الشیخ اکرم ضیاء العمری
علی محمد الصلابیمندوب وزارت اوقاف و احیاء التراث الاسلامی قطر
شیخ صاحب سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے عنوان سے جو تحریری مقابلہ ہوا، اس کے منصفین میں شامل تھے اور الجامعۃ الاسلامیہ مدینہ منورہ حدیث و دعوت کے شعبہ میں عرصہ دراز تک پروفیسر رہے۔ وہ کہتے ہیں: بلاشبہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا مومنوں کی ماں ہیں۔ وہ ہر خاتون اسلام کے لیے ایک نمونے اور آئیڈیل کی حیثیت رکھتی ہیں۔ عمدہ تعلیم و تربیت، ہمہ جہت شخصیت، منبع کی شفافیت، وسعت ثقافت میں اور فقہ میں بلند مقام اور اپنے زمانے کی عورتوں کے ساتھ حسن معاشرت میں وہ بے مثال تھیں۔
ان کے دینی و علمی تحائف ہمیشہ علمائے امت کے لیے مشعل راہ ہیں۔ ان کے دفاع میں قرآن کریم نازل ہوا، ان کے لیے صرف یہی اعزاز کافی ہے کہ خاتم الانبیاء سیّدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی وہ محبوب ترین زوجہ محترمہ تھیں ۔ نیز جبریل علیہ السلام کا ان کو سلام کہنا بھی ان کا قابل ذکر و فخر اعزاز ہے۔
ہر زمانے اور علاقے کے اہل ایمان اس پر ہمیشہ راضی رہے اور یہ کتاب ان کی معطر سیرت کو جلا بخشتی رہے گی، یقیناً علیٰ وجہ البصیرت ہی اقتدا کا حق واضح ہوتا ہے۔