حدیث سیدنا عماررضی اللہ عنہ بن یاسر - ردِ رافضیت | دفاع…

حدیث سیدنا عماررضی اللہ عنہ بن یاسر

  شہزاد علی

صفحہ 1 از 5

حدیث سیدنا عمارؓ بن یاسر

حدثنا إبراهيم بن موسىٰ اخبرنا عبد الوهاب حدثنا خالد عن عكرمة ان ابنِ عباس قال له، ولعلى بن عبد الله انتيا ابا سعيد فاسمعا من حديثه فاتيناه وهو واخوه فى حائط لهما يسقيانه فلما رآنا جاء فاحتبى وجلس، فقال كنا ننقل لبن المسجد لبنة لبنة، وكان عمار ينقل لبنتين لبنتين فمر به النبي صلى الله عليه وسلم، ومسح عن راسه الغبار، وقال ويح عمار تقتله الفئة الباغية عمار يدعوهم إلى الله، ويدعونه إلى النار. 

(صحيح البخاری2812)

ترجمہ: ہم سے ابراہیم بن موسیٰ نے بیان کیا، کہا ہم کو عبد الوہاب سکفی نے خبر دی، کہا ہم سے خالد نے بیان کیا عکرمہ سے ابنِ عباسؓ نے ان سے اور اپنے صاحبزادے علی بن عبداللہ سے فرمایا تم دونوں سیدنا ابو سعید خدریؓ کی خدمت میں جاؤ اور ان سے احادیثِ نبویﷺ سنو چنانچہ ہم حاضر ہوئے اس وقت سیدنا ابو سعید خدریؓ اپنے( رضاعی) بھائی کے ساتھ باغ میں تھے اور باغ کو پانی دے رہے تھے جب آپ نے ہمیں دیکھا تو ہمارے پاس تشریف لائے اور چادر اوڑھ کر گوٹ مار کر بیٹھ گئے اس کے بعد بیان فرمایا ہم مسجد نبویﷺ کی اینٹیں( ہجرت نبوی کے بعد تعمیر مسجد کے لیے) ایک ایک کر کے ڈھو رہے تھے لیکن سیدنا عمارؓ دو دو اینٹیں لا رہے تھے اتنے میں نبی کریمﷺ ادھر سے گزرے اور ان کے سر سے غبار کو صاف کیا پھر فرمایا افسوس سیدنا عمارؓ کو ایک باغی جماعت مارے گی یہ تو انہیں اللہ کی اطاعت کی طرف دعوت دے رہا ہوگا لیکن اسے جہنم کی طرف بلا رہے ہوں گے۔

اعتراض: اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ سیدنا امیر معاویہؓ کا گروہ باغی تھا کیونکہ سیدنا عمارؓ ان کے گروہ کی طرف سے قتل ہوئے تھے۔

جواب: یہ حدیث سیدنا امیر معاویہؓ کے لیے ہو ہی نہیں سکتی کیونکہ حدیث میں آیا ہے کہ سیدنا عمارؓ ان کو اللہ کی طرف دعوت دے رہا ہو گا لیکن وہ اسے جہنم کی طرف بلا رہے ہوں گے ایک صحابی رسولﷺ کی طرف بلانے کے بجائے جہنم کی طرف کیسے بلا سکتا ہے جبکہ آپﷺ کی حدیث ہے۔

حدثني عبيد الله القواريرى حدثنا محمد بن عبد الله بن الزبير، حدثنا سفيان، عن حبيب بن ابي ثابت، عن الضحاك المشرقي، عن ابي سعيد الخدري، عن النبي صلى الله عليه وسلم في حديث ذكر فيه قوما يخرجون على فرقة مختلفة يقتلهم اقرب الطائفتين من الحق۔

( صحیح مسلم حدیث :2461)

ترجمہ: سیدنا ابو سعید خدریؓ سے اور انھوں نے نبی کریمﷺ سے یہ بات ایک حدیث میں روایت کی جس میں آپ نے اس قوم کا تذکرہ فرمایا جو (امت کے) مختلف گروہوں میں بٹنے کے وقت نکلے گی،ان کو دونوں گروہوں میں سے حق سے قریب تر گروہ قتل کرے گا۔

محدثین نے کہا ہے کہ یہاں پر دونوں گروہ سے مراد سیدنا امیر معاویہؓ اور سیدنا علیؓ کا گروہ ہے اور یہاں پر کہا گیا ہے کہ ایک حق کے زیادہ قریب تر گروہ ہو گا یعنی دوسرا حق کے کم قریب ہو گا اور جو حق کے قریب تر ہو گا وہ سیدنا علیؓ کا گروہ ہے۔

مذکورہ اتفاقی صحیح حدیث سے پتا چلا کہ ایک وقت آئے گا جس میں مسلمانوں کی دو جماعتیں ہو جائیں گی؟ ان دو جماعتوں سے مراد سیدنا علیؓ اور سیدنا معاویہؓ کی جماعتیں ہیں۔ جیسا کہ مذکورہ روایت کی وضاحت کرتے ہوئے علامہ نوویؒ نے فرمایا:

افتراق يقع بين المسلمين، وهو الافتراق الذي كان بين على و معاوية رضى الله عنهما۔

(شرح نووی:جلد 3 صفحہ 454)

ترجمہ: یعنی مسلمانوں کے بیچ میں ہونے والے اختلافات سے مراد سیدنا علیؓ اور سیدنا معاویہؓ کے بیچ میں ہونے والا اختلاف ہے 

شیخ الاسلام ابنِ تیمیہؒ (المتوفی:728ھ) نے اس حدیث کی وضاحت میں فرمایا:

فهذا الحديث الصحيح دليل على ان كلا الطائفتين المقتتلتين علی و اصحابه و معاویه و اصحابه على حق وان عليا واصحابه كانوا اقرب الى الحق من معاوية واصحابه

(فتاویٰ ابنِ تيميةؒ جلد 4 صفحہ467)

ترجمہ: یہ صحیح حدیث دلالت کرتی ہے کہ دونوں لڑنے والے جماعتیں یعنی سیّدنا علیؓ اور ان کے ساتھی سیدنا معاویہؓ اور ان کے ساتھی دونوں حق پر ہیں جبکہ سیدنا علیؓ اور ان کے ساتھی حق کے زیادہ قریب ہیں بمقابلہ سیدنا معاویہؓ اور ان کے ساتھیوں کے لیکن یہ دونوں حق پر ہیں ۔

علامہ شمس الدین ابو عبداللہ محمد بن احمد بن عثمان ذہبیؒ (المتوفی :748ھ )فرماتے ہیں:

كما تفرر الكف عن كثير مما شجر بينهم وقتالهم رضى الله عنهم اجمعين۔

(سیر اعلام النبلاء:جلد 10صفحہ92)

ترجمہ: یہ بات طے شدہ ہے کہ صحابہؓ کے درمیان جو اختلاف وغیرہ ہو اس پر سکوت کیا جائے۔

 ایک اور حدیث ملاحظہ فرمائیں جو کہ مستدرک الحاکم کی ہے جس میں یہ بات صاف واضح ہو جاتی ہے کہ یہ حدیث خوارج کے بارے میں ہے۔

حدثنا أبو أحمد الحسين بن على التميمي،ثنا أبو القاسم عبد الله بن محمد البغوى،ثنا أبو كامل الجحدري ثنا عبد العزيز بن المختار ثنا خالد الحذاء، عن عكرمة عن ابن عباس رضى الله عنهما،أنه قال له ولابنه على انطلقا إلى أبي سعيد فاسمعا منه حديثه في شأن الخوارج فانطلقا فإذا هو فى حائط له يصلح فلما رأنا أخذ رداءه، ثم احتبى،ثم أنشأ يحدثنا حتىٰ علا ذكره في المسجد ، فقال كنا نحمل لبنة لبنة وعمار يحمل لبنتين لبنتين، فرآه النبي صلى الله عليه وآله وسلم فجعل ينفض التراب عن رأسه، ويقول يا عمار ألا تحمل لبنة لبنة كما يحمل أصحابك ؟ قال إلى أريد الأجر عند الله قال فجعل ينفض ويقول ويح عمار ، تقتله الفئة الباغية قال ويقول عمار أعوذ بالله من الفتن هذا حديث صحيح على شرط البخاري،ولم يخرجاه بهذه السياقة۔

(مستدرك الحاكم:2653)

صفحہ 1 از 5