آیات جہاد اور مذہب اہل سنت والجماعت - ردِ رافضیت | دفاع…

آیات جہاد اور مذہب اہل سنت والجماعت

  مولانا اللہ یار خانؒ

صفحہ 4 از 6

جس کے معنیٰ یہ ہیں کہ اے سیدنا علیؓ تجھے میرے ساتھ ایسا قرب حاصل ہے جیسا حضرت ہارون علیہ السلام کو موسیٰ علیہ السلام سے حاصل تھا پھر حدیث زیرِ بحث میں یہی الفاظ بالکل بدلے ہوئے معنیٰ کیساتھ کیسے آگئے یہاں وزن کے بات کیوں بدل گئے اسی ترازو میں انہی باتوں سے وزن کیجئے تو معنیٰ یہی ہوں گے کہ میرے ان صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی شان اور میرا قرب اسی درجہ کا ہے جو میری آنکھ کان اور دل کا ہے۔

حضورﷺ کی تشبیہات کوئی شاعرانہ فنکاری نہیں ہوتی بلکہ اپنے اندر حقائق کی ایک دنیا لئے ہوتی ہیں یہاں حضورﷺ نے اصحابِ ثلاثہؓ کی ذات کو اپنے ظاہری اور باطنی اعضاء سے تشبیہ دی ہے ظاہر ہے کہ دل کی حرکت پر تو حیات کا مدار ہے اور آنکھ اور کان کے بغیر فرد کی حقیقی زندگی کی تکمیل نہیں ہو پاتی گویا حضورﷺ کا مطلب یہ تھا کہ میری دینی اور تبلیغی زندگی کے مشن کی تکمیل اصحابِ ثلاثہؓ کی کوششوں سے ہوگی ان کی سوچ ان کا دیکھنا اور سننا سب تکمیل دین کے لئے ہوگا

نبوت کی ذمہ داریوں کا مدار بھی انہی اعضاء پر ہے نزولِ وحی کا تعلق دل سے ہے یعنی دولتِ وحی کے امین ہیں وحی کے الفاظ صاحبِ وحی سے سننے والے اور صاحبِ وحی کو دیکھنے والے اور اس کی تکمیل کرنے والے اصحابِ ثلاثہؓ ہیں اور اللہ کے نزدیک ان کی حیثیت وہی ہے جو میرے نزدیک میرے دل آنکھ اور کان کی ہے لہٰذا یہ پیوند کاری اضحوکہ سے بڑھ کر کچھ حیثیت نہیں رکھتی پھر پیوند کی عبارت پر غور کیجئے هم السمع والبصر والفوءاد۔ هم ضمیر کا مرجع صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی ذات ہے السمع والبصر مصدر ہے اور محمل مصدر کا ذات پر جائز نہیں جیسا یہ کہنا که زید علم غلط ہے بلکہ زید عالم چاہئیے اس لئے یہاں ھم کے ساتھ سامعون چاہئیے لہٰذا یہ الفاظ افصح العرب کے نہیں بلکہ کسی اناڑی راوی کے دستِ کرم کا نتیجہ ہے۔ 

دوسری بات یہ ہے کہ اگر اصحابِ ثلاثہؓ کو آنکھ کان اور دل محض سیدنا علیؓ کی خلافت کے متعلق سوال کرنے کے لئے فرمایا جاتا تو لفظ منی بمنزلہ ہرگز نہ ہوتا کیونکہ اس سے تو لازماً شان ظاہر ہوتی ہے پھر آیتِ قرآنی یہاں پیش کرنا بالکل بے محل ہے آیت کا مفہوم تو یہ ہے کہ انسان کی ذات کی طرح یہ تمام اعضاء بھی مکلف ہیں ان اعضاء سے بھی توحید اور دین کے متعلق پوچھ گچھ ہوگی۔ 

اصل حدیث کا حقیقی مفہوم صاف ہے کہ حضورﷺ نے واضح فرما دیا کہ سیدنا عثمانؓ میرا راز دار ہے جیسے دل سیدنا صدیقؓ بمنزلہ میرے کان کے ہے جیسے میرے کانوں نے وحی سے حق سنا ہے سیدنا صدیقؓ بھی حق سنتا ہے جیسے میری آنکھ نے حق دیکھا سیدنا عمرؓ کی آنکھ بھی حق کا مشاہدہ کرتی ہے۔

خلاصہ یہ کہ حضورﷺ کا ارشاد ہے خلفائے ثلاثہؓ کے احکام کی تعمیل اسی طرح صدقِ دل سے کرنا جیسے میرے احکام کی تعمیل کرتے ہو کیونکہ ان کی ذات میرے دل میری آنکھ اور میرے کان کی حیثیت رکھتی ہے یہی مطلب ہے اقتدوا بالذی من بعدی ابی بکرؓ و عمرؓ کا۔ 

پھر سوچنے کی بات یہ ہے کہ حضورﷺ کے قول میں کونسی پیچیدگی تھی کہ سیدنا حسینؓ کو پوچھنے کی ضرورت محسوس ہوئی کہ فما ھو ظاہر ہے کہ سیدنا حسینؓ کو تو ضرورت نہیں تھی البتہ راوی کو ضرورت تھی کہ ریت کی بنیاد پر ایک فرضی محل تعمیر کر سکے انتہائی جواب یہ ہے کہ یہ پیوند کاری تقیہ ہے۔ 

بخاری میں ایک حدیث ہے کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ جس ولی اللہ کو قربِ فرائض کے بعد قربِ نوافل حاصل ہو جائے تو میں اس کی آنکھیں بن جاتا ہوں جن سے وہ دیکھتا ہے الخ 

یہ حدیث کتبِ شیعہ میں بھی موجود ہے جب اللہ تعالیٰ انسان کامل کے ہاتھ پاؤں بن سکتا ہے تو خلفائے ثلاثہؓ نبی کریمﷺ کے کان آنکھ اور دل کیوں نہیں بن سکتے لہٰذا حضورﷺ کی نگاہ میں خلفاء مجسم دین تھے۔ 

اب ہم شیعہ کتبِ تفسیر اور علمائے شیعہ سے ان آیات کی تفسیر پیش کرتے ہیں۔ 

منہج الصادقین علامہ فتح اللہ کاشانی۔ 177:6۔ 

(1)۔ حق تعالیٰ دریں آیت وعده داده مظلوماں صحابه رابه نصرت و ایفاء وعده آن کرده چه تسلط مہاجر و انصار نمود بر صنادید عرب واکابر اکاسره عجم و قیاصره ایشاں راو زمین ودیار ایشاں را بمسلمانان تفویض فرموده پس اخبار است بظہر غیت از آنچه بعد ازیں بظہور رسید از استیلائے اہل اسلام بر اہل کفر و نصرت و غلبہ ایشاں بر مشرکان و سائر کافراں ودگر بارہ در صفت مہاجراں کہ ماذونند بقتال می فرماید که الَّذِينَ إِن مَّكَّنَاهُمْ اى أُذِنَ لِلَّذِينَ يُقَاتَلُونَ يا بدل من ينصره اى ولينصرن الله الذين إِن مّكناهم پس معنی آیت آنست که جماعت مازون آن کسانے اند که اگر قدرت و تمکین و ہیم آنہارا فی الارض وزمین و زمام حکومت در کف کفایت ایشاں رانہیم یعنی اعطاء نمائیم الخ۔

اس کا خلاصہ یہ ہے کہ شیعہ مفسر نے یہ بتایا:

  1.  آیت الَّذِينَ إِن مَّكَّنَاهُمْ کا تعلق أُذِنَ لِلَّذِينَ يُقَاتَلُونَ ہے۔ 
  2.  یا بدل ہے من ینصرہ سے۔ یعنی دونوں کا مطلب ایک ہی ہے کہ حکومت کے حقدار مظلوم مہاجرین ہیں۔
  3.  جب میں انہیں حکومت دوں گا تو وہ نماز قائم کریں گے زکوٰۃ دیں گے اور امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کریں گے یعنی وہ مجسم دین ہوں گے۔
  4. اللہ تعالیٰ نے وعدہ فرمایا کہ انہیں حکومت دے کر ان کی کھلی کھلی مدد کروں گا چنانچہ یہ وعدہ پورا فرمایا مہاجرین کو حکومت عطا فرمائی ان کی مدد فرمائی اور انہوں نے کفارِ عرب پر غلبہ پایا بلکہ قیصر و کسریٰ کی حکومتوں پر غلبہ حاصل کیا شیعہ مفسر کی اس صراحت کے باوجود شیعہ یہ کہا کرتے ہیں کہ نبی کریمﷺ کے زمانہ میں مکہ فتح ہوا خیبر فتح ہوا لہٰذا عہدِ نبوت میں ہی غلبہ حاصل ہو گیا مگر شیعہ مفسر نے اس وعدہ کے ایفاء کی صورت تفسیر کے دوران یہ بیان کی مہاجرین کو تسلط دے کر اللہ تعالیٰ نے صنادید عرب کے علاوہ قیصر و کسریٰ پر غلبہ عطا فر مایا لہٰذا آیت اور تفسیر سے صاف ظاہر ہے کہ:
  5.  خلفائے ثلاثہؓ مہاجرین اولین ہیں۔
  6. اللہ تعالیٰ نے انہیں تمکین فی الارض عطا فرمائی۔
  7. ان کے عہد میں کفر کی بڑی بڑی حکومتیں مغلوب ہوئیں اور قرآن کریم کی آیت:

هُوَ الَّذِىۡۤ اَرۡسَلَ رَسُوۡلَهٗ الخ۔(سورۃ الصف: آیت9)۔

كی تکميل ہوئی اسی بناء پر اہلِ سنت کا عقیدہ صداقت صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین پر ہے۔ 

صفحہ 4 از 6