Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

حدیث سیدنا عمارؓ بن یاسر

  شہزاد علی

حدیث سیدنا عمارؓ بن یاسر

حدثنا إبراهيم بن موسىٰ اخبرنا عبد الوهاب حدثنا خالد عن عكرمة ان ابنِ عباس قال له، ولعلى بن عبد الله انتيا ابا سعيد فاسمعا من حديثه فاتيناه وهو واخوه فى حائط لهما يسقيانه فلما رآنا جاء فاحتبى وجلس، فقال كنا ننقل لبن المسجد لبنة لبنة، وكان عمار ينقل لبنتين لبنتين فمر به النبي صلى الله عليه وسلم، ومسح عن راسه الغبار، وقال ويح عمار تقتله الفئة الباغية عمار يدعوهم إلى الله، ويدعونه إلى النار. 

(صحيح البخاری2812)

ترجمہ: ہم سے ابراہیم بن موسیٰ نے بیان کیا، کہا ہم کو عبد الوہاب سکفی نے خبر دی، کہا ہم سے خالد نے بیان کیا عکرمہ سے ابنِ عباسؓ نے ان سے اور اپنے صاحبزادے علی بن عبداللہ سے فرمایا تم دونوں سیدنا ابو سعید خدریؓ کی خدمت میں جاؤ اور ان سے احادیثِ نبویﷺ سنو چنانچہ ہم حاضر ہوئے اس وقت سیدنا ابو سعید خدریؓ اپنے( رضاعی) بھائی کے ساتھ باغ میں تھے اور باغ کو پانی دے رہے تھے جب آپ نے ہمیں دیکھا تو ہمارے پاس تشریف لائے اور چادر اوڑھ کر گوٹ مار کر بیٹھ گئے اس کے بعد بیان فرمایا ہم مسجد نبویﷺ کی اینٹیں( ہجرت نبوی کے بعد تعمیر مسجد کے لیے) ایک ایک کر کے ڈھو رہے تھے لیکن سیدنا عمارؓ دو دو اینٹیں لا رہے تھے اتنے میں نبی کریمﷺ ادھر سے گزرے اور ان کے سر سے غبار کو صاف کیا پھر فرمایا افسوس سیدنا عمارؓ کو ایک باغی جماعت مارے گی یہ تو انہیں اللہ کی اطاعت کی طرف دعوت دے رہا ہوگا لیکن اسے جہنم کی طرف بلا رہے ہوں گے۔

اعتراض: اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ سیدنا امیر معاویہؓ کا گروہ باغی تھا کیونکہ سیدنا عمارؓ ان کے گروہ کی طرف سے قتل ہوئے تھے۔

جواب: یہ حدیث سیدنا امیر معاویہؓ کے لیے ہو ہی نہیں سکتی کیونکہ حدیث میں آیا ہے کہ سیدنا عمارؓ ان کو اللہ کی طرف دعوت دے رہا ہو گا لیکن وہ اسے جہنم کی طرف بلا رہے ہوں گے ایک صحابی رسولﷺ کی طرف بلانے کے بجائے جہنم کی طرف کیسے بلا سکتا ہے جبکہ آپﷺ کی حدیث ہے۔

حدثني عبيد الله القواريرى حدثنا محمد بن عبد الله بن الزبير، حدثنا سفيان، عن حبيب بن ابي ثابت، عن الضحاك المشرقي، عن ابي سعيد الخدري، عن النبي صلى الله عليه وسلم في حديث ذكر فيه قوما يخرجون على فرقة مختلفة يقتلهم اقرب الطائفتين من الحق۔

( صحیح مسلم حدیث :2461)

ترجمہ: سیدنا ابو سعید خدریؓ سے اور انھوں نے نبی کریمﷺ سے یہ بات ایک حدیث میں روایت کی جس میں آپ نے اس قوم کا تذکرہ فرمایا جو (امت کے) مختلف گروہوں میں بٹنے کے وقت نکلے گی،ان کو دونوں گروہوں میں سے حق سے قریب تر گروہ قتل کرے گا۔

محدثین نے کہا ہے کہ یہاں پر دونوں گروہ سے مراد سیدنا امیر معاویہؓ اور سیدنا علیؓ کا گروہ ہے اور یہاں پر کہا گیا ہے کہ ایک حق کے زیادہ قریب تر گروہ ہو گا یعنی دوسرا حق کے کم قریب ہو گا اور جو حق کے قریب تر ہو گا وہ سیدنا علیؓ کا گروہ ہے۔

مذکورہ اتفاقی صحیح حدیث سے پتا چلا کہ ایک وقت آئے گا جس میں مسلمانوں کی دو جماعتیں ہو جائیں گی؟ ان دو جماعتوں سے مراد سیدنا علیؓ اور سیدنا معاویہؓ کی جماعتیں ہیں۔ جیسا کہ مذکورہ روایت کی وضاحت کرتے ہوئے علامہ نوویؒ نے فرمایا:

افتراق يقع بين المسلمين، وهو الافتراق الذي كان بين على و معاوية رضى الله عنهما۔

(شرح نووی:جلد 3 صفحہ 454)

ترجمہ: یعنی مسلمانوں کے بیچ میں ہونے والے اختلافات سے مراد سیدنا علیؓ اور سیدنا معاویہؓ کے بیچ میں ہونے والا اختلاف ہے 

شیخ الاسلام ابنِ تیمیہؒ (المتوفی:728ھ) نے اس حدیث کی وضاحت میں فرمایا:

فهذا الحديث الصحيح دليل على ان كلا الطائفتين المقتتلتين علی و اصحابه و معاویه و اصحابه على حق وان عليا واصحابه كانوا اقرب الى الحق من معاوية

 واصحابه 

(فتاویٰ ابنِ تيميةؒ جلد 4 صفحہ467)

ترجمہ: یہ صحیح حدیث دلالت کرتی ہے کہ دونوں لڑنے والے جماعتیں یعنی سیّدنا علیؓ اور ان کے ساتھی سیدنا معاویہؓ اور ان کے ساتھی دونوں حق پر ہیں جبکہ سیدنا علیؓ اور ان کے ساتھی حق کے زیادہ قریب ہیں بمقابلہ سیدنا معاویہؓ اور ان کے ساتھیوں کے لیکن یہ دونوں حق پر ہیں ۔

علامہ شمس الدین ابو عبداللہ محمد بن احمد بن عثمان ذہبیؒ (المتوفی :748ھ )فرماتے ہیں:

كما تفرر الكف عن كثير مما شجر بينهم وقتالهم رضى الله عنهم اجمعين۔

(سیر اعلام النبلاء:جلد 10صفحہ92)

ترجمہ: یہ بات طے شدہ ہے کہ صحابہؓ کے درمیان جو اختلاف وغیرہ ہو اس پر سکوت کیا جائے۔

 ایک اور حدیث ملاحظہ فرمائیں جو کہ مستدرک الحاکم کی ہے جس میں یہ بات صاف واضح ہو جاتی ہے کہ یہ حدیث خوارج کے بارے میں ہے۔

حدثنا أبو أحمد الحسين بن على التميمي،ثنا أبو القاسم عبد الله بن محمد البغوى،ثنا أبو كامل الجحدري ثنا عبد العزيز بن المختار ثنا خالد الحذاء، عن عكرمة عن ابن عباس رضى الله عنهما،أنه قال له ولابنه على انطلقا إلى أبي سعيد فاسمعا منه حديثه في شأن الخوارج فانطلقا فإذا هو فى حائط له يصلح فلما رأنا أخذ رداءه، ثم احتبى،ثم أنشأ يحدثنا حتىٰ علا ذكره في المسجد ، فقال كنا نحمل لبنة لبنة وعمار يحمل لبنتين لبنتين، فرآه النبي صلى الله عليه وآله وسلم فجعل ينفض التراب عن رأسه، ويقول يا عمار ألا تحمل لبنة لبنة كما يحمل أصحابك ؟ قال إلى أريد الأجر عند الله قال فجعل ينفض ويقول ويح عمار ، تقتله الفئة الباغية قال ويقول عمار أعوذ بالله من الفتن هذا حديث صحيح على شرط البخاري،ولم يخرجاه بهذه السياقة۔

(مستدرك الحاكم:2653)

ترجمہ: سیدنا عکرمہؓ فرماتے ہیں ابنِ عباسؓ نے مجھے اور اپنے بیٹے علی سے کہا تم دونوں سیدنا ابو سعید خدریؓ کے پاس چلے جاؤ اور ان سے خوارج کے متعلق کوئی حدیث سن کر آؤ ہم دونوں چل دیے سیدنا ابو سعید خدریؓ اپنے باغ میں کام کر رہے تھے جب انہوں نے ہمیں دیکھا تھا تو چادر درست کر کے ہم سے باتیں کرنے لگ گئے حتیٰ کہ مسجد کے متعلق بات چل نکلی وہ کہنے لگے ہم ایک اینٹ اٹھا رہے تھے جبکہ سیدنا عمارؓ دو دو اینٹیں اٹھا رہے تھے جب رسولﷺ نے ان کو دیکھا تو ان کے سر سے مٹی جھاڑتے ہوئے بولے اے عمار! اپنے دوسرے ساتھیوں کی طرح تم بھی ایک ایک اینٹ کیوں نہیں اٹھا رہے؟ سیدنا عمارؓ نے جواباً کہا میں اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں اجر کا طلبگار ہوں۔ ابو سعید خدریؓ فرماتے ہیں رسولﷺ (پھر ان کے سر سے) مٹی جھاڑنے لگ گئے اور فرمایا اے عمار! افسوس ہے کہ تجھے ایک باغی گروہ قتل کر دے گا سیدنا عمارؓ بولے میں فتنوں سے اللہ کی پناہ مانگتا ہوں یہ حدیث امام بخاریؒ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخینؒ نے اسے ان الفاظ کے ہمراہ نقل نہیں کیا۔

الفاظ تقتله الفئة الباغية کی حقیقت

یہ الفاظ امام بخاریؒ نے نقل نہیں کیے ہیں جس کی وضاحت محدثین نے اپنی کتابوں میں کر دی ہے جس کی مثال آگے آرہی ہے۔

امام بیہقیؒ (المتوفی :458ھ) اپنی کتاب دلائل النبوۃ میں فرماتے ہیں:

ورواه البخارى فى الصحيح عن مسدد عن عبد العزيز، إلا إنه لم يذكر قوله وتقتله الفئة الباغية۔

(دلائل النبوة :جلد 2 صفحہ 546)

ترجمہ: امام بخاریؒ نے اس کو روایت کیا ہے اپنی صحیح میں عن مسدد عن عبد العزیز کی سند سے مگر ذکر نہیں کیا ہے تقتله الفئة الباغية کے لفظ کو۔

امام محمد بن فتوح الحمیدیؒ (المتوفی 488ھ) اپنی کتاب الجمع بین الصحیحین میں فرماتے ہیں:

هذا الحديث زيادة مشهورة لم يذكرها البخاري اصلا في طريقي هذا الحديث، ولعلها لم تقع إليه فيهما او وقعت فحذفها لغرض قصده في ذلك۔

(الجمع بين الصحيحين جلد 2 صفحہ 462 دار ابنِ حزم)

ترجمہ: امام بخاریؒ نے اس حدیث کے اندر مشہور زیادتی کو بالکل ذکر نہیں کیا اس حدیث کے دونوں طریقوں میں، اس لیے کہ یہ زیادتی یا تو ان دونوں طریقوں میں موجود نہیں تھے یا پھر موجود تھے پھر انہوں نے اس کو کسی غرض اور اپنے کسی ارادے کی وجہ سے حذف کر دیا۔

ابو مسعود الدمشقىؒ(المتوفی 401ھ) فرماتے ہیں:

قال ابو مسعود الدمشقى من كتابه لم يذكر البخاري هٰذه الزيادة۔ 

( الجمع بين الصحيحين:جلد 2 صفحہ 462 دار ابنِ حزم )

ترجمہ: ابو مسعود الدمشقیؒ نے اپنی کتاب میں کہا: بخاری نے اس اضافہ کا ذکر نہیں کیا۔

ابنِ الاثیر الجزریؒ( المتوفی 833ھ) فرماتے ہیں:

قلت انا والذى قراته فى كتاب البخاري من طريق أبي الوقت عبد الأول السخرى رحمه الله من النسخة التي قرات عليه عليها خطه اما في متن الكتاب، فبحذف الزيادة، وقد كتب في الهامش هٰذه الزيادة۔

(جامع الأصول: جلد 9 صفحہ 45)

ترجمہ: میں نے امام بخاریؒ کی کتاب کو پڑھا ہے ابو الوقت عبداللہ البختریؒ کے طریق سے اس نسخہ سے پڑھا ہے جو نسخہ اُن کے سامنے پڑھا جاتا تھا اور اس پر امام بخاریؒ کا مخطوطہ ہے بہر حال متن کتاب کے اندر زیادتی محذوف ہے البتہ حاشیہ کے اندر یہ زیادتی میں نے پائی ہے۔

امام الذہبیؒ (المتوفی 748ھ) فرماتے ہیں:

أخرجه البخارى دون قوله تقتله الفئة الباغية

(تاریخ الاسلام: جلد1صفحہ 18)

ترجمہ: اور امام بخاریؒ نے ذکر کیا ہے تقتله الفئة الباغية کے الفاظ کے بنا۔

علامہ ابنِ حجر عسقلانیؒ (المتوفی 852ھ) فرماتے ہیں:

قلت ويظهر لى ان البخاري حذفها عمدا وذلك لنكتة حفية وهي ان ابا سعيد الخدرى اعترف انه لم يسمع هذه الزيادة من النبي صلى الله عليه وسلم فدل على انها فى هذه الرواية مدرجة والرواية التي بينت ذلك ليست على شرط البخاری

(فتح الباری:جلد 1صفحہ542)

ترجمہ: اور میرے لیے یہ ظاہر ہو گیا کہ امام بخاریؒ نے اس کو جان بوجھ کر حذف کر دیا اور یہ ایک باریک نکتہ ہے اور وہ یہ ہے کہ سیدنا ابو سعید خدریؓ نے کہا کہ ان ہونے اس زیادتی کو نبی کریمﷺ سے نہیں سنا تو یہ اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ یہ روایت مدرج ہے وہ جس سے میرے لیے یہ واضح ہو گیا کہ یہ روایت امام بخاریؓ شرط پر نہیں تھی۔


نسخه ابنِ سعادة:

امام بخاریؒ سے ان کے شاگرد محمد بن یوسف الفربریؒ نے نقل کیا، ان سے ابو محمد عبد الله بن احمد بن الحمویؒ نے، ان سے ابوذر عبد اللہ بن احمد بن الہرویؒ نے،ان سے ابو ولید سلیمان بن خلف الباجیؒ نے،ان سے ابو علی حسین بن محمد بن الصدفیؒ نے،ان سے ابو عبد الله محمد بن یوسف بن سعادةؒ نے (اور آج بخاری کے قدیم ترین نسخوں میں انہی کا نسخہ موجود ہے)

تو یہ تھے بخاری کو نقل کرنے والے امام جیسا کہ ہم بتا چکے کہ آج کے دور میں بخاری کے قدیم نسخوں میں صرف ابنِ سعادةؒ( ابو عبد الله محمد بن یوسف بن سعادةؒ) کا نسخہ موجود ہے تو ہم بخاری میں موجود حدیث سیدنا عمارؒ کو اسی نسخے میں دیکھتے ہیں۔

اس قدیم نسخے میں تقتله الفئة الباغية یہ الفاظ موجود نہیں ہیں صرف ویح عمار يدعوهم الى الجنة ويدعونه الى النار کہ الفاظ موجود ہیں۔ حق ماننے والے کے لیے اتنی دلیل ہی کافی ہے لیکن ہم ذرا دو نسخے کا مطالعہ اور کر لیتے ہیں تا کہ کسی قسم کا اعتراض باقی نہ رہے۔ 

(صحیح البخاری فرع نسخه ابنِ سعادة جلد 1صحفہ نمبر 105)

نسخه يونينية

بخاری کا نسخہ یونینیتہ دیکھیں نسخہ یونینیتہ کو بخاری کے مختلف نسخوں کو مد نظر رکھتے ہوئے تیار کیا گیا اور ان میں جو اختلاف ہوتا تھا ان کو حواشی میں لکھا جاتا تھا۔

صحیح بخاری کے یونینیتہ نسخے میں حدیث سیدنا عمارؓ میں تقتله الفئة الباغية کے اوپر انہوں نے ساقط لکھا ہے۔ یعنی کہ یہ الفاظ اصلی نسخوں میں دستیاب نہیں ہے۔

(صحیح بخاری نسخه اليونينية جلد 1صحفہ97)

نسخه سلطانیه:

بخاری کا نسخہ سلطانیہ دیکھیں سلطان عبدالحمید نے نسخہ یونینیتہ کو مد نظر رکھ کر اس وقت کے علماء کو بلا کر بخاری کا ایک نسخہ تیار کروایا جس کو نسخہ سلطانیہ کا نام دیا،اس میں بھی انہوں نے حدیث عمار میں تقتله الفئة الباغية كے الفاظ کے حاشیے میں ساقط عند ابوذر، والاصیلی لکھا ہے یعنی ابوذر ہروی اور اصیلی کے نسخے میں یہ الفاظ موجود نہیں۔

(صحیح بخاری نسخہ سلطانیة صحفہ491)

مشرق میں اس وقت بخاری کا نسخہ سلطانیہ رائج ہے، اس نسخے میں اور نسخہ یونینیتہ میں اختلافات والے الفاظ کو حدیث میں شامل کر کے حواشی میں اختلاف کو بیان کر دیا گیا تھا لیکن اب شائع ہونے والے نسخوں میں وہ الفاظ بغیر حاشیے کے ساتھ ملا دیے گئے ہیں۔

دیگر کتابوں میں آئی حدیث سیدنا عمارؓ پر ایک نظر

حدثنا محمد بن المثنى، وابن بشار، واللفظ لابن المثنى، قالا حدثنا محمد بن جعفر،حدثنا شعبة عن ابى مسلمة قال سمعت ابا نضرة يحدث، عن ابي سعيد الخدري قال اخبرني من هو خير منى،ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال لعمار حين جعل يحفر الخندق وجعل يمسح راسه، ويقول بؤس ابنِ سمية تقتلك فئة باغية ۔

(صحیح مسلم :7320)

ترجمہ: محمد بن جعفر نے کہا ہمیں شعبہ نے ابو مسلمہ سے حدیث بیان کی،انہوں نے کہا:میں نے ابو نضرہؓ سے سنا، وہ سیدنا ابو سعیدؓ سے روایت کر رہے تھے انہوں نے کہا ایک ایسے شخص نے مجھے بتایا جو مجھ سے بہتر ہے کہ رسولﷺ نے جب آپ نے خندق کھودنے کا آغاز کیا تو سیدنا عمارؓ سے ایک بات ارشاد فرمائی، آپﷺ ان کے سر پر ہاتھ پھیرنے اور فرمانے لگے۔ سمیہ کے بیٹے کی مصیبت تمہیں ایک باغی گروہ قتل کرے گا۔

اس حدیث سے پتا چلتا ہے کہ یہ واقعہ خندق کا ہے، اس سے پہلے جو حدیث گزری تھی بخاری شریف کی، اس میں مدینہ کی تعمیر کا لفظ موجود ہے جبکہ مدینہ کی تعمیر سن ایک ہجری میں ہوئی تھی اور خندق کا واقعہ سن پانچ ہجری میں پیش آیا تھا۔ اس کو کہتے ہیں متن میں اضطراب ۔ اس کے آگے چل کے دیکھتے ہیں مسلم شریف کی ایک اور حدیث

وحدثني محمد بن عمرو بن جبلة، حدثنا محمد بن جعفر وحدثنا عقبة بن مكرم العمى، وابوبكر بن نافع قال عقبة حدثنا وقال ابو بكر اخبرنا غندر ،حدثنا شعبة قال سمعت خالدا يحدث عن سعيد بن ابي الحسن عن امه عن ام سلمة،ان رسول الله صلى الله عليه وسلم، قال لعمار تقتلك الفئة الباغية

(صحيح مسلم:7322)

ترجمہ: محمد بن جعفر غندر نے کہا ہمیں شعبہ نے حدیث بیان کی، کہا میں نے خالد حذا کو سعید بن ابوالحسن سے حدیث روایت کرتے ہوئے سنا، انہوں نے اپنی والدہ سے اور انھوں نے سیدہ اُمِ سلمہؓ سے روایت کی کہ رسولﷺ نے سیدنا عمارؓ سے فرمایا تمہیں ایک باغی گروہ قتل کرے گا۔

اس حدیث کے درمیان میں کوئی بھی ذکر نہیں ہے کہ یہ واقعہ مسجد نبویﷺ کی تعمیر کا ہے یا خندق کے وقت کا ہے۔ مسجد نبویﷺ کی تعمیر سن ایک ہجری میں ہوئی اور اس وقت سیدہ اُمِ سلمہؓ مدینہ میں موجود ہی نہیں تھی ہاں ایک امکان یہ پیدا ہوتا ہے کہ چلو مسجد نبویﷺ کی تعمیر کے وقت سیدہ اُمِ سلمہؓ

موجود نہیں تھی مگر سن چار ہجری میں آپﷺ کی زوجہ بن کے آئی اور غزوہ خندق سن پانچ ہجری میں ہوا تو ہو سکتا ہے یہ حدیث غزوہ خندق کے وقت کی ہو مگر سیرت کی کتابوں سے پتا چلتا ہے کہ غزوہ خندق کے وقت عورتوں کو ایک قلعے میں رکھ دیا گیا تھا سیرت کی بہت سی کتابوں میں آپ یہ واقعہ دیکھ سکتے ہیں جیسے کہ سیرت ابنِ ہشام وغیرہ میں ان سب باتوں سے یہ صاف پتا چلتا ہے کہ سیدہ اُمِ سلمہؓ وہاں موجود نہیں تھی اس کے بعد ترمذی شریف کی حدیث کو دیکھتے ہیں۔

عن ابي هريرة رضى الله عنه قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم ابشر عمار تقتلك الفئة الباغية قال ابو عيسىٰ وفي الباب عن ام سلمة وعبد الله بن عمرو، وابي اليسر، وحذيفة، قال: وهذا حسن صحیح غریب حديث العلاء بن عبد الرحمٰن 

(ترمذی شریف:3800)

ترجمہ: سیدنا ابو ہریرہؓ کہتے ہیں کہ رسولﷺ نے فرمایا عمار تمہیں ایک باغی جماعت قتل کرے گی۔

اس حدیث کے راوی کون ہیں سیدنا ابو ہریرہؓ جو کہ سن سات ہجری میں اسلام لائے زیادہ سے زیادہ زور لگائے تو چھ ہجری میں لائے اس حدیث سے بھی پتہ چلا کہ سیدنا ابو ہریرہؓ نے اس بات کو براہِ راست آپﷺ سے نہیں سنا

اب ہم مسند احمد کی حدیث کو دیکھتے ہیں۔

حدثنا يزيد بن هارون، اخبرنا العوام، حدثنی اسود بن مسعود عن حنظلة بن خويلد العنبري، قال: بينما انا عند معاوية، إذ جاءه رجلان يختصمان في راس عمار ، يقول كل واحد منهما انا قتلته، فقال عبد الله بن عمرو ليطب به احد كما نفسا لصاحبه، فإني سمعت يعنى رسول الله صلى الله عليه وسلم ، قال عبد الله بن احمد كذا قال ابي یعنی رسول الله صلى الله عليه وسلم ، يقول تقتله الفئة الباغية فقال معاوية الا تغنى عنا مجنونك يا عمرو؟فما بالك معناء قال إن ابي شكاني إلى رسول الله صلى الله عليه وسلم ، فقال لى رسول الله صلى الله علیه وسلم اطع اباك ما دام حيا ولا تعصه فأنا معكم ولست اقاتل۔

(مسند احمد:6929)

ترجمہ: حنظلہ بن خویلد کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں سیدنا امیر معاویہؓ کے پاس بیٹھا ہوا تھا دو آدمی ان کے پاس جھگڑا لے کر آئے ان میں سے ہر ایک کا دعویٰ یہ تھا کہ سیدنا عمارؓ کو اس نے شہید کیا ہے سیدنا ابنِ عمروؓ فرمانے لگے کہ تمہیں چاہیئے ایک دوسرے کو مبارکباد دو کیونکہ میں نے نبی کریمﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ سیدنا عمارؓ کو باغی گروہ قتل کرے گا سیدنا امیر معاویہؓ کہنے لگے پھر آپ ہمارے ساتھ کیا کر رہے ہو اے عمرو! اپنے اس دیوانے سے ہمیں مستغنیٰ کیوں نہیں کر دیتے؟ انہوں نے فرمایا کہ ایک مرتبہ میرے والد صاحب نے نبی کریمﷺ کے سامنے میری شکایت کی تھی اور نبی کریمﷺ نے فرمایا تھا زندگی بھر اپنے باپ کی اطاعت کرنا اس کی نافرمانی نہ کرنا اس لیے میں آپ کے ساتھ تو ہوں لیکن لڑائی میں شریک نہیں ہوتا۔

سیدنا عمرو بن عاصؓ سن سات ہجری میں اسلام قبول کرتے ہیں تو اس حدیث سے بھی پتا چلتا ہے کہ انہوں نے رسولﷺ سے براہِ راست نہیں سنا کیونکہ بخاری اور مسلم کی حدیث سے اس بات کی وضاحت ہوتی ہے کہ یا تو یہ واقعہ سن ایک ہجری کا ہے یا سن پانچ ہجری کا ہے۔

 مسند احمد کی دوسری حدیث کو دیکھتے ہیں۔

حدثنا عبد الرزاق، قال حدثنا معمر،عن ابن طاؤس، عن ابي بكر بن محمد بن عمرو بن حزم،عن ابيه قال لما قتل عمار بن ياسر دخل عمرو بن حزم على عمرو بن العاص، فقال قتل عمار، وقد قال رسول الله صلى الله عليه وسلم تقتله الفئة الباغية فقام عمرو بن العاص فزعا يرجع حتىٰ دخل على معاوية، فقال له معاوية ما شأنك؟ قال قتل عمار فقال معاوية قد قتل عمار، فماذا؟ قال عمرو سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم، يقول تقتله الفئة الباغية فقال له معاوية دحضت في بولك اونحن قتلناه؛ إنما قتله على واصحابه جاءوا به حتىٰ القوه بين رماحنا او قال بين سيوفنا۔

(مسند احمد 17778)

ترجمہ: سیدنا محمد بن عمروؓ کہتے ہیں کہ جب سیدنا عمار بن یاسرؓ شہید ہوئے تو سیدنا عمرو بن حزمؓ، سیدنا عمرو بن عاصؓ کے پاس گئے اور انہیں بتایا کہ سیدنا عمارؓ شہید ہو گئے ہیں اور نبی کریمﷺ نے فرمایا تھا کہ سیدنا عمارؓ کو ایک باغی گروہ قتل کر دے گا ؟ یہ سن کر سیدنا عمرو بن عاصؓ انا للہ پڑھتے ہوئے گھبرا کر اٹھے اور سیدنا معاویہؓ کے پاس چلے گئے ، سیدنا معاویہؓ نے ان سے پوچھا کہ تمہیں کیا ہوا؟ انہوں نے بتایا کہ سیدنا عمارؓ شہید ہو گئے ہیں، سیدنا معاویہؓ نے فرمایا کہ سیدنا عمارؓ تو شہید ہو گئے، لیکن تمہاری یہ حالت؟ انہوں نے کہا کہ میں نے رسولﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ سیدنا عمارؓ کو باغی گروہ قتل کرے گا، سیدنا معاویہؓ نے کہا کہ تم اپنے پیشاب میں گرتے، کیا ہم نے انہیں قتل کیا ہے؟ انہیں تو سیدنا علیؓ اور ان کے ساتھیوں نے خود قتل کیا ہے، وہی انہیں لے کر آئے اور ہمارے نیزوں کے درمیان لا ڈالا۔

اس حدیث میں سیدنا عمرو بن عاصؓ نے اس بات کی صراحت تو کی ہے کہ میں نے رسولﷺ سے سنا مگر یہ راوی کا وہم ہے کیونکہ سیدنا عمرو بن عاصؓ سن سات ہجری میں اسلام قبول کرتے ہیں۔ ان سب احادیث سے ایک بات کی وضاحت تو ہو گئی ہے کہ یہ مرسل صحابی ہے۔

حدیث سیدنا عمارؓ پر محدثین کی رائے:

ابو بکر احمد بن محمد بن ہارون بن یزید الخلال (المتوفی 311ھ)

ويحيىٰ حنبل بن أحمد حلقة فى سمعت: يقول إبراهيم بن محمد أمية أبا سمعت قال الفضل بن إسماعيل أخبرني صحيح حديث فيه ما فقالوا الباغية الفئة عمار يقتل ذكروا والمعيطى خيثمة وأبومعين۔

( كتاب السنة دار الراية: جلد 2، صفحہ 463)

ترجمہ: مجھ سے اسماعیل بن الفضل نے بیان کیا، وہ کہتے ہیں میں نے ابو امیہ محمد بن ابراہیم کو کہتے سنا میں نے احمد بن حنبل، یحییٰ بن معین، ابو خیثمہ اور معیطی کے حلقہ میں یہ ذکر کرتے ہوئے سنا (يقتل عمار الفئة الباغية) اور انہوں نے کہا اس میں کوئی صحیح حدیث نہیں ہے۔

صحيح حديث فيها ليس حديثا وعشرون ثمانية الباغية الفئة عمار تقتل في روى يقول حنبل بن احمد۔

( كتاب السنة جلد 2، صفحہ 463)

ترجمہ: احمد بن حنبلؒ کہتے ہیں: عمارا الفتة الباغية کے بارے میں اٹھائیس احادیث مروی ہیں اور ان میں سے کوئی ایک بھی صحیح حدیث نہیں ہے۔

مخالفین کی طرف سے ایک اعتراض یہ ہوتا ہے کہ اس میں اسماعیل بن فضل جو راوی ہے یہ مجہول راوی ہے۔

جواب: اسماعیل بن فضل ابوبکر الخلال کہ استاد ہے یہ راوی آپ کے لیے مجہول ہو گئے ابوبکر الخلال کے لیے مجہول نہیں ہے۔

ابن العديم (المتوفی 660ھ):

روى عنه أحمد بن محمد بن ہارون الخلال، وسمع منه بطرسوس۔

(بغية الطلب في تاريخ حلب:جلد 4 صفحہ 1746)

ترجمہ: اسماعیل بن فضل سے روایت کی ہے احمد بن محمد بن ہارون خلال نے اور انہوں نے ان سے طرسوس میں سنی۔

تو اس سے پتا چلا کہ اسماعیل بن فضل مجہول راوی نہیں ہے۔

دوسرا اعتراض اسی کتاب السنہ میں ابنِ فراح یہ کہتے ہیں یعقوب ابنِ ابی شیبہ نے مسند عمار کی جز اول میں یہ بات کہی ہے میں نے احمد بن حنبلؒ سے سنا اس حدیث کے بارے میں تو امام احمد بن حنبلؒ نے کہا اس بارے میں ایک سے زیادہ روایت صحیح ہے۔

جواب: یہ قول ثابت نہیں ہے کیونکہ ابنِ فراح جو راوی ہے وہ یہ نہیں کہہ رہا کہ میں نے یعقوب ابنِ ابی شیبہ سے سنا بلکہ وہ کہہ رہا ہے کہ یعقوب ابنِ ابی شیبہ کی کتاب میں موجود ہے اور وہ کتاب موجود ہی نہیں گویا کہ اعتراض کرنے والے کے پاس اس بات کی کوئی تصدیق نہیں ہے۔

ان تمام باتوں سے اس بات کی تو وضاحت صاف ہوتی ہے کہ یہ روایت مرفوعاً ثابت نہیں ہے مگر موقوفاً ثابت ہے مرسل صحابی ہے سند صحیح ہے متن میں اضطراب ہے۔

سیدنا ابو غادیہؓ کے تعلق سے آنے والی حدیث کا جواب

حدثنا عفان، قال حدثنا حماد بن سلمة، قال اخبرنا ابو حفص وكلثوم بن جبر، عن ابي غادية قا: قتل عمار بن ياسر فاخبر عمرو بن العاص، قال سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول إن قاتله وسالبه في النار فقيل لعمرو فإنك هو ذا تقاتله قال إنما قال قاتله و سالبه

(مسنداحمد:17776)

ترجمہ: سیدنا ابو غادیہؓ کہتے ہیں کہ جب سیدنا عمار بن یاسرؓ شہید ہوئے تو سیدنا عمروؓ کو اس کی اطلاع دی گئی، انہوں نے کہا کہ میں نے نبیﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ عمارؓ کو قتل کرنے والا اور اس کا سامان چھیننے والا جہنم میں جائے گا، کسی نے سیدنا عمروؓ سے کہا کہ آپ بھی تو ان سے جنگ ہی کر رہے تھے؟ انہوں نے جواب دیا کہ نبیﷺ نے قاتل اور سامان چھیننے والے کے بارے فرمایا تھا( جنگ کرنے والے کے بارے نہیں فرمایا تھا)۔

علامہ شمس الدین ابو عبد الله محمد بن احمد بن عثمان ذہبیؒ (المتوفی 748ھ):

سمعت رسولﷺ يقول قاتل عمار وسالبه في النار. اسناده فيه ائقطاع۔

(سير أعلام النبلاء: جلد 2 صفحہ 544)

ترجمہ: میں نے نبیﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ عمار کو قتل کرنے والا جہنم میں جائے گا۔ امام ذہبیؒ کہتے ہیں اس کی سند منقطع ہے۔

امام احمد بن حنبلؒ (المتوفی 241ھ):

قلت لیحی حماد بن سلمه عن ابي حفص عن ابي الغادية قال ما اعرفه۔

(العلل ومعرفة الرجال: جلد 2 صفحہ 602)

ترجمہ: امام احمد بن حنبلؒ کہتے ہیں میں نے یحییٰ بن معین سے کہا حماد بن سلمہ اور وہ ابو حفص سے اور وہ ابو غادیہ سے قال ما أعرفہ میں نہیں جانتا۔

شیخ الاسلام ابن تیمیہؒ المتوفی (728ھ):

وقيل كان مع معاوية بعض السابقين الأولين، وان قاتل عمار بن يأسر هو ابو العادية وكان ممن يابع تحت الشجرة، وهم السابقون الاولون ذكر ذٰلك ابن حزم وغيره.

(منهاج السنه: جلد 6 صفحہ 333)

ترجمہ: سیدنا امیر معاویہؓ کے ساتھ بغض ایسے بھی لوگ تھے جو سابقون الاولون میں سے تھے اور ان میں یہ کہا جاتا ہے کہ عمار بن یاسر کو جنہوں نے قتل کیا وہ ابو غادیہ تھے حالانکہ وہ ان لوگوں میں سے تھے جنہوں نے درخت کے نیچے بیعت کی اور وہ سابقون الاولون میں سے تھے اور اس بات کا ذکر ابنِ حزم وغیرہ نے کیا۔

اگر وہ بیعتِ رضوان کرنے والے میں سے تھے تو وہ جہنم میں کیسے جا سکتے ہیں۔ کیونکہ سنن ابوداؤد کی روایت ہے۔

حدثنا قتيبة بن سعيد، ويزيد بن خالد الرملي ان الليث حدثهم، عن أبي الزبير، عن جابر، عن رسولﷺ، انه قال لا يدخل النار احد ممن بايع تحت الشجرة۔

(سنن ابو داؤد: 4653)

ترجمہ: سیدنا جابرؓ سے روایت ہے کہ رسولﷺ نے فرمایا! جہنم میں ان لوگوں میں سے کوئی بھی داخل نہیں ہوگا، جنہوں نے درخت کے نیچے بیعت کی۔

قال عبد الله بن احمد حدثنی ابو موسى العنزي محمد ابن المثنى، قال حدثنا محمد بن ابى عدى، عن ابنِ عون عن كلثوم بن جبر، قال كنا بواسط القصب عند عبد الاعلى بن عبد الله بن عامر قال فإذا عنده رجل، يقال له ابو الغادية استسقى ماء، فاتي بإناء مفضض، فابي

ان يشرب، وذكر النبى صلى الله عليه وسلم فذكر هذا الحديث لا ترجعوا بعدى كفارا او ضلالا شك ابن ابى عدى يضرب بعضكم رقاب بعض فإذا رجل يسب فلانا، فقلت والله لئن امكننى الله منك في كتيبة، فلما كان يوم صفين إذا انابه و عليه درع، قال ففطنت إلى الفرجة في جربان الدرع فطعنته، فقتلته، فإذا هو عمار بن ياسر، قال قلت وای ید کفتاه يكره ان يشرب في إناء مفضض وقد قتل عمار بن ياسر۔

(مسند احمد 16698)

ترجمہ: کلثوم بن حبر سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ہم لوگ شہر واسط میں عبد الاعلی بن عامر کے پاس بیٹھے ہوئے تھے کہ اسی دوران وہاں موجود ایک شخص جس کا نام ابو غادیہ تھا نے پانی منگوایا، چنانچہ چاندی کے ایک برتن میں پانی لایا گیا لیکن انہوں نے وہ پانی پینے سے انکار کر دیا اور نبیﷺ کا ذکر کرتے ہوئے یہ حدیث ذکر کی کہ میرے پیچھے

 کافر یا گمراہ نہ ہو جانا کہ ایک دوسرے کی گردنیں مارنے لگو۔ اچانک ایک آدمی دوسرے کو برا بھلا کہنے لگا، میں نے کہا کہ اللہ کی قسم! اگر اللہ نے لشکر میں مجھے تیرے اوپر قدرت عطاء فرمائی ( تو تجھ سے حساب لوں گا) جنگِ صفین کے موقع پر اتفاقاً میرا اس سے آمنا سامنا ہو گیا، اس نے زرہ پہن رکھی تھی لیکن میں نے زرہ کی خالی جگہوں سے اسے شناخت کر لیا، چنانچہ میں نے اسے نیزہ مار کر قتل کر دیا، بعد میں پتہ چلا کہ وہ تو سیدنا عمار بن یاسرؓ تھے، تو میں نے افسوس سے کہا کہ یہ کون سے ہاتھ ہیں جو چاندی کے برتن میں پانی پینے پر ناگواری کا اظہار کر رہے ہیں جبکہ انہی ہاتھوں نے سیدنا عمارؓ کو شہید کر دیا تھا۔

جواب: اس حدیث میں اس شخص کا ذکر نہیں ہے کہ کس نے نیزہ مارا تھا اس کو راوی نے منسوب کر دیا ہے ابو غادیہؓ کی طرف جس کی وضاحت ہم کو مستدرک الحاکم کی حدیث سے ملتی ہے۔

حدثنا ابو جعفر محمد بن صالح بن هانء حدثنا السّرى بن خزيمة حدثنا مسلم بن ابراهيم حدثنا ربيعة بن كلتوم حدثني ابي قال كنت بواسط القصب في منزل عبد الاعلى بن عبد الله بن عامر قال الاذن هذا ابو غادية الجهني يستأذن فقال عبد الاعلى ادخلوه فادخل وعليه مقطعات فاذا رجل طوال ضرب من الرجال كأنه ليس من هذه الامه فلما فعد قال كنا نعد عمار بن ياسر من خيارنا قال فوالله اتى لفى مسجد قباء اذا هو يقول وذكر كلمة لو وجدت عليه اعوانا لوظلته حتى اقتله قال فلما كان يوم صفين اقبل يمشى اول الكتيبة راجلا حتىٰ كان بين الصفين طعن رجل بالرمح فصرعه فانكفا المغفر عنه فاضربه فاذا راس عمار بن ياسر قال يقول مولى لنا لم ار رجلا ابين ضلالة منه۔

(مستدرك حاكم: 5658)

ربیعہ بن کلثوم اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں(وہ فرماتے ہیں) میں واسط القصب میں عبد الاعلیٰ بن عبداللہ بن عامر کے گھر تھا، اجازت لینے والے نے کہا ابو غادیہ چینی اندر آنے کی اجازت مانگ رہا ہے، عبد الاعلیٰ نے کہا اس کو اندر آنے کی اجازت دے دو، وہ اندر آئے، اس وقت انہوں نے تنگ کپڑے پہنے ہوئے تھے، وہ انتہائی دراز قد آدمی تھا، وہ تو اس امت کا فرد لگتا ہی نہیں تھا، جب اندر آ کر بیٹھ گیا تو کہنے لگا ہم عمار بن یاسر کو سب سے معتبر اور نیک جانتے ہیں۔ خدا کی قسم میں مسجد قباء میں تھا وہ باتیں کر رہا تھا ان میں ایک یہ بھی کہ اللہ کی قسم اگر کبھی مجھے اس پر غلبہ ملا تو میں اس کو روند ڈالوں گا حتیٰ کہ ان کو قتل کر ڈالوں گا، پھر جب جنگِ صفین شروع ہوئی تو لشکر کی پہلی جماعت پیدل چلتے ہوئے آئی، یہاں تک کہ وہ صفین کے درمیان پہنچ گئے ، ایک آدمی نے ان کو نیزہ مارا، جس کی وجہ سے وہ گر گئے، ان کا خود نیچے گرا، جب دیکھا تو سیدنا عمار بن یاسرؓ کا سر تھا۔ راوی کہتے ہیں ہمارے آقاﷺ کہا کرتے تھے کہ میں نے اُس آدمی سے زیادہ گمراہ کوئی شخص نہیں دیکھا۔

اس حدیث سے صاف پتا چلتا ہے کہ سیدنا عمارؓ کو قتل کرنے والے سیدنا ابو غادیہؓ نہیں تھے بلکہ کوئی اور تھا جس کو سیدنا ابو غادیہؓ نے جنگ صفین میں نیزہ مارتے دیکھا تھا۔ 

عز الدین ابنِ الاثیر ابوالحسن علی ابنِ محمد الجزری (المتوفی 630ھ) فرماتے ہیں: ایک روایت میں ہے کہ جس شخص نے جنابِ سیدنا عمارؓ کو قتل کیا تھا، وہ کوئی اور آدمی تھا اور یہ قاتل مشہور ہو گئے۔ 

(أسد الغابۃ فی معرفۃ الصحابة اردو جلد3 صفحہ 596) 

ان سب باتوں سے پتا یہ چلتا ہے کہ اس مسئلے میں بہت اختلاف ہے، تو بہتر یہی ہے کہ اس مسئلے پر سکوت اختیار کیا جائے اور ایسی زبان نہ استعمال کی جائے کہ جس سے صحابہ کرامؓ کی شان میں گستاخی ہو۔