آیات قتال مرتدین اور مذہب اہل سنت و الجماعت - ردِ رافضیت |…

آیات قتال مرتدین اور مذہب اہل سنت و الجماعت

  مولانا اللہ یار خانؒ

صفحہ 12 از 17

ترجمہ: قوم نوح نے حضرت نوح سے کہا کہ اگر تم باز نہ آئے تو رجم کئے جاؤ گے۔

(3)۔ قَالُوۡا لَئِنۡ لَّمۡ تَنۡتَهِ يٰلُوۡطُ لَـتَكُوۡنَنَّ مِنَ الۡمُخۡرَجِيۡن۝۔(سورۃ الشعراء آیت:167)۔

ترجمہ: قوم لوط نے کہا کہ اے لوط اگر تم باز نہ آئے تو تم شہر بدر کر دیئے جاؤ گے۔

(4)۔ وَاِنۡ لَّمۡ يَنۡتَهُوۡا عَمَّا يَقُوۡلُوۡنَ لَيَمَسَّنَّ الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا مِنۡهُمۡ عَذَابٌ اَلِيۡمٌ۝۔(سورۃ المائدہ آیت نمبر 73)

ترجمہ: یعنی اگر عیسائی یہ کہنے سے باز نہ آئے کہ اللہ تین میں تیسرا ہے تو انہیں درد ناک عذاب دیا جائے گا

اصل معاملہ یعنی منافقین کو سزا دینے کا حکم اور یہ مثالیں سامنے رکھی جاتیں تو صورت کچھ اس قسم کی نظر آتی ہے جیسے کہا گیا ہے ماروں گھٹنا پھوٹے آنکھ کوئی پوچھے کہ:

  1.   کیا حضرت ابراہیم علیہ السلام اپنی روش سے باز آگئے؟ ظاہر ہے کہ باز نہ آئے مگر سزا بھی نہ لی۔
  2.   اسی طرح حضرت نوح علیہ السلام کیا باز آگئے؟ ظاہر ہے کہ باز نہ آئے مگر رجم بھی نہ ہوا۔
  3.  اسی طرح حضرت لوط علیہ السلام کیا اپنی روش سے باز آ گئے؟ باز بھی نہ آئے اور اخراج بھی عمل میں نہ آیا۔

تو ان آیات کو منافقین عہد رسول کریمﷺ کے معاملے میں استدلال کے طور پر پیش کرنا علم کی کونسی قسم ہے دوسری بات یہ ہے کہ یہ تینوں اعلان کفار کی طرف سے ہوئے مگر لنغرینک ثم لا يجاورونک کا اعلان رب العالمین کی طرف سے ہو رہا ہے کافر تو اپنے اعلان کے باوجود قتل رجم یا اخراج کچھ بھی نہ کرسکے کیا قادر قیوم اللہ بھی اسی طرح عاجز آ گیا۔

یہ آیات تو رسول کریمﷺ کی تسلی کے لئے ہیں کہ آپ دیکھیں میرے رسولوں کے مقابلے میں کفار شیخیاں بگھارتے رہے مگر ہم نے ان کو ہلاک کر کے رکھ دیا یہی صورت آپ کے مخالفوں کے ساتھ پیش آئے گی آپ بے فکر ر ہیں۔ 

چوتھی آیت اہلِ کتاب نصاریٰ کے حق میں ہے ان کے متعلق جب صاف حکم آگیا کہ:

قَاتِلُوا الَّذِيۡنَ لَا يُؤۡمِنُوۡنَ بِاللّٰهِ وَلَا بِالۡيَوۡمِ الۡاٰخِرِ وَلَا يُحَرِّمُوۡنَ مَا حَرَّمَ اللّٰهُ وَ رَسُوۡلُهٗ وَلَا يَدِيۡنُوۡنَ دِيۡنَ الۡحَـقِّ مِنَ الَّذِيۡنَ اُوۡتُوا الۡـكِتٰبَ حَتّٰى يُعۡطُوا الۡجِزۡيَةَ عَنۡ يَّدٍ وَّهُمۡ صٰغِرُوۡنَ۝۔(سورۃ التوبہ آیت:29)۔

ترجمہ: اہلِ کتاب جو کہ نہ اللہ پر (پورا پورا) ایمان رکھتے ہیں اور نہ قیامت کے دن پہ اور نہ ان چیزوں کو حرام جانتے ہیں جن کو اللہ تعالیٰ نے اور اس کے رسول نے حرام فرمایا ہے اور نہ سچے دین اور اسلام کو قبول کرتے ہیں ان سے یہاں تک لڑو کہ وہ ماتحت ہوکر اور رعیت بن کر جزیہ دینا منظور کریں۔

اور اللہ کے اس حکم کی تعمیل ہو کے رہی اور نصاریٰ اس ذلت سے نہ بچ سکے کفار کی جن دھمکیوں کا ذکر تین انبیاء کے حق میں کیا گیا ہے یہ صورت تو تمام انبیاء کو ہی پیش آتی رہیں کما قال تعالیٰ: 

وَقَالَ الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا لِرُسُلِهِمۡ لَـنُخۡرِجَنَّكُمۡ مِّنۡ اَرۡضِنَاۤ اَوۡ لَـتَعُوۡدُنَّ فِىۡ مِلَّتِنَا‌  الخ۔(سورۃ الابراہیم آیت:13)۔

یہ قضیه مالعنه الجمع ہے یعنی یہ نہیں ہوسکتا کہ اپنے دین پر بھی رہو اور وطن میں بھی مقیم رہو۔

واقعی بڑی دھونس دکھائی مگر جواب ملا:

لَــنُهۡلِكَنَّ الظّٰلِمِيۡنَۙ وَلَـنُسۡكِنَنَّكُمُ الۡاَرۡضَ مِنۡۢ بَعۡدِهِمۡ‌ الخ۔(سورۃ الابراہیم آیت:14)۔

ترجمہ: کہ ہم یقیناً ان ظالموں کا خاتمہ کر دیں گے اور اے ہمارے رسل تمہیں ان کی جگہ پر آباد کریں گے۔

مگر معاملہ رسولوں تک ہی محدود نہیں رکھا گیا بلکہ فرمایا: ذٰلِكَ لِمَنۡ خَافَ مَقَامِىۡ وَخَافَ وَعِيۡدِ۝۔(سورۃ ابراہیم آیت نمبر14)۔

 یہ انعام تو آپ کے متبعین کو بھی ملے گا جو میری ذات پر اور میرے سامنے جواب دہی پر کامل یقین رکھتے ہوں یعنی کامل الایمان متبعین کو یہ انعام عطا کریں گے اس آیت نے تو حقائق کا ایک وسیع باب کھول دیا مگر یہاں اجمالی ذکر پر ہی اکتفا کی جائے گی۔

نبی کریمﷺ کے عہد میں عرب کے پڑوس میں کہیے بلکہ روئے زمین پر دو ہی منتظم اور متکلم حکومتیں تھیں یعنی ایران و روم اور ان دونوں حکومتوں نے حضورﷺ کو جو ھمکیاں دیں تاریخ میں محفوظ ہیں کسریٰ ایران نے حضورﷺ کے نامہ مبارک کا جواب دیتے ہوئے جو الفاظ کہے اور جو رویہ اختیار کیا یہ تو دھمکی کی حدود سے بھی تجاوز کر کے عملی اقدام کے ضمن میں آ جاتا ہے۔

گر چشم فلک نے دیکھ لیا ک جو نفوس قدسیہ لمن خاف مقامی و خاف و عید کے مصداق تھے انہوں نے ان دونوں سلطنتوں کو مغلوب کر کے اللہ تعالیٰ کے ولنسكنكم الارض کی عملی تفسیر کر کے دکھا دی مگر یہ بھی ڈھونڈںٔیے یہ کون تھے؟ یہ حضورﷺ کے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین تھے جنکے قائد خلفائے ثلاثہؓ تھے جنہوں نے مصر شام ایران عراق روم حبشہ تک دین حق پھیلایا

اور اس دار الاسباب میں لنهلكن الظالمین کے وعدہ خداوندی کے پورا ہونے کا سبب بنے۔

یہی تو رسول کریمﷺ کی دعوت کو روئے زمین پر پھیلانے والے تھے یہی تو حضورﷺ کے سچے جانشین اور خلفائے برحق تھے اللہ تعالیٰ نے اپنے رسولﷺ سے جو وعدے کئے وہ انہی خلفائے ثلاثہؓ کے ہاتھ سے پورے ہوئے آیاتِ قرآنی کی مصداق یہی جماعت ہے اور یہی اہلِ سنت کا مذہب ہے۔

مگر عجب ستم ظریفی ہے ان تمام حقائق سے آنکھ بند کر کے لوگ یہ کہنے میں باک نہیں سمجھتے کہ یہ سب منافق تھے یا مرتد تھے مگر اس امت کی بد نصیبی کا ٹھکانا کہ اللہ کا آخری رسولﷺ اس دنیا سے رخصت ہوتے وقت اپنے مصلیٰ پر ایک منافق کو (نعوذ باللہ) امت کی امامت کے لئے کھڑا کر گیا اور کسی مسلمان نے عمر بھر اس کے خلاف لب کشائی نہ کی۔

 "ناوک نے تیرے صید نہ چھوڑا زمانے میں تڑپے ہیں مرغ قبلہ نما آشیانے میں"

صاحب فلک النجاہ نے منافقین کو سزا دینے کے لئے ایذاء رسانی کی قید تو لگا دی اور یہ ثابت کر دیا کہ رسول کریمﷺ نے انہیں اس لئے جوارِ رسولﷺ سے محروم نہ کیا کہ وہ ایذاء رسانی سے باز آ کر اس سزا کی زد سے بچ گئے۔

مگر دوسری طرف جب خلفائے ثلاثہؓ کی ایذا رسانی کا قصہ چھیڑتے ہیں تو وہ داستان ختم ہونے کو نہیں آتی اور ایذائیں بھی شدید کہ خلفائے ثلاثہؓ کے بغیر روئے زمین پر اس کی نظیر نہیں ملتی۔

مثلاً مشتے نمونہ از خردارے یہ ہے کہ

صفحہ 12 از 17