حدیث سیدنا عماررضی اللہ عنہ بن یاسر - ردِ رافضیت | دفاع…

حدیث سیدنا عماررضی اللہ عنہ بن یاسر

  شہزاد علی

صفحہ 2 از 5

ترجمہ: سیدنا عکرمہؓ فرماتے ہیں ابنِ عباسؓ نے مجھے اور اپنے بیٹے علی سے کہا تم دونوں سیدنا ابو سعید خدریؓ کے پاس چلے جاؤ اور ان سے خوارج کے متعلق کوئی حدیث سن کر آؤ ہم دونوں چل دیے سیدنا ابو سعید خدریؓ اپنے باغ میں کام کر رہے تھے جب انہوں نے ہمیں دیکھا تھا تو چادر درست کر کے ہم سے باتیں کرنے لگ گئے حتیٰ کہ مسجد کے متعلق بات چل نکلی وہ کہنے لگے ہم ایک اینٹ اٹھا رہے تھے جبکہ سیدنا عمارؓ دو دو اینٹیں اٹھا رہے تھے جب رسولﷺ نے ان کو دیکھا تو ان کے سر سے مٹی جھاڑتے ہوئے بولے اے عمار! اپنے دوسرے ساتھیوں کی طرح تم بھی ایک ایک اینٹ کیوں نہیں اٹھا رہے؟ سیدنا عمارؓ نے جواباً کہا میں اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں اجر کا طلبگار ہوں۔ ابو سعید خدریؓ فرماتے ہیں رسولﷺ (پھر ان کے سر سے) مٹی جھاڑنے لگ گئے اور فرمایا اے عمار! افسوس ہے کہ تجھے ایک باغی گروہ قتل کر دے گا سیدنا عمارؓ بولے میں فتنوں سے اللہ کی پناہ مانگتا ہوں یہ حدیث امام بخاریؒ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخینؒ نے اسے ان الفاظ کے ہمراہ نقل نہیں کیا۔

الفاظ تقتله الفئة الباغية کی حقیقت

یہ الفاظ امام بخاریؒ نے نقل نہیں کیے ہیں جس کی وضاحت محدثین نے اپنی کتابوں میں کر دی ہے جس کی مثال آگے آرہی ہے۔

امام بیہقیؒ (المتوفی :458ھ) اپنی کتاب دلائل النبوۃ میں فرماتے ہیں:

ورواه البخارى فى الصحيح عن مسدد عن عبد العزيز، إلا إنه لم يذكر قوله وتقتله الفئة الباغية۔

(دلائل النبوة :جلد 2 صفحہ 546)

ترجمہ: امام بخاریؒ نے اس کو روایت کیا ہے اپنی صحیح میں عن مسدد عن عبد العزیز کی سند سے مگر ذکر نہیں کیا ہے تقتله الفئة الباغية کے لفظ کو۔

امام محمد بن فتوح الحمیدیؒ (المتوفی 488ھ) اپنی کتاب الجمع بین الصحیحین میں فرماتے ہیں:

هذا الحديث زيادة مشهورة لم يذكرها البخاري اصلا في طريقي هذا الحديث، ولعلها لم تقع إليه فيهما او وقعت فحذفها لغرض قصده في ذلك۔

(الجمع بين الصحيحين جلد 2 صفحہ 462 دار ابنِ حزم)

ترجمہ: امام بخاریؒ نے اس حدیث کے اندر مشہور زیادتی کو بالکل ذکر نہیں کیا اس حدیث کے دونوں طریقوں میں، اس لیے کہ یہ زیادتی یا تو ان دونوں طریقوں میں موجود نہیں تھے یا پھر موجود تھے پھر انہوں نے اس کو کسی غرض اور اپنے کسی ارادے کی وجہ سے حذف کر دیا۔

ابو مسعود الدمشقىؒ(المتوفی 401ھ) فرماتے ہیں:

قال ابو مسعود الدمشقى من كتابه لم يذكر البخاري هٰذه الزيادة۔ 

( الجمع بين الصحيحين:جلد 2 صفحہ 462 دار ابنِ حزم )

ترجمہ: ابو مسعود الدمشقیؒ نے اپنی کتاب میں کہا: بخاری نے اس اضافہ کا ذکر نہیں کیا۔

ابنِ الاثیر الجزریؒ( المتوفی 833ھ) فرماتے ہیں:

قلت انا والذى قراته فى كتاب البخاري من طريق أبي الوقت عبد الأول السخرى رحمه الله من النسخة التي قرات عليه عليها خطه اما في متن الكتاب، فبحذف الزيادة، وقد كتب في الهامش هٰذه الزيادة۔

(جامع الأصول: جلد 9 صفحہ 45)

ترجمہ: میں نے امام بخاریؒ کی کتاب کو پڑھا ہے ابو الوقت عبداللہ البختریؒ کے طریق سے اس نسخہ سے پڑھا ہے جو نسخہ اُن کے سامنے پڑھا جاتا تھا اور اس پر امام بخاریؒ کا مخطوطہ ہے بہر حال متن کتاب کے اندر زیادتی محذوف ہے البتہ حاشیہ کے اندر یہ زیادتی میں نے پائی ہے۔

امام الذہبیؒ (المتوفی 748ھ) فرماتے ہیں:

أخرجه البخارى دون قوله تقتله الفئة الباغية

(تاریخ الاسلام: جلد1صفحہ 18)

ترجمہ: اور امام بخاریؒ نے ذکر کیا ہے تقتله الفئة الباغية کے الفاظ کے بنا۔

علامہ ابنِ حجر عسقلانیؒ (المتوفی 852ھ) فرماتے ہیں:

قلت ويظهر لى ان البخاري حذفها عمدا وذلك لنكتة حفية وهي ان ابا سعيد الخدرى اعترف انه لم يسمع هذه الزيادة من النبي صلى الله عليه وسلم فدل على انها فى هذه الرواية مدرجة والرواية التي بينت ذلك ليست على شرط البخاری

(فتح الباری:جلد 1صفحہ542)

ترجمہ: اور میرے لیے یہ ظاہر ہو گیا کہ امام بخاریؒ نے اس کو جان بوجھ کر حذف کر دیا اور یہ ایک باریک نکتہ ہے اور وہ یہ ہے کہ سیدنا ابو سعید خدریؓ نے کہا کہ ان ہونے اس زیادتی کو نبی کریمﷺ سے نہیں سنا تو یہ اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ یہ روایت مدرج ہے وہ جس سے میرے لیے یہ واضح ہو گیا کہ یہ روایت امام بخاریؓ شرط پر نہیں تھی۔


نسخه ابنِ سعادة:

امام بخاریؒ سے ان کے شاگرد محمد بن یوسف الفربریؒ نے نقل کیا، ان سے ابو محمد عبد الله بن احمد بن الحمویؒ نے، ان سے ابوذر عبد اللہ بن احمد بن الہرویؒ نے،ان سے ابو ولید سلیمان بن خلف الباجیؒ نے،ان سے ابو علی حسین بن محمد بن الصدفیؒ نے،ان سے ابو عبد الله محمد بن یوسف بن سعادةؒ نے (اور آج بخاری کے قدیم ترین نسخوں میں انہی کا نسخہ موجود ہے)

تو یہ تھے بخاری کو نقل کرنے والے امام جیسا کہ ہم بتا چکے کہ آج کے دور میں بخاری کے قدیم نسخوں میں صرف ابنِ سعادةؒ( ابو عبد الله محمد بن یوسف بن سعادةؒ) کا نسخہ موجود ہے تو ہم بخاری میں موجود حدیث سیدنا عمارؒ کو اسی نسخے میں دیکھتے ہیں۔

اس قدیم نسخے میں تقتله الفئة الباغية یہ الفاظ موجود نہیں ہیں صرف ویح عمار يدعوهم الى الجنة ويدعونه الى النار کہ الفاظ موجود ہیں۔ حق ماننے والے کے لیے اتنی دلیل ہی کافی ہے لیکن ہم ذرا دو نسخے کا مطالعہ اور کر لیتے ہیں تا کہ کسی قسم کا اعتراض باقی نہ رہے۔ 

(صحیح البخاری فرع نسخه ابنِ سعادة جلد 1صحفہ نمبر 105)

نسخه يونينية

بخاری کا نسخہ یونینیتہ دیکھیں نسخہ یونینیتہ کو بخاری کے مختلف نسخوں کو مد نظر رکھتے ہوئے تیار کیا گیا اور ان میں جو اختلاف ہوتا تھا ان کو حواشی میں لکھا جاتا تھا۔

صحیح بخاری کے یونینیتہ نسخے میں حدیث سیدنا عمارؓ میں تقتله الفئة الباغية کے اوپر انہوں نے ساقط لکھا ہے۔ یعنی کہ یہ الفاظ اصلی نسخوں میں دستیاب نہیں ہے۔

(صحیح بخاری نسخه اليونينية جلد 1صحفہ97)

نسخه سلطانیه:

صفحہ 2 از 5