حدیث سیدنا عماررضی اللہ عنہ بن یاسر - ردِ رافضیت | دفاع…

حدیث سیدنا عماررضی اللہ عنہ بن یاسر

  شہزاد علی

صفحہ 4 از 5

 مسند احمد کی دوسری حدیث کو دیکھتے ہیں۔

حدثنا عبد الرزاق، قال حدثنا معمر،عن ابن طاؤس، عن ابي بكر بن محمد بن عمرو بن حزم،عن ابيه قال لما قتل عمار بن ياسر دخل عمرو بن حزم على عمرو بن العاص، فقال قتل عمار، وقد قال رسول الله صلى الله عليه وسلم تقتله الفئة الباغية فقام عمرو بن العاص فزعا يرجع حتىٰ دخل على معاوية، فقال له معاوية ما شأنك؟ قال قتل عمار فقال معاوية قد قتل عمار، فماذا؟ قال عمرو سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم، يقول تقتله الفئة الباغية فقال له معاوية دحضت في بولك اونحن قتلناه؛ إنما قتله على واصحابه جاءوا به حتىٰ القوه بين رماحنا او قال بين سيوفنا۔

(مسند احمد 17778)

ترجمہ: سیدنا محمد بن عمروؓ کہتے ہیں کہ جب سیدنا عمار بن یاسرؓ شہید ہوئے تو سیدنا عمرو بن حزمؓ، سیدنا عمرو بن عاصؓ کے پاس گئے اور انہیں بتایا کہ سیدنا عمارؓ شہید ہو گئے ہیں اور نبی کریمﷺ نے فرمایا تھا کہ سیدنا عمارؓ کو ایک باغی گروہ قتل کر دے گا ؟ یہ سن کر سیدنا عمرو بن عاصؓ انا للہ پڑھتے ہوئے گھبرا کر اٹھے اور سیدنا معاویہؓ کے پاس چلے گئے ، سیدنا معاویہؓ نے ان سے پوچھا کہ تمہیں کیا ہوا؟ انہوں نے بتایا کہ سیدنا عمارؓ شہید ہو گئے ہیں، سیدنا معاویہؓ نے فرمایا کہ سیدنا عمارؓ تو شہید ہو گئے، لیکن تمہاری یہ حالت؟ انہوں نے کہا کہ میں نے رسولﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ سیدنا عمارؓ کو باغی گروہ قتل کرے گا، سیدنا معاویہؓ نے کہا کہ تم اپنے پیشاب میں گرتے، کیا ہم نے انہیں قتل کیا ہے؟ انہیں تو سیدنا علیؓ اور ان کے ساتھیوں نے خود قتل کیا ہے، وہی انہیں لے کر آئے اور ہمارے نیزوں کے درمیان لا ڈالا۔

اس حدیث میں سیدنا عمرو بن عاصؓ نے اس بات کی صراحت تو کی ہے کہ میں نے رسولﷺ سے سنا مگر یہ راوی کا وہم ہے کیونکہ سیدنا عمرو بن عاصؓ سن سات ہجری میں اسلام قبول کرتے ہیں۔ ان سب احادیث سے ایک بات کی وضاحت تو ہو گئی ہے کہ یہ مرسل صحابی ہے۔

حدیث سیدنا عمارؓ پر محدثین کی رائے:

ابو بکر احمد بن محمد بن ہارون بن یزید الخلال (المتوفی 311ھ)

ويحيىٰ حنبل بن أحمد حلقة فى سمعت: يقول إبراهيم بن محمد أمية أبا سمعت قال الفضل بن إسماعيل أخبرني صحيح حديث فيه ما فقالوا الباغية الفئة عمار يقتل ذكروا والمعيطى خيثمة وأبومعين۔

( كتاب السنة دار الراية: جلد 2، صفحہ 463)

ترجمہ: مجھ سے اسماعیل بن الفضل نے بیان کیا، وہ کہتے ہیں میں نے ابو امیہ محمد بن ابراہیم کو کہتے سنا میں نے احمد بن حنبل، یحییٰ بن معین، ابو خیثمہ اور معیطی کے حلقہ میں یہ ذکر کرتے ہوئے سنا (يقتل عمار الفئة الباغية) اور انہوں نے کہا اس میں کوئی صحیح حدیث نہیں ہے۔

صحيح حديث فيها ليس حديثا وعشرون ثمانية الباغية الفئة عمار تقتل في روى يقول حنبل بن احمد۔

( كتاب السنة جلد 2، صفحہ 463)

ترجمہ: احمد بن حنبلؒ کہتے ہیں: عمارا الفتة الباغية کے بارے میں اٹھائیس احادیث مروی ہیں اور ان میں سے کوئی ایک بھی صحیح حدیث نہیں ہے۔

مخالفین کی طرف سے ایک اعتراض یہ ہوتا ہے کہ اس میں اسماعیل بن فضل جو راوی ہے یہ مجہول راوی ہے۔

جواب: اسماعیل بن فضل ابوبکر الخلال کہ استاد ہے یہ راوی آپ کے لیے مجہول ہو گئے ابوبکر الخلال کے لیے مجہول نہیں ہے۔

ابن العديم (المتوفی 660ھ):

روى عنه أحمد بن محمد بن ہارون الخلال، وسمع منه بطرسوس۔

(بغية الطلب في تاريخ حلب:جلد 4 صفحہ 1746)

ترجمہ: اسماعیل بن فضل سے روایت کی ہے احمد بن محمد بن ہارون خلال نے اور انہوں نے ان سے طرسوس میں سنی۔

تو اس سے پتا چلا کہ اسماعیل بن فضل مجہول راوی نہیں ہے۔

دوسرا اعتراض اسی کتاب السنہ میں ابنِ فراح یہ کہتے ہیں یعقوب ابنِ ابی شیبہ نے مسند عمار کی جز اول میں یہ بات کہی ہے میں نے احمد بن حنبلؒ سے سنا اس حدیث کے بارے میں تو امام احمد بن حنبلؒ نے کہا اس بارے میں ایک سے زیادہ روایت صحیح ہے۔

جواب: یہ قول ثابت نہیں ہے کیونکہ ابنِ فراح جو راوی ہے وہ یہ نہیں کہہ رہا کہ میں نے یعقوب ابنِ ابی شیبہ سے سنا بلکہ وہ کہہ رہا ہے کہ یعقوب ابنِ ابی شیبہ کی کتاب میں موجود ہے اور وہ کتاب موجود ہی نہیں گویا کہ اعتراض کرنے والے کے پاس اس بات کی کوئی تصدیق نہیں ہے۔

ان تمام باتوں سے اس بات کی تو وضاحت صاف ہوتی ہے کہ یہ روایت مرفوعاً ثابت نہیں ہے مگر موقوفاً ثابت ہے مرسل صحابی ہے سند صحیح ہے متن میں اضطراب ہے۔

سیدنا ابو غادیہؓ کے تعلق سے آنے والی حدیث کا جواب

حدثنا عفان، قال حدثنا حماد بن سلمة، قال اخبرنا ابو حفص وكلثوم بن جبر، عن ابي غادية قا: قتل عمار بن ياسر فاخبر عمرو بن العاص، قال سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول إن قاتله وسالبه في النار فقيل لعمرو فإنك هو ذا تقاتله قال إنما قال قاتله و سالبه

(مسنداحمد:17776)

ترجمہ: سیدنا ابو غادیہؓ کہتے ہیں کہ جب سیدنا عمار بن یاسرؓ شہید ہوئے تو سیدنا عمروؓ کو اس کی اطلاع دی گئی، انہوں نے کہا کہ میں نے نبیﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ عمارؓ کو قتل کرنے والا اور اس کا سامان چھیننے والا جہنم میں جائے گا، کسی نے سیدنا عمروؓ سے کہا کہ آپ بھی تو ان سے جنگ ہی کر رہے تھے؟ انہوں نے جواب دیا کہ نبیﷺ نے قاتل اور سامان چھیننے والے کے بارے فرمایا تھا( جنگ کرنے والے کے بارے نہیں فرمایا تھا)۔

علامہ شمس الدین ابو عبد الله محمد بن احمد بن عثمان ذہبیؒ (المتوفی 748ھ):

سمعت رسولﷺ يقول قاتل عمار وسالبه في النار. اسناده فيه ائقطاع۔

(سير أعلام النبلاء: جلد 2 صفحہ 544)

ترجمہ: میں نے نبیﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ عمار کو قتل کرنے والا جہنم میں جائے گا۔ امام ذہبیؒ کہتے ہیں اس کی سند منقطع ہے۔

امام احمد بن حنبلؒ (المتوفی 241ھ):

قلت لیحی حماد بن سلمه عن ابي حفص عن ابي الغادية قال ما اعرفه۔

(العلل ومعرفة الرجال: جلد 2 صفحہ 602)

ترجمہ: امام احمد بن حنبلؒ کہتے ہیں میں نے یحییٰ بن معین سے کہا حماد بن سلمہ اور وہ ابو حفص سے اور وہ ابو غادیہ سے قال ما أعرفہ میں نہیں جانتا۔

شیخ الاسلام ابن تیمیہؒ المتوفی (728ھ):

صفحہ 4 از 5