آیات قتال مرتدین اور مذہب اہل سنت و الجماعت - ردِ رافضیت |…

آیات قتال مرتدین اور مذہب اہل سنت و الجماعت

  مولانا اللہ یار خانؒ

صفحہ 11 از 17

سیدنا ابوبکرؓ کی نماز کا کیا کہنا حضورﷺ نے خود انہیں نماز کے لئے امام مقرر کیا اور نبیﷺ‎ اپنی خواہش سے کوئی کام نہیں کرتا بلکہ بامر الٰہی کرتا ہے لہٰذا ابوبکرؓ کو خود اللہ تعالیٰ نے امام مقرر کیا۔

سیدنا علیؓ سیدنا عمرؓ بھر سیدنا ابوبکرؓ کی اقتدا میں نماز پڑھتے رہے اور اس حقیقت کا اعتراف سیدنا علیؓ کی طرف منسوب نہج البلاغہ کی شرح درۃ النجفیہ میں موجود ہے دیکھئے صفحہ 224

والصحيح عندى وهو الأظهر اشهر انها لم تكن آخر الصلوٰة في حياتهﷺ‎ بالناس جماعة وان ابابكرؓ صلى بالناس بعد ذلك يومين ثم مات۔

میرے نزدیک صحیح اور مشہور ترین بات یہ ہے کہ یہ نماز رسول کریمﷺ کی حیات میں سیدنا ابوبکرؓ کی آخری نماز نہیں تھی جو انہوں نے امام کی حیثیت سے پڑھائی بلکہ سیدنا ابوبکرؓ نے حیات نبویﷺ میں اس کے بعد بھی دو دن لوگوں کو نماز پڑھائی اس کے بعد حضورﷺ اس دنیا سے رخصت ہوگئے۔

اس فیصلے کی روشنی میں ذرا پلٹ کے سیدنا جعفرؒ کے مقرر کردہ معیار پر نگاہ کریں تو اس میں کوئی معقولیت نظر آتی ہے کہ شیعہ تو گھر میں رات یا دن میں کوئی ایک نماز پڑھ لے (خواہ بھولے سے) تو وہ منافق نہیں ہو سکتا مگر سیدنا ابوبکرؓ کو نبی کریمﷺ بحکمِ اللہ امام مقرر کریں وہ ساری عمر مسجد نبویﷺ میں نماز پڑھائی سیدنا عمرؓ اور سیدنا عثمانؓ ہمیشہ مسجد نبویﷺ میں نماز پڑھایں پھر بھی وہ منافق سیدنا جعفرؒ کے معیار کو مردود قرار دے کر یا تو کوئی اپنا معیار وضع کیجئے یا امام کی مخالفت سے باز آجائیے۔

خلفائے ثلاثہؓ کے متعلق دو قسم کا بہتان لگایا جاتا ہے وہ قابلِ غور ہے۔ 

  1.  خلفائے ثلاثہؓ ابتدا ہی سے منافقانہ ایمان لائے تھے تو دیکھنا یہ ہے کہ بعد وفات رسول اللہﷺ‎ علی الاعلان مرتد ہوگئے تھے یا اسی طرح منافق ہی رہے۔ 
  2.  ابتدا میں تو صحیح ایمان لائے تھے مگر بعد وفات رسولﷺ کے مرتد ہوگئے۔

صورتِ اول کے متعلق مزید یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ ان کے منافقانہ ایمان کا علم رسول کریمﷺ کو تھا یا نہیں۔

اگر علم تھا تو لنغرينك ثم لا يجاورونک فیھا پر عمل کیوں نہ ہوا اللہ تعالیٰ نے وعدہ کرنے کے باوجود حضورﷺ کو ان پر تسلط ہی نہ دیا یا تسلط ملنے کے باوجود حضورﷺ نے اللہ کے حکم کی پروا نہ کرتے ہوئے نہ انہیں قتل کیا نہ اخراج مدینہ کا اقدام کیا پہلی صورت میں اللہ کی یقین دہانی محض دل بہلاوا ثابت ہوتی ہے دوسری صورت میں اللہ کا رسول اللہﷺ کا نافرمان ثابت ہوتا ہے کون مسلمان ہے جو ان میں سے کوئی صورت قبول کرنے یا اس کا تصور کرنے کے لئے بھی تیار ہو۔ 

ع یہ ان کا کام ہے جن کے حوصلے ہیں زیاد۔

منافقوں کے لئے دو سزائیں ہیں قتل جلا وطن کرنا اگر بنظر غور دیکھا جائے تو دونوں سزائیں برابر ہیںوطن سے اخراج بھی قتل کے برابر ہے كما قال تعالیٰ۔

وَلَوۡ اَنَّا كَتَبۡنَا عَلَيۡهِمۡ اَنِ اقۡتُلُوۡۤا اَنۡفُسَكُمۡ اَوِ اخۡرُجُوۡا مِنۡ دِيَارِكُمۡ مَّا فَعَلُوۡهُ۔(سورۃ النساء آیت:66)۔

اللہ کے اعلان لنغرینک الخ۔ میں دونوں سزائیں مطلق نفاق کے جرم کی تھیں یا نفاق کے ساتھ ارجاف مدینہ اور عورتوں کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کرنے کی قید سے تھیں؟۔

اگر منافق ان دونوں جرموں سے باز آجائے تو سزا واپس تو معلوم ہوا کہ سزا نفاق کی نہیں بلکہ ان دو جرموں کی ہے نفاق کا جرم تو قابلِ معافی ٹھہرا لہٰذا یہ دو جرم جب بھی ہوں ان کی یہی سزا ملنی چاہئیے مگر یہ حکم عام نہیں بلکہ زمانہ رسولﷺ کے لئے ہے رسول کریمﷺ خود مخاطب ہیں اور یہ سزا نفاق کی ہے ارجاف ہو یا نہ ہو اور یہ ایک تاریخی حقیقت ہے کہ حضورﷺ نے خلفاے ثلاثہؓ کو قتل نہیں کیا انہیں مدینہ سے خارج نہیں کیا بلکہ انہیں ایسا جوار نصیب ہوا جو زوئے زمین میں کسی کو نصیب نہ ہوا اس لئے انہیں منافق کہنا خدا کے کلام کی تکذیب ہے رسولﷺ کی رسالت کی توہین ہے۔

رسول کریمﷺ کا اپنی حیاتِ دنیوی میں خلفائے ثلاثہؓ کو قتل نہ کرنا اور مدینہ سے نکالنے کا حکم نہ دینا ایسی حقیقت ہے جس کا انکار نہیں کیا جاسکتا ہاں جوار فی المدفن کو بے اثر بنانے کے لئے کہا جاتا ہے کہ یہ سیدہ عائشہؓ کا مکان تھا انہوں نے اجازت دے دی اس لئے لا یجاورونک پر کیا اثر پڑ سکتا ہے۔

چلئے رسول کریمﷺ نے اللہ کے حکم کی پروا نہ کرتے ہوئے (معاذ اللہ) خلفائے ثلاثہؓ کو مدینہ سےنہ نکالا بلکہ ثانی اثنین کو اپنے مصلی پر کھڑا کر کے گئے مگر آپ کے اس دنیا سے چلے جانے کے بعد اللہ کو تو اپنی بات کی لاج رکھنی چاہئیے تھے اور شیخینؓ کو حضورﷺ کے پاس نہ دفن ہونے دیتا اگر سیدہ عائشہؓ بھی ایسی جابر تھیں کہ اللہ کی بات نہ چلنے دی اور اللہ بھی لا یجاورونک کہنے کے باوجود سیدہ عائشہؓ کے سامنے ٹک ٹک دیدم دم نہ کشیدم کی تفسیر بن گیا (العیاذ باللہ

پھر ایک اور سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا اللہ کو علم تھا کہ سیدہ عائشہؓ اجازت دے دیں گی؟۔

اگر علم تھا تو ثم لا یجاورونک کا اعلان کیوں کیا؟ اس جگ ہنسائی کی ضرورت کیا تھی؟ اور اگر علم نہیں تھا تو ایسے بھولے بھالے سیدھے سادھے اللہ سے کسی بھلائی کی کیا توقع ہو سکتی ہے اللہ تو وہ چاہئے جو علیم بھی ہو خبیر بھی ہو علام الغیوب بھی ہو اور علیم بذات الصدور بھی ہو تاکہ تدبیر کائنات کے منصب کا حق ادا کر سکے۔

نتیجہ یہ نکلا کہ اللہ نے بڑے دھڑلے سے اعلان تو فرما دیا کہ لنغرینک ثم لا یجاورونک مگر حضور اکرمﷺ کی حیاتِ دنیوی میں اللہ اور رسولﷺ دونوں خلفائے ثلاثہؓ کے مقابلے میں دبے رہے اور حضورﷺ کے وصال کے بعد اکیلا اللہ اکیلی عورت سیدہ عائشہؓ کے سامنے بے بس ہو گیا کون سمجھے اور کون مانے۔

صاحبِ فلک النجاة نے 86:1 پر جہاں فرمایا کہ منافق ایذا رسانی سے باز آ گئے اس لئے سزائیں نہ دی گئیں وہاں یہ بھی فرمایا کہ یہ پہلے بھی ہوتا رہا ہے۔

(1)۔ قَالَ اَرَاغِبٌ اَنۡتَ عَنۡ اٰلِهَتِىۡ يٰۤاِبۡرٰهِيۡمُ‌ۚ لَئِنۡ لَّمۡ تَنۡتَهِ لَاَرۡجُمَنَّكَ‌ الخ۔(سورۃ المریم آیت:46)۔

ترجمہ: یعنی حضرت ابراہیم علیہ السلام کے والد نے کہا کہ اے ابراہیم اگر تو ہمارے بتوں کے معاملہ میں اپنی روش سے باز نہ آیا تو میں تمہیں سنگسار کر دوں گا۔

(2)۔ قَالُوۡا لَئِنۡ لَّمۡ تَنۡتَهِ يٰـنُوۡحُ لَـتَكُوۡنَنَّ مِنَ الۡمَرۡجُوۡمِيۡنَؕ۝۔(سورۃ الشعراء آیت:116)۔

صفحہ 11 از 17