الشیخ عبدالرحمٰن بن ناصر البراک
علی محمد الصلابی(سابق پروفیسر محمد بن سعود اسلامک یونیورسٹی، ریاض، سعودی عرب)
لکھتے ہیں : سیدہ عائشہ صدیقہ بنت ابی بکر صدیق رضی اللہ عنہما نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی محبوب ترین بیوی ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے ان کا انتخاب خود کیا اور فرمایا:
وَرَبُّكَ يَخۡلُقُ مَا يَشَآءُ وَيَخۡتَارُ مَا كَانَ لَهُمُ الۡخِيَرَةُ۞ (سورۃ القصص آیت 68)
ترجمہ: اور تمہارا پروردگار جو چاہتا ہے پیدا کرتا ہے، اور (جو چاہتا ہے) پسند کرتا ہے۔
کیا ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے لیے یہی فضیلت کم ہے کہ انھوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے بلاواسطہ علم حاصل کیا، اسے ازبر کیا اور پوری امانت کے ساتھ بلا کم و کاست آنے والی نسلوں کو منتقل کر دیا۔ چونکہ سیدہ ممدوحہ رضی اللہ عنہا اپنے رب کے ہاں نہایت معزز اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی محبوب ترین ہستی تھیں، اس لیے اللہ تعالیٰ نے ہر قسم کے بہتانوں سے ان کی برأت قرآن کی شکل میں نازل کی جسے تاقیامت پڑھا جاتا رہے گا۔ چنانچہ اس سیرت و کردار عالیہ سے متصف شہزادی حق رکھتی ہے کہ اس کے فضائل و مناقب اور اس ذات عالیہ سے حسد کرنے والے رافضیوں کو منہ توڑ جواب دینے کے لیے کتاب لکھی جاتی۔
چنانچہ یہ کتاب درحقیقت ایک عظیم و ضخیم انسائیکلو پیڈیا ہے جو ’’ام المؤمنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا ‘‘ کے نام سے ہمارے ہاتھوں میں ہے۔ یقیناً مصنفین کی یہ کاوش اہل سنت والجماعت کے مومنوں کی آنکھوں کی ٹھنڈک کا جہاں باعث بنے گی وہاں مشرکوں، بدعتیوں اور رافضیوں کے لیے حزن و ملال اور حسرت و یاس سے لبریز ’’گرانمایہ خزانہ اور عبرت آموز تازیانہ‘‘ ثابت ہو گی۔ ان شاء اللہ