فصل:....آیت ﴿قل للمخلفین﴾سے شیعہ کا استدلال - ردِ رافضیت |…

فصل:....آیت ﴿قل للمخلفین﴾سے شیعہ کا استدلال

  امام ابنِ تیمیہؒ

صفحہ 9 از 14

٭ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم میں سے جن لوگوں نے جنگیں لڑیں وہ اپنے حق میں کتاب و سنت سے کوئی ایسی مضبوط دلیل پیش نہیں کرسکے جس کی روشنی میں ان جنگوں میں لڑنا واجب ہو۔ بلکہ انہوں نے اقرار کیا تھا کہ یہ لڑائیاں ان کی رائے تھی۔ جیساکہ خود حضرت علی رضی اللہ عنہ نے اس کی خبر دی ہے۔ان دونوں لشکروں میں حضرت علی رضی اللہ عنہ سے افضل کوئی دوسرا نہیں تھا۔اس لحاظ سے جو لوگ آپ سے فروتر مرتبہ کے تھے ؛ وہ اتباع کے زیادہ حقدار تھے۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ کبھی کبھار ان جنگوں پر اپنی نا پسندیدگی اور نفرت کااظہار کیا کرتے تھے۔اس سے واضح ہوتا ہے کہ خوارج کے ساتھ جنگوں کے برعکس آپ کے پاس ان لڑائیوں کے حق میں کوئی شرعی دلیل موجود نہیں تھی جس کی بنا پر آپ خوشی و سرور کا اظہار کرسکیں ۔جب کہ خوارج کی جنگوں پر آپ اپنی خوشی و سرور اور رضامندی کا اظہار کرتے تھے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ جنگیں اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کی جنگیں تھیں جن سے وہ اللہ تعالیٰ کا قربت حاصل کرتے تھے۔اس لیے کہ ایسی نصوص نبویہ اور ادلہ شرعیہ موجود ہیں جن کی روشنی میں ان لوگوں سے لڑنا واجب تھا۔

صحیحین میں حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے : آپ فرماتے ہیں : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا:

’’مسلمانوں کی تفرقہ بندی کے وقت ایک فرقہ کا ظہور ہوگا ‘ اور ان دو گروہوں میں سے ان کو وہ لوگ قتل کریں گے جو حق کے زیادہ قریب ہوں گے۔‘‘[مسلم ۲؍۷۴۵؛ سنن ابو داؤد ۴؍۳۰۰۔]

صحیح مسلم کی ایک روایت کے الفاظ یہ ہیں : ’’ آپ نے ایک قوم کا ذکر کیا جو لوگ آپ کی امت میں سے نکلیں گے ؛اور انہیں وہ گروہ قتل کرے گا جو حق کے زیادہ قریب ہوگا۔ ان کی نشانی سر منڈوانا ہوگا۔یہ سب سے بری مخلوق ہوں گے۔ یا سب سے بری مخلوق میں سے ہوں گے ۔‘‘ حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ فرمایا کرتے تھے : ’’ اے اہل عراق! وہ تم لوگ ہو۔‘‘

بخاری کے الفاظ ہیں :’’مشرق کی طرف سے کچھ لوگ نکلیں گے؛وہ قرآن پڑھیں گے مگر ان کے حلق سے تجاوزنہیں کرے گا۔ وہ لوگ اسلام سے اس طرح نکل جائیں گے جیسے کمان سے تیر نکل جاتا ہے۔وہ اس وقت تک اسلام میں واپس نہیں پلٹیں گے جب تک تیر کمان میں واپس نہ آجائے۔‘‘[صحیح بخاری: ح:832]

صحیحین میں ہے حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا:

’’ اے لوگو!میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا آپ فرمارہے تھے:’’ ایک قوم میری امت سے نکلے گی وہ قرآن اس طرح پڑھیں گے کہ تم ان کی قرات سے مقابلہ نہ کر سکو گے اور نہ تمہاری نماز ان کی نماز کا مقابلہ کر سکے گی اور نہ تمہارے روزے ان کے روزوں جیسے ہوں گے وہ قرآن پڑھتے ہوئے گمان کریں گے کہ وہ ان کے لیے مفید ہے حالانکہ وہ ان کے خلاف ہوگا اور ان کی نماز ان کے حلق سے نیچے نہ اترے گی وہ اسلام سے اس طرح نکل جائیں گے جس طرح تیر نشانہ سے نکل جاتا ہے ان سے قتال کرنے والے لشکر کو اگر یہ معلوم ہو جائے جو ان کے لیے نبی کریم کی زبانی ان کے لیے فیصلہ کیا گیا ہے اسی عمل پر بھروسہ کرلیں اور نشانی یہ ہے کہ ان میں ایک آدمی کے بازو کی بانہہ نہ ہوگی اور اس کے بازو کی نوک عورت کے پستان کی طرح لوتھڑا ہوگی اس پر سفید بال ہوں گے۔ ‘‘[بقیہ حدیث اس طرح سے ہے:[پھراس کے بعد] حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا:’’ تم معاویہ رضی اللہ عنہ اور اہل شام سے مقابلہ کے لیے جاتے ہوئے ان کو چھوڑ جاتے ہو کہ یہ تمہارے پیچھے تمہاری اولادوں اور تمہارے اموال کو نقصان پہنچائیں ۔ اللہ کی قسم میں امید کرتا ہوں کہ یہ وہی لوگ ہیں جنہوں نے حرام خون بہایا اور ان کے مویشی وغیرہ لوٹ لیے تم اور لوگوں کو چھوڑو اور ان کی طرف اللہ کے نام پر چلو۔سلمہ بن کہیل کہتے ہیں پھر مجھے زید بن و ہب نے ایک منزل کے متعلق بیان کیا۔ یہاں تک کہ ہم ایک پل سے گزر ہے اور جب ہمارا خوارج سے مقابلہ ہو تو عبداللہ بن و ہب راسبی انکا سردار تھا۔ اس نے اپنے لشکر سے کہا تیر پھینک دو اور اپنی تلواریں میانوں سے کھینچ لو میں خوف کرتا ہوں کہ تمہارے ساتھ وہی معاملہ نہ ہو جو تمھارے ساتھ حرورا کے دن ہوا تھا تو وہ لوٹے اور انہوں نے نیزوں کو دور پھینک دیا اور تلواروں کو میان سے نکالا۔ لوگوں نے ان سے نیزوں کے ساتھ مقابلہ کیا اور یہ ایک دوسرے پر قتل کیے گئے ہم میں صرف دو آدمی کام آئے علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا ان میں سے ناقص ہاتھ والے کو تلاش کرو۔ تلاش کرنے پر نہ ملا تو علی رضی اللہ عنہ خود کھڑے ہوئے یہاں تک کہ ان لوگوں پر آئے جو قتل ہو چکے تھے آپ نے فرمایا ان کو ہٹایا؛ پھر اس کو زمین کے ساتھ ملا ہوا پایا آپ نے اللہ کبر کہہ کر فرمایا اللہ نے سچ فرمایا اور اس کے رسول نے پہنچایا تو پھر عبیدہ سلمانی نے کھڑے ہو کر کہا اے امیرالمومنین اللہ کی قسم جس کے سوا کوئی معبود نہیں کہ آپ نے خود نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ حدیث سنی۔ تو علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا ہاں اللہ کی قسم جس کے سوا کوء معبود نہیں مگر وہی یہاں تک عبیدہ نے تین بار قسم کا مطالبہ کیا اور آپ نے تین بار ہی اس کے لیے قسم کھائی۔ [صحیح مسلم:جلد اول:حدیث نمبر 2460]]

چوتھی وجہ:....یہ آیت حضرت علی رضی اللہ عنہ کے ساتھ جنگ لڑنے کو شامل نہیں ۔اس کہ آیت میں فرمایا گیا ہے :

﴿تُقَاتِلُوْنَہُمْ اَوْ یُسْلِمُوْنَ﴾’’ تم ان سے جنگ کرتے ہویا پھر صلح کرتے ہو ۔‘‘

یہاں پر دو وصف بیان کیے گئے ہیں جن میں سے کسی ایک کا ہونا ضروری ہے۔اور یہ بات معلوم شدہ ہے کہ جن لوگوں کی طرف حضرت علی رضی اللہ عنہ نے قتال کے لیے بلایا تھا؛ ان میں سے خلقت کی ایک بہت بڑی تعداد ایسی تھی جنہوں نے آپ سے کوئی جنگ نہیں کی۔بلکہ یہ لوگ جنگ سے دستبردار رہے۔ نہ ہی انہوں نے آپ سے جنگ کی اور نہ ہی آپ کے ساتھ مل کر جنگ کی۔یہ لوگ ایک تیسرا گروہ تھے۔جنہوں نے نہ ہی آپ کے ساتھ جنگ کی اورنہ ہی آپ سے سے مل کر۔ اورنہ ہی آپ کے حلقہ اطاعت میں داخل ہوئے ۔ یہ سبھی لوگ مسلمان تھے۔ ان کے مسلمان ہونے پر کتاب و سنت اوراجماع صحابہ بشمول حضرت علی رضی اللہ عنہ اورباقی لوگوں کے ؛ دلائل موجود ہیں ۔ فرمان الٰہی ہے:

صفحہ 9 از 14