الشیخ صالح بن فوزان الفوزان
علی محمد الصلابیسعودی عرب کے اکابر علماء کمیٹی کے رُکن اور معروف عالم دین
لکھتے ہیں ہر جگہ اور ہر زمانے میں منافقین، اسلام اور پیغمبر اسلام کے خلاف خباثت اور کینے و حسد سے لبریز مذموم ہتھکنڈے استعمال کرتے آئے ہیں، تاکہ وہ اللہ کے نور کو اپنی پھونکوں سے بجھاسکیں، لیکن اللہ تعالیٰ اپنے نور کو مکمل کرنے والا ہے اگرچہ کافر اسے کتنا ہی ناپسند جانیں۔
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور ملت اسلامیہ سے ان لوگوں کے بغض و کینہ کی سب سے قبیح مثالآپ صلی اللہ علیہ وسلم کی محبوب ترین بیوی اور آپ کی بیویوں میں سے افضل ترین خاتون سیدہ عائشہ بنت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہما کی شان اقدس پر بہتان تراشی ہے، لیکن ان کی قبیح خواہشات کے برعکس ان کے یہ زہریلے تیر ان کے اپنے ہی سینوں میں آرپار ہو جاتے ہیں، چونکہ اللہ تعالیٰ ہر زمانے میں منتخب علمائے اسلام کو ان ظالموں پر مسلط کر دیتا ہے جو وقتاً فوقتاً ان کے کذب و مفتریات کی خبر لیتے رہتے ہیں اور ہمیشہ ان کی حالت بزبانِ شاعر:
کَنَاطِحِ صَخْرَۃً یَوْمًا لِیُوْہِنَہَا
فَلَمْ یَضُرَّہَا وَ أَوْہٰی قَرْنَہُ الْوَعْلُ
اس پہاڑی بکرے کی طرح ہو جاتی ہے جو چٹانوں کو کمزور کرنے کے لیے ہر وقت اپنے سینگوں سے ان کو کھرچتا رہتا ہے اور ان کے ساتھ ٹکریں مارتا جاتا ہے۔ نتیجہ کیا نکلتا ہے کہ چٹان تو اپنی جگہ پر برقرار رہتی ہے البتہ بکرے کا سر پھٹ جاتا ہے اور وہ خود کو لہو لہان کر لیتا ہے۔
چنانچہ اللہ تعالیٰ نے قیامت تک پڑھی جانے والی اپنی کتاب میں سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کی برأت نازل فرمائی اور عرش بریں سے اس مظلومہ و معصومہ کی پاکدامنی پر مہر تصدیق ثبت کر دی اور مزید ان ظالموں اور منافقوں کی تکذیب و وعید اور تغلیط بھی نازل فرما دی۔
وَالْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعَالَمِیْن۔