رانا سعید شیعہ کے جھوٹ ، اسی کی زبانی بے نقاب! (اسکرین شاٹس…

رانا سعید شیعہ کے جھوٹ ، اسی کی زبانی بے نقاب! (اسکرین شاٹس )

  جعفر صادق

صفحہ 3 از 7

  علی حیدری شیعہ:  جی ممتاز صاحب لگتا ہے زیادہ میسج لکھنے کی وجہ سے آپ کے حواس  باختہ ہوگئے ہیں۔ آپ نے کہا تقیہ میں عام کو رخصت ہے خاص کو نہیں ، میں نے کہا انبیا نے بھی تقیہ کیا قرآن میں بھی حکم موجود ہے ۔۔ پھر میں نے کہا یہ تو آپ نے اقرار کیا کہ آپ عام کے لئے تقیہ مانتے ہیں خاص کے لئے نہیں تو آپ سے سوال تھا کہ پھر انبیا میں سے حضرت ابراھیم علیہ السلام  کا تقیہ ۔۔آپکی نظر میں عام ہے یا خاص ۔۔۔ میں عام میں نہیں ملاتا آپ کا قیاس ہے ۔۔بچوں کی طرح آپکو سمجھانا پڑتا ہے ۔

  جعفر صادق: کیا تقیہ پر گفتگو کرنا چاہتے ہیں؟   میں نے مشورہ دیا تھا کہ اس موضوع پر میرے مکالمے کو پہلے اطمینان سے پڑھ لیں۔ پھر ہم اس موضوع پر بھی گفتگو کر لیں گے۔طریقہ کار وہی رہے گا۔ شرائط و ضوابط کے اندر دونوں فریقین کے تقیہ پر واضح مؤقف پیش ہوں گے۔۔ اس کے بعد دعویٰ اور جواب دعویٰ کی روشنی میں علمی دلائل کی روشنی میں گفتگو ہوگی۔ ان شاء اللہ

تقیہ افضل عبادت یا مجبور کو دی گئی رخصت!.pdf

  یہ مکالمہ پڑھیں۔۔۔ میرا خیال ہے تین چار دن کافی ہیں۔۔ جمعرات سے ہم تقیہ پر باقائدہ گفتگو کریں گے۔ اگر آپ واقعی سنجیدہ ہیں تو میں جمعرات کے دن حاضر رہوں گا۔ ان شاء اللہ۔

    الحمدلللہ۔۔سنی و شیعہ مباحث کا دس سالہ تجربہ ہے اور میں نے اس دوران یہ سیکھا ہے کہ شیعہ سے جب بھی کسی موضوع پر گفتگو کی جائے تو پہلے اس موضوع پر دونوں فریقین کا اپنا اپنا مؤقف واضح الفاظ میں ضرور بہ ضرور لکھو دینا چاہئے  تاکہ بعد میں کسی بھی فریق کے لئے اپنے مؤقف سے مکرنا ممکن ہی نہ ہو۔

عوام بھی جان سکیں کہ سنی و شیعہ کے مابین اس موضوع پر اختلاف کن نکات پر ہے اور کس فریق کو ثابت کیا کرنا ہے۔

علی حیدری شیعہ:   میں دیکھ چکا ہوں آپ سے لوگ تقیہ پر بات کر رہے تھے ۔۔  ابھی آپ کا پی ڈی ایف بھی دیکھتے ہیں۔

  جعفر صادق: میں جمعرات کے دن منتظر رہوں گا۔اللہ حافظ

  علی حیدری شیعہ:   ابھی تک تو میں نے چند تحاریر آپ کے موقف ابن سبا پر لکھی ہیں،  باقی حسب وقت لکھوں  گا کچھ ، وه یہاں لگاؤں پھر آپ کے تقیہ  پر پی ڈی ایف دیکھ کر یہاں جو نکتہ مختلف ہوا اس پر اشکال کروں گا۔

 جعفر صادق: پہلے ابن سبا پر گفتگو  تو کریں پھر جتنی چاہیں تحاریر لکھتے رہئے گا۔   ابن سبا پر شیعہ سائیٹس پر پہلے ہی کئی تحاریر موجود ہیں۔ اب مکالمے کی شدید ضرورت ہے۔   لکھنے کو تو میں پوری کتاب ابن سبا پر لکھ سکتا ہوں۔ الحمدلللہ۔ لیکن مکالمے کی اپنی ایک اہمیت ہوتی ہے۔

علی حیدری شیعہ:  اگر آپکی اجازت ہو تو آپکے موقف پر تحریر بھیجوں ؟

 جعفر صادق: بھیج دیں۔ اگر چاہیں تو ہم اسی تحریر کو بنیاد بناکر مکالمہ کرسکتے ہیں۔ کیا خیال ہے؟

  علی حیدری شیعہ:   کیا آپکے مكالمے کے بعد پوری سنیت اس پر عمل کرے گی ؟   ابن سبا کی پیدائش لکھ دو اس کا اسلام قبول کرنا  اور  کن لوگوں نے انکے نظریات کو پھیلایا ۔ چند گزارشات ایسے ہی قبول کرکے جواب دے دو ۔

  جعفر صادق: بیشک  ھدایت اللہ عزوجل کے ہاتھ میں ہے۔ تحقیق اور محنت کبھی ضایع نہیں جاتی۔     اگر کسی کی پیدائش، اس کے شروعاتی حالات زندگی  یعنی کہاں پلا بڑھا کہاں تعلیم حاصل کی ،کتنے سفر کئے وغیرہ وغیرہ نامعلوم ہوں تو آپ کے نزدیک اس شخصیت کی کیا حیثیت ہوگی؟    آپ کی  تحریر کہاں ہے؟

  علی حیدری شیعہ:   ابھی اس پر مختصر  لکھا ہے ۔۔گروپ میں لکھ سکتا تھا مگر ۔فارغ وقت میں اپنے دوسرے واٹسپ پر تحریر لکھ کر سینڈ کردی اسے یہاں  لگاتا ہوں انتظار کرنا۔

  پھر تو آپ نے آج تک کتنے مكالمے شیعہ سے فائدہ اٹھایا ؟؟ مثلا . ۔۔اور میں فلاح پاگيا ۔۔۔ جیسے  شیعہ مكالمے سے فائدہ ؟ یا اسکی رد میں کوئی مكالمہ آپکی طرف سے ؟

الٹا مجھ پر سوال!  حد ہے ممتاز صاحب ویسے ۔۔رانا سعید سے آ  پ کی ابن سبا پر بات  کہاں پہنچی؟

  جعفر صادق: یہ معاملہ میرے اور اللہ کے بیچ میں ہے۔۔اسے ظاہر کر کے ثواب ضایع کیوں کروں۔

غیر ضروری گفتگو نہ کریں۔میرا  سوال ہی دراصل آپ کی بات کا جواب ہے حضور۔۔۔آپ کلیئر کردیں۔

  علی حیدری شیعہ:  یہ فائدہ کی بات ہے تاکہ ہم بھی آپ کی باتوں کی طرف دیکھ کر کم سے کم فیصلہ تو کر سکیں۔

   جعفر صادق: تو مدعے پر گفتگو کریں۔     اگر کسی کی پیدائش اس کے شروعاتی حالات زندگی  یعنی کہاں پلا بڑھا، کہاں تعلیم حاصل کی، کتنے سفر کئے وغیرہ وغیرہ نامعلوم ہوں تو آپ کے نزدیک اس شخصیت کی کیا حیثیت ہوگی؟

 گفتگو اسی سوال کی روشنی آگے بڑھے گی۔

  علی حیدری شیعہ:   چلیں مثبت یا منفی پر بھر کیف ۔میرے سوال کے جواب  میں  آپ  سے جو مانگا ہے اگر آپ کے پاس نہیں تو اشکال نہیں ۔۔آپ اپنی زحمت تمام کردیں۔

 مدعا آپکا مكالمہ ہے اسکے نتائج و فائدہ پوچھے اس میں کیا بری بات ہے۔

ابن سبا پر علی حیدری شیعہ  کی تحریر میں ابن سبا  ہی غائب!

  علی حیدری شیعہ:  السلام علیکم ۔۔تمام ممبران جیسا کہ آپ کو پتہ ہے کہ ابن سبا پر ہماری گفتگو ہو رہی تھی ممتاز قریشی کے ساتھ ۔ممتاز قریشی کا موقف تھا کہ یہودی ابن سبا   شیعہ عقائد کا بانی تھا۔ اگر بالفرض مانا جائے کہ ایک یہودی مسلمان ہونے والا۔مسلمانوں میں ایک نئے عقائد ایجاد کر رہا ہو  تو کسی صحابی نے اسکے خلاف کوئی تحریک کیوں  نہیں چلائی ۔۔۔۔؟؟ دوسرا کیا یہ ممکن تھا اس دور میں موجود مسلمان  ایک نئے مسلمان ہونے والے سابقہ یہودی کی باتیں مان گئے اور سکوت اختیار کیا ؟

    چلیں مانتے ہیں مسلمانوں  نے سکوت اختیار کیا ۔یا تحریک چلائی بھی ہو ۔۔لیکن بعض شیعہ مخالف جیسے موجودہ سنی عالم ممتاز قریشی و اس سے قبل والے اہل سنہ ۔۔۔کا یہ تو ماننا ہے کہ ۔۔تمام تر صحابہ کی عزت کی جائے  اور اور انکو برا کہنے والا کافر ہے اور دوسری طرف خود ممتاز و ایسے ۔ *شیعہ مخالف*  (صحابہ و تابعین)کو  ابن سبا کا پیروکار  مانتے ہیں ۔۔اب کیا کیا جائے سامعین ؟؟؟ صرف یہ ممتاز قریشی ہی نہیں بہت سے سنیوں نے ابن سبا اور اسکے پیروکار ۔صحابہ و تابعین کو مانا ہے تو اب ذرا ترازو برابر رکھنا ۔۔چلتے ہیں ان کی طرف جو ابن سبا کے پیروکار تھے ۔

صفحہ 3 از 7