دوسرا مبحث سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی کنیت
علی محمد الصلابینبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کو اس وقت ام عبداللہ کی کنیت عطا کی جب انھوں نے اپنے لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے کنیت کی درخواست کی۔ آپ نے انھیں ان کی دلجوئی کی خاطر ان کی حقیقی بہن سیدہ اسماء رضی اللہ عنہا ( یہ جلیل القدر صحابیہ اسماء بنت ابی بکر صدیق رضی اللہ عنہا ہیں۔ آپ سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی ا للہ عنہما کی والدہ ہیں۔ بنو تیم قبیلہ سے ہیں اور سیدہ اسماءؓ کا لقب ذات النطاقین ہے۔ مکہ مکرمہ ہی میں اوائل اسلام میں اسلام قبول فرمایا اور 73 یا 74 ھ میں انھوں نے وفات پائی، کے بیٹے عبداللہ کے نام پر یہ کنیت عطا کی۔) سیدنا عروہ رحمہ اللہ (اسے ابوداؤد، ابن ماجہ، احمد، بیہقی نے روایت کیا اور علامہ البانی رحمہ اللہ نے صحیح ابی داؤد میں اسے ’’صحیح‘‘ کہا ہے۔) بیان کرتے ہیں کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا:
یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! کُلُّ صَوَاحِبِیْ لَہُنَّ کُنًی ، قَالَ: فَاکْتُنِيْ بابنکِک عَبْدَ اللّٰہِ بْنِ الزُّبَیْر۔ یَعْنِی ابْنِ أُخْتِہَا۔ فَکَانَتْ تُدْعِیْ بِأُمِّ عَبْدَ اللّٰہِ حَتّٰی مَاتَتْ۔
(یہ عروہ بن زبیر بن عوام ہیں، انھیں ابو عبداللہ القرشی الاسدی کی کنیت سے یاد کیا جاتا ہے۔ مدینہ منورہ کے فقہاء سبعہ میں سے ایک تھے۔ یہ 23ھ کے لگ بھگ پیدا ہوئے اپنے وقت کے بہت بڑے عالم، بکثرت احادیث کے راوی، ثبت (ثقہ) اور مأمون (ضعف وغیرہ سے محفوظ) تھے۔ کسی فتنے میں شامل نہ ہوئے۔ یہ 93 ھ یا اس کے بعد فوت ہوئے۔ (سیر أعلام النبلاء: جلد 4 صفحہ 421۔ تہذیب التہذیب لابن حجر: جلد 4 صفحہ 117)
’’اے اللہ کے رسول! میری تمام سہیلیوں کی کنیت ہے!! تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’میں تجھے تیرے بیٹے یعنی تیرے بھانجے عبداللہ بن زبی ( یہ عبداللہ بن زبیر بن عوام رضی اللہ عنہما ہیں، ان کی کنیت ابوبکر ہے۔ قریشی اور اسدی ہیں۔ ان کا لقب امیر المؤمنین ہے۔ یہ عبادلہ (عبداللہ نام کے چار جلیل القدر اصحاب رسول صلی اللہ علیہ وسلم ) میں سے ایک ہیں اور بہادر صحابہ میں شمار ہوتے تھے۔ ہجرت کے بعد مدینہ منورہ میں مہاجرین کے گھر سب سے پہلے انہی کی ولادت با سعادت ہوئی۔ خلافت کے لیے ان کی بیعت کی گئی۔ ان کی اطاعت پر حجاز، یمن، عراق اور خراسان کے لوگوں نے اجماع کیا اور 73ھ میں فوت ہوئے۔ (الاستیعاب لابن عبدالبر: جلد 1 صفحہ 237۔ الاصابۃ لابن حجر: جلد 4 صفحہ 89)کے نام کی کنیت دیتا ہوں۔‘‘ پھر ان کو ان کی وفات تک ام عبداللہ کی کنیت سے ہی پکارا جاتا رہا۔‘‘
ایک قول یہ بھی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے بطن سے ایک نوزائیدہ بچہ ضائع ہو گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا نام عبداللہ رکھا اور سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے اس کے نام پر اپنی کنیت ام عبداللہ رکھ لی۔ لیکن یہ بات ثابت نہیں اور پہلی روایت ہی زیادہ صحیح ہے۔
(جلاء الافہام لابن القیم: صفحہ 241۔ فتح الباری: جلد 7 صفحہ 107، الاصابۃ: جلد 2 صفحہ 232۔ یہ دونوں کتابیں ابن حجر رحمہ اللہ کی ہیں۔)