فصل: ....[خلافت ابوبکر رضی اللہ عنہ اورارشاد نبوت] - ردِ…

فصل: ....[خلافت ابوبکر رضی اللہ عنہ اورارشاد نبوت]

  امام ابنِ تیمیہؒ

صفحہ 1 از 3

فصل: ....[خلافت ابوبکر رضی اللہ عنہ اورارشاد نبوت]

اس سے پہلے یہ تنبیہ گزر چکی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے امت کو حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کی خلافت کی طرف رہنمائی کی تھی ۔ اوریہ واضح کردیا تھاکہ آپ دوسروں سے زیادہ اس کے حق دار ہیں ۔مثال کے طور پر صحیحین کی روایت میں ہے حضرت جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : ’’ایک عورت بارگاہ رسالت میں حاضر ہوئی؛ اور اس نے کسی چیز کا سوال کیا۔ آپ نے اسے دوبارہ حاضر ہونے کے لیے مامور فرمایا۔ وہ بولی:’’ اگر میں آؤں اور آپ کو موجود نہ پاؤں [تو]۔‘‘(یعنی آپ وفات پا جائیں ) آپ نے فرمایا:’’ اگر تو مجھے نہ پائے تو ابوبکر رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضری دیجیے۔‘‘[اس کی تخریج گزر چکی ہے]

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو جب (بنابر وحی) معلوم ہوگیا تھاکہ اللہ تعالیٰ اس کام کے لیے ابوبکر رضی اللہ عنہ کو ہی اختیار کریں گے؛اور اہل ایمان آپ کو بالاتفاق خلیفہ تسلیم کرلیں گے[کسی دوسرے کونہیں ]؛اسی لیے آپ نے فرمایا:’’ اللہ تعالیٰ اور اہل ایمان اس کا انکار کرتے ہیں ۔‘‘

آپ کی اس رہنمائی و دلالت میں شرعی ادلہ موجود ہیں ۔ اور آپ کو جو علم ہوگیا تھا کہ اللہ تعالیٰ خیرکو آپ کی رضا اور چاہت کے مطابق مقدر کردے گا۔جس سے خلق و امر میں اس کی حکمت قدراً وشرعاً پوری ہوجائے گی۔

اس سے پہلے ہم ذکر کرچکے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کا اختیار اس امت کے حق میں کئی وجوہات کی بنا پر بہت بہتر تھا۔ اس لیے کہ جب امت نے اپنے علم اوراختیار سے آپ کو یہ منصب تفویض کیا ؛اور ان کو علم تھا کہ اللہ اور اس کے رسول کے نزدیک آپ ہی اس منصب کے اہل ہیں ۔تو اس میں اتنی شرعی مصلحتیں تھیں جو اس کے بغیر کسی دوسرے ذریعہ سے حاصل نہیں ہوسکتی تھیں ۔ اس سے پہلے ہم ذکر کرچکے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کا اختیار اس امت کے حق میں کئی وجوہات کی بنا پر بہت بہتر تھا۔ اس لیے کہ جب امت نے اپنے علم اوراختیار سے آپ کو یہ منصب تفویض کیا ؛اور ان کو علم تھا کہ اللہ اور اس کے رسول کے نزدیک آپ ہی اس منصب کے اہل ہیں ۔تو اس میں اتنی شرعی مصلحتیں تھیں جو اس کے بغیر کسی دوسرے ذریعہ سے حاصل نہیں ہوسکتی تھیں ۔

احکام کا بیان کبھی تو مؤکد نص جلی سے ممکن ہوتا ہے۔اور کبھی سادہ نص جلی سے ۔ اور کبھی ایسی نص سے ممکن ہوتا ہے جس کی وجہ سے بعض لوگوں کو اللہ تعالیٰ کی مشئیت و حکمت کے مطابق شک بھی ہوجاتا ہے ۔مگر یہ ساری چیزیں بلاغ مبین میں داخل ہیں ۔ اس لیے کہ بلاغ مبین کی شرائط میں سے یہ نہیں ہے کہ کسی ایک کو اس میں کوئی اشکال پیش نہ آئے۔ ایسا ہونا ممکن نہیں ۔ اس لیے کہ لوگوں کے اذہان و عقول میں بہت بڑا فرق ہوتا ہے۔ ان میں سے بعض علم کو سمجھ لیتے ہیں ؛ اور بعض کو علم کی سمجھ حاصل نہیں ہوسکتی ؛ ایسا یاتو انسان کی سمجھ میں تفریط کی وجہ سے ہوتا ہے یا پھر کمزوری اورعجز کی وجہ سے۔

اس میں کوئی شک نہیں کہ : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ذمہ داری واضح طور پر پہنچادینا تھا۔یعنی بلاغ المبین۔جتنی وضاحت و بیان ممکن تھاوہ ہوگیا۔ وللہ الحمد۔ آپ نے یہ فریضہ انجام دے دیا۔ آپ نے کھول کھول کر اللہ تعالیٰ کا پیغام پہنچادیا؛ اورامت کو ایسے راستے پرچھوڑ دیا جس کی رات بھی اسکے دن کی طرح روشن تھی۔ اس کے بعد کوئی ہلاک ہونے والا ہی گمراہ ہوسکتا ہے۔ کوئی بھی چیز ایسی نہیں تھی جس کی وجہ سے جنت کی قربت حاصل ہوسکتی ہو‘ مگر آپ نے اس امت کو اس کا حکم دے دیا ۔اورکوئی بھی چیز ایسی نہیں تھی جوجہنم کے قریب کرنے والی ہو ‘ مگر آپ نے اس سے منع کردیا۔ اللہ تعالیٰ آپ کو اپنی امت کی طرف سے اس سے بہترین و افضل جزاء عطا فرمائے جو کسی بھی امت کی طرف سے اس کے نبی کو ملی ہو۔

مزید برآں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی عدم موجودگی میں حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کو حکم دیا کرتے تھے کہ وہ لوگوں کو نماز پڑھائیں ۔اور آپ کی موجودگی اوربحالت صحت بھی جب آپ نے نماز پڑھائی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے برقرار رکھا۔

صحیحین میں حضرت سہل بن سعد ساعدی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بنو عمرو بن عوف کے درمیان صلح کرانے کے لیے تشریف لے گئے ۔جب نماز کا وقت ہوگیا تو مؤذن حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور کہا کیا آپ لوگوں کو نماز پڑھائیں گے تو میں اقامت کہوں ؟ فرمایا: ہاں ۔ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے نماز پڑھائی ۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آئے تو لوگ نماز میں تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں میں سے گزرتے ہوئے صف میں جا کر کھڑے ہو گئے لوگوں نے ہاتھ پر ہاتھ مارا اور حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نماز میں کسی طرف متوجہ نہیں ہوتے تھے۔ جب لوگوں کی تالیاں بہت زیادہ ہوگئیں تو وہ متوجہ ہوئے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اشارہ کیا کہ تم اپنی جگہ کھڑے رہو۔ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے اپنے ہاتھوں کو بلند کیا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم کے مطابق اللہ کی حمد کی پھر ابوبکر پیچھے ہو کر صف میں برابر آگئے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم آگے تشریف لے گئے ۔نماز سے فارغ ہو کر فرمایا: اے ابوبکر! جب میں نے تجھ کو حکم دیا تو تم اپنی جگہ پر کیوں نہ کھڑے رہے؟ تو ابوبکر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا کہ:’’ ابن قحافہ کے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے لوگوں کو نماز پڑھانا مناسب نہیں ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :’’میں نے تم کو کثرت کیساتھ ہاتھ پر ہاتھ مارتے ہوئے دیکھا ۔ جب تمہیں نماز میں کوئی چیز پیش آجائے تو تم سبحان اللہِ کہو جب سبحان اللہِ کہا جائے گا تو امام متوجہ ہو جائے گا تالی بجانا عورتوں کے لیے ہے۔‘‘[صحیح مسلم:ح 944]

ایک روایت میں ہے کہ:’’ آپ صلی اللہ علیہ وسلم صفوں سے نکلتے ہوئے پہلی صف میں آکر کھڑے ہو گئے اور حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ الٹے پاؤں پیچھے آگئے۔‘‘

صفحہ 1 از 3