آیات قتال مرتدین اور مذہب اہل سنت و الجماعت - ردِ رافضیت |…

آیات قتال مرتدین اور مذہب اہل سنت و الجماعت

  مولانا اللہ یار خانؒ

صفحہ 13 از 17
  1.  سیدنا علیؓ سے خلافت چھین لی۔
  2.  سیدہ فاطمہؓ سے باغِ فدک چھین لیا۔
  3. سیدنا علیؓ کی گردن میں رسی ڈال کر جبراً بیعت لی۔
  4. جنازہ رسولﷺ نہ پڑھا۔سنتِ رسولﷺ کو بدل دیا۔
  5.  قرآن میں پانچ قسم کی تحریف کردی۔

ان دعاوی کی حقیقت خواہ کچھ بھی نہ ہو مگر شیعہ کے عقائد اور مسلمات میں داخل ہیں اس لئے آپ کیونکر کہہ سکتے ہیں کہ ایذاء رسانی سے باز آ گئے ظاہر ہے کہ ایذاء رسانی بقول شیعہ جاری رہی مگر اللہ تعالیٰ ثم لا يجاورونک کا اعلان کرنے کے بعد بھی اور خلفائے ثلاثہؓ کی ایذا رسانی جاری رکھنے کے باوجود بھی انہیں جوارِ رسولﷺ سے محروم نہ کر سکا اگر صاحبِ فلک النجاة کا دعویٰ تسلیم کریں تو اللہ عاجز ماننا پڑتا ہے اور اگر ومن اصدق من الله قیلا پر ایمان رکھتے ہوئے اللہ کے اعلان کو بھی تسلیم کریں تو صاحبِ فلک النجاۃ اور ان کے ہم عقیدہ لوگوں کو جھوٹا سمجھے بغیر چارہ نہیں

پھر ایک اور نکتہ بیان فرمایا کہ(85:1)

شیخینؓ کو روضہ رسولﷺ میں دفن ہونے سے جو شرف حاصل ہوا وہ کعبہ میں بتوں کو بھی حاصل تھا مگر وقت آنے پر بتوں کو نکال دیا گیا اسی طرح وقت آنے پر شیخینؓ کو بھی نکال دیا جائے گا یعنی زمانہ رجعت میں امام مہدی انہیں نکال دیں گے۔ 

نکتہ تو بڑا باریک ہے بلکہ باریک تر از مُو ہے مگر پہلے تو اپنے امام مہدی کی تلاش کیجئے امام کی آمد ہی ملتوی پر ملتوی ہوتی جا رہی ہے اور اللہ کو بدا پر بدا ہوتا جا رہا ہے اس التوا کے ختم ہونے کی کوئی ضمانت ہے؟ خود امام کی آمد کا معاملہ ایسا دلچسپ ہے کہ تفصیل در کار ہو تو ہماری کتاب تحذیر المسلمین کا مطالعہ فرمائیں۔

پھر آپ کی بات میں وزن تو اس وقت پیدا ہوگا جب امام غائب آیا اس نے اپنے انقلابی کام کا آغاز کیا قبریں اکھیڑیں مردے نکالے نعشیں جلائیں اور اس سلسلے میں شیخینؓ کی طرف بھی دست کرم بڑھایا پھر آپ کہہ سکیں گے کہ لو دیکھ لو ہماری تحقیق درست نکلی فی الحال تو آپ اپنے عظیم راویوں کی طفل تسلیوں پر ہی گزارہ کریں۔

معلوم ہوا کہ بات بنانے کے لئے متعدد روپ بدلے گئے مگر ریت پر کبھی قلعے تعمیر ہوئے ہیں؟ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کو منافق ثابت کرنے کے لئے تو پورے قرآن کے خلاف جنگ لڑنی پڑے گی مگر پھر بھی خالق کے مقابلے مخلوق کی کیا حیثیت ہے قرآن نے چار ایسے محل بیان فرمائے ہیں جن پر رسول کریمﷺ کو تلوار اٹھانے کا حکم ملا۔

  1.  مجاہر جیسے عرب ایران وغیرہ۔ 
  2.  دشمن اہلِ کتاب جیسے روم و مصر وغیرہ۔
  3. منافقین۔
  4. باغی مرتد۔

اگر خلفائے ثلاثہؓ ان میں سے کسی شق میں آتے تو نبی کریمﷺ کی تلوار سے نہ بچ سکتے اس کے برعکس ہوا یہ کہ خلفائے ثلاثہؓ کو اللہ و رسولﷺ نے یہ کام سونپا کہ اس کام کو تکمیل تک پہنچائیں چنانچہ خلفائے ثلاثہؓ نے ان سب کے خلاف تلوار اٹھائی کسی کو مغلوب اور زیرنگین کیا کسی کو تہِ تیغ کیا اور اللہ تعالیٰ کی پیشنگوئی لیظهره علی الدین کلہ کو پورا کر کے دکھا دیا۔ 

پھر مناظرِ شیعہ نے چاند کے چہرہ پر خاک پھینکتے ہوئے سیدنا عمرؓ کے خلاف معالم التنزیل اور مظہری کا حوالہ پیش کیا۔

وهو هذا وقد كان اصحاب رسول اللهﷺ خرجوا وهم لا يشركون في الفتح لرؤيا رای ﷺ فلما رأو ما رأو من الصلح والرجوع دخل الناس من ذلك عظيم قال عمرؓ والله ما شككت مذا سلمت الا یومٸذ۔

(مہم حدیبیہ پر) اصحاب رسولﷺ مدینہ سے نکلے تو ان کو مکہ کی فتح ہونے میں ذرا برابر شک نہ تھا اس خواب کی بنا پر جو نبی کریمﷺ نے دیکھا تھا مگر جب صلح اور واپسی کا معاملہ پیش آیا تو وہ بہت غمگین ہوئے سیدنا عمرؓ نے کہا کہ جب سے اسلام لایا ہوں (کسی خبر یا حکم میں) ایسا شک نہیں ہوا جیسا آج (فتح مکہ کی خبر میں) شک ہوا۔

در منثور میں یہ روایت یوں ہے (77:6)۔

قال الزهرى فقال عمر ماشككت منذ اسلمت الا يومئذ قال عمرؓ لرسول اللهﷺ اولیس كنت تحدثنا انا سناتی البيت و نطوف به قال بلی افاخبرتک انک تأتيه العام قلت لا قال فانک اتیه و معطوف به۔

زہری کا بیان ہے کہ سیدنا عمرؓ نے کہا کہ جب سے اسلام لایا ہوں مجھے ایسا شک نہیں ہوا جیسا آج سیدنا عمرؓ نے رسول کریمﷺ سے عرض کیا کیا آپ نے یہ نہیں فرمایا تھا کہ عنقریب بیت اللہ میں جا کر طواف کریں گے۔ حضورﷺ نے فرمایا ہاں کیوں نہیں کہا تھا مگر کیا میں نے یہ کہا تھا کہ اسی سال طواف کرو گے؟ سیدنا عمرؓ نے کہا کہ یہ تو نہیں فرمایا تھا تو حضورﷺ نے فرمایا تم طواف بھی کرو گے اور مکہ بھی فتح ہوگا۔

پہلی بات تو یہ ہے کہ اس روایت کی نقل زہری نے کی ہے اور زہری منفرد ہے اور کسی نے یہ روایت نقل نہیں کی اور شیعہ تسلیم کرتے ہیں کہ زہری شیعہ تھا اس لئے اس کی کیا ضمانت کہ یہ تقیہ سے خالی ہو؟ اس لئے حجت نہیں۔

دوسری بات یہ ہے کہ شکست کا لفظ تقاضا کرتا ہے کہ مشکوک فیہ تلاش کیا جائے مکالمہ سے ظاہر ہے کہ مشکوک فیہ طواف بیت اللہ ہے یا فتح مکہ جیسا کہ سیدنا عمرؓ کے سوال سے ظاہر ہے اگر کسی کو دعویٰ ہو کہ مشکوک فیہ نبوت ہے تو ثبوت پیش کرے نرا دعویٰ بلا دلیل کسی کام کا؟

حقیقت صرف اتنی ہے کہ حضورﷺ نے اپنا خواب بیان فرمایا پھر مکہ کی طرف روانگی ہوئی تو صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے سمجھا حضورﷺ کی روانگی وحی کی بنا پر ہے حالانکہ آپ کی روانگی از قبیل مسارعتہ الی الخیر تھی۔

پھر صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے خواب اور روانگی کو ملا کر یہ سمجھا کہ اسی سال فتح مکہ ہوگی اس لئے جب صلح ہو گئی اور واپسی کی ٹھہری تو صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین ملول ہوئے حضورﷺ نے جب وضاحت فرما دی کہ میرے خواب میں کہیں یہ بھی بیان ہوا ہے کہ اس سال ہو گی تو سمجھ گئے کہ یہ ہماری اجتہادی غلطی تھی اور دفور محبت میں ایسا ہو جانا کوئی بعید نہیں کہ آدمی پوری بات پر غور نہیں کرتا اور اپنی پسند کے کسی ٹکڑے پر ہی ذہن جم جاتا ہے۔

صفحہ 13 از 17