حدیث سیدنا عماررضی اللہ عنہ بن یاسر - ردِ رافضیت | دفاع…

حدیث سیدنا عماررضی اللہ عنہ بن یاسر

  شہزاد علی

صفحہ 3 از 5

بخاری کا نسخہ سلطانیہ دیکھیں سلطان عبدالحمید نے نسخہ یونینیتہ کو مد نظر رکھ کر اس وقت کے علماء کو بلا کر بخاری کا ایک نسخہ تیار کروایا جس کو نسخہ سلطانیہ کا نام دیا،اس میں بھی انہوں نے حدیث عمار میں تقتله الفئة الباغية كے الفاظ کے حاشیے میں ساقط عند ابوذر، والاصیلی لکھا ہے یعنی ابوذر ہروی اور اصیلی کے نسخے میں یہ الفاظ موجود نہیں۔

(صحیح بخاری نسخہ سلطانیة صحفہ491)

مشرق میں اس وقت بخاری کا نسخہ سلطانیہ رائج ہے، اس نسخے میں اور نسخہ یونینیتہ میں اختلافات والے الفاظ کو حدیث میں شامل کر کے حواشی میں اختلاف کو بیان کر دیا گیا تھا لیکن اب شائع ہونے والے نسخوں میں وہ الفاظ بغیر حاشیے کے ساتھ ملا دیے گئے ہیں۔

دیگر کتابوں میں آئی حدیث سیدنا عمارؓ پر ایک نظر

حدثنا محمد بن المثنى، وابن بشار، واللفظ لابن المثنى، قالا حدثنا محمد بن جعفر،حدثنا شعبة عن ابى مسلمة قال سمعت ابا نضرة يحدث، عن ابي سعيد الخدري قال اخبرني من هو خير منى،ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال لعمار حين جعل يحفر الخندق وجعل يمسح راسه، ويقول بؤس ابنِ سمية تقتلك فئة باغية ۔

(صحیح مسلم :7320)

ترجمہ: محمد بن جعفر نے کہا ہمیں شعبہ نے ابو مسلمہ سے حدیث بیان کی،انہوں نے کہا:میں نے ابو نضرہؓ سے سنا، وہ سیدنا ابو سعیدؓ سے روایت کر رہے تھے انہوں نے کہا ایک ایسے شخص نے مجھے بتایا جو مجھ سے بہتر ہے کہ رسولﷺ نے جب آپ نے خندق کھودنے کا آغاز کیا تو سیدنا عمارؓ سے ایک بات ارشاد فرمائی، آپﷺ ان کے سر پر ہاتھ پھیرنے اور فرمانے لگے۔ سمیہ کے بیٹے کی مصیبت تمہیں ایک باغی گروہ قتل کرے گا۔

اس حدیث سے پتا چلتا ہے کہ یہ واقعہ خندق کا ہے، اس سے پہلے جو حدیث گزری تھی بخاری شریف کی، اس میں مدینہ کی تعمیر کا لفظ موجود ہے جبکہ مدینہ کی تعمیر سن ایک ہجری میں ہوئی تھی اور خندق کا واقعہ سن پانچ ہجری میں پیش آیا تھا۔ اس کو کہتے ہیں متن میں اضطراب ۔ اس کے آگے چل کے دیکھتے ہیں مسلم شریف کی ایک اور حدیث

وحدثني محمد بن عمرو بن جبلة، حدثنا محمد بن جعفر وحدثنا عقبة بن مكرم العمى، وابوبكر بن نافع قال عقبة حدثنا وقال ابو بكر اخبرنا غندر ،حدثنا شعبة قال سمعت خالدا يحدث عن سعيد بن ابي الحسن عن امه عن ام سلمة،ان رسول الله صلى الله عليه وسلم، قال لعمار تقتلك الفئة الباغية

(صحيح مسلم:7322)

ترجمہ: محمد بن جعفر غندر نے کہا ہمیں شعبہ نے حدیث بیان کی، کہا میں نے خالد حذا کو سعید بن ابوالحسن سے حدیث روایت کرتے ہوئے سنا، انہوں نے اپنی والدہ سے اور انھوں نے سیدہ اُمِ سلمہؓ سے روایت کی کہ رسولﷺ نے سیدنا عمارؓ سے فرمایا تمہیں ایک باغی گروہ قتل کرے گا۔

اس حدیث کے درمیان میں کوئی بھی ذکر نہیں ہے کہ یہ واقعہ مسجد نبویﷺ کی تعمیر کا ہے یا خندق کے وقت کا ہے۔ مسجد نبویﷺ کی تعمیر سن ایک ہجری میں ہوئی اور اس وقت سیدہ اُمِ سلمہؓ مدینہ میں موجود ہی نہیں تھی ہاں ایک امکان یہ پیدا ہوتا ہے کہ چلو مسجد نبویﷺ کی تعمیر کے وقت سیدہ اُمِ سلمہؓ

موجود نہیں تھی مگر سن چار ہجری میں آپﷺ کی زوجہ بن کے آئی اور غزوہ خندق سن پانچ ہجری میں ہوا تو ہو سکتا ہے یہ حدیث غزوہ خندق کے وقت کی ہو مگر سیرت کی کتابوں سے پتا چلتا ہے کہ غزوہ خندق کے وقت عورتوں کو ایک قلعے میں رکھ دیا گیا تھا سیرت کی بہت سی کتابوں میں آپ یہ واقعہ دیکھ سکتے ہیں جیسے کہ سیرت ابنِ ہشام وغیرہ میں ان سب باتوں سے یہ صاف پتا چلتا ہے کہ سیدہ اُمِ سلمہؓ وہاں موجود نہیں تھی اس کے بعد ترمذی شریف کی حدیث کو دیکھتے ہیں۔

عن ابي هريرة رضى الله عنه قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم ابشر عمار تقتلك الفئة الباغية قال ابو عيسىٰ وفي الباب عن ام سلمة وعبد الله بن عمرو، وابي اليسر، وحذيفة، قال: وهذا حسن صحیح غریب حديث العلاء بن عبد الرحمٰن 

(ترمذی شریف:3800)

ترجمہ: سیدنا ابو ہریرہؓ کہتے ہیں کہ رسولﷺ نے فرمایا عمار تمہیں ایک باغی جماعت قتل کرے گی۔

اس حدیث کے راوی کون ہیں سیدنا ابو ہریرہؓ جو کہ سن سات ہجری میں اسلام لائے زیادہ سے زیادہ زور لگائے تو چھ ہجری میں لائے اس حدیث سے بھی پتہ چلا کہ سیدنا ابو ہریرہؓ نے اس بات کو براہِ راست آپﷺ سے نہیں سنا

اب ہم مسند احمد کی حدیث کو دیکھتے ہیں۔

حدثنا يزيد بن هارون، اخبرنا العوام، حدثنی اسود بن مسعود عن حنظلة بن خويلد العنبري، قال: بينما انا عند معاوية، إذ جاءه رجلان يختصمان في راس عمار ، يقول كل واحد منهما انا قتلته، فقال عبد الله بن عمرو ليطب به احد كما نفسا لصاحبه، فإني سمعت يعنى رسول الله صلى الله عليه وسلم ، قال عبد الله بن احمد كذا قال ابي یعنی رسول الله صلى الله عليه وسلم ، يقول تقتله الفئة الباغية فقال معاوية الا تغنى عنا مجنونك يا عمرو؟فما بالك معناء قال إن ابي شكاني إلى رسول الله صلى الله عليه وسلم ، فقال لى رسول الله صلى الله علیه وسلم اطع اباك ما دام حيا ولا تعصه فأنا معكم ولست اقاتل۔

(مسند احمد:6929)

ترجمہ: حنظلہ بن خویلد کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں سیدنا امیر معاویہؓ کے پاس بیٹھا ہوا تھا دو آدمی ان کے پاس جھگڑا لے کر آئے ان میں سے ہر ایک کا دعویٰ یہ تھا کہ سیدنا عمارؓ کو اس نے شہید کیا ہے سیدنا ابنِ عمروؓ فرمانے لگے کہ تمہیں چاہیئے ایک دوسرے کو مبارکباد دو کیونکہ میں نے نبی کریمﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ سیدنا عمارؓ کو باغی گروہ قتل کرے گا سیدنا امیر معاویہؓ کہنے لگے پھر آپ ہمارے ساتھ کیا کر رہے ہو اے عمرو! اپنے اس دیوانے سے ہمیں مستغنیٰ کیوں نہیں کر دیتے؟ انہوں نے فرمایا کہ ایک مرتبہ میرے والد صاحب نے نبی کریمﷺ کے سامنے میری شکایت کی تھی اور نبی کریمﷺ نے فرمایا تھا زندگی بھر اپنے باپ کی اطاعت کرنا اس کی نافرمانی نہ کرنا اس لیے میں آپ کے ساتھ تو ہوں لیکن لڑائی میں شریک نہیں ہوتا۔

سیدنا عمرو بن عاصؓ سن سات ہجری میں اسلام قبول کرتے ہیں تو اس حدیث سے بھی پتا چلتا ہے کہ انہوں نے رسولﷺ سے براہِ راست نہیں سنا کیونکہ بخاری اور مسلم کی حدیث سے اس بات کی وضاحت ہوتی ہے کہ یا تو یہ واقعہ سن ایک ہجری کا ہے یا سن پانچ ہجری کا ہے۔

صفحہ 3 از 5