فصل: ....[خلافت ابوبکر رضی اللہ عنہ اورارشاد نبوت]
امام ابنِ تیمیہؒفصل: ....[خلافت ابوبکر رضی اللہ عنہ اورارشاد نبوت]
اس سے پہلے یہ تنبیہ گزر چکی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے امت کو حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کی خلافت کی طرف رہنمائی کی تھی ۔ اوریہ واضح کردیا تھاکہ آپ دوسروں سے زیادہ اس کے حق دار ہیں ۔مثال کے طور پر صحیحین کی روایت میں ہے حضرت جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : ’’ایک عورت بارگاہ رسالت میں حاضر ہوئی؛ اور اس نے کسی چیز کا سوال کیا۔ آپ نے اسے دوبارہ حاضر ہونے کے لیے مامور فرمایا۔ وہ بولی:’’ اگر میں آؤں اور آپ کو موجود نہ پاؤں [تو]۔‘‘(یعنی آپ وفات پا جائیں ) آپ نے فرمایا:’’ اگر تو مجھے نہ پائے تو ابوبکر رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضری دیجیے۔‘‘[اس کی تخریج گزر چکی ہے]
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو جب (بنابر وحی) معلوم ہوگیا تھاکہ اللہ تعالیٰ اس کام کے لیے ابوبکر رضی اللہ عنہ کو ہی اختیار کریں گے؛اور اہل ایمان آپ کو بالاتفاق خلیفہ تسلیم کرلیں گے[کسی دوسرے کونہیں ]؛اسی لیے آپ نے فرمایا:’’ اللہ تعالیٰ اور اہل ایمان اس کا انکار کرتے ہیں ۔‘‘
آپ کی اس رہنمائی و دلالت میں شرعی ادلہ موجود ہیں ۔ اور آپ کو جو علم ہوگیا تھا کہ اللہ تعالیٰ خیرکو آپ کی رضا اور چاہت کے مطابق مقدر کردے گا۔جس سے خلق و امر میں اس کی حکمت قدراً وشرعاً پوری ہوجائے گی۔
اس سے پہلے ہم ذکر کرچکے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کا اختیار اس امت کے حق میں کئی وجوہات کی بنا پر بہت بہتر تھا۔ اس لیے کہ جب امت نے اپنے علم اوراختیار سے آپ کو یہ منصب تفویض کیا ؛اور ان کو علم تھا کہ اللہ اور اس کے رسول کے نزدیک آپ ہی اس منصب کے اہل ہیں ۔تو اس میں اتنی شرعی مصلحتیں تھیں جو اس کے بغیر کسی دوسرے ذریعہ سے حاصل نہیں ہوسکتی تھیں ۔ اس سے پہلے ہم ذکر کرچکے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کا اختیار اس امت کے حق میں کئی وجوہات کی بنا پر بہت بہتر تھا۔ اس لیے کہ جب امت نے اپنے علم اوراختیار سے آپ کو یہ منصب تفویض کیا ؛اور ان کو علم تھا کہ اللہ اور اس کے رسول کے نزدیک آپ ہی اس منصب کے اہل ہیں ۔تو اس میں اتنی شرعی مصلحتیں تھیں جو اس کے بغیر کسی دوسرے ذریعہ سے حاصل نہیں ہوسکتی تھیں ۔
احکام کا بیان کبھی تو مؤکد نص جلی سے ممکن ہوتا ہے۔اور کبھی سادہ نص جلی سے ۔ اور کبھی ایسی نص سے ممکن ہوتا ہے جس کی وجہ سے بعض لوگوں کو اللہ تعالیٰ کی مشئیت و حکمت کے مطابق شک بھی ہوجاتا ہے ۔مگر یہ ساری چیزیں بلاغ مبین میں داخل ہیں ۔ اس لیے کہ بلاغ مبین کی شرائط میں سے یہ نہیں ہے کہ کسی ایک کو اس میں کوئی اشکال پیش نہ آئے۔ ایسا ہونا ممکن نہیں ۔ اس لیے کہ لوگوں کے اذہان و عقول میں بہت بڑا فرق ہوتا ہے۔ ان میں سے بعض علم کو سمجھ لیتے ہیں ؛ اور بعض کو علم کی سمجھ حاصل نہیں ہوسکتی ؛ ایسا یاتو انسان کی سمجھ میں تفریط کی وجہ سے ہوتا ہے یا پھر کمزوری اورعجز کی وجہ سے۔
اس میں کوئی شک نہیں کہ : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ذمہ داری واضح طور پر پہنچادینا تھا۔یعنی بلاغ المبین۔جتنی وضاحت و بیان ممکن تھاوہ ہوگیا۔ وللہ الحمد۔ آپ نے یہ فریضہ انجام دے دیا۔ آپ نے کھول کھول کر اللہ تعالیٰ کا پیغام پہنچادیا؛ اورامت کو ایسے راستے پرچھوڑ دیا جس کی رات بھی اسکے دن کی طرح روشن تھی۔ اس کے بعد کوئی ہلاک ہونے والا ہی گمراہ ہوسکتا ہے۔ کوئی بھی چیز ایسی نہیں تھی جس کی وجہ سے جنت کی قربت حاصل ہوسکتی ہو‘ مگر آپ نے اس امت کو اس کا حکم دے دیا ۔اورکوئی بھی چیز ایسی نہیں تھی جوجہنم کے قریب کرنے والی ہو ‘ مگر آپ نے اس سے منع کردیا۔ اللہ تعالیٰ آپ کو اپنی امت کی طرف سے اس سے بہترین و افضل جزاء عطا فرمائے جو کسی بھی امت کی طرف سے اس کے نبی کو ملی ہو۔
مزید برآں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی عدم موجودگی میں حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کو حکم دیا کرتے تھے کہ وہ لوگوں کو نماز پڑھائیں ۔اور آپ کی موجودگی اوربحالت صحت بھی جب آپ نے نماز پڑھائی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے برقرار رکھا۔
صحیحین میں حضرت سہل بن سعد ساعدی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بنو عمرو بن عوف کے درمیان صلح کرانے کے لیے تشریف لے گئے ۔جب نماز کا وقت ہوگیا تو مؤذن حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور کہا کیا آپ لوگوں کو نماز پڑھائیں گے تو میں اقامت کہوں ؟ فرمایا: ہاں ۔ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے نماز پڑھائی ۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آئے تو لوگ نماز میں تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں میں سے گزرتے ہوئے صف میں جا کر کھڑے ہو گئے لوگوں نے ہاتھ پر ہاتھ مارا اور حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نماز میں کسی طرف متوجہ نہیں ہوتے تھے۔ جب لوگوں کی تالیاں بہت زیادہ ہوگئیں تو وہ متوجہ ہوئے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اشارہ کیا کہ تم اپنی جگہ کھڑے رہو۔ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے اپنے ہاتھوں کو بلند کیا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم کے مطابق اللہ کی حمد کی پھر ابوبکر پیچھے ہو کر صف میں برابر آگئے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم آگے تشریف لے گئے ۔نماز سے فارغ ہو کر فرمایا: اے ابوبکر! جب میں نے تجھ کو حکم دیا تو تم اپنی جگہ پر کیوں نہ کھڑے رہے؟ تو ابوبکر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا کہ:’’ ابن قحافہ کے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے لوگوں کو نماز پڑھانا مناسب نہیں ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :’’میں نے تم کو کثرت کیساتھ ہاتھ پر ہاتھ مارتے ہوئے دیکھا ۔ جب تمہیں نماز میں کوئی چیز پیش آجائے تو تم سبحان اللہِ کہو جب سبحان اللہِ کہا جائے گا تو امام متوجہ ہو جائے گا تالی بجانا عورتوں کے لیے ہے۔‘‘[صحیح مسلم:ح 944]
ایک روایت میں ہے کہ:’’ آپ صلی اللہ علیہ وسلم صفوں سے نکلتے ہوئے پہلی صف میں آکر کھڑے ہو گئے اور حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ الٹے پاؤں پیچھے آگئے۔‘‘
بخاری شریف کی ایک روایت میں ہے:[ جب نماز کا وقت ہوگیا] تو حضرت بلال رضی اللہ عنہ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پاس آئے اور کہا :اے ابوبکر ! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو تاخیرہوگئی ہے اور نماز کا وقت ہوگیا ہے ؛ کیا آپ لوگوں کو نماز پڑھائیں گے تو میں اقامت کہوں ؟ فرمایا: ہاں ! اگر آپ چاہتے ہیں تو۔‘‘
ایک روایت میں ہے : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :’’ اے لوگو! تمہیں کیا ہوگیا ہے جب نماز میں کوئی ضرورت پیش آتی ہے تو تم تالیاں بجاتے ہو ؛ بیشک تالی بجانا عورتوں کے لیے ہے۔ جب تمہیں نماز میں کوئی چیز پیش آجائے تو تم سبحان اللہِ کہو ؛ اس لیے کہ جب بھی کوئی سبحان اللہِ سنے گا تو اس طرف متوجہ ہو جائے گا۔‘‘
پھر فرمایا: اے ابوبکر! جب میں نے تجھ کو اشارہ کردیا تھا تو تم لوگوں کی امامت کراؤ؟
ایک روایت میں ہے : یہ عصر کی نماز تھی ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ظہر کی نماز پڑھانے کے بعد بنی عمرو بن عوف میں صلح کرانے کے لیے تشریف لے گئے تھے۔ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کو اشارہ کیا تو اس کا مطلب یہ تھا کہ نماز کو جاری رکھو۔ آپ نے اپنے ہاتھ سے اشارہ کیا تھا۔ تو حضرت ابوبکر کچھ دیر کھڑے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اس نوازش پر اللہ تعالیٰ کی حمد و ثناء بیان کرتے رہے ؛ پھر الٹے پاؤں پیچھے ہٹ گئے۔ ایک ر وایت میں ہے کہ اہل قباء کا آپس میں جھگڑا ہوگیا اور انہوں نے ایک دوسرے پر سنگ باری کی۔ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس کی خبر دی گئی تو آپ نے فرمایا: ’ ’ہمیں لے چلو ‘ ان کے مابین صلح کراتے ہیں ۔‘‘
ایک روایت میں ہے : نماز کا وقت آگیا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم واپس تشریف نہیں لائے۔یہ حدیث سب سے صحیح ترین حدیث ہے۔ اس کی صحت پر محدثین اور اہل علم کا اتفاق ہے اورعلماء میں اسے مقبولیت حاصل ہے۔[الحدیث بِرِوایاتِہِ المختلِفۃِ عن سہلِ بنِ سعد الساعِدِیِ رضِی اللہ عنہ فِی البخاری ۱؍۱۳۸۔ِکتاب الأذانِ، باب من دخل لِیؤم الناس فجاء الِإمام الأول۔مسلِم۱؍۳۱۶؛ کتاب الصلاِۃ، باب تقدِیمِ الجماعِۃ من یصلِی بِہِم۔]
اس روایت میں یہ بھی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی عدم موجود گی میں حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے عصر کی نماز پڑھائی؛ یہی وہ درمیانی نماز ہے جس کی حفاظت کا حکم قرآن میں بطور خاص دیا گیا ہے۔جب صحابہ کرام کو علم ہوا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مصروف ہیں ۔ آپ اہل قباء میں صلح کرانے کے لیے تشریف لے گئے تھے ۔ اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی اس سنت کا بھی علم تھا کہ آپ ایسے احوال میں کسی ایک کو امام بنالینے کا حکم دیا کرتے تھے۔ جیساکہ غزوہ تبوک کے موقع پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی عدم موجودگی میں نماز فجر کے لیے صحابہ کرام نے حضرت عبدالرحمن بن عوف کو آگے بڑھا دیا تھا۔ یہ اس وقت ہوا جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ قضائے حاجت کے لیے تشریف لے گئے اور واپسی میں تأخیر ہوگئی۔ اس وقت آپ پر اون کا ایک جبہ تھا۔ اور حضرت بلال رضی اللہ عنہ ہی مؤذن تھے جو دوسروں سے زیادہ ان امور کے جاننے والے تھے۔آپ نے ہی حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ سے نماز پڑھانے کے لیے کہا تھا۔ تو آپ نے نماز پڑھا دی تھی۔ اور خصوصاً جب کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ان کے بارے میں فرما کر گئے تھے۔
صحیحین میں حضرت سہل بن سعد ساعدی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو بنو عمرو بن عوف کے مابین جھگڑے کی خبر پہنچی توآپ ظہر کے بعد ان کے درمیان صلح کرانے کے لیے تشریف لے گئے ۔آپ نے حضرت بلال رضی اللہ عنہ کو حکم دیا کہ : اگر نماز کا وقت ہوگیا اور میں نہ آیا تو حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کو حکم دینا کہ وہ لوگوں کو نماز پڑھائیں ....۔‘‘
پھر جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لے آئے تو آپ نے حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کو اشارہ کیا کہ وہ نماز کو پورا کریں ۔ ابوبکر رضی اللہ عنہ ادب کے راستے پر گامزن ہوتے ہوئے واپس پیچھے ہٹ گئے۔ اس لیے کہ آپ جانتے تھے آپ کایہ حکم حکم ِ عزت و احترام و اکرام ہے ؛ اس کا ماننا لازمی یا واجب نہیں ۔ اور نہ ہی اس کے نہ ماننے میں نافرمانی کا کوئی پہلو ہے۔ پس جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی موجود گی میں اور بحالت صحت آپ کو اس نماز کے پورا کرنے کے لیے امام برقرار رکھا جو آپ شروع کرچکے تھے‘ اور خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ کے پیچھے نماز پڑھی؛ جیسا کہ غزوہ تبوک کے موقعہ پر فجر کی ایک رکعت حضرت عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ کے پیچھے پڑی ؛ او ردوسری رکعت کو پورا کرلیا۔ تو پھر یہ کیسے گمان کیا جاسکتا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی بیماری کی حالت میں خودآپ کو امامت پر مامور کرکے پھر باہر نکلیں کہ آپ کو لوگوں کی امامت سے منع کریں ۔ اس سے واضح ہوگیا کہ صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کا حال اللہ اور اس کے رسول او راہل ایمان کے نزدیک اس سے یکسر مختلف ہے جو ان جھوٹے اور کذاب روافض منافقین و مرتدین اور کفار کے بھائیوں نے گھڑ لیے ہیں جو اللہ کے دشمنوں سے تو دوستی رکھتے ہیں ؛ مگر اس کے دوستوں سے دشمنی رکھتے ہیں ۔
اس میں کوئی شک نہیں کہ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ او ران کے اعوان و انصار اس میں سب سے زیادہ کفار و منافقین و مرتدین سے جہاد کرنے میں سب سے زیادہ سخت تھے۔ ان ہی کی شان بیان کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں :
﴿ فَسَوْفَ یَاْتِی اللّٰہُ بِقَوْمٍ یُّحِبُّہُمْ وَ یُحِبُّوْنَہٗٓ اَذِلَّۃٍ عَلَی الْمُؤْمِنِیْنَ اَعِزَّۃٍ عَلَی الْکٰفِرِیْنَ یُجَاہِدُوْنَ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ وَ لَا یَخَافُوْنَ لَوْمَۃَ لَآئِمٍ ذٰلِکَ فَضْلُ اللّٰہِ یُؤْتِیْہِ مَنْ یَّشَآئُ﴾ [المائدۃ ۵۴]
’’تو اللہ تعالیٰ بہت جلد ایسی قوم کو لائے گا جو اللہ کی محبوب ہوگی اور وہ بھی اللہ سے محبت رکھتی ہوگی وہ نرم دل ہونگے مسلمانوں پر سخت اور تیز ہونگے کفار پر، اللہ کی راہ میں جہاد کریں گے اور کسی ملامت کرنے والے کی ملامت کی پرواہ بھی نہ کریں گے یہ ہے اللہ تعالیٰ کا فضل جسے چاہے دیدے۔‘‘
آپ کے اعوان و انصار اس امت کے سب سے بہترین اور افضل ترین لوگ تھے۔ یہ بات سلف و خلف سب میں معلوم ہے ۔ مہاجرین و انصار کے بہترین لوگ آپ کو محبت میں دوسروں پر مقدم رکھتے تھے۔ اور آپ کے حق کا خیال رکھا کرتے تھے ۔ اور آپ کو اذیت دینے والوں سے آپ کا دفاع کرتے تھے۔ اس کی مثال یہ ہے کہ :انصار کے امراء دو لوگ ہیں : حضرت سعد بن معاذ او رسعد بن عبادہ رضی اللہ عنہما ۔ ان دومیں سے سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ زیادہ افضل ہیں ۔ صحیح حدیث میں ہے : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ’’ سعد کی موت پر اللہ تعالیٰ کا آپ کی روح آنے کی خوشی میں کانپ اٹھا تھا۔‘‘ اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے خود آپ کے جنازہ کو اپنے کندھوں پر اٹھایا تھا۔
جب آپ نے بنی قریظہ کے بارے میں فیصلہ کیا تو اللہ کے دین میں کسی ملامت گر کی ملامت کی پرواہ نہیں کی ۔ اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’ یقیناً آپ نے وہ فیصلہ کیا ہے جو اللہ تعالیٰ نے سات آسمانوں کے اوپر کیا ہے ۔‘‘[تخریج گزرچکی]
یہ بات معروف ہے کہ افک کے معاملہ میں آپ او رآپ کے چچا زادحضرت اسید بن حضیر رضی اللہ عنہ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ اورآپ کی بیٹی کے زبردست حمایتی تھے۔ فتح مکہ کے دن جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مکہ میں داخل ہوئے تو مہاجرین کے سردار حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ آپ کے دائیں تھے۔ اورانصار کے سردار حضرت اسید بن حضیر رضی اللہ عنہ آپ کی بائیں جانب تھے۔ اس لیے کہ حضرت سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ اس سے پہلے غزوہ خندق اور بنو قریظہ کافیصلہ کرنے کے بعد وفات پاچکے تھے۔
جب آیت تیمم نازل ہوئی تو حضرت اسید بن حضیر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ’’اے آل ابی بکر ! یہ آپ کی پہلی برکت نہیں ہے۔ جب بھی آپ کے ساتھ کوئی ایسا واقعہ پیش آیا جسے آپ ناپسند کرتی تھیں ‘ مگر اللہ تعالیٰ نے اس میں تمہارے لیے کشادگی پیدا کردی؛ او راسے مسلمانوں کے لیے باعث برکت بنا دیا۔‘‘
حضرت عمر اورحضرت ابوعبیدہ رضی اللہ عنہما او ران کے امثال بہترین مہاجرین صحابہ بھی حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کے بڑے اعوان و انصار میں سے تھے۔یہ لوگ تو حضرت سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ سے افضل تھے جو کہ آپ کی بیعت سے پیچھے رہے۔ افک کے موقع پر آپ نے ویسا دفاع بھی نہیں کیا۔ فتح مکہ کے موقع پر آپ کو معزول کردیا گیا۔اوریہ بھی روایت کیا گیا ہے کہ جنات نے آپ کو قتل کردیا تھا۔ اگرچہ آپ سابقین اولین اور اہل جنت میں سے تھے ۔ ایسے ہی حضرت عمرو عثمان رضی اللہ عنہما حضرت علی رضی اللہ عنہ سے افضل تھے۔ مگر انہوں نے افک کے موقعہ پر حضرت ابوبکر الصدیق رضی اللہ عنہ کی کوئی خاص نصرت نہیں کی۔ جب کہ خلافت ابوبکر رضی اللہ عنہ میں انہوں نے اطاعت الٰہی اور اطاعت رسول میں حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کی معاونت میں وہ کردار ادا کیا جو کہ دوسروں کو نصیب نہ ہوا۔ اللہ تعالیٰ ہی سچا اور مبنی بر عدل فیصلہ کرنے والا ہے ۔ وہ لوگوں کو ان کے اعمال کے مطابق بدلہ دے گا۔ اللہ تعالیٰ نے تو انبیاء کرام علیہم السلام میں سے بھی بعض کو بعض پر فضیلت دی ہے۔ اوررسولوں کو باقی لوگوں پر فضیلت دی ہے۔ اور اولوالعزم رسولوں کو باقی تمام رسولوں پر فضیلت دی ہے۔ ایسے ہی مہاجرین و انصار میں سے سابقین اولین کو باقی صحابہ پر فضیلت دی ہے۔ اوریہ سب اللہ کے سچے ولی ہیں ۔اور تمام کے تمام جنتی ہیں ۔ اللہ تعالیٰ نے ان میں سے بعض کے درجات بعض سے بلند کیے ہیں ۔ ان مہاجرین و انصار میں سے جو کوئی بھی حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کے جتنا ہی قریب تھا وہ اتنا ہی افضل تھا۔ قدیم و جدید میں ہمیشہ سے خیار المسلمین حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کے ساتھ رہے ہیں ۔اس کی وجہ یہ ہے کہ آپ کا ایمان بھی کامل تھا اور آپ کی ذات بھی کامل تھی۔ اور آپ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی قرابت داری اور اہل بیت کا سب سے زیادہ خیال کرنے والے تھے ۔ اس لیے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کمال محبت نے آپ کے دل میں اہل بیت کی محبت کوٹ کوٹ کر بھر دی تھی۔ اور اس کی یہ وجہ بھی تھی کہ اہل بیت کی رعایت اللہ اوراس کے رسول کی طرف سے مامور بہ تھی۔ آپ[ لوگوں کو اہل بیت اور آل رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت رکھنے کی وصیت کیا کرتے اور] فرمایا کرتے تھے :((اِرْقَبُوْا مُحَمَّداً فِيْ أَہْلِ بَیْتِہٖ))[صحیح بخاری، کتاب المرضی، باب ما رخص للمریض ان یقول انی وجع، (ح: ۵۶۶۶)، صحیح مسلم، کتاب فضائل الصحابۃ، باب من فضائل ابی بکر الصدیق رضی اللّٰہ عنہ (ح:۲۳۸۷)]
’’ حضرت محمد [ صلی اللہ علیہ وسلم ] کو آپ کے اہلِ بیت میں تلاش کرو۔‘‘
[یعنی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اہلِ بیت کا ادب و احترام مدِّ نظر رکھا کرو۔]
امام بخاری رحمہ اللہ نے روایت کیا ہے کہ آپ قسم اٹھاکر فرمایاکرتے تھے:’’اللہ کی قسم ! اہل بیت کی قرابت کے ساتھ صلہ رحمی کرنا مجھے میرے اپنے قرابت داروں کے ساتھ صلہ رحمی کرنے سے زیادہ محبوب اورپسندیدہ ہے ۔‘‘
[اللہ کرے ہمارا خاتمہ اصحاب اربعہ اور اہل بیت کی الفت و محبت پر ہو۔ اس لیے کہ’’اَلْمَرْئُ مَعَ مَنْ اَحَبَّ۔‘‘][صحیح بخاری، کتاب الأدب، باب علامۃ الحب فی اللّٰہ(حدیث:۶۱۶۸،۶۱۶۹)، صحیح مسلم ۔ کتاب البر والصلۃ، باب المرء مع من احب (حدیث:۲۶۴۰)۔]
’’انسان اسی کیساتھ ہوگا جس سے وہ محبت کرتا ہوگا۔‘‘
’’وَاللّٰہُ اَعْلَمُ۔ وَالْحَمْدُ لِلّٰہِ عَلَی الْاِسْلَامِ وَالسُّنَّۃِ وَ صَلَّی اللّٰہُ عَلٰی سیِّدِنَا مُحَمَّدٍ وَّ اٰلِہٖ وَ صَحَابَتِہٖ وَ اَزْوَاجِہٖ وَ ذُرِّیَّتِہٖ الطَّیِّبِیْنَ الطَّاہِرِیْنَ وَسَلَّمَ تَسْلِیْمًا کَثِیْرًا اِلٰی یَوْمِ الدِّیْنَ۔