آیات قتال مرتدین اور مذہب اہل سنت و الجماعت - ردِ رافضیت |…

آیات قتال مرتدین اور مذہب اہل سنت و الجماعت

  مولانا اللہ یار خانؒ

صفحہ 10 از 17

وكان عمرؓ يسأل حذيفةؓ ويقول له انت صاحب سرّ رسول الله فی المنافقين فهل ترى على شيئاً من آثار النفاق۔

پہلی بات تو یہ ہے کہ میزان الاعتدال میں اس قسم کی روایت کی تردید آ چکی ہے کہ یہ جھوٹی روایت ہے پھر احیاء العلوم میں یہ بات کہیں عقائد کے باب میں نہیں آئی کسی صحابی پر کفر و نفاق کا فیصلہ دینے کے لئے دلائل قطعیہ درکار ہیں ایک روایت وہ بھی جھوٹی کیا فیصلہ بنیاد بن سکتی ہے احیاء العلوم میں تزکیہ نفوس کے سلسلے میں بیان ہو رہا ہے کہ انسان کو نفاق کے بارے میں اپنا محاسبہ کرتے رہنا چاہئیے اور احتیاط کرنی چاہیے کہ اس میں نفاق کی کوئی علامت تو نہیں پائی جاتی نفاق کی کئی علامات ہیں مثلاً نماز نہ پڑھنا یا ریا کی خاطر پڑھنا خیانت کرنا جھوٹ بولنا تقیہ کرنا کتمان حق دوسروں پر لعن طعن کرنا اخیار کو گالی دینا وعدہ خلافی کرنا وغیرہ سیدنا فاروقؓ اس معاملے میں اتنے محتاط تھے کہ سیدنا حذیفہؓ سے پوچھا کہ اس قسم کی کوئی علامت نفاق تو مجھ میں نہیں پاتے کیونکہ بعض اوقات انسان کو اپنی خامیوں اور نقائص کا علم اور احساس نہیں ہوتا۔ 

پھر یہ کہ نفاق دو قسم کا ہے اعتقادی اور عملی اعتقادی نفاق کفر ہے اور اس کی واقعیت دوسروں کو ہو ہی نہیں سکتی کیونکہ دوسروں کو اس کے دل کا حال کیونکر معلوم ہوا اور اس کے متعلق تو دوسرے سے پوچھنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا البتہ نفاق کی ظاہری علامات کے متعلق پوچھا جا سکتا جو روز مرہ کے افعال و اعمال سے ظاہر ہوسکتی ہے اس لئے سیدنا فاروقِ اعظمؓ کا سوال ہو بھی تو ان ظاہری علامات کے متعلق ہے اور یہ کمال احتیاط اور تزکیہ نفس کی دلیل ہے۔ 

اس آیت کے متعلق ایک شیعہ عالم حکیم امیر الدین نے اپنی مایہ ناز کتاب فلک النجاة میں لکھا ہے کہ یہ آیت منافقوں کے متعلق ہے جو جنگ کے متعلق بری خبریں پھیلاتے تھے اور عورتوں سے چھیڑ چھاڑ کرتے تھے ایذا رسانی کرتے تھے پھر وہ لوگ ان شرارتوں سے باز آگئے لہٰذا ان کو مدینہ سے خارج کرنا قتل کرنا مشروط تھا جب وہ باز آگئے تو یہ حکم بھی ختم ہو گیا نیز جو منافق خفیہ تھے ان کا علم خود رسولﷺ کو بھی نہیں تھا ان کو مومن خیال کرتے تھے جیسا قرآن میں ہے:

لا تعلمهم نحن نعلمهم (86:1) 

حکیم صاحب کی اس نادر تحقیق سے ایک عجیب نکتہ حاصل ہوا کہ نفاق فی نفسہ بری چیز نہیں البتہ نفاق کے آثار یعنی جھوٹی خبریں پھیلانا اور عورتوں سے چھیڑ چھاڑ بری چیز ہے جب یہ برائی ختم ہوگئی تو نفاق بیشک رہے اللہ کو پسند ہے شہر مدینہ سے اخراج کی ضرورت نہ قتل کرنے کا حکم یعنی سایہ کو ختم کرو دیوار قائم رہے دھوئیں کو ختم کرو آگ جلتی رہے بات یہ ہے کہ یہ تینوں امور تو اثر نفاق میں باعتبار ذات کے تو منافق کی ایک ہی قسم ہے باعتبارِ صفات کے تو تین قسم ہو گئے قرآن کا اعلان یہ ہے کہ منافق اپنے نفاق سے باز نہ آیا تو اس کے لئے حکم ہے کہ اسے آپ کا جوار نصیب نہ ہوگا وغیرہ رہی دوسری بات کہ رسولﷺ کو منافقوں کا علم نہیں تھا پھر سوال یہ ہے کہ آپ کے پاس یہ اطلاع کسی ذریعہ سے پہنچی کہ خلفائے ثلاثہؓ منافق تھے اپنے رسولﷺ سے بڑھ کر آپ کے ساتھ اللہ تعالیٰ کے خصوصی مراسم ہیں کیا؟ مگر آپ کے ہاں تو صورتِ حالات اس سے بھی عجیب تر ہے مثلاً:

(1)۔ اصولِ کافی 432:2 طبع جدید معہ فارسی:

عن ابی عبد الله علیه السلام قال انا لنعرف الرجل بحقيقة الإيمان و حقيقة النفاق.

سیدنا جعفرؒ فرماتے ہیں کہ ہم ہر آدمی کو جانتے ہیں کہ مومن ہے یا منافق ہے ہم حقیقت ایمان اور حقیقت نفاق سے واقف ہیں۔

یعنی امام ہر شخص کے متعلق جانتے ہیں کہ مومن ہے یا منافق۔  

معانی الاخبار142:1:

عن عبد الله بن سنان قال كنا جلوسا عند ابی عبدالله علیه السلام اذ قال رجل من الجلساء جعلت فداك يا بن رسول الله اتخاف على ان اكون منافقا فقال اذ خلوت فی بیتک نهارا او لیلا اليس تصلى قال بلى لمن تصلی قال الله عزوجل قال فكيف تكون منافقا انت تصلى الله عزوجل۔

 عبد اللہ بن سنان نے کہا ہم سیدنا جعفرؒ کے پاس بیٹھے تھے ہم میں سے ایک آدمی نے کہا میں قربان جاؤں کیا آپ کو میرے متعلق اندیشہ ہے کہ میں منافق ہوں سیدنا جعفرؒ نے فرمایا کیا تو اپنے گھر میں دن یا رات کے وقت اللہ کے لئے نماز پڑھتا ہے؟ کہا ہاں پڑھتا ہوں آپ نے فرمایا جب تم اللہ کیلئے نماز پڑھتے ہو تو منافق کیسے؟

سیدنا جعفرؒ نے معیار تو خوب بتایا مگر اس معیار پر شیعہ کو پرکھیں تو معاملہ چوپٹ نظر آتا ہے اور اگر اس معیار پر صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین خلفائے ثلاثہؓ کو پرکھیں تو نفاق کا شائبہ بھی نظر نہیں آتا۔ ممکن ہے شیعہ حضرات سیدنا جعفرؒ کے معیار کو غلط کہتے ہوں جبھی تو خلفائے ثلاثہؓ کو منافق کہتے ہیں۔

(3)۔ عن ابی جعفر علیه السلام قال حج النبیﷺ‎ فاقام بمنى ثلاثا يصلى ركعتين ثم صنع ذلك ابوبکرؓ و صنع ذلک عمرؓ و صنع ذلك عثمانؓ ستة سنين۔

پھر سیدنا جعفرؓجعفر نے سیدنا امیرِ معاویہؓ کا تذکرہ کرتے ہوئے فرمایا کہ انہوں نے بھی ایسا کیا پھر فرمایا:

اما تعلمون ان رسول اللهﷺ في هذا المكان ركعتين و ابوبكرؓ و عمرؓ وصلى صاحبكم عثمانؓ سنة سنين كذلك افتأمرونی ان أو دع سنة رسول اللهﷺ‎ له وما صنع ابوبكرؓ وعمرؓ و عثمانؓ سنة سنين۔

خلاصہ یہ ہے کہ منٰی کے مقام پر نبی کریمﷺ نے دو رکعتیں پڑھیں پھر سیدنا ابوبکرؓ نے پھر سیدنا عمرؓ نے یہی معمول رکھا پھر سیدنا عثمانؓ نے بھی یہی معمول کچھ سال رکھا کیا تم مجھے کہتے ہو کہ میں نبی کریمﷺ کی سنت اور خلفائے ثلاثہؓ کاطریقہ چھوڑ دوں۔

اس روایت سے کئی امور کی وضاحت ہوتی ہے۔

  1. سیدنا جعفرؒ نے خلفائے ثلاثہؓ کی نماز کا اعتراف کیا۔ لہٰذا سیدنا جعفرؒ کے مقرر کردہ معیار کے مطابق منافق وہی کہ سکتا ہے جو سیدنا جعفرؒ کو جھوٹا سمجھتا ہو۔
  2.  سیدنا جعفرؒ نے سنت خلفاء کو چھوڑنا پسند نہیں کیا۔
  3.  سیدنا جعفرؒ نے واضح کیا خلفائے ثلاثہؓ حضورﷺ کے سچے متبع تھے حضورﷺ کی ہر حرکت کی تقلید کرتے تھے لہٰذا ان کے طریقہ کو چھوڑنا گویا نبی کریمﷺ کے طریقہ کو چھوڑنا ہے۔ 
  4. سیدنا جعفرؒ نے سیدنا امیرِ معاویہؓ کا ذکر بھی اسی اتباع کے سلسلے میں کیا لہٰذا انہیں منافق سمجھنا بھی امام کو جھٹلانا ہے۔
صفحہ 10 از 17