Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے القاب

  علی محمد الصلابی

سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے متعدد القاب تھے جو اسلام میں اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاں ان کی شان و عظمت تکریم اور تعظیم و تقدیس پر دلالت کرتے ہیں۔ ان میں سے چند القاب کا تذکرہ یہاں کیا جاتا ہے:

1۔ام المؤمنین: یہ ان کا مشہور ترین لقب ہے، جو اللہ تعالیٰ نے انھیں عطا کیا ہے۔ چنانچہ اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے فرمایا اور اس کا فرمان سب سے زیادہ سچا ہے:

اَلنَّبِىُّ اَوۡلٰى بِالۡمُؤۡمِنِيۡنَ مِنۡ اَنۡفُسِهِمۡ‌ وَاَزۡوَاجُهٗۤ اُمَّهٰتُهُمۡ‌‏ ۞ (سورۃ الأحزاب آیت 6)

ترجمہ: ایمان والوں کے لیے یہ نبی ان کی اپنی جانوں سے بھی زیادہ قریب تر ہیں، اور ان کی بیویاں ان کی مائیں ہیں۔ 

یہ لقب سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی ذاتی شرافت پر دلالت کرتاہے۔ اس شرف و منقبت میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی دیگر ازواج مطہرات بھی شامل ہیں، کیونکہ وہ سب مومنوں کی مائیں ہیں۔ رضی اللّٰہ عنہن اجمعین

2۔ رسول اللہ صلی اللہ عليه وسلم کي حبیبہ: یہ لقب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے ان کو اپنی اضافی محبت عطا کرنے سے ملا ہے، چنانچہ حدیث میں ہے کہ:

فَقَدْ سُئِلَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صلي اللّٰه عليه وسلم : أَيُّ النَّاسِ أَحَبُّ إِلَیْکَ؟ قَالَ: عَائِشَۃٌ۔ فَقُلْتُ: مِنَ الرِّجَالِ؟ فَقَالَ: أَبُوْہَا۔ قُلْتُ: ثُمَّ مَنْ؟ قَالَ: عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ

(متفق علیہ: صحیح بخاری: حدیث: 3462 صحیح مسلم: حدیث 2384)

ترجمہ: ’’رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا گیا: لوگوں میں سے آپ کو سب سے زیادہ کس سے محبت ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: عائشہ سے۔ بقول راوی میں نے کہا: مردوں میں سے؟ تو آپﷺ نے فرمایا: ان کے والد کے ساتھ۔

میں نے پوچھا: پھر کس سے؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: عمر ( عمر بن خطاب بن نفیل ابو حفص رضی اللہ عنہ قرشی، عدوی ہیں۔ اسلام میں ان کا لقب فاروق اور خلفائے راشدینؓ میں یہ دوسرے خلیفہ ہیں۔ رسو ل اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے تمام صحابہ کرامؓ میں سے سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے بعد افضل ترین صحابی ہیں۔ ان کا اسلام لانا مسلمانوں کے لیے کشادگی کا سبب بنا۔ یہ اوائل مہاجرین سے ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم سے کافروں کے خلاف برپا تمام غزوات و سریات میں شامل رہے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کے ہاتھ پر مسلمانوں کو شام، عراق اور مصر کی فتوحات عطا کیں۔ سب سے پہلے انھیں امیر المؤمنین کا لقب ملا۔ 23ھ میں شہید ہوئے (رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ وَ اَرْضَاہُ)۔ الاصابۃ: جلد 4 صفحہ 588۔ الغرر فی فضائل عمر للسیوطی) بن خطاب کے ساتھ(رضی اللہ عنہ)۔ ‘‘

صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے ساتھ خصوصی محبت کا بخوبی علم و ادراک تھا۔ اگرچہ عہد نبوی میں اس دعویٰ کے دلائل بے شمار ہیں، تاہم صرف ایک واقعہ بطور مثال پیش کیا جاتا ہے۔

سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے عہد خلافت میں جب عراق کی فتح سے حاصل شدہ مال غنیمت میں ایک نفیس زیور آیا تو تقسیم غنائم کے وقت سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو یوں مخاطب کیا:’’کیا تمھیں اس کی قیمت کا اندازہ ہے؟ ‘‘ سب نے بیک زبان لاعلمی کا اظہار کیا اور نہ انھیں یہ معلوم تھا کہ اسے آپس میں کس طرح تقسیم کریں گے۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کہنے لگے: ’’کیا تم مجھے اجازت دو گے کہ میں یہ ہار سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی طرف بھیج دوں، کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے ساتھ خصوصی محبت کرتے تھے۔‘‘ سب نے رضا مندی کا اظہار کیا تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے وہ قیمتی جڑاؤ ہار سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی خدمت میں پیش کر دیا۔ 

(اسے امام احمد نے اپنی تصنیف ’’فی فضائل صحابہ: جلد 51 حدیث 1642‘‘ میں روایت کیا اور ابن راہویہ نے اپنی مسند جلد 2 صفحہ 19 میں روایت کیا۔ حاکم نے جلد 4 صفحہ 9 میں روایت کیا اور کہا: یہ حدیث شیخین کی شرط کے مطابق صحیح ہے، اگر ذکوان نامی راوی کا سماع ابوعمرو سے ثابت ہو۔ امام ذہبیؒ نے ’’سیر اعلام النبلاء جلد 2 صفحہ 190 میں کہا یہ روایت مرسل ہے۔)

سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے تمام امہات المؤمنین کے لیے دس ہزار سالانہ وظیفہ مقرر فرمایا تو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے وظیفہ میں دو ہزار کا اضافہ کر دیا، اور کہنے لگے: ’’بے شک یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی پیاری بیوی ہیں ۔‘‘ 

(یہ محاملی نے ’’الامالی‘‘صفحہ 242 پر روایت کی۔ خرائطی نے ’’اعتلال القلوب: صفحہ 25‘‘ پر اور حاکم نے جلد 4 صفحہ 9 پر روایت کی اور کہا: یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح تو ہے لیکن ان دونوں نے اسے مطرف بن طریف کے ارسال کی وجہ سے روایت نہیں کیا۔

3۔المبرأۃ: پاک دامن، عفیفہ، بریٔ الذمہ۔ یہ لقب انھیں قرآن کریم میں اس بہتان سے برأت نازل ہونے کے بعد ملا جو منافقین نے ان پر تھوپنا چاہا۔ گویا انھیں ساتویں آسمان کے اوپر عرش عظیم کے مالک رب اعظم نے ہر عیب و الزام و بہتان سے مبرا قرار دیا۔ رضی اللہ عنہا و ارضاھا

جب راوی حدیث اور مشہور تابعی مسروق رحمہ اللہ (مسروق بن اجدع بن مالک ابو عائشہ رحمہ اللہ کوفی مشہورامام، عالم، عابد، فقیہ اور زہد و ورع میں مقتدا تھے۔ جنگ قادسیہ میں شریک ہوئے، ان کا ایک ہاتھ بھی کٹ گیا۔ ایک قول کے مطابق جنگ صفین کا بھی انھوں نے مشاہدہ کیا، لیکن اس میں شریک نہیں ہوئے۔ زیاد نے انھیں ایک علاقے کا والی مقرر کیا اور 62یا 63 ھ میں فوت ہوئے۔ (سیر اعلام النبلاء للذہبی: جلد 4 صفحہ 66۔ تہذیب التہذیب لابن حجر: جلد 5 صفحہ 416)

ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے رو ایت کرتے تو یوں کہا کرتے: ’’مجھے صدیقہ بنت صدیق، اللہ کے حبیب کی محبوبہ المبرأہ نے یہ حدیث سنائی۔‘‘

(المعجم الکبیر للطبرانی: صفحہ 289، 290۔ مسند احمد: 26086)

4۔الطیّبۃ: پاک باز۔ بے شک اللہ تعالیٰ نے ان کے لیے گواہی دی کہ یہ ’’الطیبۃ‘‘پاک باز ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے قصہ افک کے متصل بعد فرمایا:

 وَالطَّيِّبٰتُ لِلطَّيِّبِيۡنَ وَالطَّيِّبُوۡنَ لِلطَّيِّبٰتِ‌ اُولٰٓئِكَ مُبَرَّءُوۡنَ مِمَّا يَقُوۡلُوۡنَ‌ لَهُمۡ مَّغۡفِرَةٌ وَّرِزۡقٌ كَرِيۡمٌ ۞ (سورۃ النور آیت 26)

ترجمہ: اور پاکباز عورتیں پاکباز مردوں کے لائق ہیں، اور پاکباز مرد پاکباز عورتوں کے لائق۔ یہ (پاکباز مرد اور عورتیں) ان باتوں سے بالکل مبرا ہیں جو یہ لوگ بنا رہے ہیں۔ ان (پاکبازوں) کے حصے میں تو مغفرت ہے اور باعزت رزق۔

الشیخ عبدالرحمٰن سعدی رحمہ اللہ نے اپنی تفسیر میں اس آیت کے ضمن میں لکھا:

’’اس آیت کا اسلوب عام ہے۔ خاص واقعہ اس کے عموم پر اثر انداز نہیں ہوتا۔ اس آیت کے سب سے بڑے مخاطب تمام انبیاء اور ان میں سے خصوصاً اولو العزم رسل اور ان میں سے ان کے اور ہمارے سردار اور ہمارے نبی محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہیں ۔ علی الاطلاق وہ تمام مخلوقات میں سب طیبین سے افضل ترین طیب ہیں، ان کے لیے صرف پاک باز عورتیں ہی مناسب تھیں تو اس بہتان کے ذریعے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی ذات پر الزام لگانے کا اصل مقصد اور اصل نشانہ ہمارے نبی محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہیں اور یہی منافقین کا مقصد رذیل تھا۔

سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کا صرف رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیوی ہونا ہی ان کی پاک بازی کی بہت بڑی دلیل ہے۔ چہ جائیکہ جو عظیم الشان فضائل و مراتب ان کے ہیں، ان کے ہوتے ہوئے ایسا گھناؤنا الزام عقل سے بعید ہے۔ وہ تمام عورتوں سے زیادہ راست باز، سب خواتین سے زیادہ افضل، سب سے بڑی عالمہ، سب سے زیادہ پاک باز اور سب سے بڑھ کر یہ کہ وہ اللہ رب العالمین کے حبیب سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی محبوب ہیں ۔‘‘ 

(تیسیر الکریم الرحمٰن فی تفسیر الکلام المنان: صفحہ 352)

سیدہ عائشہ ام المؤمنین رضی اللہ عنہا اپنے بارے میں خود بیان کرتی ہیں :

’’ میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے خلیفہ اور آپﷺ کے دوست کی بیٹی ہوں۔ بلاشبہ میرا عذر آسمان سے نازل ہوا اور میں پیدا بھی طیبہ ہوئی ہوں، پاک باز کے گھر میں پیدا ہوئی ہوں، پاک باز نبی کے ساتھ ازدواجی زندگی بسر کی۔ مجھ سے مغفرت اور رزق کریم کا وعدہ کیا گیا ہے۔‘‘

(اس متکلم فیہ حدیث کو ابویعلیٰ نے اپنی مسند میں روایت کیا ہے۔ مکمل روایت اس طرح ہے: ’’سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: مجھے نو انعامات ملے جو سوائے مریم بنت عمران کے اور کسی عورت کو نہیں ملے۔ وہ درج ذیل ہیں:

1۔جبریل علیہ السلام اپنے ہاتھ میں میری تصویر لے کر آئے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کہا کہ آپﷺ ان سے شادی کر لیں۔

2۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے صرف مجھ کنواری سے شادی کی۔ میرے علاوہ اور کسی کنواری عورت سے شادی نہیں کی۔

3۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب فوت ہوئے تو آپﷺ کا سر مبارک میری گود میں تھا اور میں نے آپﷺ کو اپنے گھر میں دفن کروایا۔

4۔فرشتوں نے میرے گھر کو گھیر لیا۔

5۔اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کسی دوسری بیوی کے پاس ہوتے اور آپﷺ پر وحی نازل ہونا شروع ہو جاتی تو آپﷺ کے اہل خانہ آپﷺ سے جدا ہو جاتے، لیکن جب میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ لحاف میں ہوتی تو وحی آپﷺ پر نازل ہوتی رہتی۔

6۔میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے خلیفہ اور آپﷺ کے سچے وفادار کی بیٹی ہوں۔

7۔ میری برأت آسمان سے نازل ہوئی۔

8۔ میں خود بھی طیبہ پیدا کی گئی ہوں اور طیب نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ہوں۔

9۔ مجھ سے مغفرت اور رزق کریم کا وعدہ کیاگیا ہے۔

حافظ ابن کثیر رحمہ اللہ نے البدایۃ والنہایۃ جلد 2 صفحہ 56 پر لکھا ہے کہ اس روایت کے کچھ الفاظ صحیح ہیں اور اس کی سند امام مسلم کی شرط پر ہے۔ امام ذہبیؒ نے سیر اعلام النبلاء کے صفحہ 141 جلد 2 پر اس کی سند کو جید قرار دیا۔ علامہ ہیثمی نے ’’مجمع الزوائد جلد 9 صفحہ 244 ‘‘ پر لکھا ہے کہ یہ روایت ابو یعلی لائے ہیں اور الفاظ بھی صحیح ہیں، نیز انھوں نے کچھ الفاظ میں رد و بدل کیا ہے اور ابو یعلیٰ کی سند میں مجہول راوی بھی ہے۔)

جب سیّدنا عبداللہ (عبداللہ بن عباس بن عبدالمطلب کی کنیت ابو العباس ہے۔ قریشی اور ہاشمی ہیں، جلیل القدر صحابی رسول اور ان کا لقب حِبر الامت اور فقیہ امت ہے۔ ترجمان القرآن بھی انھی کو کہا جاتا ہے۔ یہ ہجرت مدینہ سے تین سال پہلے پیدا ہوئے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے لیے دعا فرمائی کہ ’’ اے اللہ! ان کو دین کی سمجھ اور کتاب اللہ کی تفسیر کا علم دے۔‘‘ 68 یا 70 ھ کو فوت ہوئے۔ (الاستیعاب: جلد 1 صفحہ 284۔ الاصابۃ: جلد 4 صفحہ 141)  بن عباس رضی اللہ عنہما سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے مرض الموت میں ان کے پاس گئے تو ان سے مخاطب ہو کر کہا: ’’آپ رسو ل اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو تمام بیویوں سے زیادہ محبوب تھیں اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم صرف پاک باز عورتوں کو ہی پسند کرتے تھے۔‘‘ 

(مسند احمد: جلد 1 صفحہ 276 پر حدیث نمبر 2496 پر روایت کی ہے۔ ابو یعلیٰ نے جلد 5 صفحہ 57 حدیث نمبر 2648 پر اور ابن حبان نے جلد 16  صفحہ 41 پر حدیث نمبر 7108 سے اور طبرانی نے جلد 10 صفحہ 321 پر حدیث نمبر 10783 سے روایت کیا ہے۔)

5۔الصدیقۃ: صدق و وفا کا پیکر۔

جناب مسروق رحمہ اللہ جب ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے حدیث روایت کرتے تو یوں کہتے: ’’مجھے یہ حدیث صدیقہ بنت صدیق، حبیب اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی محبوبہ المبرأہ نے سنائی۔ ‘‘