آیات جہاد اور مذہب اہل سنت والجماعت - ردِ رافضیت | دفاع…

آیات جہاد اور مذہب اہل سنت والجماعت

  مولانا اللہ یار خانؒ

صفحہ 2 از 6

تیسری آیت سے مظلوم مہاجرین سے تمکین فی الارض یعنی حکومت و خلافت دینے کا وعدہ ظاہر ہے بلکہ اس میں اشارہ ہے کہ ان مظلوم مہاجرین میں سے جسے بھی خلیفہ بنادیا جائے وہ فرائضِ خلافت ادا کرنے کی اہلیت اور قوت رکھتا ہے یہ آیت خلفاء کی خلافت کی واضح دلیل ہے استدلال کی بناء دو باتوں پر ہے اول خلفائے ثلاثہؓ مہاجرین میں سے ہیں اس کا کوئی انکار نہیں کر سکتا اور وعدہ خلافت مہاجرین سے ہے۔

دوسری یہ کہ اس تاریخی حقیقت کا کون انکار کر سکتا ہے کہ خلفائے ثلاثہؓ نے 24 برس تک حکومت کی۔

پھر ان نائبانِ حق کے اوصاف بیان فرمائے کہ وہ خود عبادت گزار ہوں گے بلکہ عبادت کا نظام مستحکم کریں گے زکوٰۃ کا نظام رائج کریں گے دینِ حق کی تبلیغ و اشاعت کریں گے اور امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کا وصف ان کی خصوصیات سے ہوگا۔

ان دو حقائق سے تیسری بات خود بخود ثابت ہوگئی یعنی ان کا دیندار ہونا عادل ہونا دین کا خادم ہونا مگر اس منطقی نتیجہ پر ہی اکتفا نہیں کیا گیا بلکہ وضاحت بھی کردی گئی کہ اقامتِ الصلوٰۃ نظامِ زکوٰۃ امر بالمعروف اور نہی عن المنکر ان کی خصوصیات میں سے ہے اور اللہ تعالیٰ نے تمکین فی الارض کو ان تین شرطوں کے ساتھ مشروط فرما دیا اور یہ امر واقع ہے کہ شرط پائی گئی یعنی خلفاءِ ثلاثہؓ کو حکومت ملی تو جزاء یقیناً متحقق ہوگی ورنہ کلامِ باری تعالیٰ غلط قرار پائی جائے گی کیونکہ جو صفات اقامتِ الصلوٰۃ امر بالمعروف اور نہی عن المنکر حکومت ارضی سے مشروط تھیں وہ تو جزاء ہے اور شرط ہے حکومت کا ملنا جب شرط پائی گئی تو جزاء کے وجود سے انکار کیسے کیا جا سکتا ہے۔

قبائلِ عرب حکومتِ روم و ایران ممالک عراق یمن حبشہ وغیرہ خلفائے ثلاثہؓ کی کوشش سے اسلامی سلطنت میں شامل ہوئے مہاجرین کے ساتھ غلبہ عطا کرنے کا جو وعدہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا تھا وہ خلفائے ثلاثہؓ کے ہاتھوں پورا ہوا اور اس رنگ میں پورا ہوا کہ اس کی نظیر انسانی تاریخ میں نہیں ملتی۔

آیت میں ایک اور لطیف اشارہ ہے کہ اقتدار کا نشہ انسان کو ایسا اندھا کر دیتا ہے کہ وہ اپنے آپ کو بندوں کا خدا سمجھنے لگتا ہے مگر بندے کو خدائی کا سلیقہ کیسے آئے چنانچہ وہ فرعون بن کر درندگی کا اظہار کرنے لگتا ہے مگر ان مہاجرین میں سے جن کو تمکین فی الارض عطا ہوگی وہ اللہ کے بندے ہی نہیں بلکہ مثالی بندے ہوں گے اور محمد الرسول اللہﷺ کی تربیت کا رنگ ان پر ایسا چڑھے گا کہ وہ عدل و انصاف زہد و تقویٰ خدمتِ دین اور خدمتِ خلق میں مثالی کردار پیش کریں گے اور

وَمَنۡ اَحۡسَنُ مِنَ اللّٰهِ صِبۡغَةً الخ۔(سورة البقرہ آیت نمبر 138)۔

کا لازمی اثر یہ ہے کہ اقتدار کا نشہ اس کے قریب بھی نہیں آسکتا ہے۔ 

جو دل بادلبرے آرام گیرد ز وصلے دیگرے کے کام گیرد۔

جب انسان کا دل اپنے دلبر کے وصال سے آرام حاصل کرتا ہے تو دوسروں کے وصل سے کب لطف اندوز ہو سکتا ہے۔

نہی صددستہ ریحان پیش بلبل نخواہد خاطرش جز نگہتِ گل۔

تو بلبل کے سامنے ریحان کے سو (100) گلدستے رکھ دے اسے گلاب کے پھول کے بغیر سکون نہیں ملے گا۔

نبی کریمﷺ کی تربیت نے ان کی قلبی دنیا میں ایسا انقلاب برپا کردیا کہ وہ بالکل ہی ایک نئی قسم کی مخلوق نظر آنے لگے جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے ایک مثال پیش فرمائی ہے: 

اِنَّ الۡمُلُوۡكَ اِذَا دَخَلُوۡا قَرۡيَةً اَفۡسَدُوۡهَا وَجَعَلُوۡۤا اَعِزَّةَ اَهۡلِهَاۤ اَذِلَّةً  ‌ۚ وَكَذٰلِكَ يَفۡعَلُوۡنَ۝۔(سورۃ النمل: آیت 34)۔

ترجمہ: والیان ملک (کا قاعدہ یہ ہے) جب کسی بستی میں (مخالفانہ طور پر) داخل ہوتے ہیں تو اس کو تہہ و بالا کر دیتے ہیں اور اس کے رہنے والوں میں جو عزت دار ہیں ان کو (انکا زور گھٹانے کے لئے) ذلیل کیا کرتے ہیں اور یہ لوگ بھی ایسا ہی کریں گے۔

اس طرح مہاجرین و انصار کے دلوں پر جب اللہ اور رسولﷺ کی محبت نے حملہ کیا تو بالآخر اس پر قبضہ جما لیا اور تمام رزائل جن پر وہ ناز کیا کرتے تھے ان کو نکال باہر کیا اور فضائل جن کو وہ حقارت کی نگاہ سے دیکھا کرتے تھے ان کے لئے مایہ ناز خزانہ بن گیا اور حضور اکرمﷺ کے رنگ میں یوں رنگے گئے کہ دوئی کا سوال ہی اٹھ گیا اسی بنا پر اہلِ السنت و الجماعت کے نزدیک صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی محفوظیت مسلم ہے جس پر ہزار فرضی عصمتیں قربان کی جا سکتی ہیں۔ 

چنانچہ شیخ انور کاشمیری اپنی مشہور کتاب فیض الباری (378:2) میں خلفائے اربعہؓ کےمتعلق فرماتے ہیں: 

ثم ان من امر الخلفاء الأربعة فوق امر الامير وتحت التشريع فيتبع بهم في بعض الأمور الانتظاميه كالتشريع كالجماعة فی التراويح وامر كثيرا من الامور الانتظامية فعلها عمر رضى الله عنه فی زمنه ثم الحنفية جعلوها مذهبا وعاملوا معها ما يعامل مع الشرعيات ونظائرها توجد في المذاهب الأربعة وهكذا ينبغى لقوله عليه الصلوة والسلام اقتدوا بالذين من بعدی ابی بکر وعمر رضی الله عنهما ومنصبهما بین بین و مرالرازی على تفسير آيته الاطاعته اَطِيۡـعُوا اللّٰهَ وَاَطِيۡـعُوا الرَّسُوۡلَ وَاُولِى الۡاَمۡرِ مِنۡكُمۡ‌ۚ ثم فسر اولی الامر منکم بالاجماع وفسره في الآية الثانية لَعَلِمَهُ الَّذِيۡنَ يَسۡتَنۡۢبِطُوۡنَهٗ مِنۡکُمۡ‌ انه ابوبكر رضى الله عنه مع انه لم يكن خليفه في حياته ولا حاكما۔

صفحہ 2 از 6