Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

معاویہ (رضی اللہ عنہ) نے خلاف سنت تسمیہ کو ترک کر دیا اور بہت سی بدعات کا ارتکاب کیا۔ (دراسات اللبيب) ، معاویہ (رضی اللہ عنہ) لوگوں کو جبراً مذہب علی اختیار کرنے سے روکتا تھا۔ (دراسات اللبيب)

  مولانا ابوالحسن ہزاروی

1: معاویہ (رضی اللہ عنہ) نے خلاف سنت تسمیہ کو ترک کر دیا اور بہت سی بدعات کا ارتکاب کیا۔ (دراسات اللبيب) 

2:  معاویہ (رضی اللہ عنہ) لوگوں کو جبراً مذہب علی اختیار کرنے سے روکتا تھا۔ (دراسات اللبيب) 

الجواب اہلسنّت 

مذکورہ کتاب کے دونوں صفحات پر لچر اور فضول تاریخی واہیات باتوں کا مرکب ہیں جو مریضان تعصب نے خاص مشن کے تحت وضح کی ہیں ارباب علم تو ان لچر باتوں کو دیکھتے ہی جان لیتے ہیں کہ کسی قدر عقل دشمنی کا سلسلہ ناروا ہے جو سیل رواں کی طرح بہہ رہا ہے۔ مگر عوام الناس کیلئے البتہ وضاحت کرنے کی ضرورت ہے۔

یہاں پر خاص طور پر دو باتوں پر انگلی رکھی گئی ہے۔ 

(1) ترک تسمیہ 

(2) جبرا مذہب علی سے روکنا تو لو ملاحظہ فرماؤ حقیقت حال کیا ہے۔ بسم الله کو جہری نماز میں امام کیلئے جہراً (بلند آواز سے پڑھنا چاہئے یا سراً ( آہستہ) تو اس باب میں خلفائے راشدین کا ارشاد یہ ہے کہ جہری نماز میں  امام سراً بسم اللہ پڑھے اور جہری قراءت کا آغاز الحمدلله رب العالمین سے کرے۔

 چنانچہ امام مسلم رحمہ اللہ کے حوالے سے مشکوة شریف میں یہ روایت موجود ہے کہ حضور ﷺ اور حضرت ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہم نماز میں فاتحہ سے پہلے تسمیہ بلند آواز سے نہ پڑھتے تھے۔ (مشکوۃ ص 79۔)

 گویا رحمت عالم ﷺ کا عمل مبارک تو وہی ہے جو حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ نے اختیار فرمایا تھا مگر حقیقی دستاویز والوں کو اس بات پر اعتراض ہے دراصل طریقہ نبوی اپنائے کی وجہ سے مریضان حسد کی ان سے جلن ہے کہ یہ مقدس طریقہ ان کو ہی کیوں مل گیا اور ہمارے مقدر میں کیوں نہ ہوا بالکل اُن اہل کتاب کی طرح جو قرآن پاک کی محفوظیت و عظمت کی بنا پر قرآن والوں سے حسد کرتے ہیں کہ ان کی کتاب ابھی تک محفوظ کیوں ہے اور ہماری کیوں نہیں ، رہا مسئلہ جبراً حضر ت على رضی اللہ عنہ کے مذہب سے روکنے کا تو ان كملوں کو کیا علم کہ خود امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کا مذہب وہی ہے جو حیدر کرار رضی اللہ عنہ کا ہے اگر بھی کسی مسئلہ میں دشواری پیش آجائے اور ضرورت پڑے تو حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کی طرف رجوع فرماتے ہیں ان کا تو آپس میں معاملہ اختلاف مذہب کا نہ تھا البتہ تاریخی مکھیوں کی طرح یہ بھی اسی گند کی طرف مائل ہیں جو ان کی غذا کی ضرورت کو پورا کر سکے۔ 

 کیا ہی اچھا ہوتا جو شہد کی مکھیوں جیسا کردار ہوتا جو پھل پھول پر بسیرا کرتی اور شہد جیسی قیمتی دولت اپنے میٹھے لبوں سے تیار کرتی ہے۔  اگر وہ بھی ہر عیب والی بات پر انگلی رکھ بیٹھتی تو اس کے لبوں سے شہد ہرگز نہ نکلتا۔ پس جو عیوب کی بجائے اچھائیاں تلاش کرتے ہیں وہ شہد کی مکھی جیسے ہیں اور جو عمدہ اخلاق اچھی صفات اور کمالات کی بجائے برائیوں پر انگشت اٹھائے ہوتے ہیں ان کی مثال دوسری ہے۔ 

     پسند اپنی اپنی  نصیب اپنا اپنا

نیز گذشتہ افتراء میں ہم عرض کر آئے ہیں کہ یہ بھی معین ٹھٹھوی شیعہ کی کتاب ہے۔ اپنے گھر کا گند اپنے گھر رکھیں