حدیث سیدنا عماررضی اللہ عنہ بن یاسر - ردِ رافضیت | دفاع…

حدیث سیدنا عماررضی اللہ عنہ بن یاسر

  شہزاد علی

صفحہ 5 از 5

وقيل كان مع معاوية بعض السابقين الأولين، وان قاتل عمار بن يأسر هو ابو العادية وكان ممن يابع تحت الشجرة، وهم السابقون الاولون ذكر ذٰلك ابن حزم وغيره.

(منهاج السنه: جلد 6 صفحہ 333)

ترجمہ: سیدنا امیر معاویہؓ کے ساتھ بغض ایسے بھی لوگ تھے جو سابقون الاولون میں سے تھے اور ان میں یہ کہا جاتا ہے کہ عمار بن یاسر کو جنہوں نے قتل کیا وہ ابو غادیہ تھے حالانکہ وہ ان لوگوں میں سے تھے جنہوں نے درخت کے نیچے بیعت کی اور وہ سابقون الاولون میں سے تھے اور اس بات کا ذکر ابنِ حزم وغیرہ نے کیا۔

اگر وہ بیعتِ رضوان کرنے والے میں سے تھے تو وہ جہنم میں کیسے جا سکتے ہیں۔ کیونکہ سنن ابوداؤد کی روایت ہے۔

حدثنا قتيبة بن سعيد، ويزيد بن خالد الرملي ان الليث حدثهم، عن أبي الزبير، عن جابر، عن رسولﷺ، انه قال لا يدخل النار احد ممن بايع تحت الشجرة۔

(سنن ابو داؤد: 4653)

ترجمہ: سیدنا جابرؓ سے روایت ہے کہ رسولﷺ نے فرمایا! جہنم میں ان لوگوں میں سے کوئی بھی داخل نہیں ہوگا، جنہوں نے درخت کے نیچے بیعت کی۔

قال عبد الله بن احمد حدثنی ابو موسى العنزي محمد ابن المثنى، قال حدثنا محمد بن ابى عدى، عن ابنِ عون عن كلثوم بن جبر، قال كنا بواسط القصب عند عبد الاعلى بن عبد الله بن عامر قال فإذا عنده رجل، يقال له ابو الغادية استسقى ماء، فاتي بإناء مفضض، فابيان يشرب، وذكر النبى صلى الله عليه وسلم فذكر هذا الحديث لا ترجعوا بعدى كفارا او ضلالا شك ابن ابى عدى يضرب بعضكم رقاب بعض فإذا رجل يسب فلانا، فقلت والله لئن امكننى الله منك في كتيبة، فلما كان يوم صفين إذا انابه و عليه درع، قال ففطنت إلى الفرجة في جربان الدرع فطعنته، فقتلته، فإذا هو عمار بن ياسر، قال قلت وای ید کفتاه يكره ان يشرب في إناء مفضض وقد قتل عمار بن ياسر۔

(مسند احمد 16698)

ترجمہ: کلثوم بن حبر سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ہم لوگ شہر واسط میں عبد الاعلی بن عامر کے پاس بیٹھے ہوئے تھے کہ اسی دوران وہاں موجود ایک شخص جس کا نام ابو غادیہ تھا نے پانی منگوایا، چنانچہ چاندی کے ایک برتن میں پانی لایا گیا لیکن انہوں نے وہ پانی پینے سے انکار کر دیا اور نبیﷺ کا ذکر کرتے ہوئے یہ حدیث ذکر کی کہ میرے پیچھے

 کافر یا گمراہ نہ ہو جانا کہ ایک دوسرے کی گردنیں مارنے لگو۔ اچانک ایک آدمی دوسرے کو برا بھلا کہنے لگا، میں نے کہا کہ اللہ کی قسم! اگر اللہ نے لشکر میں مجھے تیرے اوپر قدرت عطاء فرمائی ( تو تجھ سے حساب لوں گا) جنگِ صفین کے موقع پر اتفاقاً میرا اس سے آمنا سامنا ہو گیا، اس نے زرہ پہن رکھی تھی لیکن میں نے زرہ کی خالی جگہوں سے اسے شناخت کر لیا، چنانچہ میں نے اسے نیزہ مار کر قتل کر دیا، بعد میں پتہ چلا کہ وہ تو سیدنا عمار بن یاسرؓ تھے، تو میں نے افسوس سے کہا کہ یہ کون سے ہاتھ ہیں جو چاندی کے برتن میں پانی پینے پر ناگواری کا اظہار کر رہے ہیں جبکہ انہی ہاتھوں نے سیدنا عمارؓ کو شہید کر دیا تھا۔

جواب: اس حدیث میں اس شخص کا ذکر نہیں ہے کہ کس نے نیزہ مارا تھا اس کو راوی نے منسوب کر دیا ہے ابو غادیہؓ کی طرف جس کی وضاحت ہم کو مستدرک الحاکم کی حدیث سے ملتی ہے۔

حدثنا ابو جعفر محمد بن صالح بن هانء حدثنا السّرى بن خزيمة حدثنا مسلم بن ابراهيم حدثنا ربيعة بن كلتوم حدثني ابي قال كنت بواسط القصب في منزل عبد الاعلى بن عبد الله بن عامر قال الاذن هذا ابو غادية الجهني يستأذن فقال عبد الاعلى ادخلوه فادخل وعليه مقطعات فاذا رجل طوال ضرب من الرجال كأنه ليس من هذه الامه فلما فعد قال كنا نعد عمار بن ياسر من خيارنا قال فوالله اتى لفى مسجد قباء اذا هو يقول وذكر كلمة لو وجدت عليه اعوانا لوظلته حتى اقتله قال فلما كان يوم صفين اقبل يمشى اول الكتيبة راجلا حتىٰ كان بين الصفين طعن رجل بالرمح فصرعه فانكفا المغفر عنه فاضربه فاذا راس عمار بن ياسر قال يقول مولى لنا لم ار رجلا ابين ضلالة منه۔

(مستدرك حاكم: 5658)

ربیعہ بن کلثوم اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں(وہ فرماتے ہیں) میں واسط القصب میں عبد الاعلیٰ بن عبداللہ بن عامر کے گھر تھا، اجازت لینے والے نے کہا ابو غادیہ چینی اندر آنے کی اجازت مانگ رہا ہے، عبد الاعلیٰ نے کہا اس کو اندر آنے کی اجازت دے دو، وہ اندر آئے، اس وقت انہوں نے تنگ کپڑے پہنے ہوئے تھے، وہ انتہائی دراز قد آدمی تھا، وہ تو اس امت کا فرد لگتا ہی نہیں تھا، جب اندر آ کر بیٹھ گیا تو کہنے لگا ہم عمار بن یاسر کو سب سے معتبر اور نیک جانتے ہیں۔ خدا کی قسم میں مسجد قباء میں تھا وہ باتیں کر رہا تھا ان میں ایک یہ بھی کہ اللہ کی قسم اگر کبھی مجھے اس پر غلبہ ملا تو میں اس کو روند ڈالوں گا حتیٰ کہ ان کو قتل کر ڈالوں گا، پھر جب جنگِ صفین شروع ہوئی تو لشکر کی پہلی جماعت پیدل چلتے ہوئے آئی، یہاں تک کہ وہ صفین کے درمیان پہنچ گئے ، ایک آدمی نے ان کو نیزہ مارا، جس کی وجہ سے وہ گر گئے، ان کا خود نیچے گرا، جب دیکھا تو سیدنا عمار بن یاسرؓ کا سر تھا۔ راوی کہتے ہیں ہمارے آقاﷺ کہا کرتے تھے کہ میں نے اُس آدمی سے زیادہ گمراہ کوئی شخص نہیں دیکھا۔

اس حدیث سے صاف پتا چلتا ہے کہ سیدنا عمارؓ کو قتل کرنے والے سیدنا ابو غادیہؓ نہیں تھے بلکہ کوئی اور تھا جس کو سیدنا ابو غادیہؓ نے جنگ صفین میں نیزہ مارتے دیکھا تھا۔ 

عز الدین ابنِ الاثیر ابوالحسن علی ابنِ محمد الجزری (المتوفی 630ھ) فرماتے ہیں: ایک روایت میں ہے کہ جس شخص نے جنابِ سیدنا عمارؓ کو قتل کیا تھا، وہ کوئی اور آدمی تھا اور یہ قاتل مشہور ہو گئے۔ 

(أسد الغابۃ فی معرفۃ الصحابة اردو جلد3 صفحہ 596) 

ان سب باتوں سے پتا یہ چلتا ہے کہ اس مسئلے میں بہت اختلاف ہے، تو بہتر یہی ہے کہ اس مسئلے پر سکوت اختیار کیا جائے اور ایسی زبان نہ استعمال کی جائے کہ جس سے صحابہ کرامؓ کی شان میں گستاخی ہو۔


صفحہ 5 از 5