فصل: ....[خلافت ابوبکر رضی اللہ عنہ اورارشاد نبوت] - ردِ…

فصل: ....[خلافت ابوبکر رضی اللہ عنہ اورارشاد نبوت]

  امام ابنِ تیمیہؒ

صفحہ 3 از 3

’’تو اللہ تعالیٰ بہت جلد ایسی قوم کو لائے گا جو اللہ کی محبوب ہوگی اور وہ بھی اللہ سے محبت رکھتی ہوگی وہ نرم دل ہونگے مسلمانوں پر سخت اور تیز ہونگے کفار پر، اللہ کی راہ میں جہاد کریں گے اور کسی ملامت کرنے والے کی ملامت کی پرواہ بھی نہ کریں گے یہ ہے اللہ تعالیٰ کا فضل جسے چاہے دیدے۔‘‘

آپ کے اعوان و انصار اس امت کے سب سے بہترین اور افضل ترین لوگ تھے۔ یہ بات سلف و خلف سب میں معلوم ہے ۔ مہاجرین و انصار کے بہترین لوگ آپ کو محبت میں دوسروں پر مقدم رکھتے تھے۔ اور آپ کے حق کا خیال رکھا کرتے تھے ۔ اور آپ کو اذیت دینے والوں سے آپ کا دفاع کرتے تھے۔ اس کی مثال یہ ہے کہ :انصار کے امراء دو لوگ ہیں : حضرت سعد بن معاذ او رسعد بن عبادہ رضی اللہ عنہما ۔ ان دومیں سے سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ زیادہ افضل ہیں ۔ صحیح حدیث میں ہے : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ’’ سعد کی موت پر اللہ تعالیٰ کا آپ کی روح آنے کی خوشی میں کانپ اٹھا تھا۔‘‘ اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے خود آپ کے جنازہ کو اپنے کندھوں پر اٹھایا تھا۔

جب آپ نے بنی قریظہ کے بارے میں فیصلہ کیا تو اللہ کے دین میں کسی ملامت گر کی ملامت کی پرواہ نہیں کی ۔ اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’ یقیناً آپ نے وہ فیصلہ کیا ہے جو اللہ تعالیٰ نے سات آسمانوں کے اوپر کیا ہے ۔‘‘[تخریج گزرچکی]

یہ بات معروف ہے کہ افک کے معاملہ میں آپ او رآپ کے چچا زادحضرت اسید بن حضیر رضی اللہ عنہ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ اورآپ کی بیٹی کے زبردست حمایتی تھے۔ فتح مکہ کے دن جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مکہ میں داخل ہوئے تو مہاجرین کے سردار حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ آپ کے دائیں تھے۔ اورانصار کے سردار حضرت اسید بن حضیر رضی اللہ عنہ آپ کی بائیں جانب تھے۔ اس لیے کہ حضرت سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ اس سے پہلے غزوہ خندق اور بنو قریظہ کافیصلہ کرنے کے بعد وفات پاچکے تھے۔

جب آیت تیمم نازل ہوئی تو حضرت اسید بن حضیر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ’’اے آل ابی بکر ! یہ آپ کی پہلی برکت نہیں ہے۔ جب بھی آپ کے ساتھ کوئی ایسا واقعہ پیش آیا جسے آپ ناپسند کرتی تھیں ‘ مگر اللہ تعالیٰ نے اس میں تمہارے لیے کشادگی پیدا کردی؛ او راسے مسلمانوں کے لیے باعث برکت بنا دیا۔‘‘

حضرت عمر اورحضرت ابوعبیدہ رضی اللہ عنہما او ران کے امثال بہترین مہاجرین صحابہ بھی حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کے بڑے اعوان و انصار میں سے تھے۔یہ لوگ تو حضرت سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ سے افضل تھے جو کہ آپ کی بیعت سے پیچھے رہے۔ افک کے موقع پر آپ نے ویسا دفاع بھی نہیں کیا۔ فتح مکہ کے موقع پر آپ کو معزول کردیا گیا۔اوریہ بھی روایت کیا گیا ہے کہ جنات نے آپ کو قتل کردیا تھا۔ اگرچہ آپ سابقین اولین اور اہل جنت میں سے تھے ۔ ایسے ہی حضرت عمرو عثمان رضی اللہ عنہما حضرت علی رضی اللہ عنہ سے افضل تھے۔ مگر انہوں نے افک کے موقعہ پر حضرت ابوبکر الصدیق رضی اللہ عنہ کی کوئی خاص نصرت نہیں کی۔ جب کہ خلافت ابوبکر رضی اللہ عنہ میں انہوں نے اطاعت الٰہی اور اطاعت رسول میں حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کی معاونت میں وہ کردار ادا کیا جو کہ دوسروں کو نصیب نہ ہوا۔ اللہ تعالیٰ ہی سچا اور مبنی بر عدل فیصلہ کرنے والا ہے ۔ وہ لوگوں کو ان کے اعمال کے مطابق بدلہ دے گا۔ اللہ تعالیٰ نے تو انبیاء کرام علیہم السلام میں سے بھی بعض کو بعض پر فضیلت دی ہے۔ اوررسولوں کو باقی لوگوں پر فضیلت دی ہے۔ اور اولوالعزم رسولوں کو باقی تمام رسولوں پر فضیلت دی ہے۔ ایسے ہی مہاجرین و انصار میں سے سابقین اولین کو باقی صحابہ پر فضیلت دی ہے۔ اوریہ سب اللہ کے سچے ولی ہیں ۔اور تمام کے تمام جنتی ہیں ۔ اللہ تعالیٰ نے ان میں سے بعض کے درجات بعض سے بلند کیے ہیں ۔ ان مہاجرین و انصار میں سے جو کوئی بھی حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کے جتنا ہی قریب تھا وہ اتنا ہی افضل تھا۔ قدیم و جدید میں ہمیشہ سے خیار المسلمین حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کے ساتھ رہے ہیں ۔اس کی وجہ یہ ہے کہ آپ کا ایمان بھی کامل تھا اور آپ کی ذات بھی کامل تھی۔ اور آپ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی قرابت داری اور اہل بیت کا سب سے زیادہ خیال کرنے والے تھے ۔ اس لیے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کمال محبت نے آپ کے دل میں اہل بیت کی محبت کوٹ کوٹ کر بھر دی تھی۔ اور اس کی یہ وجہ بھی تھی کہ اہل بیت کی رعایت اللہ اوراس کے رسول کی طرف سے مامور بہ تھی۔ آپ[ لوگوں کو اہل بیت اور آل رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت رکھنے کی وصیت کیا کرتے اور] فرمایا کرتے تھے :((اِرْقَبُوْا مُحَمَّداً فِيْ أَہْلِ بَیْتِہٖ))[صحیح بخاری، کتاب المرضی، باب ما رخص للمریض ان یقول انی وجع، (ح: ۵۶۶۶)، صحیح مسلم، کتاب فضائل الصحابۃ، باب من فضائل ابی بکر الصدیق رضی اللّٰہ عنہ (ح:۲۳۸۷)]

’’ حضرت محمد [ صلی اللہ علیہ وسلم ] کو آپ کے اہلِ بیت میں تلاش کرو۔‘‘

[یعنی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اہلِ بیت کا ادب و احترام مدِّ نظر رکھا کرو۔]

امام بخاری رحمہ اللہ نے روایت کیا ہے کہ آپ قسم اٹھاکر فرمایاکرتے تھے:’’اللہ کی قسم ! اہل بیت کی قرابت کے ساتھ صلہ رحمی کرنا مجھے میرے اپنے قرابت داروں کے ساتھ صلہ رحمی کرنے سے زیادہ محبوب اورپسندیدہ ہے ۔‘‘

[اللہ کرے ہمارا خاتمہ اصحاب اربعہ اور اہل بیت کی الفت و محبت پر ہو۔ اس لیے کہ’’اَلْمَرْئُ مَعَ مَنْ اَحَبَّ۔‘‘][صحیح بخاری، کتاب الأدب، باب علامۃ الحب فی اللّٰہ(حدیث:۶۱۶۸،۶۱۶۹)، صحیح مسلم ۔ کتاب البر والصلۃ، باب المرء مع من احب (حدیث:۲۶۴۰)۔]

’’انسان اسی کیساتھ ہوگا جس سے وہ محبت کرتا ہوگا۔‘‘

’’وَاللّٰہُ اَعْلَمُ۔ وَالْحَمْدُ لِلّٰہِ عَلَی الْاِسْلَامِ وَالسُّنَّۃِ وَ صَلَّی اللّٰہُ عَلٰی سیِّدِنَا مُحَمَّدٍ وَّ اٰلِہٖ وَ صَحَابَتِہٖ وَ اَزْوَاجِہٖ وَ ذُرِّیَّتِہٖ الطَّیِّبِیْنَ الطَّاہِرِیْنَ وَسَلَّمَ تَسْلِیْمًا کَثِیْرًا اِلٰی یَوْمِ الدِّیْنَ۔


صفحہ 3 از 3