آیات جہاد اور مذہب اہل سنت والجماعت - ردِ رافضیت | دفاع…

آیات جہاد اور مذہب اہل سنت والجماعت

  مولانا اللہ یار خانؒ

صفحہ 1 از 6

آیاتِ جہاد اور مذہبِ اہلِ سنت والجماعت

صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے اوصاف بیان کرتے وقت سب سے پہلے مقدمہ میں ان کے جذبہ جہاد فی سبیلِ اللہ کا ذکر کیا گیا ہے اس کی مناسبت سے اس رسالہ کا آغاز آیاتِ جہاد سے کر کے مذہب اہلِ السنت والجماعت کی حقانیت ثابت کی جائے گی اس سلسلہ میں تین آیتیں پیش کی جاتی ہیں۔

اِنَّ اللّٰهَ يُدٰفِعُ عَنِ الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡٓا‌ ؕ اِنَّ اللّٰهَ لَا يُحِبُّ كُلَّ خَوَّانٍ كَفُوۡر۝۔(سورۃ الحج: آیت38)۔

ترجمہ: بلاشبہ اللہ تعالیٰ ان مشرکین کے غلبہ کو ایمان والوں سے (عنقریب) ہٹا دے گا۔ بیشک اللہ تعالیٰ کبھی دغا باز کفر کرنے والے کو نہیں چاہتا۔ 

اُذِنَ لِلَّذِيۡنَ يُقٰتَلُوۡنَ بِاَنَّهُمۡ ظُلِمُوۡا وَاِنَّ اللّٰهَ عَلٰى نَـصۡرِهِمۡ قدِيۡرُ ۝ اۨلَّذِيۡنَ اُخۡرِجُوۡا مِنۡ دِيَارِهِمۡ بِغَيۡرِ حَقٍّ اِلَّاۤ اَنۡ يَّقُوۡلُوۡا رَبُّنَا اللّٰهُ‌ ؕ وَلَوۡلَا دَفۡعُ اللّٰهِ النَّاسَ بَعۡضَهُمۡ بِبَـعۡضٍ لَّهُدِّمَتۡ صَوَامِعُ وَبِيَعٌ وَّصَلَوٰتٌ وَّمَسٰجِدُ يُذۡكَرُ فِيۡهَا اسۡمُ اللّٰهِ كَثِيۡرًا‌ ؕ وَلَيَنۡصُرَنَّ اللّٰهُ مَنۡ يَّنۡصُرُهٗ ؕ اِنَّ اللّٰهَ لَقَوِىٌّ عَزِيۡزٌ۝۔(سورۃ الحج: آیت39۔40)۔

ترجمہ: لڑنے کی ان لوگوں کو اجازت دی گئی جن سے (کافروں کی طرف سے) لڑائی کی جاتی ہے اس وجہ سے کہ ان پر (بہت) ظلم کیا گیا ہے اور بلا شبہ اللہ تعالیٰ ان کو غالب کر دینے پر پوری قدرت رکھتا ہے ۔(آگے ان کی مظلومیت کا بیان ہے) جو اپنے گھروں سے بے وجہ نکالے گئے محض اتنی بات پر کہ وہ یوں کہتے ہیں کہ ہمارا رب اللہ ہے اور اگر یہ بات نہ ہوتی تو اللہ تعالیٰ (ہمیشہ سے) لوگوں کا ایک دوسرے (کے ہاتھ) سے زور گھٹواتا رہتا تو (اپنے اپنے زمانہ میں) نصاریٰ کے خلوت خانے اور عبادت خانے اور یہود کے عبادت خانے اور (مسلمانوں کی) وہ مسجدیں جن میں اللہ کا نام بکثرت لیا جاتا ہے سب منہدم ہوگئے ہوتے بیشک اللہ تعالیٰ ان کی مدد کرے گا جو اللہ (کے دین) کی مدد کرے گا بیشک اللہ تعالیٰ قوت والا اور غلبے والا ہے (وہ جسے چاہے غلبہ اور قوت دے سکتا ہے)۔

اَلَّذِيۡنَ اِنۡ مَّكَّنّٰهُمۡ فِى الۡاَرۡضِ اَقَامُوا الصَّلٰوةَ وَاٰتَوُا الزَّكٰوةَ وَاَمَرُوۡا بِالۡمَعۡرُوۡفِ وَنَهَوۡا عَنِ الۡمُنۡكَرِ‌ ؕ وَلِلّٰهِ عَاقِبَةُ الۡاُمُوۡرِ۝۔(سورۃ الحج: آیت41)۔

ترجمہ: یہ لوگ ایسے ہیں کہ اگر ہم انکو دنیا میں حکومت دے دیں تو یہ لوگ (خود بھی) نماز کی پابندی کریں اور زکوٰۃ دیں اور (دوسروں کو بھی) نیک کاموں کے کرنے کو کہیں اور برے کاموں سے منع کریں اور سب کاموں کا انجام تو اللہ کے ہی اختیار میں ہے۔

ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے مظلوم مہاجرین و انصار سے تین مرتبہ وعدہ فرمایا کہ فتح و نصرت کے لئے ان کی مدد کی جائے گی۔ 

پہلی آیت میں فرمایا کہ مسلمانوں کی طرف سے مدافعت یوں کی جائے گی کہ مسلمانوں کو غلبہ حاصل ہوگا اور کفار ہلاک و تباہ ہوں گے اس پر یہ سوال ہو سکتا تھا کہ اس کی صورت کیا ہوگی۔ 

تو دوسری آیت میں فرمایا کہ مظلوم مہاجرین پر گو اب تک ظالم کفار ظلم کرتے رہے اب انہیں ہم جنگ کی اجازت دیتے ہیں اب وہ کفار سے جہاد کر کے انہیں تہس نہس کردیں گے۔

پھر کفار کے مظالم کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا کہ اول تو کفار نے ان مہاجرین کو ناحق اپنے گھروں سے نکال دیا اور وطن سے نکالنا تو قتل کے مترادف ہے کما قال تعالیٰ:

وَلَوۡ اَنَّا كَتَبۡنَا عَلَيۡهِمۡ اَنِ اقۡتُلُوۡۤا اَنۡفُسَكُمۡ اَوِ اخۡرُجُوۡا مِنۡ دِيَارِكُمۡ الخ۔(سورۃ النساء: آیت66)۔

اس سے ظاہر ہے کہ قتلِ نفس اور گھر چھوڑانا برابر ہے پھر مہاجرین کا قصور بتایا کہ انہوں نے کہا کہ ہمارا رب اللہ ہے یعنی توحید کےنشہ سے سرشار یہ اللہ کے مست بندے اس جرم کے مرتکب ہوئے۔ 

اس سے ایک بات اور بھی ظاہر ہے کہ مہاجرین کو اللہ تعالیٰ مؤحد اور اللہ پرست ہونے کا سرٹیفیکیٹ عطا فرما رہا ہے اب سوچنے کی بات ہے کہ ان لوگوں کو اگر ایمان سے خالی سمجھے تو گویا وہ اعلان کررہا ہے کہ وہ اللہ کا مخالف ہے اس کے فیصلوں کے مخالف ہے تو ایسے آدمی کا ایمان کہاں رہا پھر بتاکید فرمایا کہ اللہ ان کی مدد پر قادر ہے اور قادر مطلق اپنی قدرت کاملہ سے ان مہاجرین کو ایسی قدرت عطا فرمائے گا کہ کفار کو تباہ کردیں گے

پھر امداد کرنے کی وجہ بیان فرمائی کہ جن مساجد اور معابد میں میرا نام کثرت سے لیا جاتا ہے یہ لوگ ان کے محافظ ہیں جیسا کہ عہدِ فاروقیؓ  میں سینکڑوں مساجد تعمیر کی گئی ہیں گویا جہاد کی علت بھی بیان فرمائی کہ محافظ دین و معابد ہے اور مجاہدین کا وصف بیان فرمایا کہ وہ دین کے محافظ اور معابد کے پاسبان ہیں مہاجرین کا یہ وصف بیان کر کے ظاہر فرمایا کہ یہ لوگ صرف دیندار ہی نہیں دین کے محافظ بھی ہیں مگر یہ المیہ ہے کہ لوگ ان محافظین دین کے ایمان کا ثبوت طلب کرتے ہیں جیسے کوئی دوپہر کے وقت سورج کے وجود کا ثبوت طلب کرے ہاں نابینا آدمی اس معاملے میں معذور تصور کیا جائے گا۔

وعدہ نصرتِ الہٰی اور فتح کی ضمانت کے ساتھ ساتھ یہ بات وضاحت طلب معلوم ہوتی ہے کہ یہ مہاجرین انفرادی طور پر ایک ایک کافر کا صفایا کریں گے یا کوئی اجتماعی صورت ہوگی۔

تو تیسری آیت میں وضاحت فرما دی کہ میں ان مظلوم مہاجرین میں سے خلفاء مقرر کروں گا انہیں تمکین فی الارض عطا کروں گا اقتدار اور حکومت دوں گا اور ان خلفاء کی قیادت میں کفار سے جہاد کیا جائے گا اور ان پر غلبہ عطا ہوگا آیت نمبر 2 کے آخر میں اللہ تعالیٰ نے اپنی نصرت کا وعدہ بتاکید ان لوگوں سے کیا جو اس کے دین کی مدد کریں گے تیسری آیت میں ان خلفاء کا وصف بیان کیا کہ وہ دین کی اشاعت اور امر بالمعروف و نہی عن المنکر میں کوشاں رہتے ہیں۔

صفحہ 1 از 6