آیات جہاد اور مذہب اہل سنت والجماعت - ردِ رافضیت | دفاع…

آیات جہاد اور مذہب اہل سنت والجماعت

  مولانا اللہ یار خانؒ

صفحہ 6 از 6

آدمی کو عقل عامہ سے اگر برائے نام بھی حصہ ملا ہو تو وہ سوچ سکتا ہے کہ عجیب بات ہے کہ مہاجرین کو تو تسلط باذن اللہ ملا مگر مہاجرین کا حکمران اس تسلط سے محروم ہے دنیا کا کوئی با ہوش انسان یہ سوچ بھی سکتا ہے کہ رعایا کو تو تسلط حاصل ہے مگر راعی کو نہیں کیوں نہیں؟ کیا رعایا اپنے حکمران سے بے نیاز ہو کر از خود جنگ کرتی رہی اپنا ہی حکم چلاتی رہی یا حکمران کی اطاعت میں سب کچھ کیا اگر حکمران کی ہدایت کے تحت ہی سب کچھ کیا تو حکمران کا مسلط ہونا اور ماذون ہونا کیوں مستفاد نہیں ہوتا یا حکمران مہاجرین میں سے نہیں تھے؟ اگر تھے تو وہ اس اذن سے کیسے مستثنیٰ قرار دیئے گئے مگر مجتہد صاحب بس صرف زور علم سے یہ بات کہہ گئے جو صرف اس زبان سے نکل سکتی ہے جس کے ہوش ٹھکانے نہ ہوں پس اس آیت سے مہاجرین خواہ رعایا ہو یا راعی سب کامل الایمان ماذون فی الجہاد ثابت ہوتے ہیں۔

دوسرا سوال اس سے بھی عجیب تر ہے کہ سیدنا علیؓ کے مشورہ سے جہاد کرتے تھے اس لئے ماذون تھے اذن صیغہ مجہول ہے اس کا فاعل یا نائب فاعل اللہ ہے یا سیدنا علیؓ ہیں؟ سیدنا علیؓ وزیر یا مشیر تھے تو دیکھنا یہ ہے کہ وزیر یا مشیر حکومت کا وفادار ہوتا ہے یا باغی مطیع ہوتا ہے یا نا فرمان؟ اگر وہ باغی نہیں تھے تو سیدنا علیؓ لازماً خلفائے ثلاثہؓ  کے وفادار وزیر تھے۔

پھر جب اللہ تعالیٰ اذن دے رہا ہے تو اس میں سیدنا علیؓ کے مشورہ کی کیا ضرورت؟۔

تیسرا سوال یہ ہے کہ "هذا كله اغضاء النظر من احتمال التقيته فی ذلك الحديث" یعنی یہ تمام جوابات اسی وقت درخور اعتنا ہیں جب تقیہ کے احتمال سے آنکھ میچ لی جائے اس سے مجتہد صاحب کی مراد یہ ہے کہ امام نے تقیہ کیا دل میں صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی تکذیب تھی اور زبان پر تصدیق تھی اگر امام کے متعلق یہ صورت مان لی جائے تو امام کو نفاق سے بری کیونکر قرار دیا جائے گا غرض اس تیسرے سوال کا ما حصل امام کی توہین کے بغیر کچھ نہیں کتنے جری ہیں یہ لوگ جو ایسی مقدس ہستیوں پر اتنے بڑے بہتان باندھتے ہیں۔ 

خلاصۂ مبحث:

  1.  مہاجرین کو اللہ کی طرف سے جہاد کی اجازت ملی اور وہ جہاد کرنے پر مامور ہوئے آیت قرآنی اور سیدنا جعفرؓ کی حدیث سے اس کی وضاحت ہوگئی۔ 
  2.  مہاجرین کو اذنِ جہاد ملنا ان کے کامل الایمان ہونے کی دلیل ہے اور اس امر کا بین ثبوت ہے کہ وہ دینِ حق پر تھے اور دینِ حق کی اشاعت کے لئے انہیں اذنِ جہاد ملا۔ لہٰذا خلفائے ثلاثہؓ کے عہد میں جو مہاجرین ان جہادوں میں مارے گئے وہ شہید ہوئے۔ 
  3. باطل کے خلاف ان جنگوں میں صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کو جو مال غنیمت ملا وہ حلال اور جائز ہوا۔ 
  4.  مہاجرین نے اس دین کی تعلیم و تبلیغ و اشاعت کی جو انہیں نبی کریمﷺ نے سکھایا تھا اور ان کے دست حق پرست پر جو لوگ مسلمان ہوئے انہوں نے وہی دین حق قبول کیا جو صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے نبی کریمﷺ سے سیکھ کر انہیں پہنچایا اس حقیقت کا اقرار تو علامہ نوری مجتہد شیعہ نے اپنی کتاب فصل الخطاب میں کھلے الفاظ میں کیا ہے:

وكون كثير من البلاد فتح في خلافة عمرؓ وتلقين اصحاب تلك البلاد سنن عمرؓ فی خلافة نوابه رهبة و رغبة كما يلقنوا شهادة ان لا اله الا الله وان محمد رسول الله فنشاء عليها الصغير ومات عليها الكبير۔

ترجمہ: اکثر ممالک خلافتِ فاروقی کے دور میں فتح ہوئے اور ان ممالک میں جس طرح شہادتین کی تبلیغ و اشاعت کی گئی اس طرح سیدنا عمرؓ کے نائبین نے سنتِ عمرؓ کی تبلیغ کی اور اس دین پر چھوٹوں نے نشوونما پائی اور بڑوں نے وفات پائی۔

مجتهد شیعہ تسلیم کرتے ہیں عہدِ فاروقیؓ میں جس قدر شہر فتح ہوئے ان میں دینِ عمر پھیلایا گیا یعنی وہی دین جس کی وجہ سے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کامل الایمان قرار پائے اور ماذون فی الجہاد ہوئے تاکہ اس دین حق کو پھیلائیں اور یہ ایک تاریخی حقیقت ہے کہ وہ دینِ حق وہی تھا جسے آج تک اہلِ سنت والجماعت نے سینے سے لگا رکھا ہے پس اس آیت سے ثابت ہوگیا کہ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کامل الایمان تھے اس بناء پر اذن جہاد ملا انہوں نے دینِ حق پھیلایا دینِ شیعہ کا تو وجود ہی نہیں تھا سیدنا جعفرؓ کی حدیث چونکہ قرآن کے موافق ہے اس لئے تائید کے طو پر پیش کی گئی ورنہ اصل استدلال آیت قرآنی سے کیا گیا کہ دین حق وہی ہے جو مذہب اہلِ سنت و الجماعت ہے۔


صفحہ 6 از 6