں اور کس قدر خزانے کھولے گئے ہیں ۔‘‘[صحیح بخاری:ج1:ح116]

٭ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ نے ارشاد فرمایا:

’’ عنقریب فتنے ہوں گے ان میں بیٹھنے والا کھڑا ہونے والے سے بہتر ہوگا اور کھڑا ہونے والا چلنے والے سے افضل ہوگا اور جلنے والا دوڑنے والے سے بہتر ہوگا اور جو آدمی گردن اٹھا کر انہیں دیکھے گا تو وہ اسے ہلاک کردیں گے اور جسے ان میں کوئی پناہ کی جگہ مل جائے تو چاہئے کہ وہ پناہ لے لے۔‘‘[صحیح بخاری:ج3:ح 1974۔صحیح مسلم:ج3:ح2748۔]

٭ صحیحین میں حضرت ابوبکرہ رضی اللہ عنہ سے روایت موجود ہے؛ اس میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

’’[عنقریب فتنے برپا ہوں گے۔ آگاہ رہو پھر فتنے ہوں گے۔ ان میں بیٹھنے والا چلنے والے سے بہتر ہوگا اور چلنے والا ان کی طرف دوڑنے والے سے بہتر ہوگا آگاہ رہو]جب یہ فتنے نازل ہوں یا واقع ہوں تو جس کے پاس اونٹ ہوں وہ اپنے اونٹوں کے ساتھ ہی لگا رہے اور جس کی زمین ہو وہ اپنی زمین سے ہی چمٹا رہے۔‘‘

ایک آدمی نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! آپ اس بارے میں کیا فرماتے ہیں جس کے پاس نہ اونٹ ہوں اور نہ بکریاں نہ ہی زمین ۔‘‘آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :

’’وہ اپنی تلوار لے کر اس کی دھار پتھر کے ساتھ رگڑ کر کند اور ناکارہ کر دے۔ پھر اگر وہ نجات حاصل کرنے کی طاقت رکھتا ہو تو نجات حاصل کرے۔ اے اللہ میں نے تیرا حکم پہنچا دیا؛ اے اللہ میں نے تیرا حکم پہنچا دیا۔‘‘

ایک آدمی نے عرض کیا: یا رسول اللہ! آپ صلی اللہ علیہ وسلم کیا فرماتے ہیں :’’ اگر مجھے ناپسندیدگی اور ناگواری کے باوجود ان دونوں صفوں میں سے ایک صف یا ایک گروپ میں کھڑا کر دیا جائے پھر کوئی آدمی اپنی تلوار سے مجھے مار دے یا کوئی تیری میری طرف آجائے؛ جو مجھے قتل کر ڈالے؟

تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:’’ وہ آدمی اپنے گناہ اور تیرے گناہ کے ساتھ لوٹے گا اور دوزخ والوں میں سے ہوگا۔‘‘[صحیح مسلم:ج3:ح2751]

٭ ان احادیث کی طرح دیگر روایات بھی حضرت سعد بن ابی وقاص اور دوسرے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے معروف ہیں اور صحابہ کرام میں رضی اللہ عنہم میں سے جن لوگوں نے یہ احادیث روایت کی ہیں ان میں سعد بن ابی وقاص ‘ حضرت ابوبکرہ ؛ اسامہ بن زید؛ محمدبن مسلمہ ؛ ابوہریرہ ؛اور دیگرصحابہ رضی اللہ عنہم شامل ہیں ۔ یہ حضرات جنگ جمل اور صفین کو فتنہ کی جنگیں قرار دیتے ہیں ۔اور ان کا کہنا ہے: اسلام میں فتنہ کی یہ پہلی جنگیں تھیں ۔یہ لوگ ان لڑائیوں میں شریک نہیں ہوئے ۔اور اپنے ماننے والے دوسرے لوگوں کو بھی جنگ میں شرکت سے منع کرتے رہے۔یہ روایات مشہور و معروف ہیں ۔

صفحہ 8 از 14