Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

امہات المؤمنین اور دیگر صحابیات کا تذکرہ

  علی محمد الصلابی

امام حاکم رحمہ اللہ (محمد بن عبداللہ بن محمد ابو عبداللہ الحاکم نیشا پوری، امام وقت، حافظ حدیث اور شیخ المحدثین کے القاب سے مشہور ہوئے۔ 321ھ میں پیدا ہوئے۔ صاحب علم و زہد و ورع تھے۔ ایک قول کے مطابق یہ تشیع کی طرف میلان رکھتے تھے۔ نیشا پورمیں قاضی کے عہدے پر سرفراز رہے۔ آپ کی تصانیف میں سے ’’المستدرک، الاکلیل‘‘ زیادہ مشہور ہیں۔ 405ہجری میں فوت ہوئے۔ (سیر اعلام النبلاء: جلد 17 صفحہ 162۔ البدایۃ والنہایۃ: جلد 11 صفحہ 355۔)  نے لکھا ہے:

’’ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی جس پاک باز زوجہ محترمہ کے ذکر سے ابتداء کرتے ہیں وہ صدیقہ بنت صدیق، عائشہ بنت ابوبکر الصدیق رضی اللہ عنہما ہیں ۔‘‘

(المستدرک: جلد 4 صفحہ 5)

حافظ ابن حجر رحمہ اللہ (احمد بن علی بن حجر ابو الفضل عسقلانی شافعی، ان کے القاب شیخ الاسلام اور امیر المؤمنین فی الحدیث زیادہ مشہور ہیں۔ 773ھ میں پیدا ہوئے، اپنے زمانے میں علم الرجال اور علل الاحادیث میں خصوصی ملکہ حاصل تھا۔ مصر میں شافعی فقہ کے مشہور قاضی رہے۔ ان کی تصنیفات: فتح الباری اور تہذیب التہذیب مشہور ہیں۔ 852ھ میں فوت ہوئے۔ ( الجواہر والدرر للسخاوی۔ شذرات الذہب لابن العماد: جلد 7 صفحہ 269)فرماتے ہیں :

’’ وہ صدیقہ بنت صدیق ہیں رضی اللہ عنہما ۔‘‘ 

(فتح الباری: جلد 7 صفحہ 107)

6۔الحُمَیْراء: سرخی مائل۔ الحمیراء حمراء کی تصغیر ہے۔ جس کا معنیٰ سرخ ہے۔ علامہ ذہبی رحمہ اللہ (محمد بن احمد بن عثمان ابو عبداللہ ذہبی، شمس الدین ان کا لقب تھا۔ اپنے ہم عصروں میں حدیث کے حافظ اور امام کہلائے۔ 673ھ میں پیدا ہوئے۔ مؤرخ اسلام، زمانے کے محدث اور جرح و تعدیل کے ماہر عالم مشہور تھے۔ ان کی تصنیفات میں سے ’’سیر اعلام النبلاء، میزان الاعتدال ‘‘زیادہ مشہور ہیں۔ 748ھ میں وفات پائی۔ (طبقات الشافعیہ للسبکی: جلد 9 صفحہ 100۔ شذرات الذہب : جلد 6 صفحہ 153 لکھتے ہیں: 

’’اہل حجاز کے ہاں حمراء اس رنگ پر بولا جاتا ہے جو سفید ہو لیکن سرخی کی اس میں جھلک ہو(یعنی سرخ و سپید ) اور یہ اہل حجاز میں نادر ہوتا ہے۔‘‘

(سیر أعلام النبلاء: جلد 7 صفحہ 168)

اس لقب کا تذکرہ متعدد احادیث میں آیا بھی ہے۔ 

(سیر اعلام النبلاء: جلد 7 صفحہ 168)

تاہم ان احادیث میں کلام ہے۔ یہاں تک کہ امام ذہبی رحمہ اللہ فرماتے ہیں : ’’بے شک یہ کہا گیا کہ ہر وہ حدیث جس میں ’’یا حمیراء‘‘ کے الفاظ ہوں وہ غیر صحیح ہے۔‘‘

(سیر اعلام النبلاء للذہبی: جلد 7 صفحہ 168)

بعض علماء جیسے علامہ ابن قیم رحمہ اللہ (محمد بن ابوبکر بن ایوب ابو عبداللہ المعروف بابن القیم الجوزیہ دمشقی مشہور فقیہ تھے۔ مجتہد، مفسر اور اصول فقہ کے عالم حاذق تھے۔ 691ھ میں پیدا ہوئے۔ متعدد علوم میں مہارت و رسوخ حاصل کیا۔ عبادت کے شیدائی اور دائمی تہجد گزارو شب زندہ دار تھے۔ کئی ایک بار آزمائشوں اور ابتلاؤں سے گزرے۔ شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ کے لائق ترین شاگرد ثابت ہوئے۔ ان کی مشہور تصانیف: زاد المعاد سیرتِ رسول میں اور اعلام الموقعین اصولِ فقہ میں ہیں۔ 751ھ میں وفات پائی۔ البدایۃ والنہایۃ لابن کثیر: جلد 14 صفحہ 234۔ شذرات الذہب لابن العماد: جلد 6 صفحہ 167) نے تو یہ بھی کہا ہے کہ ہر وہ حدیث جس میں ’’یا حمیراء‘‘ یعنی اے حمیرا! کے الفاظ ہوتے ہیں وہ موضوع ہے۔ ابن قیم رحمہ اللہ نے واضح طور پر لکھا: ہر وہ حدیث جس میں ’’یا حمیرا‘‘ کے الفاظ ہوں یا حمیرا کا تذکرہ ہو، وہ من گھڑت جھوٹ ہے۔ جیسے: اے حمیرا ! تو مٹی نہ کھا۔ کیونکہ اس سے فلاں فلاں مرض لاحق ہو سکتا ہے اور تم اپنا نصف دین حمیراء سے حاصل کرو۔‘‘ 

(المنار المنیف فی الصحیح والضعیف لابن قیم: صفحہ 60، 61)

لیکن حافظ ابن حجر رحمہ اللہ فتح الباری میں ایک حدیث لائے ہیں:

دَخَلَ الْحَبْشَۃُ یَلْعَبُوْنَ، فَقَالَ لِي النَّبِیَّ صلي اللّٰه عليه وسلم : یَا حُمَیْرَاء، أَتُحِبِّیْنَ أَنْ تَنْظُرِيْ إِلَیْہِمْ؟ فَقُلْتُ: نَعَمْ۔ 

(اسے نسائی نے سنن کبریٰ: جلد 5 صفحہ 307۔ حدیث: 8951 پر روایت کیا ہے۔ طحاوی نے مشکل الآثار کی جلد 1 صفحہ 268 حدیث: 292 سے روایت کیا۔ ابن القطان نے ’’احکام النظر: صفحہ 360 میں اسے صحیح کہا اور ابن حجر رحمہ اللہ نے فتح الباری جلد 6 صفحہ 444 میں اسے صحیح سند کے ساتھ روایت کیا۔ امام مزی رحمہ اللہ نے لکھا: نسائی کی حدیث کے علاوہ ہر وہ حدیث جس میں ’’یا حمیرا‘‘ کے الفاظ ہیں وہ موضوع ہے۔ (الاجابۃ للزرکشی: صفحہ 58)

’’حبشی کھیلنے کے لیے مسجد میں آئے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: ’’اے حمیرا! کیا تو ان کا کھیل دیکھنا پسند کرتی ہے؟ تو میں نے کہا: جی ہاں ۔‘‘

پھر لکھا:

’’اس روایت کی اسناد صحیح ہیں اور حمیرا کے متعلق میں نے اس حدیث کے علاوہ کوئی صحیح حدیث نہیں دیکھی۔‘‘

8۔ مُوَفقۃ: توفیق دی گئی۔ 

سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے القابات میں (موفقہ) بھی ہے اور یہ خطاب انھیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے عطا کیا۔

سیدنا ابن عباس رضی ا للہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا:

مَنْ کَانَ لَہٗ فَرَطَانِ مِنْ أُمَّتِيْ دَخَلَ الْجَنَّۃَ۔ فَقَالَتْ عَائِشَۃُ: بِأَبِیْ، فَمَنْ کَانَ لَہٗ فَرَطٌ؟ فَقَالَ: وَ مَنْ کَانَ لَہٗ فَرَطٌ یَا مُوَفِّقَۃُ، قَالَتْ: فَمَنْ لَمْ یَکُنْ لَہٗ فَرَطٌ مِنْ أُمَّتِکَ؟ قَالَ: فَأَنَا فَرَطُ أُمَّتِيْ، لَمْ یُصَابُوْا بِمِثْلِیْ 

(اسے ترمذی: 1062، احمد: جلد 1 صفحہ 334، حدیث: 3028۔ ابو یعلیٰ: جلد 5 صفحہ 138، حدیث: 2752۔ طبرانی: جلد 12 صفحہ 197، حدیث: 12880 اور بیہقی نے جلد 4 صفحہ 68، حدیث: 7398 میں رو ایت کیا۔ اسے علامہ البانی رحمہ اللہ نے ’’ضعیف الجامع: 5801‘‘ میں ضعیف کہا اور مسند احمد کی تحقیق کرتے ہوئے احمد شاکر نے اس کی سند کو صحیح کہا ہے: (جلد 5 صفحہ 39)

’’میری اُمت میں سے جس کے (فرطان: یعنی ایسے دو بچے جو بلوغت سے پہلے ہی وفات پا جائیں۔ جب کوئی آگے چلا جائے تو اسے فرط کہتے ہیں اور اسم فاعل فارط ہے۔ حدیث میں فرط سے مراد وہ بچہ ہے جو والدین کی زندگی میں ہی فوت ہو جائے وہ آگے جا کر دار آخرت میں بلکہ جنت میں والدین کے لیے ضیافت اور دار الضیافہ تیار کروائے گا۔ جیسے قافلے سے پہلے رہائش کے حصول کے لیے قافلے کا سرکردہ فرد پہلے جاتا ہے۔ وہ قافلے والوں کی ضروریات مثلاً پانی، چراگاہ وغیرہ کا بندوبست کرتا ہے۔ (مرعاۃ المفاتیح للمبارکفوری: جلد 5 صفحہ 476) دو بچے فوت ہو جائیں وہ جنت میں جائے گا۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: میرا باپ قربان جائے جس کا ایک بچہ فوت ہو گیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اور جس کا ایک بچہ فوت ہو گیا (وہ بھی جنت میں جائے گا)۔ اے توفیق دی گئی! تو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: آپﷺ کی امت سے جس کا کوئی بچہ پہلے فوت نہ ہوا ہو؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تو گویا میں اپنی امت کا پہلے جا کر انتظام کرنے والا ہوں، کیونکہ مجھ جیسے مصائب کسی کو نہیں پہنچے۔‘‘ 

یہ تمام القابات ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے فضائل پر دلالت کرتے ہیں، جیسا کہ گزشتہ صفحات میں گزر چکا ہے اور ان کو جو القابات نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے عطا کیے وہ آپﷺ کی سیدہ عائشہؓ کے ساتھ شدید محبت کی دلیل ہیں اور سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاں اہمیت اور اہتمام کا ثبوت ہیں۔ نیز نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اختصار کے ساتھ اسے یوں پکارتے: ’’ یا عائش!‘‘ اے عائش۔ اور عربوں کے ہاں یہ عادت ہے کہ وہ لاڈ پیار سے اس طرح بلاتے ہیں ۔

سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

یَا عَائِشُ، ہٰذَا جِبْرِیْلُ یُقْرِئُکِ السَّلَامُ۔ قُلْتُ: وَ عَلَیْہِ السَّلَامُ وَ رَحْمَۃُ اللّٰہِ۔ قَالَتْ: وَ ہُوَ یَرٰی مَا لَا نَرٰی 

(متفق علیہ: صحیح بخاری: 6201 ۔ صحیح مسلم: 2447)

’’اے عائشہ! یہ جبریل علیہ السلام ہیں ، تجھے سلام کہتے ہیں۔‘‘ میں نے کہا: اور اس پر بھی سلامتی اور اللہ کی رحمت ہو۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: ’’وہ دیکھتا ہے، ہم نہیں دیکھتے۔ ‘‘

حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے کہا:

عُوَیْشُ خَاطِبٌ بِہَا النَّبِیُّ صلي اللّٰه عليه وسلم عَائِشَۃَ أُمَّ الْمُؤْمِنِیْنَ۔

’’نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کو عُوَیش کہہ کر بھی پکارا ہے ۔ ‘‘

أوردہ الطبراني في (العشرۃ) من طریق مسلم بن یسار، قال: بلغني

أَنَّ النَّبِیَّ صلي اللّٰه عليه وسلم دَخَلَ عَلٰی عَائِشَۃَ فَقَالَ: یَا عُوَیْشُ۔ 

(الاصابۃ لابن حجر: جلد 8 صفحہ 253)

اسے طبرانی نے ’’العشرۃ‘‘ میں بواسطہ مسلم بن یسار روایت کیا۔ وہ کہتے ہیں: مجھے یہ خبر پہنچی کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے گھر میں تشریف لائے تو فرمایا: ’’ یا عویش! ‘‘

’’اسی طرح نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سیدہ عائشہ ام المؤمنین رضی اللہ عنہا کو اے بنت صدیق! اور اے بنت ابی بکر! کہہ کر بلاتے تھے۔ ‘‘

(ترمذی: 3175۔ ابن ماجہ: 3403۔ احمد: جلد 6 صفحہ 205، حدیث: 25746۔ بیہقی نے شعب الایمان میں جلد 1 صفحہ 477، حدیث: 762۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کیا اور اسے ابن العربی نے ’’عارضۃ الاحوذی: جلد 6 صفحہ 258 میں ’’صحیح‘‘ کہا ہے۔ علامہ البانی رحمہ اللہ نے ’’صحیح سنن ترمذی‘‘ میں اسے ’’صحیح‘‘ کہا ہے۔)

بعض علماء نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے القابات میں ’’خلیلۃ رسول اللہ صلي الله عليه وسلم ‘‘ کا تذکرہ بھی کیا ہے۔ اس اعتبار سے کہ خلت، محبت کا اعلیٰ ترین درجہ ہے اور انھوں نے حسان بن ثابت رضی اللہ عنہ ( حسان بن ثابت بن منذر ابو عبدالرحمٰن انصاری رضی اللہ عنہ بنو نجار قبیلے سے تھے۔ وہ جاہلیت اور اسلام کے قابل ترین شعراء میں سے ایک تھے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے خصوصی شاعر تھے۔ انھوں نے 54ھ میں وفات پائی۔ (الاستیعاب: جلد 1 صفحہ 100۔ الاصابۃ: جلد 2 صفحہ 62)شاعر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اس شعر سے بھی استدلال کیا ہے: 

خَلِیْلَۃُ خَیْرِ النَّاسِ دِیْنًا وَ مَنْصَبًا

نَبِیُّ الْہُدٰی وَ الْمَکْرُمَاتِ الْفَوَاضِلِ

’’دین اور منصب کے لحاظ سے سب لوگوں سے بہتر نبی الہدیٰ کی خلیلہ فضیلت و تکریم والی ہے۔‘‘

لیکن یہ تصحیف ہے، اصل لفظ ’’حلیلۃ خیر الناس‘‘ ہے جیسا کہ دیوان ( دیوان حسان بن ثابت: صفحہ 191۔)حسان بن ثابت رضی اللہ عنہ میں ہے، جبکہ حلیلۃ کا معنی بیوی ہے۔

نیز ’’سیر اعلام النبلاء للذہبی" میں یہ روایت درج ہے کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ ( سیدنا علی بن ابی طالب بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ بنو ہاشم قبیلہ سے تھے، ان کی کنیت ابو الحسن تھی۔ چوتھے خلیفہ راشد اور امیر المؤمنین تھے۔ بعثت نبوی سے دس سال پہلے پیدا ہوئے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے چچا زاد تھے۔ سیدہ فاطمہ بنت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے خاوند تھے۔ بچوں میں سب سے پہلے اسلام لائے۔ تبوک کے علاوہ تمام غزوات میں شامل ہوئے۔ عشرہ مبشرہ میں سے تھے۔  40ھ میں شہید ہوئے۔ (الخصائص فی مناقب علی بن ابی طالب للنسائی: الاصابۃ لابن حجر: جلد 4 صفحہ 564) کے پاس ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کا تذکرہ ہوا تو انھوں نے کہا: 

’’وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خلیلہ تھیں۔‘‘ 

(سیر أعلام النبلاء للذہبی: جلد 2 صفحہ 176۔ امام ذہبی رحمہ اللہ نے اسے ’’حسن‘‘ کہا ہے)

یہ بھی تصحیف (خطاء مطبعی) ہے۔ اصل لفظ ’’ حلیلۃ‘‘ ہے۔ چونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرما دیا:

’’ میں اللہ تعالیٰ کے سامنے اس چیز سے برأت کا اعلان کرتا ہوں کہ تم میں سے میرا کوئی خلیل ہو۔‘‘

(صحیح مسلم میں یہ روایت ہے۔ حدیث نمبر: 532۔ سیدنا جندب رضی اللہ عنہ اس حدیث کے راوی ہیں۔)