آیات جہاد اور مذہب اہل سنت والجماعت - ردِ رافضیت | دفاع…

آیات جہاد اور مذہب اہل سنت والجماعت

  مولانا اللہ یار خانؒ

صفحہ 3 از 6

ترجمہ: خلفائے اربعہؓ کا حکم دوسرے حکام وقت کے حکم سے کئی درجہ فوقیت رکھتا ہے اور شریعت کے تحت ہوتا ہے۔ بعض امور انتظامیہ میں ان کی اتباع واجب ہے مثلاً نماز تراویح باجماعت مستقل طور پر سیدنا عمرؓ کے دور میں ہوئی اور بہت سے انتظامی امور میں میں دیکھتا ہوں کہ عہد فاروقیؓ میں جاری کئے گئے اور حنفیہ نے ان کو اپنا مذہب بنایا ان احکام کی بجا آوری اسی طرح کرتے ہیں جیسے شرعی امور کی اس کے نظائر چاروں مذہبوں میں پائے جاتے ہیں اور یہی حق ہے کیونکہ نبی کریمﷺ نے فرمایا کہ میرے بعد سیدنا ابوبکرؓ اور سیدنا عمرؓ کی اقتدا کرو ان دونوں کا منصب اجتہاد اور شریعت کے درمیان ہے اور امام رازیؒ جب آیت اَطِيۡـعُوا اللّٰهَ وَاَطِيۡـعُوا الرَّسُوۡلَ کی تفسیر لکھنے لگے تو اولی الامر کی تفسیر اجماع سے کی اور دوسری آیت لَعَلِمَهُ الَّذِيۡنَ يَسۡتَنۡۢبِطُوۡنَهٗ مِنۡکُمۡ‌ سے مراد سیدنا ابوبکر صدیقؓ کی ذات لی حالانکہ اس زمانہ میں سیدنا ابوبکر صدیقؓ نہ خلیفہ تھے نا حاکم امام رازیؒ نے اس اطاعت کے چار مراتب پیش کئے ہیں۔ 

  • اول کتاب اللہ یہ اَطِيۡـعُوا اللّٰهَ سے مراد ہے۔ 
  • دوم سنتِ رسولﷺ یہ اَطِيۡـعُوا الرَّسُوۡلَ ہے۔ 
  • سوم اجماع امت یہ اولی الامر ہے۔
  •  اور چہارم قیاس یہ فان تنازعتم فی شیںٔی ہے۔

اور فرمایا کہ اجماعِ امت معصوم ہے اس سے مراد یہ ہے کہ جس حکم پر پوری امت کا متفقہ اجماع ہوجائے وہ حق ہو گا یہ مراد ہے معصوم ہونے سے بعض علماء کو یہ غلط فہمی ہوئی یہ کہ امام رازیؒ نے اولی الامر کو معصوم کہا ہے اس کی حقیقت وہی ہے جو اوپر بیان ہو ٨چکی ورنہ عصمت خاصہ نبوت ہے اور کوئی فردِ واحد معصوم نہیں ہو سکتا اس سے مراد صرف یہ ہے کہ امت کا اجماعی فیصلہ حق ہو گا جو باطل کے مقابل میں ہے یہاں یہ بات بھی ذہن میں رکھ لی جائے حضور اکرمﷺ کے جانشینوں کی خلافت کا تعلق امورِ تکوینیہ سے ہے یہ بندوں کا فیصلہ نہیں اللہ تعالیٰ کا فیصلہ تھا۔

عصمت کے سلسلہ میں شیعہ ایک بودا سا سوال کرتے ہیں کہ امامت کی شان نبوت سے بلند ہے جیسا کہ قرآن میں ہے۔

قَالَ اِنِّىۡ جَاعِلُكَ لِلنَّاسِ اِمَامًا الخ۔(سورۃ البقرہ: آیت124)۔

حضرت ابراہیم علیہ السلام نبی تو تھے ہی بعد میں امام بنائے گئے اس لئے ظاہر ہے کہ نبوت کے بعد اگلا درجہ امامت کا ہے حقیقت تو ظاہر ہے مگر آدمی دھوکہ کھانا اور دھوکہ دینا چاہے تو کب رُک سکتا ہے حقیقت یہ ہے کہ ایک نفسِ نبوت یا مطلق نبوت اور ایک ہے امامتِ نبوت تو مطلق نبوت سے امامتِ نبوت افضل ہے اس آیت سے حضرت ابراہیم علیہ السلام کی امامتِ نبوت ثابت ہے اس پر قیاسِ فاسد کر کے ایک خاندان کے جس فرد کو چاہا امام بنا دیا اور اس کے دوسرے افراد کو سخت سست کہنے سے بھی نہ چوکے جیسے نص سے حضرت ابراہیم علیہ السلام کی امامت نبوت ثابت ہے اسی طرح اماموں کی امامت کا ثبوت لائیں یہ تو ہوئی نفسِ امامت کی بحث اب لیجئے عصمتِ امامت کا مسئلہ تو شیعہ بیچارے جس بھولے پن سے عصمتِ امامت کے قائل ہیں اگر سوچ کا انداز یہی اختیار کیا جائے تو تمام صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی عصمت ثابت ہو سکتی ہے مگر اہلِ سنت حضرات سیدنا صدیقؓ سیدنا فاروقؓ کو دین مجسم سمجھتے ہوئے بھی معصوم نہیں سمجھتے حالانکہ امورِ انتظامیہ میں ان کے قول کو دین خیال کرتے ہیں کیونکہ نبی کریمﷺ اقتدوا بالذين من بعدى ابی بكرؓ و عمرؓ فرما کر اس کا پابند بنا دیا ہے۔

حضورﷺ نے یہ حکم دیتے ہوئے جس لفظ کا انتخاب فرمایا ہے خود اس میں لطیف نکتہ اطیعوا نہیں فرمایا اقتدوا فرمایا اطاعت اور اقتداء میں فرق سمجھنا ہو تو مطیع اور مقتدی کے الفاظ و اعمال پر غور کر لیجئے۔ اطاعت تو مطلق ہے مگر اقتداء تو ایسی اتباع ہے جس میں صرف پیچھے چلنا نہیں ہوتا بلکہ ہر حرکت اور ہر ادا کی نقل کرنا مطلوب ہوتا ہے اس لئے حضورﷺ نے فرمایا کہ سیدنا ابوبکرؓ و سیدنا عمرؓ کی ہر ادا اور ہر حرکت دین ہے اس لئے ان کی اقتداء ان کی پیروی اور ان کا اتباع ہی اصل دین اور راہِ نجات ہے اور اس راہ سے ہٹنا نبی کریمﷺ کی نافرمانی اور مخالفت ہے لا اله الا الله محمد رسول اللہ پڑھنے والا یہ جرأت کیسے کر سکتا ہے حضراتِ شیخینؓ کے متعلق شیعہ عالم شیخ صدوق کی کتاب معانی الاخبار طبع طہران صفحہ 387 اور شیعہ کی کتاب عیون اخبار الرضا طبع نجف اشرف صفحہ 244 پر بیان ہوا ہے۔

عن الحسين بن على رضى الله عنهما قال قال رسول اللهﷺ ان ابابكرؓ منی بمنزلة السمع وان عمرؓ منى بمنزلة البصر وان عثمانؓ منى بمنزلة الفواد۔

ترجمہ: سیدنا حسینؓ فرماتے ہیں کہ نبی کریمﷺ نے فرمایا کہ سیدنا ابوبکرؓ میرے لئے بمنزلہ کان کے ہے سیدنا عمر فاروقؓ بمنزلہ آنکھ کے ہے اور سیدنا عثمانِ غنیؓ  بمنزلہ دل کے ہے۔ 

اصل حدیث اتنی ہے اس کے بعد راوی نے اپنی طرف سے پیوند لگایا۔

فلم كان من الغد دخلت اليه وعنده امير المومنين عليه السلام و ابوبكرؓ وعمرؓ عثمانؓ فقلت له يا ابت سمعتك تقول فی اصحابك هؤلاء قولا فما هو فقال عليه السلام نعم ثم اشار اليهم فقالى هم السمع والبصر والفؤاد ويسألون عن وصيى واشار الى على رضى الله عنه ثم قال ان الله تعالیٰ يقول ان السمع والبصر والفؤاد كل اولئك كان عنه مسئولا۔ 

ترجمہ: دوسرے روز میں نبی کریمﷺ کے پاس گیا خلفائے اربعہؓ حضورﷺ کے پاس موجود تھے میں نے سوال کیا کہ ابا جان! آپ نے کل اپنے اصحابؓ کے بارے میں جو فرمایا تھا اس کامطلب کیا ہے؟ حضورﷺ نے خلفائے ثلاثہؓ کی طرف اشارہ کر کے فرمایا کہ وہ میرے کان آنکھ اور دل ہیں عنقریب ان سے میرے وصی کے متعلق سوال ہو گا اور سیدنا علیؓ کی طرف اشارہ فرمایا پھر فرمایا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ کان آنکھ اور دل ان سب سے سوال ہوگا۔

اس اضافہ سے شیعہ کا مقصد تو ظاہر ہے مگر ایک بات اور بھی ثابت ہوتی ہے کہ سیدنا حسینؓ کی زبان سے خلفائے ثلاثہؓ کے متعلق فی اصحابک ادا ہونا اس امر کی دلیل ہے کہ ان کے ہاں ان حضرات کا صحابی ہونا مسلم ہے پھر اصل حدیث میں"منی بمنزلہ" کے الفاظ ہیں یہی الفاظ ایک اور حدیث میں آتے ہیں یا علیؓ انت منی بمنزلته هارون من موسیٰ۔ 

صفحہ 3 از 6