آیات قتال مرتدین اور مذہب اہل سنت و الجماعت - ردِ رافضیت |…

آیات قتال مرتدین اور مذہب اہل سنت و الجماعت

  مولانا اللہ یار خانؒ

صفحہ 1 از 17

آیاتِ قتال مرتدین اور مذہب اہلِ سنت و الجماعت

يٰۤـاَيُّهَا الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا مَنۡ يَّرۡتَدَّ مِنۡكُمۡ عَنۡ دِيۡـنِهٖ فَسَوۡفَ يَاۡتِى اللّٰهُ بِقَوۡمٍ يُّحِبُّهُمۡ وَيُحِبُّوۡنَهٗۤ ۙ اَذِلَّةٍ عَلَى الۡمُؤۡمِنِيۡنَ اَعِزَّةٍ عَلَى الۡكٰفِرِيۡنَ يُجَاهِدُوۡنَ فِىۡ سَبِيۡلِ اللّٰهِ وَلَا يَخَافُوۡنَ لَوۡمَةَ لَاۤئِمٍ‌ ؕ ذٰلِكَ فَضۡلُ اللّٰهِ يُؤۡتِيۡهِ مَنۡ يَّشَآءُ‌ ؕ وَاللّٰهُ وَاسِعٌ عَلِيۡمٌ۝۔(سورۃ المائدہ آیت:54)۔

ترجمہ: اے ایمان والو! جو شخص تم میں سے اپنے دین سے پھر جائے تو اللہ تعالیٰ بہت جلد ایسی قوم کو پیدا کر دے گا جن سے اللہ تعالیٰ کی محبت ہوگی اور ان کو اللہ تعالیٰ سے محبت ہوگی مہربان ہوں گے وہ مسلمانوں پر تیز ہوں گے وہ کافروں پر جہاد کرتے ہونگے اللہ کی راہ میں اور وہ لوگ کسی ملامت کرنے والوں کی ملامت کا اندیشہ نہ کرینگے یہ اللہ تعالیٰ کا فضل ہے جس کو چاہیں عطا کریں اور اللہ تعالیٰ بڑی وسعت والے بڑے علم والے ہیں۔

اِنَّمَا وَلِيُّكُمُ اللّٰهُ وَرَسُوۡلُهٗ وَالَّذِيۡنَ اٰمَنُوا الَّذِيۡنَ يُقِيۡمُوۡنَ الصَّلٰوةَ وَيُؤۡتُوۡنَ الزَّكٰوةَ وَهُمۡ رَاكِعُوۡنَ۝۔(سورۃ المائدہ آیت:55)۔

ترجمہ: تمہارے دوست تو اللہ اور اس کے رسول اور ایماندار لوگ ہیں جو اس حالت سے نماز کی پابندی رکھتے ہیں اور زکوٰۃ دیتے ہیں کہ ان میں خشوع ہوتا ہے۔

وَمَنۡ يَّتَوَلَّ اللّٰهَ وَ رَسُوۡلَهٗ وَالَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا فَاِنَّ حِزۡبَ اللّٰهِ هُمُ الۡغٰلِبُوۡنَ۝۔

(سورۃ المائدہ آیت:56)۔

ترجمہ: اور جو اللہ سے دوستی رکھے گا اور اس کے رسول سے اور ایماندار لوگوں سے سو اللہ کا گروہ بیشک غالب ہے۔

 ربط آیات:

اس سے پہلے مومنوں کو اہلِ کتاب (یہودو نصاریٰ) کے ساتھ دوستی رکھنے سے منع فرمایا۔

يٰۤـاَيُّهَا الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا لَا تَتَّخِذُوا الۡيَهُوۡدَ وَالنَّصٰرٰۤى اَوۡلِيَآءَ ‌ؔۘ بَعۡضُهُمۡ اَوۡلِيَآءُ بَعۡضٍ‌ؕ وَمَنۡ يَّتَوَلَّهُمۡ مِّنۡكُمۡ فَاِنَّهٗ مِنۡهُمۡ‌ الخ (سورۃ المائدہ آیت:51)۔

ترجمہ: اے ایمان والو! تم یہود و نصاریٰ کو دوست مت بناو وہ ایک دوسرے کے دوست ہیں جو شخص تم میں سے ان کے ساتھ دوستی کرے گا بیشک وہ انہی میں سے ہوگا۔

دوسری آیت کا ربط سابقہ آیات سے یہ ہے کہ تمہارے دوست تو اللہ اور رسول اور اہلِ ایمان ہیں نہ کہ اہلِ کتاب اس کے بعد آنے والی آیت میں اس کی علت بیان فرمائی کہ یہ لوگ دین اسلام کا مذاق اڑاتے ہیں یہ کب دوستی کے لائق ہیں۔

يٰۤـاَيُّهَا الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا لَا تَـتَّخِذُوا الَّذِيۡنَ اتَّخَذُوۡا دِيۡنَكُمۡ هُزُوًا وَّلَعِبًا مِّنَ الَّذِيۡنَ اُوۡتُوا الۡكِتٰبَ مِنۡ قَبۡلِكُمۡ وَالۡـكُفَّارَ اَوۡلِيَآءَ‌ الخ۔(سورۃ المائدہ آیت:57)۔

ترجمہ: اے ایمان والو! جن لوگوں کو تم سے پہلے کتاب مل چکی ہے جو ایسے ہیں کہ انہوں نے تمہارے دین کو ہنسی اور کھیل بنا رکھا ہے ان کو اور دوسرے کفار کو دوست مت بناؤ۔

پھر دوسری علت بیان فرمائی کہ یہ تمہاری عبادات اذان و صلوٰۃ کا مذاق اڑاتے ہیں۔

تفسیرِ آیات:

آیت نمبر 1: مخاطب اہلِ ایمان میں صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین ہیں انہیں بتایا گیا کہ تم میں سے جو مرتد ہوگیا انہیں سزا دینے کے لئے اللہ تعالیٰ ایک قوم لا کھڑی کرے گا جس کے اوصاف یہ ہوں گے۔ 

  • اللہ تعالیٰ کے وہ محبوب ہوں گے اللہ کو ان سے محبت ہوگی۔
  • انہیں رب العالمین سے محبت ہوگی۔
  •  اہلِ ایمان کے حق میں نرم اور شفیق ہوں گے۔
  • کافروں پر غالب ہوں گے اور ان کے حق میں سخت ہوں گے۔
  • وہ اللہ کی راہ میں جہاد کریں گے۔
  • کسی ملامت کرنے والے کی ملامت کو پرکاہ کے برابر بھی وقعت نہ دیں گے بس اپنی دھن میں مست ہوں گے۔

یہ محض اللہ کا فضل ہے کہ جسے چاہے اس خدمت کے لئے انتخاب کرلے تاریخ نے اس حقیقت کے اظہار میں ذرہ بھر بھی بخل نہیں کیا کہ ان اوصاف کی حامل قوم خلفاء ثلاثہ اور ان کے متبعین کی جماعت تھی جو مرتدین کے خلاف جہاد کرتے تھے۔

اگر کوئی شخص اس تاریخی حقیقت کو جھٹلاتے ہوئے یہ دعویٰ کرے یا یہ اعتقاد رکھے کہ خلفاۓ ثلاثہؓ اور ان کے متبعین (معاذ اللہ) مرتد ہوگئے تو اس کا فرض ہے کہ اس آیت کا مصداق اس قوم کی نشاندہی کرے جس میں مذکورہ اوصاف پائے جاتے ہوں اور انہوں نے خلفائے ثلاثہؓ اور ان کے متبعین کے خلاف جنگ کر کے انہیں سزا دی ہو ان کا قلع قمع کیا ہو ظاہر ہے کہ تاریخ سے کسی ایسی قوم کا سراغ نہیں مل سکے گا البتہ اس کے برعکس تاریخ کی شہادت یہ ہے کہ یہ قوم صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین ہی کی جماعت تھی جس نے خلفائے ثلاثہؓ کی قیادت میں مرتدین سے قتال کیا ان کا قلع قمع کیا لہٰذا اس آیت کا مصداق صرف خلفائے ثلاثہؓ اور ان کے متبعین کی جماعت ہے اس حقیقت کا انکار صرف وہی شخص کر سکتا ہے جو دن کو رات کہنے کی حماقت کر سکتا ہو۔

اگر یہ دعویٰ کر دیا جائے کہ اس سے مراد سیدنا علیؓ ہیں تو الفاظ قرآنی اور تاریخی حقائق اس دعویٰ کی تردید کے لئے سامنے آجاتے ہیں اول یہ کہ آیت کا مصداق قوم ہے فسوف يأتی الله بقوم اور سیدنا علیؓ فرد واحد میں قوم نہیں جو اس قوم کے اوصاف بیان کرتے ہوئے قرآن نے ضمیر جمع استعمال کی ہے یحبهم ھُم ضمیر کا مرجع فرد واحد نہیں ہو سکتا پھر ان کی صفات میں سے ایک صفتِ اعزة علی الکافرین ہے کہ وہ کافروں پر غالب آئیں گے مگر سیدنا علیؓ نے خلفائے ثلاثہؓ کا عہد (بقول شیعہ) تقیہ کی اوٹ میں گزارا اور اپنے عہدِ خلافت میں کسی جنگ میں بھی کفار پر غلبہ حاصل نہیں کیا جب کفار سے جنگ ہی کوئی نہیں کی تو کفار پر غلبہ کا سوال ہی کب پیدا ہوتا ہے شیعہ عقیدہ کے مطابق تو سیدنا علیؓ کسی برائی کے روکنے پر بھی قادر نہ ہو سکے۔

جیسا کہ روضہ کافی صفحہ 51 پر ہے:

ثم اقبل بوجهه وحوله الناس من اهل بيته وخاصته وشيعة فقال قد عملت الولاة قبلی اعمالا خالفوا منها رسول الله متعمدين لخلافه و ناقضين لعهده مفيدين لسنة ولو حملت الناس على تركها وحولتها إلى مواضعها والى ما كانت فی عهد رسول الله ﷺ التفرق عنی جندى حتى ابقى وحدى۔

صفحہ 1 از 17